مہمان

وہ رسہ گیر تھا، ایک وسیع حلقہ احباب کا حامل۔ اس کے دوستوں میں ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جو دور دور سے ’مال مار‘ کر آتے (مویشی چوری کر کے لاتے ) اور یہ ان کی رسہ گیری کرتا۔ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ مویشیوں سے عورتوں تک دراز ہو گیا۔ بطور مال آنے والی عورتوں کی اکثریت کا شمار ’آشنا کے ساتھ فرار‘ والی کیٹیگری میں ہوتا۔
یہ عورتیں مناسب رقم کے عوض شادی کے خواہش مند حضرات کے نکاح میں دے دی جاتیں۔ اس دور میں شریف گھر کی عورتوں کا رشتہ ملنا آسان نہ تھا، جوتے گھسانا پڑتے تھے۔ جو رشتہ ملنے سے رہ جاتے ان کے کام یہ زرخرید عورتیں آتیں۔
وہ بھی ایک عورت تھی۔ جسے پتا نہیں کیوں وہ اپنے گھر لے آیا۔ شاید یہ اس عورت کے چہرے کی شرافت اور گھریلو پن تھا جس نے اسے گاہک ملنے تک اپنے گھر رکھنے پر مجبور کیا۔ جس وقت سے لائی گئی روتی پائی گئی۔ پوچھنے پر ایک دن نورائی (اس کی بیوی) کو کہانی سنانے بیٹھ گئی۔ انتہائی شریف خاوند، دو بچوں کی ماں، درشت مزاج ظالم ساس۔ ایک دن ساس سے لڑ کر گھر سے اپنے گاؤں جانے کو نکل پڑی، غصے میں یہ بھی نہ سوچا کہ کرائے کے پیسے تک نہیں ہیں، راستے میں کسی کے ہتھے چڑھی اور وہاں سے ہوتے ہواتے یہاں تک آ پہنچی۔ نورائی کے پاؤں پکڑ لیے کہ تم بھی بیٹیوں والی ہو مجھ پر رحم کھاؤ، میری مدد کرو۔
یوں تو نورائی کی سنگ دلی بھی کچھ کم نہ تھی پر اس دن پتا نہیں پتھر کو کیسی جونک لگی کہ دوپہر میں اسے لے کر کوٹھے پر چڑھ گئی۔ مشرق کی طرف اشارہ کرتے بتایا کہ ان درختوں کی سیدھ میں چلتی جاؤ جھنڈ کے پار بسوں کا اڈا ہے، وہاں سے تمہیں تمھارے گھر کی سواری مل جائے گی۔ اگر راستے میں دیکھ لی جاؤ اور پکڑے جانے کا خدشہ ہو تو دائیں ہاتھ پرانے نمبردار کا ڈیرہ ہے، اور بائیں ہاتھ نئے نمبردار کا۔ جس کسی تک پہنچ پاؤ فریاد ڈال دینا، دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہی سہی پر مدد مل جائے گی۔ اگر اڈے پر پہنچ کر دیکھ لی جاؤ تو دائیں ہاتھ آدھ کوس پر تھانہ ہے وہاں پہنچنے کی کوشش کر نا۔ ”وہ“ آئے تو میں کہہ دوں گی کہ دوپہر میں ہم تو سو رہے تھے تب تم بھاگ گئیں۔ ساتھ ہی میلی اوڑھنی کے پلو سے پچاس کا نوٹ کھول کر اس کے ہاتھ میں تھما یا۔ یہ پچاس اس نے آج ہی پانچ سیر دیسی گھی بیچ کر کمایا تھا۔
زبیدہ نے وہاں سے دوڑ لگائی تو گھر پہنچنے تک پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ سالوں گزر گئے پھر ایک دن اس کا شوہر ایک مہمان کو گھر لایا۔ زبیدہ مہمان پر نظر پڑتے ہی چونک گئی اس کے بعد گویا اس میں بجلی بھر گئی ہو۔ پیٹی کھول سب سے اچھی نئی نکور چادر نکال کر رنگلے منجے پر بچھائی۔ مہمان کو الائچی والا ٹھنڈا دودھ پلایا۔ دیسی مرغی کا سالن اور پلاؤ بنایا، میٹھے میں گڑ والے چاول بنائے۔ ایسی آؤ بھگت پر مہمان اور زبیدہ کا شوہر دونوں حیران تھے۔
شام ہوئی تو کھانا وغیرہ کھا کر جب مہمان اور میزبان صحن میں بچھی چارپائیوں پر گاؤ تکیے لگائے خوش گپیوں میں مصروف تھے زبیدہ تازہ حقہ لیے آئی اور پھر اس مہمان کے بالکل سامنے اپنے میاں کی پائنتی پر ٹک گئی۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ بھلا یہ کب دستور تھا کہ عورت مردوں کی محفل میں آ کر بیٹھے۔
زبیدہ نے گلا کھنکارا مہمان کا نام پکارا اور بولی نورائی بہن کا کیا حال ہے؟ اور بچیاں کیسی ہیں؟ مہمان کی حیرت دوچند تھی: کہا آپ نورائی کو کیسے جانتی ہیں؟ زبیدہ ہنس پڑی۔ خاندانی لوگ اپنے محسن کو کبھی نہیں بھولتے۔ مجھے پچاس کا نوٹ دے کر فرار کی راہ دکھلانے والی کو میں کیسے بھول سکتی ہوں۔ آپ مجھے غور سے دیکھیں شاید میں یاد آ جاؤں۔
مہمان کی آنکھوں کے سامنے جھماکا کا سا ہوا اور سامنے موجود قدرے جھریالا ادھیڑ عمر چہرہ ایک جوان چہرے میں بدل گیا۔ زبیدہ کو پہچانتے ہیں اس کے چہرے پر اماوس کی تاریکی چھا گئی، چارپائی سے کانپتی ٹانگوں کے ساتھ اٹھا، اپنی شال اٹھا کر کندھے پر ڈالی، جھکی ہوئی شرمندہ نگاہوں سے زبیدہ کے سامنے ہاتھ جوڑے اور گھر کی چوکھٹ عبور کر گیا۔

