کیا آزاد جموں و کشمیر اپنی ’کشمیر بہار‘ کے سرے پر ہے؟


وفاق کی مختلف اکائیوں میں اعتماد کا بحران پاکستانی ریاست کی سالمیت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ لسانی تنوع، جغرافیائی خدو حال، رقبے اور ثقافتی فرق کے اعتبار سے دیکھا جائے تو وفاق کی اکائیوں میں واضح عدم توازن نظر آتا ہے۔ پاکستان کے ایک صوبے بلوچستان کا رقبہ ریاست کے کل رقبے کا پینتالیس فیصد ہے جبکہ آبادی پانچ فیصد ہے۔ بلوچستان معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ سندھ میں لسانی تناؤ ہمیشہ اپنی الگ شکل میں نمایاں رہا ہے۔

پانی سے بجلی پیدا کرنے کے مقامات زیادہ طرح خیبر پختون خواہ میں ہیں کیونکہ پاکستان کے دریا خیبر پختون خواہ نکلتے ہیں اور پنجاب سے گزرتے ہوئے سندھ میں سمندر میں جا گرتے ہیں۔ پنجاب ابتدا سے صنعتی اور زرعی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فوج میں بھی واضح اکثریتی نمائندگی رکھتا آیا ہے اور فوج پاکستان کے سیاسی نظام کی سمت متعین کرنے والا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی ایک طبقے کی تمام اختیارات پر بالادستی اور دیگر اکائیوں اور قوموں کی بنیادی حقوق سے محرومی وفاق کی ساکھ پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے ) کے مختلف شہروں میں تاجروں کے احتجاج اور پولیس کی کارروائیوں میں حالیہ اضافہ ہماری فوری توجہ اور احتیاط سے غور کرنے کا متقاضی ہے۔ یہ واقعات عوام میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کی ایک واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ایک طرف عوام اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کی دہائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو تشدد کی راہ سے خاموش کرنے کا انتظام کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کشمیر میں حالیہ انتظامی خلفشار کو ”کشمیر بہار“ یعنی عرب بہار کا عکس بتا رہے ہیں۔

عرب بہار کا آغاز دسمبر 2010 میں اس وقت ہوا جب تیونس کے گلی کوچوں میں ایک دکاندار محمد بوعزیزی نے پولیس کی جانب سے سبزی کے اسٹینڈ پر من مانے قبضے کے خلاف احتجاج کیا اور بالآخر خود کو آگ لگا دی۔ بوعزیزی کی قربانی کے عمل نے تیونس میں عوامی مظاہروں اور احتجاج کی راہ ہموار کی۔ تیونس میں سڑکوں پر ہونے والے پرزور عوامی مظاہروں سے بالآخر صدر زین العابدین بن علی کو اپنے عہدے سے دستبردار ہو کر سعودی عرب فرار ہونا پڑا۔ حکومت کے خلاف عوامی ردعمل شدید تر ہوتا گیا۔

”عرب بہار“ بغاوتوں کا ایک سلسلہ تھا جس نے تیونس، مراکش، شام، لیبیا، مصر اور بحرین سمیت متعدد مسلم ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تیونس کے گلی کوچوں سے اٹھتی یہ آواز جس کا نعرہ تھا (الشعب یرید اسقاط النظام، ’لوگ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں ) مشرق وسطیٰ سے شمالی افریقہ تک پھیل گیا۔ جبوتی، موریطانیہ، فلسطین، سعودی عرب اور مراکش کے زیر قبضہ مغربی صحارا میں بھی اسی دوران معمولی مظاہرے ہوئے۔ اگرچہ تیونس میں بغاوت نے انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے ملک میں کچھ بہتری لائی اور ملک کے پہلے جمہوری پارلیمانی انتخابات بھی اکتوبر 2011 میں ہوئے مگر دیگر اقوام میں تمام کے لیے ان بغاوتوں کے ثمرات بہت خوشگوار بھی نہیں رہے جن کے اثرات ہم آج تک دیکھ رہے ہیں۔

لیبیا میں، اسی دوران، آمر کرنل معمر قذافی کو اکتوبر 2011 میں ایک پرتشدد خانہ جنگی کے دوران معزول کر دیا گیا تھا۔ مصر میں، صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد 2012 میں محمد مرسی نے متنازعہ انتخابات کے بعد اقتدار تو سنبھال لیا مگر جلد ہی مزید خانہ جنگی کی صورت وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی نے مصر میں آمرانہ طرز حکمرانی کی راہ دوبارہ اپنا لی۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے ان ممالک میں ایک طرف عوام اپنے بنیادی حقوق جن میں اقتصادی آزادی، روزگار، تعلیم، آزادانہ انتخابات، جمہوریت اور اسلامی نظام جیسے حقوق کی مانگ کر رہے تھے تو دوسری طرف ان ممالک کی حکومتیں، حکومتی بدنظمی، دھونس، دھاندلی، فرقہ واریت، افراط زر، سارقیت، سیاسی بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے جرائم میں ملوث تھیں۔

جب ریاست اپنے ہی شہری پر زمین تنگ کر دے اور شہری کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے تو کیا شہری ریاست کے وجود پر سوال نہیں اٹھائے گا؟ شہری ہی ریاست کو ایک منزہ خیال تصور کرتا ہے، ریاست شہری کے پاؤں تلے بچھی زمین کا نام ہے جسے شہری خود پر مقدم جانتا ہے لیکن اگر ریاست جبر کو ہتھیار بنا لے تو شہریوں کو ”عرب بہار“ جیسی بغاوتوں سے کون روک سکتا ہے؟ پھر اس بغاوت سے بہار آئے تو ٹھیک مگر خزاں آئے تو کیا؟ عرب دنیا اور شمالی افریقہ میں ”عرب بہار“ کے زیر اثر متعدد حکومتوں کا تختہ الٹتے ہم نے دیکھا، کیا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بڑھتی سیاسی خلفشار اور بد انتظامی کو ”کشمیر بہار“ ہی سمجھا جائے؟

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ موجودہ مسائل جن میں آٹے کی قلت کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ، بجلی کی قیمتوں میں ڈالرز کے حساب سے اضافہ اور گلا مروڑ مہنگائی محض حالیہ حکومت کے دور کا مسئلہ ہے۔ بلکہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس یہ مسائل کشمیری قوم کو ہبہ کر کے رخصت ہوئے۔ تاہم موجودہ وزیر اعظم انوار الحق صاحب کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام میں امید جاگی کہ وزیر اعظم صاحب جلد کابینہ تشکیل دیں گے اور مسائل کا حل بہتر سیاسی حکمت عملی سے نکالیں گے۔

لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وقت زوال بھی رخصت ہوا مگر وزیر اعظم صاحب نے کابینہ تشکیل دینے کا جھنجٹ مول نہ لیا اور کابینہ تشکیل دی بھی تو غیر منصفانہ۔ یوں مسائل کا حل تو کجا بلکہ جب عوامی رد عمل شدید مزاحمت اور مظاہروں کی شکل میں آیا تو وزیر اعظم صاحب گویا ہوئے کہ ”میرا کہہ اے، اے پرنا سٹیا مہنڈے تے اوہ جاندا پیا“ ( میرا کیا ہے کندھے پر رومال رکھ کر چلا جاؤں گا) یہ ان کی ملنگی سیاسی حکمت عملی تھی ان تمام مسائل کے حل کے لیے۔

آزاد جموں و کشمیر میں شہری بد امنی بھڑنے کے خطرات موجود ہیں، کیونکہ احتجاج پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ خاص طور پر مظفرآباد، باغ اور راولاکوٹ میں اس کی شدت دیکھی گئی ہے۔ یہاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں احتجاجی رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ خانہ جنگی کا امکان آزاد جموں و کشمیر میں انسانی سلامتی اور داخلی سلامتی کے چیلنجوں کو ہوا دے رہا ہے۔ حکومت احتجاج کے پہلے ردعمل کے طور پر طاقت کا سہارا لے رہی ہے جب کہ اسے آخری حربہ ہونا چاہیے۔

ہڑتال اور احتجاج نے آزاد جموں و کشمیر کے بڑے شہروں اور قصبوں میں روزمرہ کی زندگی کو ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے، جہاں کے رہائشی حکومت اور پاور ڈویژن کے خلاف اپنی مایوسی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ تمام حالات آزاد جموں و کشمیر کے لیے مزید اقتصادی دھچکے کا باعث ہو سکتے ہیں، کیونکہ تاجر احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ نازک سڑکوں کو بلاک کر دیا گیا ہے، اور کوہالہ جیسے داخلی مقامات پر نئی ناکہ بندیوں کا قوی امکان ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں جاری بدامنی ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے مظاہروں پتہ دیتی ہے، جو معاشی چیلنجوں اور افادیت کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے وسیع مایوسی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہر سطح پر حکومتوں کو اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے حکمت سے کام لینا چاہیے۔

حکومت کو ان مظاہروں کا طاقت سے جواب دینے کے بجائے تاجروں اور عوام کے ساتھ تعمیری بات چیت کرنے کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مشترکہ بنیادوں کی تلاش اور عوام پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے حل تلاش کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس میں بجلی کے نرخوں پر نظر ثانی کرنا، ٹیکسوں سے متعلق خدشات کو دور کرنا، اور زندگی گزارنے کی لاگت پر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا شامل ہیں۔ لوگوں کے مطالبات بے بنیاد نہیں ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں، گرتی ہوئی معیشت، اور بڑھے ہوئے ٹیکس ان کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔

جان لاک کے فلسفے سے اخذ کرتے ہوئے، حکومت اور اس کے شہریوں کے درمیان ایک سماجی معاہدہ موجود ہے اور حکومت شہریوں کے مسائل کو حل کرنے کی پابند ہے، یہاں لفظ ’پابند‘ کو تین مرتبہ پڑھا جائے! وفاق کو بھی ملک گیر احتجاج کو کچلنے کے لیے اپنی خدمات حکومت وقت کو محض ”کمک“ پہنچانے تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ عوامی تحفظات کو دور کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS