آسٹریلیا میں اسلامی تعلیمات کی ترویج
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس کی تعلیمات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہیں۔ قرآن مجید جو ہماری مذہبی کتاب ہے۔ اس میں ان تعلیمات کا جگہ جگہ تذکرہ موجود ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید کا انداز بیان خطیبانہ ہے۔ خالق کائنات جب بھی مخاطب ہوتے ہیں۔ تو عمومی طور پر یا ایھا الذین (اے لوگو) کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ کہیں بھی یا ایھا المسلمین کہ کر خطاب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ رب العالمین ہیں صرف رب المسلمین نہیں ہیں ان کے محبوب پیغمبر اور ہمارے آقائے نم دار نبوی آخری الزما حضرت محمد رحمت العلمین ہیں وہ بھی سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
صرف مسلمانوں کے لئے نہیں گویا کہ اسلام کی آفاقی تعلیمات صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تعلیمات ساری بنی نوع انسان کے لئے ہیں اور آسٹریلیا میں آ کر مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہم مسلمانوں نے اپنی مذہبی تعلیمات کو اس طریقے سے قطعاً نہیں اپنایا جس طرح ان لوگوں نے دل و جان سے اور پورے انشراح کے ساتھ انہیں اپنا لیا ہے اور ان لوگوں نے انہیں اسلامی تعلیمات سمجھ کر نہیں اپنایا بلکہ اپنی معاشرتی اقدار بنا کر اپنے اس رنگا رنگ معاشرے میں اس طرح سمو لیا ہے کہ یہ اقدار اور تعلیمات اس معاشرے کا جزو لاینفک بن گئی ہیں۔
سچائی، صفائی، عدل و انصاف، ہمدردی، بھائی چارہ، برداشت، صبر و تحمل، تعلیم، رواداری اور باہمی ادب و احترام کے مظاہر یہاں عام نظر آتے ہیں۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین قرآن مجید فرقان حمید میں بار بار کی گئی ہے۔ لیکن ہم بحیثیت مجموعی انہیں اپنانے اور ان پر عمل پیرا ہونے میں بری طرح ناکام رہے۔ لیکن ان لوگوں نے پورے شرح صدر کے ساتھ نہ صرف انہیں اپنا لیا ہے بلکہ اپنی اگلی نسلوں میں ان کی ترویح کے لئے بھی خلوص نیت سے کوشاں ہیں اور یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ بلکہ اس ساری بحث کو اس ایک فقرے میں سمیٹوں گا کہ اگر یہ کلمہ پڑھ لیں تو یہ بنے بنائے ہوئے بہترین مسلمان ہیں کمی صرف کلمے کی ہے۔ اسلامی تعلیمات کو تو ان لوگوں نے پہلے ہی اپنے اندر پوری طرح سمویا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں میں چند مشاہدات کا تذکرہ کروں گا جس سے یہ حقیقت پورے طرح کھل کر سامنے آ جائے گی۔
مجھے آسٹریلیا آئے ہوئے تین چار دن ہوئے تھے کہ ایک شام سرمد اعجاز کے ساتھ غروب آفتاب کا نظارہ دیکھنے کے لیے قریب ہی موجود ساحل سمندر پر پہنچ گئے۔ سرمد میرے عزیز ہیں بہت خوب صورت دل کے مالک اور بڑے اچھے شاعر بھی ہیں۔ جو مشاعروں میں اپنا کلام ترنم سے سنا کر شائقین سے خوب داد وصول کرتے ہیں۔ میرے آسٹریلیا میں قیام کے دوران ایک عدد بہت ہی خوب صورت مشاعرے کا انعقاد بھی کروا چکے ہیں۔ ویسے چھوٹی موٹی شعری نشستیں تو تقریباً ہر ویک اینڈ پر ہوتی ہی رہتی ہیں۔
ساحل سمندر سے غروب آفتاب کا نظارہ کرنے کے بعد ہم کافی کی تلاش میں پیدل ہی نکل پڑے۔ ہم ایک دو رویہ سڑک کو عبور کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ تقریباً سو فٹ دور دوسری سڑک پر ایک گاڑی زیبرا کراسنگ پر آ کر رک گئی۔ اس کے بعد اسی طرح تین چار گاڑیاں اور بھی اس کے ساتھ ہی رک گئیں۔ میرے استفسار پر سرمد نے وضاحت کی کہ یہ گاڑیاں ہمارے لیے رکی ہوئی ہیں۔ جو نہی ہم نے سڑک عبور کی تو وہ گاڑیاں بھی اپنی اپنی منزل کی طرف چل دیں میرے لیے یہ حیران کن منظر تھا۔
کیوں کہ وہ گاڑیاں بڑی آسانی کے ساتھ ہمارے وہاں پر پہنچنے سے پہلے ہی گزر سکتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے وہاں پر رک کر ہمیں پہلے گزرنے کا موقع فراہم کرنے کو ترجیح دی۔ میں جب بھی گھر سے باہر نکلتا تو پیدل ہی نکلتا اس لیے ایسے مواقع کئی بار میرے مشاہدے میں اس کے بعد بھی آئے۔ پیدل کو سوار پر فوقیت دینا تو ہماری اسلامی تعلیمات میں شامل ہے۔ ہم نے تو اس پر بالکل عمل نہیں کیا۔ لیکن گورا اس پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔
ہمارے ہاں نام نہاد اور خود ساختہ ترقی پسند لبرل طبقہ اور میڈیا سے وابستہ لوگ عمومی طور پر اپنے قول و فعل سے اسلامی شعائر کی تضحیک اور توہین کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ایک سابق وزیر تعلیم قاضی صاحب ہوا کرتے تھے ان کا یہ بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہو گا۔ کہ ہم قرآن پاک کے چالیس کے چالیس سپارے بچوں کو دوران تعلیم پڑھانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ کیا انہیں واقعی اس بات کا علم نہیں تھا کہ قرآن کے تیس پارے ہوتے ہیں۔ یا وہ ایسے بیانات سے اپنے آپ کو ترقی پسند اور جدت پسند ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح ٹی وی ڈراموں میں اداکاروں کو اکثر بائیں ہاتھ سے پانی پیتے ہوئے دکھایا جانا بھی اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے ہمارے ہاں عام تاثر ہے کہ انٹلیکچوئل ہونے کے لیے رات کو دیر تک جاگنا بہت ضروری ہے اور اس بات کا کھلے عام اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں پر انٹلکچوئلز اور نان انٹلکچوئلز سبھی رات آٹھ نو بجے سوتے ہیں اور علی الصبح جاگ جاتے ہیں اور اس سے ان کی ترقی پسندی یا ترقی یافتگی قطعاً متاثر نہیں ہوتی۔
خوش اخلاقی برداشت اور صبرو تحمل یہاں کے شہریوں کا طرہ امتیاز ہے۔ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے پر باہمی مسکراہٹوں کا تبادلہ لوگوں کا عام وتیرہ ہے۔ آپ ایک دو لین والی سڑک پر جا رہے ہیں۔ جس میں دونوں لائنوں میں مخالف سمتوں میں ٹریفک رواں دواں ہے۔ آپ کے آگے ایک ایسی گاڑی جا رہی ہے جو بہت آہستہ چل رہی ہے۔ مجال ہے کہ اس کے پیچھے آنے والا کسی بے چینی کا اظہار کرے یا اپنی گاڑی کو غلط لین میں لے جاکر اوورٹیک کرنے کی کوشش کرے۔
بلکہ وہ نہایت سکون اور اطمینان سے اپنی گاڑی کی سپیڈ بھی اگلی گاڑی کے مطابق کر لے گا اور اسی طرح اس کے پیچھے آنے والے بھی یہی کچھ کریں گے۔ سگریٹ نوشی بھی ایک ایسی قدر مشترک ہے جس کی بدولت تیمور سرمد اور میں عموما اًکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ایسے ہی موقع پر سرمد بتا رہے تھے کہ انہوں نے سگریٹ کا ایک پیکٹ خرید کر سگریٹ سلگایا تو انہیں وہ بہت عجیب سا لگا تو انہوں نے وہ پورا پیکٹ ہی پھینک کر کسی دوسرے برانڈ کا پیکٹ لے لیا۔
کچھ دنوں کے بعد ان کا اس دکان پر جانا ہوا جہاں سے انہوں نے پھینکا جانے والا پیکٹ خریدا تھا۔ تو انہوں نے نیا پیکٹ خریدتے ہوئے سرسری طور پر پہلے پیکٹ کے غیر معیاری ہونے اور اس کے پھینکنے کا ذکر بھی دکاندار سے بر سبیل تذکرہ کر دیا۔ دکان دار نے فوراً ہی ان سے معافی مانگی۔ اسی پرانے پیکٹ کے عوض مزید رقم لیے بغیر نیا پیکٹ سگریٹ کا دیا اور دوبارہ معافی مانگتے ہوئے انہیں بتایا کہ وہ ان کی شکایت کمپنی تک پہنچا دے گا۔
ایک فرد کی شکایت پر دوسرے نے اپنے کاروبار کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس کی شکایت پر نہ صرف یقین کیا بلکہ اس کے نقصان کا ازالہ بھی فوری طور پر کر دیا۔ یہاں پر میری رہائش کے قریب ہی ایک گورنمنٹ پرائمری سکول ہے جو ایکڑوں پر محیط ہے اور اس کے طالب علموں کی تعداد یقیناً ہزاروں میں ہوگی۔ چھٹی کے وقت سکول کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں موجود ہوتی ہیں جن میں والدین اپنے بچوں کو لینے آتے ہیں۔ سکول کے چاروں اطراف موجود سڑکوں پر دور دور تک یہ گاڑیاں کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں میں بھی اکثر ولی کو لینے وہاں جاتا ہوں میں نے آج تک وہاں ٹریفک جام نہیں دیکھی وہ اپنی اپنی گاڑی کو اس طرح پارک کرتے ہیں کہ کسی دوسرے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ چاہے اس کے لیے انہیں اپنی گاڑی سکول سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہی کیوں نہ کھڑی کرنا پڑے۔ اسی لیے چھٹی کے بعد ہر ایک بڑی سہولت اور آسانی کے ساتھ اپنے اپنے بچوں کو لے کر جا رہا ہوتا ہے۔
ہمیں بتا یا جاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ان لوگوں نے صفائی کو پورے ایمان کا ہی درجہ دے ڈالا ہے۔ یہاں پر مٹی تو موجود ہی نہیں ہے پتہ نہیں کہ ان لوگوں نے اسے کہاں غائب کر دیا ہے اور سڑکوں کو صاف کرنے والا عملہ بھی بہت کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود سڑکیں گلیاں، پارک غرض یہ کہ کسی جگہ پر بھی عدم صفائی کا احساس نہیں ہوتا۔ کوئی ریپر، بوتل، ڈبہ یا کوئی اور چیز ڈسٹ بن کے علاوہ کہیں اور نہیں پھینکی جاتی۔
میں نے لوگوں کو ریپر وغیرہ اپنی جیبوں میں ڈالتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ جہاں ڈسٹ بن نظر آتی ہے اسے نکال کر اس میں پھینک دیتے ہیں۔ قطار بنوانے کے لیے کسی تردد کی ضرورت نہیں جس جگہ دو آدمی کھڑے ہوں گے قطار خود بخود ہی بن جائے گی تیسرا آدمی ان کے پیچھے قطار میں کھڑا ہو گا اور اسی طرح ہر نیا آنے والا قطار میں اپنی اپنی جگہ پر کھڑا ہوتا جائے گا۔ اور اپنی اپنی باری پر کاؤنٹر پر پہنچتا جائے گا کسی بڑے چھوٹے یا مرد عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔
یہیں پر کیمونٹی سنٹر ہے جہاں ایک کلب بھی موجود ہے ایک دن ایک سردار صاحب سرراہ مل گئے اور وہ مجھے کلب لے گئے اور ان کے کہنے پر میں نے وہاں کی ممبر شپ بھی لے لی وہاں منگل کے دن ساڑھے بارہ بجے سے اڑھائی بجے تک کلب میٹنگ ہوتی ہے۔ ہر ممبر میٹنگ روم میں جاکر اپنی کرسی سٹور سے نکال کر اس پر بیٹھ جاتا ہے اور واپسی پر اسی طرح اس کو سٹور میں رکھ دیتا ہے۔ ہر ممبر قطار میں لگ کر اپنی باری پر اپنی چائے یا کافی خود ہی بناتا ہے۔
وہاں پر پڑے ہوئے بسکٹ لیتا ہے چائے پینے کے بعد کپ کو دھو کر پہلے کی طرح ہی وہاں پر رکھ دیتا ہے۔ گھریلو ملازم اور گھریلو ماسی کا یہاں پر تصور بھی نہیں ہے۔ کیونکہ کم از کم اجرت کے مطابق ایک ملازم کی سالانہ تنخواہ 65 ہزار ڈالر سے لے کر 70 ہزار ڈالر تک بنتی ہے۔ جو ایک بہت بڑی رقم ہے جو شاید کوئی افورڈ نہیں کر سکتا۔ حدیث نبوی ہے کہ ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں“
ہم نے اس حدیث پر کس حد تک عمل کیا ہے ہر ایک پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ دودھ دن دھاڑے کیمیکلز سے تیا ر کیا جاتا ہے۔ life saving drug زندگی بچانے والی ادویات بھی جعلی بنائی جاتی ہیں وطن عزیز میں خالص اشیاء کا حصول اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ہمارے ہاں تو فضا میں بھی ہمہ وقت آلودگی موجود رہتی ہے۔ یہاں پر ان لوگوں نے نہ تو یہ حدیث پڑھی ہے اور نہ ہی سنی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر چیز ملاوٹ سے پاک خالص حالت میں دستیاب ہوتی ہے۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ ان لوگوں نے جانے یا ان جانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے ملک کو اس دنیا میں ہی جنت جیسا خوب صورت بنا لیا ہے اور ہم لوگوں نے بعد از موت حصول جنت کی وجہ سے اپنی دنیاوی زندگی کو بالکل ہی نظر انداز کر رکھا ہے اور بعض اوقات تو مستنصر حسین تارڑ کی اس بات پر بھی سچائی کا گمان سا ہونے لگتا ہے کہ شاید قیامت آ چکی ہو اور ہم لوگ دوزخ میں رہ رہے ہوں۔


