ڈاکٹر توصیف تبسم چلے گئے


محمد احمد جنہیں ہم سب شاعر، استاد اور ادیب ڈاکٹر توصیف تبسم کے نام سے جانتے ہیں پچانویے برس کی بھر پور اور قابل رشک زندگی گزار کے اگلے جہان کو رخصت ہو گئے۔ کہہ لیجیے وہ شخصیت چلی گئی جو ایک تہذیب کی نمائندہ تھا۔ شعر و ادب ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ جب تک وہ اسلام آباد کے جی نائن کے علاقے میں رہے ملاقات کی صورتیں تواتر سے نکلتی رہتی تھیں پھر وہ ڈی ایچ اے منتقل ہو گئے تو ملاقات میں وقفے پڑنے لگے۔ مجھے یاد ہے اسلام آباد کے اس مکان میں، جس میں وہ برسوں رہے تھے، میری ان کے آخری بار ملاقات ہوئی تو انہیں بھارت سے شائع ہونے والی ایک کتاب کے کچھ صفحات کی عکسی نقول درکار تھیں۔

میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میرا ان کی طرف آنا ہوا میں وہ لیتا آؤں گا۔ یہ موقع اگلے پانچ چھ روز بعد ہی نکل آیا تھا۔ میں اور میری بیگم یاسمین وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سارا گھر خالی پڑا بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔ وہاں موجود ایک بچے سے پوچھا کہ توصیف صاحب؟ اور اس سے پہلے کہ جملہ مکمل ہوتا کہا: مکان بک گیا ہے؟ یا خدا، اس کا انہوں نے ذکر تک نہ کیا تھا۔ میں نے گھر سے باہر نکل کر فون کیا۔ میری بات سنتے ہی کہا تم گھر پہنچو میں تفصیل سے بتاتا ہوں۔

جو کچھ میں نے ان کی گفتگو سے اخذ کیا یہ اس سے مختلف نہیں ہے جو قبل ازیں منشا یاد اور خالدہ حسین کی رہائش گاہوں کے حوالے سے ہو چکا تھا۔ خیر یوں ہے کہ وہ شہر کے مرکز سے کٹ کر اور ذرا فاصلے پر چلے جانے سے اکیلے ہو گئے تھے۔ یہ اکلاپا جب شدت سے محسوس ہوتا تو ان کا فون آ جاتا تھا۔ یہ فون ہفتے بھر میں ایک آدھ بار ضرور آتا تھا اور ہر بار ہمارا موضوع کوئی نہ کوئی کتاب ہوتی۔ میں احتراماً انہیں ”آقا“ کہہ دیتا تھا۔ جب بھی میں گھنٹی بجنے پر فون اٹھاتا، وہ جھٹ سے ہنستے ہوئے مجھے ”آقا“ کہنے کی پہل کرتے۔

اکادمی ادبیات پاکستان نے برسوں پہلے ”پاکستانی ادب کے معمار“ کے سلسلے کے تحت ادیبوں اور شاعروں پر کتب لکھوانے کا سلسلہ شروع کیا تھا؛ ڈاکٹر شیر علی کی ڈاکٹر توصیف تبسم کے فن اور شخصیت پر لکھی ہوئی کتاب کا نمبر ایک سو چھیاسٹھ بنتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ، کوئی تین دہائیاں پہلے تب آیا تھا جب میں اسلام آباد میں آ کر کئی سال گزار چکا تھا؛یعنی 1995 میں ؛ اور اس وقت ان کی عمر 67 سال ہو چکی تھی۔

تمغہ امتیاز کے ساتھ ان کی خدمات کا اعتراف ہوا تو وہ 80 برس کے ہو چکے تھے اور ان پر اکادمی ادبیات کا مونو گراف آیا تو وہ 94 برس کے ہو چکے تھے۔ کہہ لیجیے یہاں بھی انہوں نے وہ روایت برقرار رکھی جس کی بابت منیر نیازی نے کہا تھا؛ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔ اگر چہ ”دیر“ کی اس تاریخ میں نام لکھوانا ان اکیلے کا کارنامہ نہیں تھا اس میں اوروں نے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا تھا مگر مجموعی طور پر وہ خود اس کی عمدہ مثال ہو گئے تھے۔ انتہائی مہذب اور تخلیقی شخصیت کے مالک تھے۔ ابھی کل تک وہ لائق توجہ زندہ شعرا کی ایسی گنتی میں شمار ہوتے تھے جن کے نام ایک ہاتھ کی انگلیوں پر لیے جا سکتے ہیں اور پھر وہ شاعر بھی ایسے کہ ساری عمر اپنے کام میں جتے رہے۔ کسی ستائش کی تمنا کی نہ صلے کی پروا۔

ڈاکٹر توصیف تبسم ان سے سینئر شاعروں میں سے تھے جن سے ملتے ہی میرا محبت اور احترام کا رشتہ بن گیا تھا اور مواقع ملے تو ان کے ساتھ نشستیں رہیں۔ ان کے ہاں مجھے اوروں کے علاوہ ممتاز نقاد ضمیر علی بدایونی سے ملاقات کا موقع ملا تھا۔ تب تک ضمیر صاحب کی کتاب ”جدیدیت اور ما بعد جدیدیت : ایک ادبی و فلسفیانہ مخاطبہ“ شائع ہو چکی تھی۔ اتفاق سے میں اسے پڑھ چکا تھا اور اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب میں سب سے پہلی اہم کتاب کے طور پرلے رہا تھا جس میں محض تھیوری کے مباحث ہی نہیں تھے اس کے عملی نمونے بھی تھے۔

مجھے یاد ہے، ہم اسی ڈائننگ روم میں بیٹھے تھے جس کی ایک دیوار پر ایک خوب صورت منظر پر مشتمل ایسی تصویر تھی کہ پوری دیوار اس کے پیچھے چھپ گئی تھی۔ میں ان دونوں بزرگوں کی باتیں بہت دیر تک سنتا رہا تھا اور بہت کچھ حاصل کیا تھا اور بعد میں وہاں جب جب جانا ہوا اور ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہوا، اس ملاقات کو ضرور یاد کیا تھا؛ سوائے اس ملاقات کے کہ جب وہ 92 برس کے ہو گئے تھے۔ ان کے پاؤں میں چوٹ لگی ہوئی تھی۔ وہ اپنے بیڈ روم میں پڑے تھے اور میں یاسمین اور بچوں کے ساتھ انہیں ان کے یوم پیدائش پر مبارک باد دینے گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیڈروم ہی میں بلوا لیا۔ ہم نے پہلی بار کسی ادبی موضوع پر کوئی بات نہیں کی تھی۔ وہیں ان کے بیٹے اور بہو نے بستر پر سامنے کیک رکھ دیا گیا تھا۔ میں نے، میرے بچوں نے اور ڈاکٹر صاحب نے مل کر کیک کاٹا تھا اور ہم سب نے بچوں کی طرح خوشی سے تالیاں بجائی تھیں۔

ڈاکٹر صاحب کو میں نے ”کوئی اور ستارہ“ کے ذریعے ایک عمدہ شاعر کے طور پر پہچانا تھا۔ اس کے بعد ان کا بہ طور محقق اور نقاد کام جس نے ادبی حلقوں کو متوجہ کیا تھا وہ منیر شکوہ آبادی کے حوالے سے ہے۔ جنگ آزادی 1857 ء کے اس گمنام مجاہد شاعر پر انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا۔ یہ اس سلسلے کی پہلی کتاب تھی۔ جو 2007 میں شائع ہوئی۔ یہ ان کا مقالہ نہیں تھا، اس مقالے کے بطن سے نکلی ہوئی ایسی کتاب تھی جس نے اپنے عہد کے ایک قابل ذکر مگر گمنام شاعر کو پھر سے زندہ کر دیا تھا۔ ان کا مقالہ تو کہیں 2009 میں ”منیر شکوہ آبادی:احوال و آثار“ کے نام سے مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوا تھا۔

”بند گلی میں شام“ اس خوب صورت شخص اور شاعر کی یادداشتیں ہیں ؛ بہت قیمتی اور بہت دلچسپ۔ یہ ان کی اپنی ذاتی زندگی ہی پر مشتمل نہیں، ایک عہد کی ادبی اور سماجی تاریخ بھی ہے ؛ اور بیان کا قرینہ ایسا ہے کہ کتاب اٹھا لیں تو ختم کیے بغیر رکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اس میں بدایوں سے نکل کر دلی پہنچنے والے اور آزادی کے برس پھوٹ پڑنے والے فسادات کے اندر سے بچ بچا کر راولپنڈی پہنچنے کی داستان بھی ہے اور زندگی کے کٹھن مراحل سے گزرتے ہوئے آج کا توصیف تبسم ہو جانے کی دلچسپ حکایت بھی۔ ان کی آخری کتاب جو میرے مطالعے میں آئی وہ ڈیڑھ دو برس پہلے شائع ہوئی تھی؛ ”یہی آخر کو ٹھہرا فن ہمارا“ ۔ یہ کتاب ہر اس نوجوان کو پڑھنی چاہیے جو شعر کہنا چاہتا ہے۔ شعر کے تخلیقی بھیدوں کو جاننا چاہتا ہے اور عمدہ شعر کیسا ہوتا ہے اس کے نمونے بھی دیکھنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر توصیف تبسم کا اس باب میں مجھ پر بھی ایک احسان ہے۔ جب میں کوئی سولہ سال پہلے پچاس برس کا ہو رہا تھا تو ان دنوں میں ان کے رہائشی سیکٹر کے ساتھ والے سیکٹر میں رہ رہا تھا۔ تب میں کبھی اس طرف جانا ہوتا تو ان کے ہاں چلا جاتا اور کبھی وہ میری طرف آ نکلتے۔ یونہی ایک ملاقات میں جب میں نے بتایا کہ میری پچاسویں سالگرہ آنے کو ہے تو کہنے لگے ؛ افسانے کتنے لکھے۔ میں نے کہا وہ پچاس سے زیادہ ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر تمہارے پچاس افسانوں کا انتخاب آئے۔ یوں میرے پچاس افسانوں کا انتخاب اس موقع پر شائع ہوا جو انہوں نے کیے تھے اور کتاب کے آغاز میں مبسوط مقدمہ لکھا تھا۔ اور وہ کتاب شائع ہوئی تو ان کے نام کی یہ برکت تھی کہ ادبی دنیا میری جانب کچھ زیادہ متوجہ ہوئی تھی۔ یوں میں انہیں اپنے محسنوں میں شمار کرتا ہوں اور ہمیشہ احسان مند رہتا ہوں۔

انہیں جن سے شدید محبت تھی ان میں کتاب کا حوالہ آ چکا۔ جب ہماری ملاقاتیں توا تر سے ہونے لگی تھیں اور ذرا بے تکلفی ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی بیوی، جو ان دنوں علیل تھیں اور بعد ازاں وفات پا گئیں، بہت محبت کرتے تھے وہ ان کے لیے ہر وقت متفکر رہتے تھے۔ اپنی اولاد سے ہر ایک کو محبت ہوتی ہے انہیں بھی تھی اور شاید مکان کا بکنا بھی اسی کا شاخسانہ تھا۔

قیام پاکستان سے پہلے وہ بدایوں کے قصبہ سہسوان میں رہتے تھے۔ وہیں وہ 3؍اگست 1928ء کو پیدا ہوئے۔ جب بھی ان کی جنم بھومی کا ذکر آتا تو ان کا چہرہ چمک اٹھتا تھا۔ وہاں کے کسی شاعر یا ادیب کا ذکر نکلتا تو ان کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کے بارے میں وہ پوری معلومات اکٹھی کر لیں۔ میں جب ان کی تدفین سے اگلے روز ڈاکٹر شیر علی کے ہمراہ ان کے بچوں سے تعزیت کے لیے گیا تو وہاں اس کا ذکر کیا تھا۔ ان کے فرزند کا کہنا تھا کہ وہ بدایوں جانا چاہتے تھے، کئی دفعہ پروگرام بنا مگر مؤخر ہوتا چلا گیا تھا۔

توصیف تبسم کی اپنی شخصیت کی قامت بہت بلند ہے اور ان کے فن کی بھی۔ ان کا بڑا حوالہ تو شاعری ہے اور اس باب میں ان کا اختصاص یہ بنتا ہے کہ وہ زبان کی تہذیب کے شاعر ہیں اور ایسے کہ ان کا فن ہی اس صنف کا معیار ٹھہرتا ہے۔ انہوں نے کم کم کہا مگر جس نفاست اور قرینے سے شعر کہا ہے ویسا قرینہ اور ویسی نفاست اس صنف کو عزیز رکھنے والوں کے ہاں بھی کم کم نظر آتی ہے۔

پاؤں میں لپٹی ہوئی ہے سب کے زنجیر انا/سب مسافر ہیں یہاں لیکن سفر میں کون ہے
جو بھی نرمی ہے خیالوں میں نہ ہونے سے ہے /خواب آنکھوں سے نکل جائیں تو پتھر ہو جائیں
شوق کہتا ہے کہ ہر جسم کو سجدہ کیجے /آنکھ کہتی ہے کہ تو نے ابھی دیکھا کیا ہے
اچھا ہے کہ صرف عشق کیجے /یہ عمر تو یوں بھی رائیگاں ہے
دل کی بازی ہار کے روئے ہو تو یہ بھی سن رکھو/اور ابھی تم پیار کرو گے اور ابھی پچھتاؤ گے
دیکھنے والی اگر آنکھ کو پہچان سکیں /رنگ خود پردۂ تصویر سے باہر ہو جائیں
کون سے دکھ کو پلے باندھیں کس غم کو تحریر کریں /یاں تو درد سوا ہوتا ہے اور بھی عرض حال کے بعد
دکھ جھیلو تو جی کڑا ہی رکھنا/دل ہے تو حساب دوستاں ہے
کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھلتے ہیں /میرے دامن میں لہو ہے تو مہکتا کیا ہے
دل بیاض عمر کی اوراق گردانی میں ہے /کیا خبر ہے کون سا صفحہ کھلا رہ جائے گا

کتنے لوگ ہوں گے جو اس صنف کی روایت کا اتنے التزام کے ساتھ پاس رکھتے ہوں اور اسے بوسیدگی سے بھی بچا پائے ہوں۔ توصیف تبسم غزل کی کلاسیکی روایت کو تخلیقی سطح پر قبول کرتے ہوئے آج کے عہد میں آتے ہیں اور اس صنف کے محبوب لسانی قرینوں سے چھیڑ چھاڑ کیے بغیر ہماری حسیت اس میں کچھ یوں سہولت سے رکھ لیتے ہیں کہ ان کا شعر ایک ہی وقت میں کلاسیک کے ساتھ موجود نظر آتا ہے اور عہد رواں میں بھی۔ شعر کہنے کا جو راستہ انہوں نے چنا ہے، اس میں منجھی ہوئی زبان چاہیے، اپنی شعری روایت کا وسیع اور گہرا مطالعہ چاہیے، زندگی کے ایک ایک لمحے کو اپنی ہڈیوں کے گودے سے گزارنے کا حوصلہ چاہیے، کڑھا ہوا، انتہائی شائستہ، پختہ اور سلجھا ہوا مزاج چاہیے ؛ ایسا کہ اس میں ذرہ برابر اتھلا پن نہ ہو؛ بھید بھرا اور گہرا ہو۔

پھر سیاسی سماجی شعور چاہیے، اور رواں عہد میں پیوست نفسیات اور حسیت چاہیے ؛ کہہ لیجیے یہ راستہ جتنا آسان نظر آتا ہے اتنا آسان نہیں ہے۔ اس میں پوری شخصیت کو جھونک کر دو زمانوں، بلکہ کئی زمانوں میں جینا پڑتا ہے۔ توصیف تبسم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کر دکھایا ہے۔ یہی ان کا فن ہے اور یہی ان کی قامت بلند کرتا ہے۔

توصیف، فن یہی ہے کہ اس دل کی خاک سے /پیکر خود اپنے قد کے برابر اٹھائیے۔

Facebook Comments HS