دماغی صحت کا عالمی دن اور آئن سٹائن کے دماغ کی چوری


دنیا کا ذہین ترین انسان البرٹ آئن سٹائن بچپن میں دماغی طور پر کمزور سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ چار سال کی عمر تک مکمل جملہ بولنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ سٹائن ایک ذہنی بیماری ”آٹزم“ کا بھی شکار تھا جس کی وجہ سے وہ ہر وقت اپنے آپ میں گم رہتا اور اپنے روزمرہ معمولات میں کسی کی بھی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا۔ ایک روز آئن سٹائن کھانے کی میز پر بیٹھا تھا کہ اس کی ماں نے اسے پینے کے لئے گرم سوپ دیا، سٹائن سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی بولا ”سوپ بہت گرم ہے“ یہ سٹائن کا پہلا بولا جانے والا جملہ تھا جسے سن کر اس کے والدین خوشی سے اچھل پڑے۔

اس کی ماں نے حیرت سے سٹائن سے پوچھا ”پیارے بیٹے، ایسے الفاظ تم نے پہلے کیوں نہیں بولے؟“ سٹائن نے جواب دیا ”اس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لئے میں نہیں بولتا تھا۔“ سٹائن کا جواب سن کر اس کے والدین کو اطمینان ہو گیا کہ ان کا بیٹا بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دماغ کی غیر معمولی نشوونما کی وجہ سے آئن سٹائن کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا گیا اور وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا طبیعات دان بن گیا۔

آئن سٹائن کو اپنی زندگی میں ہی شاید یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد سائنس دان اس کے دماغ پر ریسرچ کر سکتے ہیں اسی لئے آئن سٹائن نے وصیت کر رکھی تھی کہ موت کے بعد اس کے دماغ یا جسم کو ریسرچ کے لئے استعمال نہ کیا جائے بلکہ تدفین کردی جائے۔ سن 1955 میں جب آئن سٹائن کا انتقال ہوا تو سٹائن کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پتھالوجسٹ ڈاکٹر تھامس ہاروے (Dr Thomas Harvey) نے سٹائن کی موت کے ساڑھے سات گھنٹے بعد اس کی ڈیڈ باڈی میں سے اس کا دماغ نکال کر چوری کیا اور فرار ہو گیا۔

ڈاکٹر تھامس نے آئن سٹائن کے دماغ کے 240 ٹکڑے کیے اور پھر انھیں مختلف جارز میں محفوظ کر کے اپنے گھر کے تہہ خانے میں 40 سال تک چھپائے رکھا۔ ورثاء کی اجازت کے بغیر سٹائن کا دماغ نکالنے اور پھر چوری کرنے پر ڈاکٹر تھامس کو ہسپتال کی نوکری سے نکال دیا گیا اور پوچھ گچھ بھی کی گئی لیکن ڈاکٹر تھامس نے کچھ نہ بتایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 40 سال تک کسی کو بھی آئن سٹائن کے دماغ کا سراغ نہ مل سکا۔ ڈاکٹر تھامس کا خیال تھا کہ وہ آئن سٹائن کے دماغ پر ریسرچ کر کے سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ وہ دماغ کا سپیشلسٹ ہی نہیں تھا۔ آخر ڈاکٹر تھامس سن 2007 میں انتقال کر گیا تاہم اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اس نے آئن سٹائن کے دماغ کے چالیس سال سے محفوظ رکھے حصے واپس کر دیے جن میں سے 46 ٹکڑے سائنس اینڈ میڈیکل میوزیم ”مٹر میوزیم فلاڈیلفیا“ میں موجود ہیں۔

مشہور سائنس دان البرٹ آئن سٹائن کی زندگی اور اس کے دماغ کے بارے میں دلچسپ باتیں آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہر قاری یہ جان سکے کہ انسانی جسم میں دماغ کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ انسان کا دماغ کمپیوٹر کے مدر بورڈ کی مانند ہے جو جسم کے تمام اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغی صحت اور ذہنی تناؤ کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت اور ورلڈ فیڈریشن آف مینٹل ہیلتھ کے باہمی اشتراک ہر سال 10 اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی منایا جاتا ہے۔

اس سال کا تھیم ہے ”ہمارے دماغ، ہمارے حقوق“ ۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک بلین کے قریب لوگ دماغی امراض کا شکار ہیں جس میں سرفہرست ڈپریشن ہے۔ ہر پانچ بالغ یا نابالغ افراد میں سے ایک ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 24 ملین افراد نفسیاتی امراض کا شکار ہیں جنھیں مناسب علاج اور رہنمائی کی ضرورت ہے لیکن اس کے مقابلے میں ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹرز کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی اور بے روزگاری بھی ذہنی امراض کا سبب بنتے ہیں۔ عوام کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

Facebook Comments HS