مغرب میں اردو شاعری۔ پہلی قسط


ڈاکٹر خالد سہیل
مشرق سے مغرب کی طرف
تیسری دنیا سے پہلی دنیا کی طرف
اور پرانے گھر سے نئے گھر کی طرف

ہجرت کرنے والوں کے بارے میں، میں نے چند سال پیشتر اپنے خیالات کا ان الفاظ میں اظہار کیا تھا:

’ایک گھر کو چھوڑ کر دوسرا گھر بنانے والوں کے دلوں پر جو بیتتی ہے وہ ان کے دل ہی جانتے ہیں۔ جب انسان ایک ماحول میں پلا بڑھا ہو اور دوسرے معاشرے میں جا بسے تو اکثر اوقات اپنی ذات کو دو کشتیوں میں سوار محسوس کرتا ہے۔ جب بچپن کی سوچ، انداز فکر اور روایات میزبان تہذیب کی طرز زندگی اور اس کی اقدار سے ٹکراتے ہیں تو کتنے لوگ اپنے آپ کو دو راہوں پر کھڑا پاتے ہیں۔ ہر شخص اور ہر خاندان ان بدلتے ہوئے حالات سے اپنے مخصوص اور جداگانہ انداز میں سمجھوتہ کرتا ہے۔

بعض ماضی کا اتنا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں کہ حال اور مستقبل سے آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ بعض نئے ماحول سے اتنی تیزی سے بڑھ کر بغل گیر ہو جاتے ہیں کہ ماضی کو بہت پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ بعض دو دنیاؤں کے درمیان معلق ہا جاتے ہیں اور بعض مختلف روایات کے ساتوں رنگ اپنے اندر اس خوبصورتی سے جذب کرتے ہیں کہ ایک نئی روشنی، نئی صبح اور نئی منزل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ زندگی کے اسٹیشنوں پر انسانی گاڑیوں کی پٹڑیاں بدلنے کے اس عمل میں ان لوگوں پر ۔ جو گھروں میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان لوگوں پر ۔ جو ان مہمانوں کو اپنے سینوں سے لگا کر نیا گھر بسانے میں مدد دیتے ہیں کیا بیتتی ہے وہ بھی ان کے دل ہی جانتے ہیں۔ ’

(دو کشتیوں میں سوار:خالد سہیل)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل اور حالات تھے جن کی وجہ سے مشرق سے مغرب کی طرف ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں پچھلی صدی میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ ویسے تو بیسویں صدی کے آغاز سے بدلتے ہوئے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات کی وجہ سے ساری دنیا میں ہجرت کے عمل میں اضافہ ہوا ہے لیکن جب ہم مشرقی ماحول اور زندگی پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہاں آہستہ آہستہ محرومی، مایوسی، خوف اور بے یقینی کے سائے بڑھتے رہے۔ جابر حکام، استحصال کرنے والے نظام اور غیر منصفانہ روایات کے آسیب نے عوام کو گھیر لیا اور ان کی زندگیوں پر عذاب اترنے لگے۔

ابھی تک لشکری آسیب ہے سایہ فگن ہم پر
حضور شاہ یوں لگتا ہے جیسے سر نہیں پہنچے
(سپنے جاگتی آنکھوں کے :عابد جعفری)
اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا
(آزاد فضائیں :خالد سہیل)
جب کبھی رنگ کی خوشبوؤں کی اڑانوں کی
آواز کی اور خوابوں کی توہین کی جائے گی
یہ عذاب ان زمینوں پر آتے رہیں گے
(بارہواں کھلاڑی: افتخار عارف)

ان ناگفتہ بہ حالات سے مجبور ہو کر محض لوگوں نے تو گھٹنے ٹیک دیے ہتھیار ڈال دیے اور قفس کو آشیانہ سمجھ کر قبول کر لیا۔

بڑے خلوص سے اپنا لیا ہے گھر کی طرح
میں تاحیات نظر بند جس قفس میں رہا
(باد شمال:بخش لائلپوری)

وہ لوگ جو مذہبی اور روحانی عقائد پر ایمان رکھتے تھے ان کے ہاتھ آسمانوں کی طرف اٹھ گئے اور وہ دعا کرنے لگے۔

اس گھٹن کے دور میں
رحمتوں کی اک نظر
زندگی کے دشت پر
بھیج دو تو اس طرف
اک ہوائے تازہ تر
اک صدائے بت شکن
اک رسول خوش کلام
اک مسیح معتبر
جو نوائے درد سے
گنبد سکوت کی
خامشی کو توڑ دے
اصل کائنات کا
بھید ہم پہ کھول دے
(باد شمال:بخش لائلپوری)

لیکن ان دعاؤں کا کچھ اثر نہ ہوا حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ عوام ظلم و تشدد کی چکی میں پستے رہے اور جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ

دل غریب نے جس آسماں پر دستک دی
صدا یہ لوٹ کے آئی وہاں خدا ہی نہیں
(باد شمال: بخش لائلپوری)
تو چند باشعور شہریوں نے عوام کی غیرت کو للکارا، انھیں جھنجوڑنے اور ان کے جمود کو توڑنے کی کوشش کی۔
جمود
زندہ جو ہو تو دوستو جنبش کوئی تو ہو
قبروں سے باہر آنے کی کوشش کوئی تو ہو
چیخ و پکار ہی سہی کوئی صدا تو ہو
مرنے کی جستجو ہی سہی کچھ نہ کچھ کرو
(شناخت کی تلاش: احمد فقیہ)

لیکن جب وہ اپنے ہم وطنوں کو بیدار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو ان میں چند ایک اپنا پرانا گھر، پرانا شہر اور پرانی بستیوں کو چھوڑ کر نئے گھر، نئے شہر اور نئی بستی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور جب ان سے ہجرت کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگے۔

دیپ جلتے رہے فروغ شب ظلمت کے لئے
کم نہ تھی بات یہ اس شہر سے ہجرت کے لئے
پوچھ سکتا ہی نہ تھا کوئی وہاں پر یہ سوال
پیڑ کیوں کٹ گئے پھولوں کی حفاظت کے لئے
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)
میں بھی یہاں رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا
یہ شہر اگر ظرف کشادہ نہیں رکھتا
(رشید ندیم)

جن لوگوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا تھا وہ خون کے آنسو رو رہے تھے کیونکہ انھوں نے اپنے شہر میں امن، آشتی اور سکون کا موسم بھی دیکھا تھا اور اب وہ رنجیدہ خاطر ہو کر سوچ رہے تھے۔

لہولہان ہوا ہے ہر ایک چہرہ کیوں
کہ میرے شہر کا موسم تو تھا گلابوں کا
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)

ان مسافروں کے لیے ہجرت کا سفر اس لئے بھی دشوار تھا کہ وہ جانتے تھے کہ شاید وہ کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے اور ان کے دوست، احباب اور رشتہ دار راہ تکتے رہ جائیں گے۔ وہ مسافر جب گھر سے نکلے تھے تو انھوں نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا۔ مبادا ان کی ماؤں کی دعائیں اور آنسو ان کے پاؤں کی زنجیر بن جائیں۔

طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں
چل دیے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں
(غزال: افتخار نسیم)

لیکن وہ مجاہد اس حقیقت سے باخبر تھے کہ دنیا بھر میں صدیوں سے جب بھی کسی قوم کے عوام پر دائرہ حیات تنگ ہوا بہت سے شاعروں اور پیغمبروں نے ہجرت کی راہ اختیار کی۔

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
(حرف باریاب: افتخار عارف)

جہاں ہجرت کرنے والے قافلے میں ایسے مسافر شامل تھے جو حالات کی سختیاں مزید برداشت نہ کر سکتے تھے وہیں اس قافلے میں کچھ ایسے راہرو بھی چلے آئے تھے جنہوں نے یہ خبر سن رکھی تھی کہ سات سمندر پار ایک خوشحال اور آسودہ زندگی کا خزانہ موجود ہے اور وہ اس رنگین مستقبل کے خزانے کی تلاش میں گھر سے نکل پڑے تھے۔

ایک جزیرہ اس کے آگے پیچھے سات سمندر
سات سمندر پار سنا ہے ایک خزانہ ہے
(مہر دو نیم:افتخار عارف)

چنانچہ پچھلی چند دہائیوں میں مشرق کا ہر مہاجر اپنے خاندان، اپنے قبیلے اور اپنی دھرتی سے کٹ کر حالات کے سمندر میں اس طرح بہہ نکلا جس طرح ایک پتہ اپنے درخت سے کٹ کر آندھیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔

چل دیا اک اور پتہ ٹوٹ کر
آندھیوں کے دوش پر تکیہ کیے
(زخم زخم اجالا:ظفر زیدی)

مشرق سے ہجرت کرنے والے مہاجر اپنے مسائل کی حدت کو پیچھے چھوڑ کر ایک خوشحال زندگی کے خنک خواب کا پیچھا کرتے کرتے مغرب کی سر زمین میں تو آ نکلے لیکن آنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ

خواب خسخانہ و برفاب کے پیچھے پیچھے
گرمی شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگ
کیسی یخ بستہ زمینوں کی طرف آ نکلے
(حرف باریاب: افتخار عارف)

اس نئی سر زمین، نئے شہر اور نئے گھر میں ان مہاجروں کو نئے مسائل، نئے مصائب، نئی تکالیف اور نئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ اس نئی بستی کی زبان تہذیب، روایت اور طرز معاشرت پرانی بستی سے بالکل مختلف تھی۔ اس نئے ماحول میں مہاجروں کو بے گھری، تنہائی، بیگانگی اور اجنبیت کا سامنا کرنا پڑا۔

پریم ڈگر پر چل کر میں نے کیا کھویا کیا پایا
کہ مجھ کو دھوپ ملی نہ چھایا
(زخم زخم اجالا:ظفر زیدی)
جو بھی اس شہر میں تنہا ہو گا
وہ مرے گاؤں سے آیا ہو گا
(ندائے امن:نزہت صدیقی)

اس نئے شہر میں مہاجروں کو اپنی ذات اور اپنے خاندان کی بقا کے لئے محبت، مزدوری اور ملازمت کی ضرورت تھی لیکن انہیں احساس ہوا کہ ان کی تعلیم اور تجربے کا جن پر انہیں مشرق میں بجا طور پر ناز تھا مغرب کی منڈی میں کوئی خریدار نہ تھا۔ مختلف قسم کے تعصبات ان مشکلات پر مستزاد تھے۔ ان مہاجروں کے لئے رزق کی سہولتوں کے بغیر ایک باعزت زندگی گزارنا مشکل تھا۔ چنانچہ رزق کی تلاش میں بہت سے مہاجروں کو اپنی عزت، اپنی انا اور اپنی خودداری داؤ پر لگانی پڑی اور اپنے بچوں کے پیٹ کی خاطر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا
شکم کی آگ لیے پھر رہیں ہیں شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں، ہم کیا ہماری ہجرت کیا
(مہردونیم: افتخار عارف)
پیٹ کی بھوک تو قسمت نے مٹا دی لیکن
کتنا ترسا کے دیا ایک نوالہ اس نے
(غزال: افتخار نسیم)

جوں جوں نئی دھرتی اور نئے شہر میں مہاجروں کے مسائل اور دشواریوں میں اضافہ ہوتا رہا وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگے۔ انہیں اپنے خاندان، اپنے دوستوں، اپنے رفیقوں اور اپنی دھرتی ماں کی یاد شدت سے ستانے لگی اور وہ اپنے دلوں میں عجب سی بے کلی محسوس کرنے لگے۔

وطن کی یاد سر شام ہجر جب آئی
ابھرتا چاند بھی نوحہ کناں نظر آیا
(کف بہار: عرفانہ عزیز)
دل کو کچھ یوں مسلتی ہیں وطن کی یادیں
تولیہ نم کوئی جس طرح نچوڑا جائے
(دوسرا گھر: سلمان اختر)

وطن کی یاد ان کے بے گھری کے احساس میں اور بھی شدت پیدا کر دیتی ہے اور شام کے وقت انہیں گھر کا خیال ستانے لگتا ہے۔

اک غول پرندوں کا ہے اور شام کا منظر
ایسے میں خیال آیا کوئی گھر نہیں اپنا
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)
اور ساری ساری رات ہر نئے مہاجر سے دھرتی ماں کی بد حالی کے بارے میں سوال پوچھتے اور آنسو بہاتے۔
ہوتے ہیں ضمیروں کے سودے کیا آج بھی اونچی سطحوں پر
پردہ جو اٹھائے ان پر سے کیا ملک میں ان کی ہستی ہے
اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں میری بستی ہے
(برق و باراں : جوش مندوزئی)
ہجرت کے سفر میں وہ مرحلہ بھی آیا جب اس قافلے کے ایک گروہ نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا اس گروہ میں سے
بعض اپنی دھرتی ماں کے آنول سے جڑے ہوئے تھے۔
بعض نئے شہر کے مسائل کا سامنا نہ کر پائے تھے۔
بعض اپنے خاندانوں اور وطن کو چھوڑ کر احساس گناہ میں مبتلا تھے۔
اور بعض حب الوطنی کے جذبات سے سرشار تھے۔
باغ باغیچے میرے جب جب نذر لہو کی چاہیں
میری برکت والی مٹی مجھے بلانا بھولے ناں
(مہردونیم: افتخار عارف)
وہ مہاجر جو واپس چلے گئے وہ پہلے تو اپنی ماں اور دھرتی ماں کو گلے لگا کر بہت خوش ہوئے۔
اپنے وطن کی بات عجب ہے اپنے وطن میں جب پہنچے
بام کو دیکھا، در کو چوما، دیواروں سے پیار کیا
(برف زار: عبدالقوی ضیا)

لیکن وہ خوشی اور مسرت عارضی ثابت ہوئی کیونکہ جب وہ ان گلیوں، بازاروں اور شہروں میں گھومے، جہاں انھوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے صبح و شام گزارے تھے تو انہیں اپنے گھر اور اپنے شہر میں بھی اجنبیت کا احساس ہونے لگا۔ ان کا ماحول ان کی غیر موجودگی میں بہت بدل چکا تھا اور وہ خود بھی کتنا بدل چکے تھے اس کا بھی انہیں اندازہ نہ تھا۔

گئے جو لوٹ کے گھر کو تو یوں ہوا محسوس
کھڑے ہیں اپنے ہی در پر مسافروں کی طرح
(برق و باراں : جوش مندوزئی)

ان مہاجروں کو نہ صرف اپنے شہر کی گلیاں اور بازار اور اپنے گھر کے در و دیوار عجیب و غریب لگے بلکہ وہ جب اپنے عزیزوں سے گلے ملنے لگے تو اچانک اجنبیت کی دیوار راہ میں حائل ہو گئی۔

بہت سے جسموں کو چھو نہ پایا
جو بعد مدت کے گھر گیا میں
(دوسرا گھر: سلمان اختر)

ان مہاجروں کو یہ دیکھ کر بھی دکھ ہوا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے شہر کی حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہو گئی ہے۔ وہاں کے عوام اب بھی محرومی اور مایوسی، ظلم اور استحصال کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور خوشحال زندگی کی منزل کی کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔ انہیں یہ جان کر بھی افسوس ہوا کہ ظلم کرنے والے بھی اپنے ہی ہیں پرائے نہیں۔

سر بستہ زنجیر کیا ہم کو جنہوں نے
وہ لوگ اسی گھر کے ہیں باہر کے نہیں
(سپنے جاگتی آنکھوں کے : عابد جعفری)
ہمارا شہر تو چھوٹا ہے لیکن
ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے
(ابھی موسم نہیں بدلا: بخش لائلپوری)

اپنے پرانے گھر اور پرانے شہر میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد ان مہاجروں کو احساس ہوا کہ واپس اپنے گھر لوٹنے کا سفر خسارے کا سودا تھا جو خود فریبی سے زیادہ کچھ نہ تھا۔

دوسری ہجرت کی تیاری خود کو دھوکا دینا ہے
شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والا پھول بھلا کب مہکا ہے
(ہم اجنبی ہیں : اشفاق حسین)

مہاجروں کے اس گروہ کے مقابلے میں جو واپس لوٹ گیا وہ گروہ جس نے مغرب کو اپنا گھر بنا لیا ان کی اکثریت بھی جب ایک دوسرے سے ملتی تو پوچھتی۔

کیا شے تھی ایسی جو ہمیں گھر میں نہیں ملی
کس واسطے وطن سے بہت دور بس گئے
(دوسرا گھر: سلمان اختر)
وہ پھر ان تمام جگہوں کو یاد کرتی جہاں وہ اپنا فارغ وقت گزارا کرتی تھی۔
یہاں تو گھر ہے یا دفتر ہے یا ہے میخانہ
وطن میں اپنے کئی اور بھی ٹھکانے تھے
(دوسرا گھر:سلمان اختر)

نئے شہر میں رہنے کی آرزو اور پرانے شہر لوٹ جانے کی خواہش پہلی نسل کے بہت سے مہاجروں کی رگوں میں تضاد۔ کشمکش اور المیہ بن کر سرایت کر گئی۔ ان میں سے بعض یہ سمجھتے رہے کہ انہیں دھرتی ماں کو چھوڑنے کی سزا مل رہی ہے۔ ایسے مہاجر برسوں مغرب میں رہ کر بھی تنہائی، خوف، بے یقینی اور بے گھری کا شکار رہے نہ وہ نئے شہر کو گلے لگانا چاہتے تھے اور نہ ہی پرانے شہر کو لوٹ جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دن کو کانٹوں پر اور رات کو کروٹیں بدلتے گزار دیا۔

وطن میں اجنبی باہر مہاجر
پلٹ جانے کا بھی رستہ نہیں ہے
(پس چہرہ: نبیر جہاں )
گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی
(حرف باریاب: افتخار عارف)
ان مہاجروں کو اپنے گھر کی جو خبر بھی ملتی وہ انہیں رنجیدہ کر دیتی۔
نہ جانے کون سی تعمیر میں خرابی تھی
کہ اپنے گھر کی جب آئی بری خبر آئی
(آدھی گواہی: نسیم سید)

اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی تھا کہ جب ان کی حالت زار کی خبر ان کے عزیزوں کو ملتی تھی تو وہ بھی غمزدہ ہو جاتے تھے۔

گاؤں میں روئیں گے سب چھوٹے بڑے ایک ہو کر
جب مری آبلہ پائی کی خبر جائے گی
(دوسرا گھر: سلمان اختر)

آخر کار ان مہاجروں کی زندگی دیار غیر میں دن بدن بدتر ہوتی رہی، ان کے خواب چکنا چور ہو گئے اور انہوں نے کار زار حیات میں اپنی شکست کو قبول کر لیا۔

ایسی شکست تھی کہ کٹی انگلیوں کے ساتھ
کانٹوں کا ایک ہار پرونا پڑا مجھے
(غزال: افتخار نسیم)
پیدل سوار
ہم کہ شطرنج کے مہروں کی طرح
وقت سنگین بساط
اور قدرت کی یہ طرفہ چالیں
کھیل ہی کھیل میں بس کام تمام
(مزید آوارگی: جاوید دانش)

مہاجروں کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جو ہجرت کے سفر کی دشواریوں اور باعزت زندگی گزارنے کی آزمائشوں کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکا۔ چنانچہ اس گروہ کے افراد نے اپنی عزت، اپنی انا اور اپنی خودداری سر بازار بیچ ڈالی اور ایک خوشحال اور آسودہ زندگی اختیار کر لی۔ انہوں نے اپنے ضمیر کو سلا دیا اور اپنی شرافت کو سنگسار کر دیا اس طرح انہوں نے بیسویں صدی کی کاروباری اور سطحی زندگی کو قبول کر لیا۔ انہوں نے مالی اور مادی خوشیوں کو روحانی کرب اور قربانیوں پر ترجیح دی اور وہ مہاجر جنھیں اپنی شرافت پر ناز تھا آہستہ آہستہ اپنے آدرشوں سے دستبردار ہو گئے۔ دنیا بدلنے گھر سے نکلے تھے راستے میں خود ہی بدل گئے۔

اترن پہن کے اتراتے ہیں کچھ لوگ
اور میں روح کی عریانی سے ڈرتا ہوں
(بے نشاں : شاہین)
دنیا
اب یاد نہیں سینے میں کہیں
اک سورج تھا سو ڈوب گیا
اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا
دنیا کو بدلنے اٹھے تھے
دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں
(زندہ پانی سچا:ساقی فاروقی)

جب ہم مہاجروں کے اس قافلے کا جو کئی دہائیوں سے مشرق سے مغرب کی طرف سفر کر رہا ہے سنجیدگی سے مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس قافلے کا

ایک گروہ مغرب میں چند برس رہنے کے بعد واپس مشرق چلا گیا۔

دوسرا گروہ مغرب میں رہا لیکن نہایت پریشان حال رہا اس نے ہجرت کے مصائب کے آگے گھٹنے ٹیک دیے اور حالات سے شکست قبول کر لی۔

تیسرے گروہ نے زندگی کے آرام و آسائش کے لیے ضمیر اور انا کے سودے کر ڈالے۔ لیکن مہاجروں کا چوتھا گروہ ایسا بھی تھا جو گھر سے نکلتے وقت کشتیاں جلا کر اور دھرتی ماں سے اپنا آنول کاٹ کر نکلا تھا۔ اس گروہ کے افراد روشن مستقبل، درخشاں نصب العین اور بہتر زندگی کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لیے تیار تھے۔ ان کی ہمتیں جوان تھیں اور ارادے مصمم۔ وہ نئی دنیا کے مصائب کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے بالکل تیار نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا۔

ہم جب اپنے گھر سے نکلے تھے
اچھا برا سب سوچ سمجھ کر نکلے تھے
(زخم زخم اجالا: ظفر زیدی)
وہ ہجرت کے سفر میں اتنے دور آ گئے تھے کہ انہیں واپس جانے کی بھی کوئی خواہش نہیں تھی۔
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن
(زندہ پانی سچا: ساقی فاروقی)

ان مہاجروں کے لیے ہجرت کا تجربہ نئے راستوں، نئی منزلوں اور نئے آدرشوں کی تلاش کا تجربہ تھا اور وہ اس راستے میں ہر آزمائش کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے۔

(جاری ہے )
نوٹ۔ اس مضمون میں صرف مغرب میں بسنے والے اردو کے مہاجر شاعروں کے اشعار پیش کیے گئے ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail