کیا خاندان جرم سازی کی فیکٹریاں ہیں؟


خاندان انسانی معاشرے کی ایک ایسی مقدس اکائی ہے جہاں سے انسانوں کی پیدائش اور نسل انسانی کے بقا کا سلسلہ ایسے آگے بڑھتا ہے کہ تہذیب انسانی حیوانی تہذیب سے مختلف نظر آتی ہے۔ انسان کی عقل اور مذہب نے خاندان کے قیام کو ہمیشہ سے سراہا ہے دو انسانوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو ماں باپ جیسی ہستیوں کی نعمت اور شفقت سے نوازا جن کی آغوش اور سائے تلے تہذیب انسانی کو جنگل کی زندگی سے ممیز کیا اور مقدس رشتوں کے زیر سایہ حیوانی جبلتوں پر پیدا ہونے والے انسانوں کو ماں باپ اور دیگر رشتوں کی آغوش میں بہترین مخلوق بننے کے مواقع عطا کیے ۔ خاندان کا تصور آج بھی مقدس ہے اور اس کی تقدیس سے کبھی بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن انسانی تہذیب کا سب سے بڑا المیہ ”جرم“ ہے۔ جس کے لئے خاندان جیسے مقدس انسٹیٹیوٹ کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ مگر کیوں؟

اور کیوں بہت سے انسان خاندان جیسی جنت کے موجود ہونے کے باوجود اس کرہ ارض کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ ؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔

در اصل جرم کا تعلق انسان کے دماغ کے جسمانی افعال سے ہوتا ہے یعنی ان کیمیاوی، حیاتیاتی اور نیورولوجیکل عوامل سے ہوتا ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں اور یہ عوامل وراثت میں ملتے ہیں۔ اب تک کی سائنسی تحقیقات نے اپنے مطالعات سے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی جرم اس لئے کرتا ہے کہ اس کا دماغ ہی اسے مجبور کرتا ہے۔

سائنس نے باقاعدہ شواہد پیش کیے ہیں اور مجرموں کے دماغوں کی کیماوی اور نیورولوجیکل ساخت کو نارمل افراد کی ساخت اور فعلیت سے مختلف دکھایا ہے۔

لیکن اس کے متوازی کرداری سائنس کے نظریہ ماحول یا لرننگ تھیوری نے ماحول کو بھی جرم سازی میں اہم ترین قرار دیا ہے۔

ماحول کا پہلا زینہ خاندان کی اکائی ہے جہاں پر وراثتی یا جینیاتی عوامل بھی موجود ہیں اور جرم سکھانے کے ڈھانچے اور قالب بھی موجود ہیں۔

خاندان کو کیوں نہ ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟

جب سائیکو پیتھ، نارسسٹ اور حاسد جینز رکھنے والے افراد کی شادیاں ہوں گی تو خاندان کی بنیاد محبت کی بجائے حسد، نفرت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش پر رکھی ہو گی تو جرم کیوں نہ جنم لے؟

شادیوں کی خوشی پر گائے جانے والے گانوں کو ہی لے لیجیے لڑکے اور لڑکی کے خاندان والے شادی والے دن ہی نئے سنجوگی خاندانوں کو گیتوں کے ذریعہ ایسے غیر مہذب کلمات، گالیوں اور طعنوں سے زیر کرتے ہیں جن میں لڑکی کے کان میں زہر ٹپکا کر رخصت کیا جاتا ہے۔ مثلاً ساس کو گالیاں، سسرالی رشتہ داروں کو کوسنے وغیرہ۔ اور اس گیت بازی کو کلچر کہا جاتا ہے۔ اب جب کوئی لڑکی بچپن سے یہ گیت سنتی آئی ہو اور اپنی شادی پر بھی اسے نفرت ہی سنائی دے رہی ہو تو وہ عدم تحفظ کا شکار ہو کر پورے خاندان سے حتی کہ اپنے شوہر سے بھی نفرت ہی کرے گی اور بچوں کو بھی نفرت ہی سکھائے گی۔

یعنی شادی کے پنڈال سے جرم کی دنیا کا افتتاح ہو جاتا ہے۔

بچے والدین کی مجرمانہ فطرت کے روئیے اور کردار اپنے اندر سموتے ہیں اور یقینی طور پر حاسد والدین میں سے کوئی ایک بچوں کو کنٹرول کر کے اپنے پنجرے میں بند کر لیتا ہے اور بچے اس کی سپلائی بن کر اپنے ہی والدین میں سے کسی ایک کے مخالف ہو کر کے خاندان کا تقدس پامال کرتے۔ اور اینٹی سوشل اور سائیکو پیتھ بن جاتے ہیں۔

مجرمانہ خصائل رکھنے والے خاندان پہلے اپنے بچوں کے لئے اعلی تعلیم یافتہ، دولت مند اور خوبصورت شکل و صورت والے رشتے اس لئے ڈھونڈتے ہیں تاکہ معاشرے میں اپنی بڑائی کا شو کیا جائے۔ دراصل پس پردہ یہ کنٹرول کا مظاہرہ ہے کہ ہم دولت حسن اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس طرح اپنی نرگسی فطرت کی تسکین کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں جب یہ سب کچھ حسب خواہش مل جاتا ہے تو انہی رشتوں کے خلاف حسد کی آگ بھڑکنے لگتی ہے اور اسی حسین تعلیم یافتہ بہو / داماد کو کنٹرول کرنے اور اگر کنٹرول نہ ہو سکیں تو انہیں تباہ کرنے کی ہر کوشش کی جاتی ہے۔ بچے اسی تباہی کی خواہش میں اپنے ننھیالی/ ددھیالی رشتوں کی پارٹی بن کر ادھر کی نفرت ادھر منتقل کرنے کے کاموں پر لگ جاتے ہیں۔

اسی طرح دولت مند خاندانوں میں رشتے کرنے کے بعد ان کی دولت اور جائیداد ہتھیانے کے ناجائز طریقے کیوں نہ بچے بھی سیکھیں۔ جائیدادوں کی خاطر لڑائیاں اور قتل کا سبق گھر سے ہی ملتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل بھائی، باپ اور بیٹے ہی کرتے ہیں جہاں ان کی فرسودہ روایات شاباش دیتی ہیں۔

بیٹوں / بیٹیوں کو ان کی شادی کے بعد مکاری، منافقت، جھوٹ اور نفرت مائیں ہی سکھاتی ہیں۔

ایک ہی گھر میں ماں باپ کا اپنے ہی امیر اور غریب بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک، غریب بہو اور غریب داماد بمقابلہ امیر بہو اور امیر داماد کے ساتھ غیر مساویانہ روئیے، دولت اور جائیداد کی غیر مساویانہ بندر بانٹ، اور اس کے نتیجے میں حسد کی آگ کا شعلہ ایک ہی گھر میں سگے رشتوں میں پنپتا ہے۔ جس سے پرسنیلٹی ڈس آرڈرز کی جینیاتی میراث کو مزید ہوا ملتی ہے۔

مجرمانہ خصائل کے یہ مظاہرے ان پڑھ، دیہاتی خاندانوں سے لے کر اعلی تعلیم یافتہ شہری اور تہذیب یافتہ اور مذہبی گھرانوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ پدرسری معاشروں میں مرد اور آج کے دور میں عورت اپنے مجرمانہ خصائل کو کھل کر استعمال کرتی ہے اور دونوں صورتوں میں بچے حسد کی لہروں کو محسوس کر کے ان منفی جذبات کو اپنے اندر سموتے ہیں۔

گھر میں گالیوں، جارحیت، بد تمیزی، نفرت، غیبت اور مکاری دھوکہ دہی اپنے ہی والدین کے ظاہر اور خفیہ رویوں سے سیکھ کر مشق کرتے رہتے ہیں اور پھر یہ مجرمانہ پھولوں کی پولن پہلے گھر کے افراد، گرینڈ پیرینٹس، رشتہ داروں سے نفرت اور بد سلوکی کی صورت میں گھر کے امن کو متاثر کرتی ہے۔ اور یہ جراثیم سکول میں بچے کے نفسیاتی امراض اور کنڈکٹ ڈس آرڈر کی شکل میں گل کھلاتے ہیں۔

جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے یہ مجرمانہ پولن سٹریٹ کرائم کی صورت میں گلی محلے اور پھر ورک پلیس کو آلودہ کر کے قوموں کا مجموعی کردار بن جاتا ہے جسے نیشنل کیریکٹر کہا جا سکتا ہے۔

مشاہدات اور کلینکل کیس ہسٹریوں سے پتہ چلتا ہے کہ گھریلو تشدد کا پہیہ بھی حیران کن شکلوں میں گھومتا ہے۔

بیویوں پر تشدد/ مردوں کے ساتھ جذباتی بلیک میلنگ کے جواب میں رد عمل کی شکل یہ بھی ہے کہ عورتیں / مرد اپنے اوپر ہونے والے حقیقی جسمانی اور جذباتی تشدد اور بعض اوقات محض شادی سے پہلے سسرالی رشتوں کے بارے میں انجانے فرضی خدشات کی بناء پر اپنے بچوں کو استعمال کر کے انتقامی طور پر اپنے ہی شریک حیات، ساس سسر کے ساتھ بدسلوکی کا سبق حتی کہ انہیں مارنے پر بھی خفیہ طور پر اکساتے ہیں۔

استعمال کیے ہوئے بچے بندوق کی گولی کی طرح ہوتے ہیں جو مہلک ہی ہوتی ہے۔
سکول بھیجنے سے پہلے بھی عدم برداشت کا سبق ملتا ہے۔

یقیناً ایسے والدین کی تربیت کے تحت گھر ان کے لئے مہذب تربیت گاہ کی بجائے جرم سکھانے کی کاٹیج انڈسٹری بن جاتا ہے ہے جہاں پری سکولر ماں / باپ کی مجرمانہ گود میں بڑے جرائم کے علاوہ جھوٹ، غیبت، مکاری اور نفرت اور ایذا رسانی کے ڈپلومے اعزازی طور پر ملتے ہیں۔ باپ / ماں، دیورانی، جیٹھانی، نند، ساس سسر، اور دیگر سسرالی رشتے وکٹم ہوتے ہیں اور بچے فلائنگ منکی کے کردار نبھاتے نبھاتے آخر کو ایک یا بہت سے جرائم کے ماہر بن کر سامنے آتے ہیں

پھر معاشرہ ان زہریلے اینٹی سوشل لوگوں کے عتاب تلے آتا ہے۔

مذہبی و نظریاتی شدت پسندی اور روایات کی بے جا پاسداری کو جابرانہ طور پر گھروں میں نافذ کرنا بھی گھر کے ماحول کو جبر و استبداد کا مرکز بناتا ہے جس کا نتیجہ بغاوت، جداگانہ راستے اور جارحانہ رویوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

ماں باپ کے ہر وقت خراب موڈ، موڈ کے دورے، ناراض روئیے، علیحدگی، طلاق، قریبی رشتوں سے بد سلوکی اور منافقت پر مبنی برتاؤ، والدین کا بچوں کے سامنے ہر دم ایک دوسرے کے ساتھ تحقیر اور تمسخر آمیز سلوک اور کشیدگی اور بچوں کی خوشیوں اور تخلیقی صلاحیتوں پر قدغن اور تحکمانہ انداز تربیت بھی زہر ہے

اور ان سب میں خطرناک یہ کہ والدین اگر بچے کو کھلم کھلا یا خفیہ طور پر اپنے شریک حیات کے خلاف اکسا کر حسد کی تابکاری لہریں پھیلائیں گے تو یہ تابکاری شعائیں بچے کو بھی حاسد بنا دیں گی جو شخصیت کی منفی خاصیت ہے اور حسد تمام مجرمانہ بیماریوں کی جڑ ہے۔

یقیناً ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ نفسیاتی آلودگی بھی نالیوں میں بہہ کر جرم کے جراثیم پھیلاتی ہے۔

دنیا کے بڑے اور عظیم مجرموں، جابروں آمروں کے بچپن اور ابتدائی زندگیوں پر نظر ڈالیں سب نے زہر آلود بچپن گزارے ہیں۔

جرم کی ان فیکٹریوں کی آلودگی صاف کریں اور معاشرے کو پرسکون افراد مینوفیکچر کر کے دیں۔
گھروں میں دوستی، رواداری روشن خیالی خوشی قائم کریں بچوں کو خوش ہونے دیں۔
دنیا میں امن اسی سے ہو گا۔ اسی سے خاندان کا تقدس برقرار رہے گا۔

Facebook Comments HS