سوشل سائنسز کا بھوت ہمارا محبوب (دوسری قسط)


کچھ ان مضامین کا تذکرہ ہو جائے تو شعبہ ابلاغ عامہ کراچی یونیورسٹی میں پڑھے پھر کچھ ان مضامین کاجو شعبہ ابلاغ عامہ اردو یونیورسٹی میں پڑھائے۔

کراچی یونیورسٹی میں ایک مضمون ”سماجی علوم اور ذرائع ابلاغ“ تھا جو ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے پڑھایا جن کا پہلا ایم اے علم نفسیات میں ہے۔ امتحان میں سر زبیری نے یہ سوال دیا کہ ’ایک صحافی کے لیے سماجی علوم سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟‘ یہ سوال اس منطقی ربط کی جانب توجہ ہے جس کی وجہ سے یہ مضمون ابلاغ عامہ میں پڑھایا جاتا ہے ۔ ایک اور مضمون ’‘ تخصیصی صحافت ”جو پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ نے پڑھایا۔ اس میں مختلف سماجی و سائنسی رسائل و جرائد کا تعارف اور ان کے متون تھے۔ سوال یہ ہے کہ سائنسی، ادبی، نفسیاتی، معاشی، سیاسی، تاریخی جرائد کس پائے کے مضامین پر مشتمل ہوں گے اور انہیں لکھنے والا اور ایسے جریدوں میں کام کرنے والے کی استعداد کیا ہونی چاہیے؟ کیا ان مخصوص مضمون کی اہلیت نہیں؟ جنہیں ہمارا محبوب بھوت کی طرح چمٹا ہے ان کے لیے تو شاید نہیں۔

اردو یونیورسٹی میں بھی سماجی علوم کا مضمون ہے، جس میں عمرانیات اور نفسیات کے ساتھ بعد میں معاشیات کا تعارف بھی شامل کیا گیا۔ منطق وہی کہ صحافی جس معاشرے میں کام کرتا ہے اسے اس معاشرے کا، ان کی نفسیات کا علم ہونا چاہیے اور صحافی میں معاشی پالیسیوں کو سمجھنے کی بنیادی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ایک مضمون ’صحافتی قوانین‘ ہے۔ غرض صحافت کا تعلق کس موضوع سے نہیں ہے وہ بتائیں؟

تحقیق پر ایک کتاب پڑھی، ’ریسرچ میتھڈ ان سوشل سائنسز‘ ۔

ڈاکٹر سمیرا میمن سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی میں میڈیا اسٹڈیز اینڈ کمیونیکیشن کی استاد ہیں۔ وہ ملائشیا سے پی ایچ ڈی کر کے آئی ہیں۔ پی ایچ ڈی کی سطح پر انہوں نے تحقیق پڑھنے کے لیے جو کتاب تجویز کی وہ مارک سوؤندرزکی ’ریسرچ میتھڈز فار بزنس اسٹوڈنٹس‘ ہے، اس میں ریسرچ کے مراحل سمجھانے کے لیے ریسرچ اونین کا تصور دیا گیا ہے ، ریسرچ اونین کے ابتدائی دو مراحل خالصتاً فلسفہ اور منطق کے ہیں۔

وہ زعماء جو صحافت اور سماجی علوم کے ربط سے انکاری ہیں وہ صحافت میں پڑھائیں گے کیا اور صحافت میں کریں گے کیا؟

میں خود کو پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ کا بہت شکر گزار و احسان مند پاتی ہوں جنہوں نے اس مضمون کی انگریزی کتابوں کے تراجم کرائے اور ایک دن جب میں ان سے ملنے گئی تو انہوں نے وہ تمام کتابیں مجھے تحفتا عنایت کیں جن کو پڑھ کر اس مضمون کی گہرائی کا اندازہ ہوا۔ ان میں سے دو کتابوں کا تذکرہ میں یہاں کرنا چاہوں گی ایک کا مختصراً اور دوسرے کا تفصیلا؛پہلی تعارف ابلاغ عامہ اور دوسری نظریات ابلاغ۔ جامعہ اردو شعبہ ابلاغ عامہ میں ایک مضمون بی ایس میقات پنجم کا ’ذرائع ابلاغ کا ارتقا‘ پڑھایا جاتا ہے ۔

پھر اس کو سہولت کے لیے دو حصوں یعنی مطبوعہ ذرائع ابلاغ اور برقی ذرائع ابلاغ میں تقسیم کر دیا گیا۔ (مطبوعہ کے لیے برقی کے وزن پر ورقی اور برقی کو مطبوعہ کے ساتھ غیر مطبوعہ بھی کہتے ہیں ) ۔ مجھے ورقی ذرائع ابلاغ پڑھانا تھا، میرے سامنے یہ سوال کہ کیسے پڑھاؤں؟ ’تعارف ابلاغ عامہ‘ کا ایک باب بعنوان ’اخبارات۔ معاشرہ عامہ کے اولین ذرائع ابلاغ‘ مصنف میلون ڈی فلیور اور ایوریٹ ای ڈینس مترجم نزہت پروین ؛اس موضوع کی گہرائی و گیرائی دونوں مل گئیں۔ صنعتی انقلاب، سیاسی و سماجی تبدیلیاں، خانہ جنگی، اخبارات کا معاشرے پر اور معاشرے کا اخبارات پر اثر ؛کیا ہے جو اس باب میں نہیں۔

اخبار کے ارتقا کو انسانی معاشرے اور اس میں آنے والی تبدیلیوں سے جدا کر کے کیسے سمجھا جاسکتا ہے؟ اور جب ذرائع ابلاغ کا طالب علم اس میں تحقیق کرے گا تو وہ خود کو کیسے دیگر سماجی علوم سے الگ رکھ سکتا ہے؟ محقق ہی کیا صحافی بھی خود کو سماجی علوم سے بے بہرہ رکھ کے کیسی صحافت کر سکتا ہے؟

دوسری کتاب ’نظریات ابلاغ‘ ؛زیر تحریر موضوع کی مناسبت سے چیدہ چیدہ اقتباسات کہیں سوال اور کہیں تبصرے کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

باب اول۔ نظریہ ابلاغ عامہ، تحریر اسٹینلے جے باران اور ڈینس کے ڈیوس، ترجمہ فوزیہ تبسم : ایک پیراگراف پیش خدمت ہے ”امریکی ذرائع ابلاغ اور امریکی نظریات ابلاغ پر گہری نظر رکھنے والے انگریز مبصر جیرمی ٹنسٹال (Jeremy Tunstall) کے مطابق ابلاغ کا عمل بجائے خود کئی مشکلات کا حامل ہے خواہ ذرائع ابلاغ ہوں یا ابلاغ کا عمل دونوں درجن بھر سے زائد علوم پر محیط ہیں۔ اگر میدان کو ذرائع ابلاغ عامہ تک بھی محدود کر دیا جائے تو بھی یہ شعبہ کئی علیحدہ ذرائع، کئی علیحدہ علوم، کئی علیحدہ معاملات اور مراحل میں تقسیم ہوجاتا ہے اور بہت جلد اس کے کئی سو ذیلی شعبے سامنے آ جاتے ہیں۔“

انگریز مبصر کی گہری نظر ابلاغ کے عمل میں کئی علوم اور کئی سو ذیلی شعبے دیکھ رہی ہے، کیا وجہ ہے کہ ہماری جامعات کے عہدے دار اور فیصلہ ساز انہیں دیکھنے سے قاصر ہیں؟

باب دوم۔ ابلاغی صنعتوں کا عروج اور نظریہ معاشرہ عامہ، تحریر ایضا، ترجمہ ثمینہ قریشی:باب کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ”اخبار نویسوں کو پریس کانفرنسوں میں منظور شدہ سرکاری بیانات پر انحصار کرنا پڑے کہ جہاں بیشتر متعلقہ سوالات کا جواب نہ دیا جاتا ہو، ایسی پریس کانفرنسوں میں شرکت کے اجازت نامے جاری کرنے پر سخت گرفت ہو اور وہ صرف حکومت کے دوستوں کو جاری کیے جاتے ہوں۔ سرکاری کارندے جائے خبر سے صحافیوں کو بندوق کی زد پر ہٹا دیتے ہوں۔ کوئی فوجی افسر پریس کانفرنس کا آغاز ان کلمات سے کرے ’مجھے صفائی سے یہ کہنے دیجئے کہ مجھے اخبار نویس بالکل پسند نہیں ہیں آپ کی یہاں موجودگی میرے لیے کسی طرح بھی مفید نہیں ہو سکتی۔ آپ کی موجودگی سے مجھے اور میرے لوگوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے‘ ۔“

تیسرا پیراگراف : ”1991ء کی جنگ خلیج کے۔ زمانہ عروج میں سی بی ایس کے محترم صحافی والٹر کرونکائٹ نے رسالہ نیوز ویک میں لکھا تھا ’ایک امریکی شہری یہ پوچھنے کا مستحق ہے کہ وہ (حکومتیں ) ہم سے کیا چھپانا چاہ رہی ہیں؟ اس کا جواب، گولہ باری میں کتنے لوگ مرے، فوج کا ہمت ہارنا، بے چینی، بغاوت، افسروں کی نا اہلی، ناقص تربیت یافتہ فوجی لشکر، ساز و سامان کی نقل و حمل اور فراہمی میں بد انتظامی، عالمگیر پیمانے پر بیماریوں کا پھیلاؤ وغیرہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

کون جانے کیا سچ ہے کیا غلط! مگر یہ حقیقت کہ ہم بے خبر ہیں، یہ حقیقت کہ فوج بدیہی طور پر محسوس کرتی ہے کہ کچھ ایسا ہے جو اسے چھپانا چاہیے۔ اس کا نتیجہ واقعتاً یہی ہو سکتا ہے کہ بالآخر داخلی محاذ پر ہمارا اعتماد ٹوٹ جائے اور ویت نام سے اٹھنے والی صدائے احتجاج کی گونج پھر سنائی دیتی ہے۔ یہی ہے کہ جس سے پینٹا گون سب سے زیادہ خوف زدہ ہے۔“

اس باب کا مندرجہ بالا پہلا اور تیسرا پیراگراف ملاحظہ کیا، کتاب ہے ”نظریات ابلاغ“ ، سیدھے طریقے سے ابلاغ کا نظریہ کیوں نہیں بیان کر دیتے؟ جنگوں کے تذکرے کے ساتھ اس باب میں اور بھی بہت کچھ ہے یعنی صنعتی انقلاب، سماجی تبدیلیاں او ر نئی ٹیکنالوجی ؛یہ سب سماجی تبدیلیاں ابلاغ کے نظریات کا پس منظر بیان کرتی ہیں۔ ابلاغی نظریہ، ابلاغی تحقیق، ابلاغی تعلیم۔ سماجی علوم سے کٹ کر ممکن نہیں۔ سماجی علوم سوچ میں گہرائی پیدا کرتے ہیں وگرنہ ابلاغ علمی سطح پر ہی نہیں عملی سطح پر بھی سطحی ہو گا۔

باب سوم۔ پروپیگنڈے کے دور میں ابلاغی صنعتوں کا عروج، تحریر ایضا، ترجمہ سعدیہ تبسم قریشی:اس باب میں رقم ہے کہ پروپیگنڈے کے نظریات کو سمجھنے کے لیے علم نفسیات کے دو نظریات جان بی واٹسن کا نظریہ کرداریت اور سیگمنٹ فرائیڈ کا تحلیل نفسی سے مدد ملی۔ پروپیگنڈے کے نظریے کے جواب میں فلسفی اور ماہر تعلیم جان ڈیوی کا تعلیمی اصلاحات کا نظریہ سامنے آیا۔

ابلاغی عمل خواہ وہ ابلاغ عامہ کے علمی اداروں میں ہو یا عملی اداروں میں۔ یہ ادارے انسانی معاشروں میں انسانی عملیات کے گرد گھومتے ہیں اور انسانی عملیات کو انسانی و سماجی علمیات کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے۔

باب چہارم۔ ابلاغ عامہ کے نظریات معیار بندی، تحریر ایضا، ترجمہ و تدوین پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ: بیسویں صدی کے اوائل میں امریکہ میں ’پیشہ ورانہ اسلوب صحافت‘ مہم کا آغاز ہوا۔ نظریات معیار بندی ’چاہیے‘ کا سوال اٹھاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو کیا کرنا چاہیے۔ اس چاہیے کے ذیل میں مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے گئے :

(الف) کیا ذرائع ابلاغ کا کام محض یہ ہونا چاہیے کہ جو مواد مختصر ترین مدت میں انہیں بہترین منافع کما کر دے سکے بس وہ چھاپ دیا جائے یا ذرائع ابلاغ کو اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرنا چاہیے؟

(ب) کیا کچھ ایسی ضروری خدمات عامہ بھی ہیں جو ذرائع ابلاغ عامہ کو مہیا کرنی چاہئیں خواہ ان کی ادائیگی سے فوری طور پر کوئی فائدہ بھی حاصل نہ ہوتا ہو؟

(ج) کیا ذرائع ابلاغ کو سماجی مسائل کی نشان دہی اور ان کو حل کرانے کے عمل میں شریک ہونا چاہیے؟

(د) کیا یہ ضروری ہے اور ایسا کرنا مفید ہو گا کہ ذرائع ابلاغ کاروباری فریب دہی اور بد عنوان عمال کی ضرر رسانی سے تحفظ کے لیے صارفین کے مفادات کی چوکیداری کریں؟

(ہ) بحرانی وقتوں میں ہمیں ذرائع ابلاغ عامہ سے کس قسم کے کردار کی ادائیگی کی توقع کرنی چاہیے؟

(ن) کیا ایسے کچھ حالات ہوسکتے ہیں کہ جن میں لوگوں کی خلوت میں دخل اندازی مناسب بلکہ ضروری قرار پا سکتی ہو یا ان کی نیک نامی کو برباد کر دیا جانا جائز ٹھہر سکتا ہو؟

اگرچہ کہ ان سوالات کو ایک صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ سوالات آج بھی اتنے ہی گراں قدر ہیں۔

Facebook Comments HS