کولمبس سے پہلے امریکہ کی قدیم سلطنتیں اور تمدن


آج امریکہ دنیا کی تاریخ کا ایک بے مثل عالمی طاقت ہے اور شاید ہی ایسا کوئی فرد نہیں ہو گا، جو امریکہ کے نام سے واقف نہ ہو مگر آج سے 500 سال قبل دنیا کے لوگ اس خطے کے وجود سے بھی لا علم تھے۔ اس وقت تک خیال یہ تھا کہ ساری دنیا ایشیا، افریقہ اور یورپ کے براعظموں پر مشتمل ہے۔ یہ تو کہیں 15 ویں صدی کے اخیر ( 1492 ) میں جب اسپین کے ملاح ”کرسٹوفر کولمبس“ کا اتفاقا اس خطے کو دریافت کرنے کے بعد پرانی دنیا کے باسیوں کو معلوم ہوا کہ دنیا میں انسانوں کے اور خطے بھی ہیں۔

اور وہ اسی خطے کو ”نئی دنیا“ کہلانے لگے۔ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان اس خطے کا نام اطالوی ملاح امریگو (Amerigo) کے نام پر ”امریکہ“ رکھا گیا۔ جو دو براعظم ( شمالی اور جنوبی) میں تقسیم کیا گیا۔ کولمبس کی آمد سے پہلے اس خطے (براعظم) کے باسیوں کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کیا تھی اس بارے میں معلومات کے ذرائع آثار قدیمہ، وہاں کے لوگوں کی تصاویری تحریرات، مقامی افراد کی زبانی روایات اور مغربی (اسپینی) حملہ آوروں کی تحریریں یادداشتیں ہیں۔

آثار قدیمہ کے مطابق امریکی خطے میں پہلے انسان تیس چالیس ہزار قبل شمال مشرقی ایشیاء سے وارد ہوئے۔ جہاں سے وہ بتدریج براعظم کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں پھیلتے گئے اور 7 ہزار ق م تک امریکہ کے انتہائی جنوبی سرے اور مشرقی سواحل تک پہنچ گئے۔ بہت بعد کی صدیوں میں یہاں کے کچھ حصوں میں کئی تہذیبیں نشو و نماء پذیر ہوئیں تاہم یہ پرانی دنیا کی قدیم تہذیبوں (میسوپوٹیمیا، مصر اور سندھ) سے مختلف اور ناپائیدار تھیں اور اسی وجہ سے موسمی وغیرہ حالات یا بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں جلد منہدم ہو گئیں۔

امریکہ میں تہذیب کا دیر سے پنپنے کی ایک وجہ ماہرین کے مطابق جغرافیائی تھی۔ مقامی امریکیوں کو ایشیائی تہذیبوں کی طرح زرخیز دریائی وادیاں میسر نہیں تھیں۔ گندم، جو اور چاول کے بجائے ان کی پیداوار مکئی، رسیلے پھل اور آلو تھے۔ بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور مرغیوں کی جگہ ان کے مویشی بھینس اور تورکی تھیں۔ ان کے مرکز اکثر پہاڑ تھے۔ جو 12000 سے لے کر 3000 میٹر تک کی بلندیوں پر تھے۔ شمالی امریکہ، جو آج دنیا کا امیر ترین اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے، کے باشندے یورپیوں کی آمد تک ابتدائی کاشتکاری اور شکاری سطح کے تھے۔ یہاں یورپیوں کی آمد سے قبل اس کے دو بڑے خطوں ) قدیم ”میسو امریکہ ( وسطی امریکہ اور میکسیکو)“ جنوب مغربی امریکہ کے کوہستان انڈیز ”( موجودہ پیرو، بولیویا اور ایکویڈور) میں پنپنے والے اہم تمدن اور سلطنتوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔

1) اولمیکOlmec) تمدن۔ یہ ”میسو امریکہ“ کا سب سے بڑا قدیم تمدن گردانا جاتا ہے۔ 19 ویں صدی کے وسط تک اس کے بارے مورخین لاعلم تھے۔ آثار قدیمہ کی دریافتوں کے مطابق یہ تمدن خلیج میکسکو کے سنگ ویرکاروز ”اور تابسکو ( موجودہ میکسکو کی ریاستیں ) کے زیریں علاقے میں پنپا۔ جہاں اس کے تین بڑے مراکز“ سان لورینزو ”،“ لا وینٹا ”اور Tres Zepotes تھے۔ اس کے آغاز اور عروج کے بارے پوری معلومات نہیں ہیں تاہم اس کی آبادی ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

ان کے مذہبی تقریباتی مراکز، اہرام۔ محلات اور نکاسی آب کا موثر انتظام اس کی تمدنی ترقی کے شواہد ہیں۔ آرٹ کے شعبے میں اس کے سب سے نمایاں اور حیران کن تکمیلات پتھروں سے تراشے گئے مجسمے اور بالخصوص انسانی سر ہیں۔ آرٹ اور تعمیرات کے یہ نمونے اس کی فنی پیشرفتوں کی دلیل ہیں۔ اس کے علاوہ پتھروں پر لکھنے اور تاریخوں کی کندہ کاری کی شروعات بھی کیے۔ اولمپک کی تجارتی سرگرمیوں سے اس کے کلچرل اثرات جنوب میں موجودہ نکارگوا تک پھیل گئے تھے اور بعد کی تہذیبوں کے لیے بنیاد ثابت ہوئے۔ 400 اور 300 ق م کے دوران اس کے بہت سارے مقامات تباہی کا شکار ہوئے تھے۔ اور اولمیک کلچر زوال کا شکار ہو گیا تھا۔ جن کے اسباب کا تعین نہیں ہو سکا ہے

تیوتیحکن (Teotihucan) کا شہر۔

اولمیک کلچرل ورثے ( بڑے مندر رسوماتی مراکز، وسیع سطح کی تجارت) تیوتیحکن شہر نے آگے بڑھایا۔ میکسیکو کی وادی میں (موجودہ میکسیکو سٹی سے 30 میل جانب شمال مشرق) 7500 فٹ کی بلندی پر واقع اس شہر کے باسیوں (جو دوسری صدی عیسوی میں یہاں آباد ہوئے تھے ) نے اولمیک کلچرل ورثے سے استفادہ کر کے اسے تعمیر کیا تھا۔ 500 ع میں رقبے کے لحاظ سے یہ اپنے ہم عصر شہر روم سے بڑا تھا جس کی آبادی اندازہ 2 لاکھ تھی جو شہر کے مذہبی مرکز کے گرد رہائش پذیر تھی۔

چونکہ ان کے شہریوں نے کوئی تحریری ریکارڈ نہیں چھوڑا ہے۔ اس لیے ان کے بارے معلومات کے ذرائع آثار قدیمہ کی باقیات، اور اس کے باسیوں کے تصاویری آرٹ اور مجسمے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کے بارے یقین تو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم آرٹ اور آرکیٹیکچر کی حوالے سے شاندار شہر تھا جس کی وسطی امریکہ میں نقالی کی گئی۔ یہاں کے لوگ مظاہر فطرت (، سورج، چاند، پانی اور پودوں ) کی پوجا کرتے تھے۔ سورج دیوتا اور چاند دیوتا کے لیے دو بڑے اہرا موں کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے اہرام اور مندر تعمیر کرائے۔

ان کی پینٹنگ اور کندہ کاری کے نمونوں میں اکثر ”جیگوار اور سانپوں کی نقش کاری بھی ہے اس لیے یہ بھی ان کے ہاں مقدس رہے ہوں گے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے دیوتا خون کو پسند کرتے ہیں اس لیے ان کے مذہب میں انسانی اور حیوانی خون کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ زیورات سونے اور تانبے کے بناتے تھے جبکہ عام آوزار قدرتی شیشے کے پتھروں کے ہوتے تھے۔ ان کی خوراک“ مکئی ”اور“ رسیلے پھلوں ”کے علاوہ“ ہرن ”اور“ مرغابیوں ”کا گوشت ہوا کرتی تھی“ تیوتیحکن ”شہر 150 ق م سے 750 عیسوی کے دوران آباد تھا۔ جس کے بعد یہ ویران ہو گیا۔ اس کے خاتمے کے اسباب معلوم نہیں۔ ممکن ہے کہ“ ٹولٹیک ”لوگوں نے حملہ کر کے اس کو تاراج کیا ہو جس کی وجہ سے وہاں کے کسانوں نے شہر چھوڑ دیا ہو۔

3) مایا (Maya) تمدن ( 300 ق م تا 900 عیسوی) ۔

جس زمانے میں میکسیکو کے بالائی سطح مرتفع میں ”تیوتیحکن“ شہر عروج پر تھا تو ”مایا لوگ“ جنوبی میکسیکو اور وسطی امریکہ کے جزیرہ نما ”یوکاتان“ (جس کو آج کل گوئٹے مالا ”کہا جاتا ہے ) کے گھنے جنگلات میں شاندار شہر تعمیر کر رہے تھے۔ ان کی تعمیرات حیران کن اور شاندار کارنامے اس لیے بھی ہیں کہ ان کے پاس اس وقت نہ لوہے کے آوزار تھے نہ پہیوں والے ریڑھے اور نہ وہ بیل اور گھوڑے رکھتے تھے۔ وہ پتھروں کے آوزاروں اور ہاتھوں سے جنگلوں کو صاف کر کے شاندار اہرام اور عبادت گاہیں تعمیر کرتے تھے۔ جو ”یوکاتان“ کے جنگلات میں آج تک موجود ہیں ”مایا“ لوگوں کے یہاں ابتدائی تحریر تھی اس لیے ان کے بارے ”طیوتیحکن“ کی نسبت معلومات قدرے زیادہ ہیں۔ ان کا مذہبی نظام دیو مالائی تھا۔ بڑے بڑے اہرام اور مندر کی تعمیرات کے محرک دیوتا تھے۔ ان کے دیوتا بھی خون پسند تھے اس لیے انسانی قربانیاں ان کے مذہب میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کے نوجوان جنگی جتھوں کی صورت میں نکل کر اپنے ہمسایوں پر حملے کر کے ان کو زندہ پکڑتے تاکہ ان کو ضرورت کے وقت اپنے دیوتاؤں پر قربان کر دیں۔

مایا کی تصویری تحریرات سے ان کے بادشاہوں کا جنگجو ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ مایا تمدن کی تصویری آرٹ (پینٹنگ) اور کندہ کاری عموماً جنگوں اور خونی قربانیوں سے متعلق ہیں۔ ان کے بادشاہ اور مذہبی رہنما شوخ رنگ کے لباس پہنتے تھے۔ تیوتیحکن والوں کی طرح ان کے ہاں بھی ”جیگوار“ خاص جانور کی حیثیت رکھتا تھا۔ مایا لوگ فلکیات میں دلچسپی رکھتے تھے ان کی رصد گاہ آج بھی موجود ہے۔ وہ اچھے ریاضی دان تھے۔ زیرو کا عدد بھی انہوں نے ایجاد کیا تھا۔

اپنے فلکیاتی مطالعے سے 400 سال تک کار آمد تقویم (کیلینڈر) بناتے تھے جو حیران کن حد تک درست ہوتے۔ مایا تمدن اپنے قیام کے دوران کئی صدیوں تک نشیب و فراز سے گزرا۔ اس کا بہترین دور جنگل کے نچلے حصے میں 250 عیسوی سے 900 عیسوی تک رہا ہے۔ جبکہ ”یوکاتان“ کے بالائی سطح پر ”چیچن اتزا“ جیسے مقامات پر یہ تمدن 1200 عیسوی تک قائم رہا۔ مایا تمدن کیونکر ختم ہوا اس کی وجوہات کے بارے بھی یقین سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ قحط، جنگ، بیماریوں یا جنگلوں کا پھر سے پھیلنے کے باعث ہو۔ بہر حال وجہ جو بھی ہو ”گوئٹے مالا“ جنگل صدیوں تک ان کے آباد کردہ شہروں کو نگلتے رہے جن میں بہت ساروں کے آثار 19 ویں صدی میں دریافت ہو گئے ہیں

4) ۔ ٹولٹیک۔ Toltec تمدن 950 تا 1150۔ تیوتیحکن کے زوال اور مایا شہروں کی ویرانی کے بعد وسطی میکسیکو میں سیاسی خلا سے فائدہ اٹھانے کے لیے شمالی سرحد کی جانب سے مختلف قبائل در آنے لگے تھے جن میں ایک ”ٹولٹیک“ نامی قبیلہ تھا جس نے 968 عیسوی میں ”طولا“ (موجودہ میکسیکو سٹی کے شمالی جانب واقع) میں اپنا مرکز قائم کیا۔ جہاں انہوں نے اپنے پیشروں (تیوتیحکن اور مایا) کے کلچرل باقیات اور تکمیلات سے استفادہ کر کے بہت سارے مقامی زرعی اقدار اپنانے کے ساتھ یہاں جنگجوئی اور انسانی قربانیوں کے کلٹ کا اضافہ کیا۔ اپنی فتوحات سے انہوں نے بڑی وسیع سلطنت بنا لی جس کا دائرہ اثر میکسیکو سے باہر تک پھیلا دیا۔ اپنے مرکزی شہر ”طولا“ میں انہوں نے بڑے پتھروں سے بنے مندر اور یادگار تعمیرات رکھ چھوڑی ہیں۔ ان کی سلطنت 1150 تک قائم رہی۔ جو غالباً شمال کی جانب سے آئے خانہ بدوش حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ ہوئی۔

5) ازٹیک (Aztecs) تمدن اور سلطنت @

ٹولٹیک کے زوال کے بعد آبادی اور سیاسی طاقت کا مرکز میکسیکو کی وادی بالخصوص یہاں کے جھیلوں کے وسیع ساحلوں کی طرف منتقل ہو گیا۔ جہاں مختلف قبیلے آباد ہونے لگ گئے تھے۔ جو چھوٹی چھوٹی سیاسی اکائیوں یا شہری ریاستوں میں منقسم تھے۔ 1325 کے لگ بھگ کچھ 10 ہزار پر مشتمل آزٹیک قبیلہ نے آ کر ”ٹیکس کوکو“ جھیل کے ایک جزیرے میں ایک شاندار شہر ”ٹینوچٹیٹلان“ (Tenochititlan) تعمیر کیا۔ جو ان کا دارالحکومت ٹھہرا اس کی توسیع کر دی اور اس کو جھیل کے ساحل سے منسلک کرنے کے لیے چوڑے راستے بنائے۔ جن میں ایک 8 کلو میٹر لمبا تھا۔ جس پر بعد میں آنے والے اسپینی حملہ آوروں کے پانچ پانچ گھوڑے ایک ساتھ چل سکتے تھے۔ ازٹیک لوگوں کی زیادہ تر آمد و رفت کشتیوں کے ذریعے ہوتی تھی جن کے لیے انہوں نے نہریں نکالی تھیں۔ شہر کے ارد گرد مصنوعی جزیرے بنائے تھے جن میں خوراک آگائی جاتی تھی۔ ضروری اشیا گرد و نواح کے دیہاتی علاقے سے لاتے تھے۔ ازٹیک لوگ خود کو ”ٹولٹیک“ سے لسانی اور نسلی تعلق اور یوں وارث ہونے کے دعوی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کے جواز گردانتے تھے۔

ازٹیک سلطنت @ازٹیک چونکہ بڑے خوفناک جنگجو لوگ تھے۔ اپنی جنگجوئی اور سخت کوشی کے باعث بتدریج بالادست ہو کر ایک بڑی سلطنت قائم کر گئے۔ ان کا مذیب دیو مالائی تھا، ان کے دیوتا انسانی قربانیاں مانگنے والے تھے۔ ان کے بادشاہ، جو بہترین جنگجو ہوتے تھے، کو امراء منتخب کرتے تھے۔ مردوں کی جنگی تربیت کی جاتی تھی نوجوان جنگجووں کے گروہ قربانیوں کے لیے قیدی پکڑنے کی مہم پر نکلتے۔ یا بعض اوقات ان کی فوج ہمسایہ قصبوں سے خراج پانے کے لیے حملہ آور ہوتی۔ جو سونا چاندی یا دوسرے خام مال اور قیدیوں کی صورت میں ہوتا۔ 1428 عیسوی میں ازٹیک نے دو دوسرے شہروں کے اتحاد سے ”ازکپوزالکو“ میں ایک اہم فتح کر لی جس کے باعث ”ٹینوچٹٹلان“ خطے کا سب سے طاقتور شہر بن گیا ان کے ایک بادشاہ ”موکتوزما اول“ (Moctezuma کے دور میں ازٹیک حکمران بحرالکاہل سے بحر اوقیانوس تک تقریباً تمام وسطی امریکہ کی آبادیوں سے سونا، چاندی، کپڑوں، کوکو اور فر کی صورت میں خراج لینے لگے تھے۔ اور ”ٹنیو چٹیٹلان“ مالا مال شہر ہو گیا تھا۔

احوتوزتل Ahuitzitl ( 1486 تا 1502 ) ایک اور جنگجو بادشاہ تھا جس نے خلیج میکسیکو کے ساحل پر مہمات سر کرنے کے بعد اپنے باجگزار سرداروں اور ہمسایوں کو ٹینوچٹیٹلان ”بلا کر اپنی بالادستی جتا دی۔ اسی موقع پر عظیم مندر کی برکت کے لیے ازٹیک دیوتاؤں کے اعزاز میں چار روزہ خصوصی تقریب کے دوران ہزاروں جنگی قیدیوں کو دیوتاؤں پر قربان کیا گیا۔ احوتوزتل“ اور اس کے جانشین ”موکتوزمادوم“ چونکہ اپنے کمزور ہمسایوں پر حملہ آور ہو کر قیدی اور خراج لیتے رہے۔ اس لیے جب ہسپانوی اپنے کمانڈر ”کورٹس“ (Cortes ) کی قیادت میں حملہ آور ہوئے تو بہت سے باجگزار سرداروں کی ہمدردیاں ”مو کتوزمادوم“ کے بجائے ہسپانیوں کے ساتھ تھیں۔ 1520 میں کیے گئے حملے میں اگرچہ ”کورٹس“ کامیاب نہ ہوا مگر اگلے سال 1521 میں اس کی ہسپانوی اور وہاں کے مقامی سرداروں کی مشترکہ فوج نے ازٹیک کو شکست فاش دے کر ان کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ ”موکتوزما دوم“ کو اس کے اپنے لوگوں نے قتل کر دیا۔ اگرچہ ہسپانوی چٹیٹلان ”کو ایک شاندار شہر گردانتے تھے تاہم انہوں نے اس کی جگہ اپنی تعمیرات کر لیں۔ ازٹیک کے مندر کے کھنڈرات پر میکسیکو شہر کا عیسائی گرجا گھر تعمیر کرایا۔

6) ان کا (Incas) سلطنت ( 1438 تا 1532 )

مغربی جنوبی امریکہ کے حدود میں واقع کوہ انڈیز کے خطے میں ”انکا“ کی آمد سے پہلے یہاں چاوین ( Chavin) ”900 ق م تا 300 ق م اور موچے ( Moche)“ 300 ق م نامی کلچرز گزرے تھے جن کے باسیوں نے آرٹ (مجسمہ سازی) ، تعمیرات اور منقش برتن سازی کے علاوہ وسیع نظام آبپاشی میں کافی اہم پیشرفتیں کی تھیں۔ کوہستان انڈیز ( Andes ) کے بالائی خطے میں سطح سمندر سے 4000 کلومیٹر کی بلندی پر وسیع و عریض میدانوں میں واقع ”ٹیٹیککا (Titicaca) جھیل سے چند کلو میٹر جنوب میں“ ٹیوہوناکو ”کا شہر ریا تھا جو 600 سے 1000 عیسوی تک آباد رہا۔

اس کے لیے جھیل سے نہر کے ذریعے آبپاشی کا بہترین انتظام کرایا گیا تھا۔ پہاڑوں کے دامنوں کو کھرچ کر زمینیں بنالی تھیں۔ اسی دور میں پیرو کے ساحلی حصے میں 600 تا 1100 عیسوی ”واری“ (Wari) نام کی بادشاہت بھی قائم رہی تھی۔ 12 صدی عیسوی سے ”ان کا“ نامی لوگ ”ٹیٹکاکا“ جھیل کے شمالی جانب پیرو کے ایک شہر ”کوزکو“ Cuzco کے وادی میں آباد ہو گئے تھے۔ 1438 میں ان کے ایک نامور حکمران ”پاجاکیوٹی“ (Pachacuti ) 1438 تا 1471 ) جو بہترین جرنیل اور منتظم تھا، نے اپنے بیٹے ”توپا ان کا“ کی مدد سے ”ان کا“ کو علاقے کی ایک مضبوط عسکری طاقت بنا کر کے گرد و نواح کی حریف ریاستوں بشمول شمالی ساحل کی ”چیمور“ بادشاہت کے خلاف متعدد فتوحات کر کے ایسی سلطنت قائم کر لی جو 1493 میں شمال میں ”کیوٹو“ سے ہو کر کوہستان انڈیز اور بحرالکاہل کے مغربی ساحل پر سے ہو کر 3000 کلو میٹر جنوب تک پھیلی ہوئی تھی اور جنوبی اکیوڈور سے بحرالکاہل کے ساحلی صوبے سے پیرو، بوکیویا، چیلی اور ارجنٹائن تک علاقے پر مشتمل تھی۔

جس کو 10 ہزار میل شاہراہوں کے نیٹ ورک سے منسلک رکھا گیا۔ یہ اس وقت تک امریکی تاریخ کی سب سی بڑی سلطنت تھی۔ ان کا حکمران خود کو سورج دیوتا کی اولاد گردانتے تھے اور اسی ناتے رعایا پر مطلق اختیار رکھتے تھے۔ ان کا سلطنت، جس کو دارالحکومت ”کازکو“ سے بادشاہ اپنے انتہائی منظم نوکر شاہی کے ذریعے کنٹرول کرتا تھا، چار حصوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ ہر حصہ ایک منتظم کے تحت تھا۔ جبکہ ہر حصہ گورنروں کے زیر انتظام مختلف صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

حکومت سڑکیں اور پل بناتی، آبپاشی کا انتظام بہتر بنایا اور پہاڑوں کے ڈھلوانوں میں کاشتکاری کے لیے نئی زمینیں بنا ڈالیں۔ حکام خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے رکھتے۔ اور کچھ ذخیرہ بھی کر لیتے تاکہ خشک سالی میں کام آ سکے ”ان کا“ معماروں کا کمال یہ ہے کہ پہیے والی ریڑھے یا ذرائع نہ رکھنے کے باوجود سادہ آوزاروں سے گرینائیٹ کے بڑے بڑے چٹانوں کو کاٹ لیتے تھے اور بڑے پتھروں کو لے جا کر انتہائی مہارت سے قلعے اور مندر تعمیر کرائے۔

پہاڑ کی چوٹی پر بنا ”ماچو پیچو“ کا مشہور شہر اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اگرچہ ان کے پاس گھوڑے نہ تھے لیکن انہوں نے ڈاک کا انتظام یوں بنایا تھا کہ سرکاری پیغامات کو تیز دوڑنے والے افراد کی ٹیم ایک دن میں 150 میل تک پہنچا دیتے تھے ”ان کا“ کے ہاں تحریری زبان تو نہیں تھی۔ مگر احکامات بھیجنے کے لیے لکڑی کے تختیوں پر مختلف رنگوں کے دھاگے لگاتے تھے۔ ہر دھاگے پر مختلف گرہیں ہوتی تھیں۔ مختلف ہدایات کی وضاحت ان گرہوں کی ترتیب (پوزیشن) سے ہوتی تھی اس قسم کے ہدایاتی تختیوں (Guipus کے بنانے اور پڑھنے کے لیے تربیت یافتہ ٹیم یا افراد ہوتے تھے۔ مفتوحہ علاقوں میں بغاوت کرنے والوں کو حکام سلطنت کے دوسرے حصوں میں منتقل کر دیتے

انکا مذہب@انکا مذہب دیومالائی تھا۔ سورج دیوتا ان کا بڑا دیوتا تھا۔ اس کے لیے ”کوزکو“ میں انتہائی شاندار مندر تعمیر کرایا۔ بادشاہ کے خطاب (سورج کا بیٹا) سے مطلب یہ تھا کہ بادشاہ بذات خود ایک نیم دیوتا ہے۔ سورج کے علاوہ اور بھی کئی دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی۔ دیوتاؤں کے ساتھ ان کے ہاں اجداد کی ارواح کی پرستش کا رواج بھی تھا۔ ازٹیک کے مقابلے میں ”انکا“ لوگوں میں انسانی قربانیوں کی شرح نسبتاً کم تھی۔

تاہم وہ قربانی کے لیے عموماً سب سے خوبصورت کم سن بچوں کا انتخاب کرتے تھے۔ امراہ کا تقرر بادشاہ کرتا تھا اور ان کو معاوضہ فتوحات اور رعایا سے وصول شدہ ٹیکس کے رقوم سے دیتا تھا۔ بادشاہ اور اس کے خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی لاش کو قدیم مصریوں کی طرح حنوط کر کے شاندار مقبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔

سلطنت ان کا کا خاتمہ۔ ان کا کے مفتوحہ علاقوں کے لوگ ان کے زیر تسلط رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اکثر بغاوتیں کرتے رہتے تھے۔ 1527 عیسوی میں خانہ جنگی پھوٹ پڑنے سے حکومت کمزور ہو گئی۔ اگرچہ 5 سال بعد 1532 ع میں اتاہوالپا ( Atahualpa) نے اپنے بھائی کے مقابلے میں کامیاب ہوا مگر جلد ہی اس کو اسپنی کمانڈر ”پیزراؤ“ کی قیادت میں اسپنی فوج کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے دھوکہ دے کر اس کے ہزاروں مسلح اہلکاروں کو قتل کیا۔ ”اتاہوالپا“ کو پکڑا اور جان بخشی کے لیے ڈھیروں سونا اور چاندی لے کر وعدے کے باوجود قتل کر دیا اس کے بعد کچھ عرصے تک اگرچہ ان کا ”کی مزاحمت جاری رہی لیکن اسپنی فوج کافی طاقتور تھی۔ اور 40 سال کے اندر“ ان کا سلطنت ”ماضی کا حصہ بن گئی۔ اور ’پیرو“ کے خطے پر ”اسپین“ نے حکمرانی قائم کرلی۔

Facebook Comments HS