گلگت بلتستان: کیا پاکستان فرقہ وارانہ فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے؟
گزشتہ ہفتے کے دوران گلگت بلتستان میں ایک شیعہ عالم و سماجی کارکن پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورا خطہ فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں شیعہ برادری سے متعلق افراد بلا خیز سرد موسم کے باوجود سکردو میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے گزشتہ مضمون : ’بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق‘ میں اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔ کیونکہ بلاسفیمی کے نئے قانون کے پاس ہونے سے اہل تشیع برادری مذہبی اقلیت بن چکی ہے۔
میں اس فورم پر کوئی مذہبی بحث نہیں چھیڑنا چاہتا اور نہ ہی کسی فرقے کی دل آزاری مقصود ہے۔ مگر مذہبی حوالہ اس لیے ضروری ہے کہ اس قضیے کی بنیاد مذہبی اعتقادات کو چھیڑنے سے ہے اور حالات کی سنگینی سے پردہ اٹھانا اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک میں اگر ایسی قانون سازی کی جاتی ہو جس سے معاشرے میں بد امنی، فرقہ وارانہ فسادات اور اقلیتوں سے ناروا سلوک فروغ پاتا ہو تو دنیا کے مہذب ممالک ایسے دیس کے ساتھ معاشی، سیاسی اور سماجی تعلقات قائم کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچتے ہے۔ ایسے ممالک شمالی کوریا کی طرز پر دنیا میں تنہا رہ جاتے ہیں جہاں عوام کی ساری زندگی بے سکونی، عدم تحفظ اور کسمپرسی کے دوزخ میں جلتے ہوئے گزرتی ہے۔
گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام شمال میں ایک اہم علاقہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کی گزرگاہ ہونے کے ناتے مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
محل وقوع کے اعتبار سے گلگت بلتستان کے مغرب میں پاکستان کا صوبہ خیبر پختون خوا، شمال میں تاجکستان، مشرق میں چین کا صوبہ زن ژانگ، جنوب میں مقبوضہ کشمیر اور جنوب مغرب میں آزاد کشمیر واقع ہیں۔ گلگت بلتستان دنیا کے چند بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا گھر بھی ہے۔ جن میں قراقرم اور مغربی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس کے شمال میں پامیر اور مغرب میں ہندوکش کے پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ جبکہ اس خطے کے بلند ترین پہاڑوں میں کے ٹو اور نانگا پربت دنیا کے خطرناک ترین پہاڑوں میں بھی شامل ہیں۔
سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع، 27188 مربع میل علاقے پر محیط یہ جنت نظیر علاقہ بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ خطے کو انتظامی ضرورت کے تحت تین ڈویژنوں بلتستان، گلگت اور دیامر اور چودہ اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بلتستان ڈویژن میں، سکردو، کھرمنگ، شوگر اور گھانچے نامی اضلاع جبکہ گلگت ڈویژن میں، گلگت، ہنزہ، گزر اور نگر جب کہ دیامیر ڈویژن میں چلاس اور استور شامل ہیں۔ خطے کے اہم سیاسی مقامات گلگت اور سکردو ہیں۔ ثقافتی اعتبار سے سو فیصد آبادی مسلمان ہے مگر مزید مکتبہ فکر میں شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نور بخشی فرقے شامل ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے گلگت بلتستان میں 40 فی صد شیعہ، 26 فی صد سنی، 18 فی صد اسماعیلی اور 16 فی صد نور بخشی عقائد کے لوگ بستے ہیں۔
لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی، گلہ بانی اور سیاحت ہیں۔ یہاں کے لوگ سخت جان مگر خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں۔ ان کے حوصلے پہاڑوں کی طرح بلند اور دل یہاں بہتے دریاؤں کی طرح وسیع اور شفاف ہیں۔ یہ لوگ باہم رواداری اور مذہبی ہم آہنگی سے ہم کنار رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی مذہبی تہواروں میں بہت شوق اور خوشی سے شامل ہوتے ہیں۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فیڈریشن کی طرف سے اس علاقے میں کبھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی۔ زندگی کی سہولیات تو کجا ریاست نے ہمیشہ اس علاقے کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جب ریاست ماں کے جیسی نہیں ہوگی تو عوام اس کو کب تک برداشت کریں گے؟
اس حوالے سے علاقے کی تاریخ گلگت کی اہل تشیع برادری کے خون سے سرخ ہے جنہوں نے 1988 میں فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کی پاکستان کو سنی سٹیٹ بنانے، اقلیتوں کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کرنے کی پالیسی اور بلاسفیمی کے جرم میں سزائے موت کا قانون بنانے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں سرکار کی نگرانی میں گلگت میں نہ صرف قتل عام کروایا گیا جس میں ایک ہزار لوگ مارے گئے، خواتین کی بے حرمتی کی گئی بلکہ دیگر پاکستان سے سنی العقیدہ خاندانوں کو وہاں پر منتقل کر کے زبر دستی آباد کیا گیا تھا۔
گلگت بلتستان میں حالیہ فسادات کی چنگاری اس وقت سلگی جب پاکستانی سینیٹ نے توہین مذہب کے قانون (بلاسفیمی لاء) کو مزید سخت کرنے کا قانون پاس کیا۔ اس سے قبل اس قانون کا اطلاق پیغمبر اسلام کی ذات اور قرآن کی بے حرمتی تک محدود تھا۔ نئے قانون کے مطابق پیغمبر اسلام کے خاندان، ازواج اور صحابہ کرام کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ جرم کی سزا دس سال قید اور دس لاکھ جرمانہ یا دونوں رکھی گئی ہیں۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ یہ جرم ناقابل ضمانت ہے۔
یاد رہے کہ اہل تشیع لٹریچر پیغمبر اسلام کے چند قریبی رفقا کے ضمن میں مختلف موقف رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ اہل تشیع، اہل سنت اور اہل سنت، اہل تشیع کی احادیث کی کتب پر یقین نہیں رکھتے۔ مگر اس کے باوجود اس وقت تک ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں جب تک دوسری طرف سے کوئی عملی گزند پہنچنے کا احتمال نہ ہو۔ مگر بادی النظر میں متذکرہ قانون صدیوں سے قائم اس مذہبی رواداری کو گزند پہنچائے گا۔
اسی حقیقت کے پس منظر میں نئی قانون سازی پر سکردو کے ایک نامور سماجی کارکن اور شیعہ عالم دین علامہ باقر الحسینی نے اس کے خلاف بیان دیا۔ مگر حکومت پاکستان نے عقلمندی کا ثبوت دینے کی بجائے انتہا پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک کی حمایت کا فیصلہ کیا اور ترمیم واپس لینے کی بجائے۔ علامہ پر توہین مذہب کا پرچہ کاٹ کر گرفتار کر لیا۔ جو کہ حق انصاف اور انسانی حقوق کے ہر معیار کے خلاف ہے۔
اقوام متحدہ کا عالمگیر اعلامیہ برائے انسانی حقوق: (یونیورسل ڈیکلئیریشن آف ہیومن رائٹس ) کسی بھی انسان یا انسانی گروہ کو کوئی بھی مذہب اختیار کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس بین الاقوامی قانون کے تحت ہر انسان کو کسی کی کے جذبات مجروح کیے بغیر اپنی رائے رکھنے، لکھنے اور بولنے کی آزادی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو کسی ایک فرقے کی من پسند ریاست نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ میں یہ بھی بے دریغ کہوں گا کہ کسی بھی مذہب کے صدیوں پرانے اور غیر مسلمہ و غیر متفقہ اصولوں پر ملکی قوانین بنانا ایک خطرناک کھیل ہے۔ آنے والے چند مہینے اس کی گواہی دیں گے۔ اگر فرقہ واریت کی آگ بھڑک اٹھی تو پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ پاکستان میں شیعہ برادری کی تعداد دس سے پندرہ فی صد ہے اور یہ ایک اچھی خاصی تعداد ہے۔ اگر نہ بھی ہو تو بھی ان کے مذہبی جذبات کا احترام ضروری ہے۔
بدامنی، بے چینی اور عدم تحفظ کے شکار ملک کا پہلا نقصان اقتصادی ہوتا ہے۔ اس ماحول میں بیرون ملک سے سرمایہ داری آنا بند ہو جاتی ہے۔ تجارت کم ہوتی ہے اور برآمدات میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ دوسرا نقصان سیاسی ہوتا ہے۔ ملک دشمن قوتیں محروم طبقات کے ساتھ ہمدردی جتا کر ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اور ایسے ماحول میں اندرون ملک پیداواری سرگرمی کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔ ان گزارشات کی روشنی میں اہل اقتدار کو چاہیے کہ فوری طور پر ایسے قوانین پر نظر ثانی کریں جن سے قومی یک جہتی، مذہبی ہم آہنگی اور امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستانی ریاست دنیا میں تنہا نہیں ہونا چاہتی اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا چاہتی ہے تو دنیا بھر میں نافذ انسانی حقوق کے مروجہ اصولوں کی پاسداری کرے۔



