ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
شاد عظیم آبادی کی غزل کا شعر ہے
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
شاید انہوں نے یہ شعر نوابزادہ نصر اللہ خان جیسی نابغہ روزگار شخصیات کے لئے کہا تھا۔ 27 ستمبر ”خاموشی“ آیا اور گزر گیا اہل سیاست کو خبر ہی نہیں ہوئی 10 سال قبل برصغیر پاک و ہند کی ایک بڑی سیاسی شخصیت نوابزادہ نصر اللہ ہم سے ایسے بچھڑی کہ سیاسی محافل ہی اجڑ گئیں ان کی وفات پر اخبارات میں کوئی ایڈیشن شائع ہوا اور نہ ہی کوئی تعزیتی ریفرنس انعقاد پذیر ہوا نوابزادہ نصر اللہ میدان سیاست کی عظیم شخصیت تھی جن کی تقاریر سننے کے لئے لوگ پہروں جلسہ گاہوں میں انتظار کرتے تھے۔ وہ صرف سیاست دان ہی نہیں تھے بلکہ زبان و بیان میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ شعر و سخن کا ذوق رکھتے تھے۔ موقع محل کے لحاظ سے ایسے اشعار کی آمد ہوتی تھی جن کی تپش اقتدار کے ایوانوں میں محسوس کی جاتی تھی۔ اب کوئی نوابزادہ نصر اللہ خان ہے اور نہ ہی مفتی محمود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ ان بزرگ شخصیات کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ نوابزادہ نصر اللہ کا دور تھا تو پورے ملک کی سیاست ان کے گرد گھومتی تھی۔
اپنے دور کے ”فرعون صفت“ حکمران نوابزادہ نصر اللہ خان سے خوف زدہ رہتے تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ نے ہمیشہ اتحادوں کی سیاست کی بحالی جمہوریت کی تحریک ہو یا انتخابی اتحاد فرد واحد پر مشتمل پارٹی کے سربراہ تھے لیکن ملک میں بڑی بڑی سیاسی جماعتوں پر بھاری تھے۔ سالہاسال پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے فاشسٹ اور آمرانہ مزاج رکھنے والے حکمرانوں کے خلاف جمہوری قوتوں کو کم سے کم نکات پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہی وجہ ہے۔ انہیں ”بابائے جمہوریت“ بھی کہا جاتا تھا۔ پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ انہوں نے اے آر ڈی ( تحریک بحالیٔ جمہوریت) قائم کی اور پھر دنوں میں پرویز مشرف کی چھٹی ہو گئی نواب زادہ نصر اللہ خان پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں اکثر و بیشتر اسلام آباد کے چکر لاتے تھے اور پرویز مشرف کے اعصاب پر سوار رہنے کے لئے اسلام آباد میں ”کل جماعتی کانفرنس“ منعقد کرتے مجھے نوابزادہ نصر اللہ خان کو کئی سال تک کور کرنے کا موقع ملا ہے۔
آغا شورش کاشمیری ؒ کے ہمراہ راولپنڈی میں جلسوں سے خطاب کرتے تو پیشہ صحافت میں قربت کے باعث ان سے ذاتی سطح پر تعلقات استوار ہو گئے وہ جب اسلام آباد کا رخ کرتے بلوا لیتے نوابزادہ نصر اللہ خان اسلام آباد سے خان گڑھ روانہ ہوتے مجھے یہ کہہ دیتے کہ میرے جانے کے بعد یہ خبر لگا دیں کہ ”میں اگلے ہفتے واپس اسلام آباد واپس آ رہا ہوں ان کا اشارہ (پرویز مشرف) کی طرف ہوتا تھا“ ان کا کہنا تھا کہ ”ان کو فکر لگی رہے گی“ یہ بات قابل ذکر ہے جس روز سید ظفر علی شاہ کی رہائش گاہ پر اے آر ڈی کا قیام لایا گیا اسی رات شریف فیملی کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا نواز شریف اور شہباز شریف کی جلاوطنی کے ایام میں نوابزادہ نصر اللہ خان نے پرویز مشرف کو اقتدار سے نکالنے کے لئے تحریک کا آغاز کیا لیکن کچھ عرصہ بعد زندگی نے وفا نہ کی نوابزادہ نصر اللہ خان اسلام آباد میں ہی تھے۔ ان کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا میں ان دو تین اخبار نویسوں میں شامل ہوں جو رات کے پچھلے پہر نوابزادہ نصراللہ خان کی میت خان پور روانگی کے موقع پر نجی ہسپتال موجود تھے۔ میرا دل یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ وہ دو روز قبل ہی اے آر ڈی کے سربراہی اجلاس کی صدارت کرنے کے لئے اسلام آباد آئے تھے لیکن دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا نوابزادہ نصر اللہ خان کی قدرے حالت مستحکم ہوئی تو انہوں نے اپنے خدمت گار جمشید ملک کو ہدایت کی ”سامان بھدو گھر چلوں میں ٹھیک آں“ سامان باندھیں گھر چلتے ہیں۔ میں ٹھیک ہوں لیکن دل کے عارضہ میں مبتلا شخص کی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا۔
اگرچہ نوابزادہ نصر اللہ خان نے مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے لئے کوشاں رہے وہ عمر بھر متحدہ اپوزیشن کے روح رواں رہے ”کاپ ہو یا ڈیک، یو ڈی ایف ہو یا پی این اے۔ ایم آر ڈی، پی ڈی اے اور اے آر ڈی“ سب نوابزادہ نصر اللہ خان کی قائدانہ صلاحیتوں سے اپنی منازل کا تعین کرتے نظر آئے نوابزادہ نصر اللہ خان کا کمال تھا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا انہوں نے نصف صدی سے زائد آمروں، طالع آزماؤں اور فوجی حکمرانوں سے پنجہ آزمائی کی انہوں نے اپنی گرتی ہوئی صحت کا کسی کو پتہ نہیں لگنے دیا
”حقہ اور پان“ ان کی کمزوری تھی۔ وہ بڑے شوق سے آئس کریم کھا یا کرتے تھے۔ ایک موقع پر بے نظیر بھٹو نے نوابزادہ نصر اللہ خان سے از راہ تفنن کہا کہ ”ہم نے آپ کی کمزوری تلاش کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کو آئس کریم شوقین ہیں۔“ نوابزادہ نصر اللہ خان سے کوئی ان کی عمر پوچھے تو ناراض ہو جایا کرتے تھے۔ انہوں نے 86 سال کی عمر میں وفات پائی مجھے جنرل جہانداد مرحوم نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ”ایوب خان کے صدارتی انتخاب میں نوابزادہ نصر اللہ خان کو زہر دے کر راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی گئی تاکہ وہ مادر ملت فاطمہ جناح کے مقابلے میں صدارتی انتخاب با آسانی جیت جائیں لیکن انہوں نے اس سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا بعد ازاں میں نے نواب زادہ نصر اللہ خان کو اس سازش بارے بتایا تو وہ مسکرا دیے اور کہا کہ“ زندگی اور موت رب العزت کے ہاتھ میں ہے جس نے پیدا کیا ہے۔ وہی جان کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ ”اگرچہ نوابزادہ نصر اللہ خان نے تحریک خلافت میں ترکوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے ترکی ٹوپی پہننا شروع کی تھی لیکن پھر عمر بھر ترکی ٹوپی ہی پہنتے رہے جو ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی نوابزادہ نصر اللہ مفروضوں پر مبنی سوالات کا جواب نہیں دیا کرتے تھے۔ نواب زادہ نصر اللہ خان ہماری قومی سیاست کا شجر سایہ تھے جب بھی ملک میں سیاسی گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ ان کی بہت یاد آتی ہے۔ آج پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کی بدترین محاذ آرائی کا شکار ہے۔
کوئی نوابزادہ نصر اللہ خان جیسی شخصیت نہیں میدان سیاست میں سلگنے والی آگ پر پانی ڈال سکے محاذ آرائی عروج پر ہے جس نے اقتدار کے حصول کی جنگ نے سیا ست دانوں کو اندھا کر دیا ہے۔ اقتدار کی جنگ میں لوگوں کو جھونکا جا رہا ہے۔ ملک کو موجودہ صورت حال سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ملکی سمت کا قبلہ درست کرنے کے ایک اور نوابزادہ نصر اللہ خان کی ضرورت ہے۔ کاش! آج نوابزادہ نصر اللہ خان زندہ ہوتے۔

