امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا دورہ گلگت بلتستان
پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم نے 18 سے 25 ستمبر تک گلگت بلتستان کا تقریباً ایک ہفتے کا دورہ کیا۔ اس طویل دورے میں انہوں نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مقامی لوگوں سے آزادانہ بات چیت کی۔ وورے کے ابتدائی حصے میں ’یو این ڈی پی‘ کے گلگت بلتستان کے کوڈینیٹر عبدالباسط بھی ان کے ہمراہ رہے اور اس دوران انہوں نے ’یو این ڈی پی‘ کے ترقیاتی منصوبہ کا جائزہ بھی لیا۔ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے مقامی لوگوں، مختلف قابل ذکر افراد اور آرٹ کے کارکنوں سے بھی ملاقات کی اور ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت کا مشاہدہ کیا۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے گلگت بلتستان اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر سعدیہ دانش سے ملاقات کی اور خطے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے اقدامات میں تعاون کا عہد کیا۔ اس موقع پر رکن گلگت بلتستان اسمبلی صنم فریاد بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر توجہ مرکوز کی گئی اور خطے میں خواتین کی ترقی اور بہبود کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا۔ سفیر نے خطے کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے جی بی کے اندر مختلف شعبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
امریکی سفیر نے پاسو گلیشیئر سائٹ کے دورے کے موقع پر انہوں نے گلیشیئر اور پاسو کونز کے نام سے مشہور دلکش پہاڑوں کی دلکش خوبصورتی کا لطف اٹھایا۔ اس موقع پر ’یو این ڈی پی‘ کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے امریکی سفیر کو گلف 2 پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، جو کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور حکومت پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعاون ہے۔ گلف ٹو پراجیکٹ کے تحت گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کا شکار ہونے والے مختلف مقامات پر قبل از وقت وارننگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔
چھوٹے پیمانے پر سیلاب کے خاتمے اور واٹر چینلز کی تعمیر اور مرمت کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی سطح پر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کے قیام جیسے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ امریکی سفیر بلوم نے گلف ٹاپ پراجیکٹ کے تحت گلگت بلتستان حکومت اور یو این ڈی پی کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کاوش سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا گلگت بلتستان کا یہ دورہ نجی نوعیت کا تھا۔ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے دورہ گلگت بلتستان کے حوالے سے امریکی سفارت خانے کے ترجمان جوناتھن لالی نے روزنامہ ’ڈان‘ کو بتایا کہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے گلگت بلتستان کے اس دورے کا مقصد خطے کی موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں سے ایک ہے۔ گلگت اور وادی ہنزہ منفرد پہاڑی اور برفانی ماحولیاتی نظام ہیں جہاں سے دریائے سندھ میں پانی شامل ہوتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ خطہ خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شکار ہے۔
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کے دورہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تاہم میڈیا میں ہندوستانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے امریکی سفیر کے اس دورے پہ اپنی شدید پریشانی کا اظہار سامنے آیا۔ ہندوستان میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے انڈو امریکن چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ایک تقریب کے بعد ہندوستانی صحافیوں کے پاکستان میں متعین امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم کے دورہ گلگت بلتستان کے دورے کے حوالے سے سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکی سفیر پہلے بھی گلگت بلتستان جا چکے ہیں۔
امریکی سفیر نے کہا کہ ہندوستان نے بھی کشمیر میں جی 20 اجلاس رکھا تھا۔ امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے مسئلہ کشمیر پر امریکہ کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے، ہندوستان اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا تصفیہ کرنا چاہیے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ ہندوستان اور پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور اسے دو طرفہ طور پر کیا حل جانا چاہیے، امریکہ اس حوالے سے حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حل ہونا ہے۔
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اس سے پہلے کچھ ہی عرصہ پہلے آزاد کشمیر کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور اس موقع پر بھی ہندوستان کی پریشانی اور بوکھلاہٹ دیدنی تھی۔ ہندوستان کی کوشش ہے کہ گہرے قریبی تعلقات کی روشنی میں امریکہ کشمیر کے مسئلے پہ ہندوستان کے ہٹ دھرمی اور دھونس پہ مبنی موقف کی حمایت کرے۔ لیکن ہندوستان کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود امریکہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے موقف کو درست قرار نہیں دیا جا رہا۔
امریکہ کی طرف سے بارہا یہ واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے اور پاکستان اور ہندوستان اس مسئلے کو مذاکرات سے حل کریں۔ یہاں یہ بیان کرنا بھی اہم ہے کہ 2013 میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنی معمول کی بریفنگ میں ایک انڈین صحافی کے ایک سوال کہ کشمیر میں پاکستان دہشت گردی کروا رہا ہے، کے جواب میں کہا کہ آپ مسائل کو غلط ملط نہ کریں، جنو بی ایشیا میں دہشت گردی کا معاملہ الگ ہے اور کشمیر کا مسئلہ اس سے بالکل الگ معاملہ ہے۔


