بوسنیا کی چشم دید کہانی-49
میرو بغیر رکے کافی دیر تک بولتا رہا اور آخر میں سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک لکڑہارا ہے۔ جنگ کے بعد بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے وہ اپنے پیشے کو اس طرح جاری نہ رکھ سکا لیکن اس کی محنت سے عبارت زندگی کی نشانی کے طور پر آٹھ قسم کے آرے آج بھی اس کے پاس محفوظ ہیں۔ ٹیٹو سے اس کا وہی رشتہ تھا جو ایک مزدور کا مزدور لیڈر سے ہوتا ہے۔ وہ ٹیٹو کا مداح تھا اور ہے، لیکن اسے یہ بھی اعتراض ہے کہ ٹیٹو کا معاملہ بھی اہل اقتدار کی صف میں شامل ہونے کے بعد دوسرے مزدور لیڈروں سے کچھ ایسا مختلف نہیں رہا۔
مؤرخ کے لیے بہر حال اس نام اور شخصیت کو پھر بھی شریک گروہ عام کرنا مشکل ہو گا۔ اس ملاقات کے دوران اس نے دریائے نرٹوا میں پائی جانے والی ایک خاص قسم کی مچھلی سے جس کی جسامت انگلی سے کچھ ہی زیادہ تھی ہماری خوب تواضع کی۔ رخصت ہوتے ہوئے اس نے مجھے ایک تصویر تحفے میں دی۔ یہ دریائے بوسنیا کے کنارے واقع سرائیوو کی مرکزی لائبریری کی ایک پینٹنگ تھی۔ اس نے بتایا کہ اسے یہ پینٹنگ اس کی ایک مسلمان دوست نے دی تھی۔ وہ دمے کی مریض تھی جو موت سے نبرد آزمائی کرتے ہوئے جلد ہی زندگی کی بازی ہار گئی۔ مرکزی لائبریری کا حسن بوسنیا کی جنگ نے گہنا دیا ہے۔ میں اس تحفے کو ایک مسلمان سے نسبت ہونے کی وجہ سے تمہارے حوالے کرتا ہوں۔
آج یہ تصویر میرے گھر کے لاوئنج میں لگی ہے۔ بوسنیا کی یادوں کے اس ورق کو یہ تصویر کبھی دھندلا نہیں ہونے دے گی۔
ساجد 13 اپریل کو زینیسا واپس لوٹا اور اس کے دو دن بعد عید الاضحیٰ تھی۔ مرزا اور میمن کوئی ایک ماہ قبل ٹرے بینیا سے تبدیل ہو کر سرائیوو میں الیزا پہنچ چکے تھے جہاں شہر سے باہر ورالا بوسنا کی خوب صورت بستی میں وہ ایک چرسی قسم کی سرب بڈھی برانکا کے کرایہ دار تھے۔ اس کا حلیہ دیکھ کر کوئی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ یہ بڈھی گھر کی سجاوٹ کے حوالے سے ایسی سلیقہ مند ہو گی۔ شاید اسی تاثر کے تحت مرزا اور میمن نے اس کا کرایہ دار بننے کا فیصلہ بھی کیا لیکن یہاں معاملہ ”دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا“ والا نکلا۔ وہ تقریباً تین ماہ تک اس بڈھی کے کرائے دار رہے۔ لیکن برانکا کا سلیقہ اور ان کی بے ترتیبی ایک دوسرے کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔
مرزا اور میمن کی طرف سے عید ان کے ہم راہ سرائیوو میں منانے کی دعوت بہت پہلے سے مل چکی تھی لیکن موسطار کی کشش ایک بار پھر غالب رہی۔
موسطار میں عید کی نماز کا وقت صبح کی نماز کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد چھ بج کر چالیس منٹ مقرر کیا گیا تھا۔ ہم پانچوں پاکستانی نماز فجر کے فوراً بعد موسطار روانہ ہو گئے اور جامعہ محمت پاشا میں ایک داڑھی مونچھ صاف نوجوان کی امامت میں نماز عید ادا کی۔ وقت کی پابندی ”بے شک نماز مقررہ اوقات کے ساتھ مومنوں پر فرض کی گئی ہے“ کی عملی تصویر تھی۔ اس حکم کی ایسی تعمیل پہلے کہیں نہ دیکھی تھی۔ نماز کے بعد قریب ہی واقع قبرستان شہداء میں جا کر فاتحہ خوانی کی۔ نہ معلوم یہ حقیقت کا معاملہ تھا کہ عقیدے کا بھرم کہ آج اس کی قبروں کے گرد پھیلے ہوئے لالہ و گل کی سرخی کی تاب لانا مشکل تھا۔ جس خاک میں وہ صورتیں پنہاں ہوں کہ جنھوں نے قربانی کی معراج کو چھوا، نگاہ وہاں خیرہ نہ ہوتی تو اور کہاں ہوتی۔
ایک عرصے سے سن رکھا تھا کہ موسطار کی چھاؤنی کی مسجد سے ملحق مدرسہ سے ایک مولانا وابستہ ہیں جو اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے۔ جنگ سے قبل سٹولک کی سب سے بڑی اور قدیم شاہی مسجد کے امام رہے جو سلطان سلیم نے تعمیر کروائی تھی۔ ان کا نام مولانا اسماعیل بتایا گیا تھا۔ موسطار میں ہم نے کئی مرتبہ چھاؤنی کی مسجد جا کر ان کا پتہ کیا لیکن ان سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ خیال آیا آج عید کی وجہ سے ملاقات کے امکانات قوی ہیں، لہٰذا قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔
قبرستان شہداء سے نکل کر ہم نے چھاؤنی کی مسجد کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر مولانا اسماعیل کا پتہ معلوم ہوا کہ وہ تھوڑی ہی دیر قبل اپنے گاؤں چلے گئے ہیں۔ یہ اتفاق بڑا مایوس کن تھا۔ ہم منہ لٹکائے واپس لوٹنے کو تھے کہ و ہ شخص جس سے ہم نے مولانا اسماعیل کے بارے میں پوچھا تھا دوبارہ نمودار ہوا اور ہم سے مخاطب ہوا
ڈاکٹر صاحب آپ کو اندر آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔
ہم تو وہاں کسی ڈاکٹر صاحب کو نہیں جانتے تھے لیکن چونکہ مقامی روایات کے مطابق کسی کی دعوت ٹھکرانا غیر مہذب تھا، لہٰذا ہم نے جوتے اتارے اور مسجد کے ہال میں داخل ہو کر اس شخص کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔ ہال کے خاتمے پر کچھ کمرے تھے۔ ان میں سے ایک میں ہمیں بٹھا دیا گیا اور شربت سے تواضع کی گئی۔ یہ ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک بھاری بھر کم شخص جس کی عمر 60 برس کے قریب ہو گی لاٹھی کے سہارے لنگڑا کر چلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور السلام علیکم کہتے ہوئے ہم سے باری باری ہاتھ ملایا۔
یہی ہمارے میزبان ڈاکٹر صاحب تھے۔ ان کا نام محمود تطلوی تھا۔ مصری تھے لیکن عمر کا بڑا حصہ جرمنی میں گزارا تھا۔ وہاں ان کا ایک ذاتی ہسپتال تھا۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی فلاح کی خاطر انھوں نے یہ ہسپتال نیلام کیا اور 1995 ء میں موسطار میں آ کر مقیم ہو گئے۔ یہاں انھوں نے یہ مسجد اور اس سے ملحق ایک مدرسہ تعمیر کروایا اور اس کا نام موسطار کی مرکزی جامع مسجد کے نام پر مدرسہ کروازجوبیگویچ رکھا۔ اس مدرسے کے علاوہ انھوں نے موسطار سے سرائیوو جانے والی سڑک کے کنارے واقع ایک گاؤں میں بچیوں کی تعلیم کے لیے بھی ایک مدرسہ قائم کیا جہاں ایک مقامی خاتون فاطمہ، معلمہ کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔
انھوں نے پہلے ہمیں مسجد کے بالائی حصہ میں دو منزلوں پر مشتمل مدرسہ کروازجوبیگویچ دکھایا۔ پھر اپنی گاڑی میں بٹھا کر مضافاتی مدرسہ دکھانے لے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہر وقت با وضو رہتے ہیں اور قرآن مجید کا ایک نسخہ ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ کسی شخص کے لیے عقیدے کی نسبت اتنی معتبر ہو سکتی ہے کہ اس کا عمل اس خیال کا اعلامیہ بن جائے،
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سودو زیاں لا الہٰ الا اللہ
جب ہم ابراہیم اور نیوزا کے کرایہ دار میزبانوں صابر اور زاہد کی رہائش پر پہنچے تو ضلع موسطار کے مختلف اسٹیشنوں سے وابستہ پاکستانی ساتھیوں کا ایک ہجوم وہاں پہلے سے موجود تھا۔ چائے کے ساتھ نیوزا کے بکلاوے پر سب ٹوٹے پڑے۔ باورچی خانے کا کاروبار سلیم اور مراتب نے سنبھالا ہوا تھا۔ ہم سب کی پردیس میں یہ دوسری عید تھی جو ایک بار پھر موسطار میں گزر رہی تھی۔ ابراہیم اور نیوزا بھی اس دعوت میں مدعو تھے۔ وہ کھانا تیار ہونے سے تھوڑی دیر قبل آئے۔
آج دونوں نے نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پچھلی عید پر جب ہماری ان سے ان کے گھر میں ملاقات ہوئی تھی تو انھوں نے عمومی استعمال کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ لیکن آج تو ان کی سج دھج ہی کچھ اور تھی۔ میں نے دونوں کو ”دوبروازگلادش“ ( آپ پیارے دکھائی دے رہے ہو) کہتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ پچھلی عید کے تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم نے کوئی ایسا موضوع نہیں چھیڑا جو انھیں افسردہ کر دے۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سب ساتھیوں نے باری باری ابراہیم اور نیوزا کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
یہی تمام ساتھی شام کے کھانے پر ہمارے ہاں مدعو تھے۔ اس دعوت کی تمام تیاری چونکہ یہاں سے واپسی پر کرنا تھی، لہٰذا ہم نے جلد ہی اجازت چاہی۔ سٹولک پہنچ کر اقبال اور عظیم نے باورچی خانہ سنبھالا اور ندیم، فاروق اور میں نے معاونین کے فرائض نبھائے۔ شام ڈھلے سٹولک میں دوستوں کا میلہ لگا اور یوں اس بستی کے اک کوچے میں چند مسلمانوں نے عرصے بعد جمع ہو کر شام بائرم اس انداز سے منائی جیسے یہ کبھی یہاں گھر گھر منائی جاتی ہو گی۔


