بی آر آئی ایک نئے مرحلہ میں داخل


یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ چین جیسے بڑے ملک نے ایک مختلف تصور کے ساتھ دنیا بھر میں معاشی ترقی کے لئے ایک مکمل منصوبہ تیار کیا اور اس میں وطن عزیز کے لئے خوش قسمتی کا پہلو یہ ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس میں سی پیک جیسا منصوبہ شروع کیا گیا اور چین کے لئے بھی بحر ہند اور بحیرہ عرب سے بذریعہ سڑک منسلک ہونے کا یہ ہی ایک واحد راستہ ہے۔ چین سے پاکستان، سینٹرل ایشیا، افریقہ یورپ جانے کا ایک ایسا راستہ جو ان تمام ممالک کو ایک مضبوط معاشی دھارے سے منسلک کر دیں گا۔ اسی لئے پاکستان میں سی پیک کی دسویں سالگرہ کے موقع پر چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئر مین کی آمد چین کے لئے اس منصوبہ کی اہمیت کو ظاہر کر رہی تھی۔ اب تک پاکستان کو چین سے اس بارے میں کوئی شکایت بھی پیدا نہیں ہوئی ہے کہ چین نے کوئی وعدہ کیا ہو اور اس کو پورا نہ کر سکا ہو۔ مگر اس کا ایک اور بھی پہلو ہے کہ پاکستان کی جانب سے وہ کارکردگی پیش نہیں کی جا سکی جس طرح کی کارکردگی اس منصوبے کے تمام مراحل کو بر وقت مکمل کرنے کے لئے درکار تھی۔

جب اس منصوبے کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت پاکستان میں یہ تصور بہت مضبوط تھا کہ اگر پاکستان اور چین نے اس منصوبے کو بر وقت مکمل کر لیا تو پاکستان کی معیشت بہت مضبوط ہو جائے گی مگر بد قسمتی سے پاکستان میں آئے دو ہزار سترہ کے سیاسی جھٹکے کی وجہ سے یہ منصوبہ کچھ مشکلات کا شکار ہو گیا۔ پھر میرے چینی دوستوں نے مجھے براہ راست بھی کہا اور چین میں یہ تصور مضبوط بھی ہے کہ پاکستان کی پلاننگ وزارت اور اس میں تعینات سیاسی و بیورو کریسی کی بھی یہ صلاحیت ہی سرے سے نہیں تھی کہ وہ اس اتنے بڑے منصوبے پر کام کر سکتے اور اسی سبب سے سی پیک کی بدولت پاکستان کی معاشی بحالی کا خواب تا ہنوز شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ہے مگر اس میں ابھی بھی کوئی شک کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے لئے سی پیک کی سب سے زیادہ لمحہ موجود تک اہمیت ہے۔

ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ دنیا بھر کے تعلقات میں بنیادی نوعیت ان ممالک کا مختلف امور میں نقطہ نظر ہوتا ہے، باہمی مفادات ہوتے ہیں اور ان باہمی دلچسپی کے معاملات پر ہی ساری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت سی پیک کا خیال اس سبب سے آیا کہ رواں ماہ میں چین میں بی آر آئی فورم کا اجلاس ہو رہا ہے اور اس کی بھی دسویں سالگرہ آ گئی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس سے ایشیا، یورپ، افریقہ وغیرہ کو سلک روٹ سے جوڑنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ اس روٹ کی تکمیل کی غرض سے ان ممالک کو بھی انفرا اسٹرکچر وغیرہ کی تعمیر کے حوالے سے غیر معمولی فائدہ دیکھنے میں آیا جن کے ذریعہ سامان ایکسپورٹ یا امپورٹ ہونا ہے۔ اور ہم سب یہ جانتے ہیں کہ چین کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے یا اس کی حالیہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو وہ کبھی بھی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھتا۔ اس لئے اس کی معاشی موجودگی کسی کو بھی چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا یا کمزور ملک ہو اس خطرے سے دوچار نہیں کر سکتی کہ اس کی خود مختاری کو کوئی زک پہنچ سکتی ہے۔

اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایشیا کے ساتھ ساتھ وہ افریقہ میں بھی بڑے پیمانے پر بی آر آئی کے ویژن کے ساتھ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں مصروف ہے۔ اور نا صرف کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں مشغول ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ چین نے اس امر پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے کہ بی آر آئی سے وابستہ ممالک کے اگر نکتہ نظر یا ضروریات میں فرق آ جائے تو چین ان کے ساتھ اس حوالے سے کسی مشترکہ سوچ تک پہنچ جائے۔ مثال کے طور پر افریقہ میں آج کل اور جب سی پیک شروع ہوا تھا تو اس وقت پاکستان کے بھی کچھ حلقوں میں یہ سوچ تھی کہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر تو ہو جائے گی مگر اس کے لئے جو رقم خرچ کی جائے گی اس کی ادائیگی میں مشکلات ہوگی۔ اس وقت یہ آوازیں افریقہ میں دوبارہ سے سنائی دے رہی ہے اور انہی آوازوں کو سنتے ہوئے اور ان تحفظات کو دور کرنے کی غرض سے چین اپنی حکمت عملی میں ایک بتدریج تبدیلی لا رہا ہے۔

چینی صدر شی نے اگست دو ہزار تئیس میں کہا کہ ”میں نے ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر افریقہ کے ممالک کے تحفظات کو سنا۔ وہ مزید لاجسٹکس اور نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ نہیں چاہتے ہیں بلکہ اساس کے بجائے وہ صنعت کاری چاہتے ہیں۔ چین ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔ یہ بی آر آئی فورم کے اجلاس کے انعقاد سے قبل ایک ایسا بیان ہے کہ جو یہ ثابت کر رہا ہے کہ چین بی آر آئی فورم اور اس کے اجلاس کے دوران صرف اپنی مرضی کو نہیں چلانا چاہتا ہے بلکہ دیگر ممالک کے معاملات اور ان کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے آغاز کے وقت اس منصوبے کی ساری توجہ سلک روٹ کی از سر نو بحالی اور اس سے جڑے ممالک میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر تھی تا کہ سامان تجارت کی نقل و حمل کو آسان اور سستا بنایا جا سکے۔

دس سال گزرنے کے بعد انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے شعبے میں قابل قدر کام ہو چکا ہے اور اب اس اجلاس کے بعد اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بی آر آئی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو جائے گی اور ترقی پذیر ممالک میں فنانسنگ کے ذریعے انڈسٹری لائیزیشن کے مرحلہ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ پاکستان کے لئے یہ ممکنہ تبدیلی غیر معمولی طور پر اہمیت کی حامل ہوگی کیوں کہ پاکستان میں یہ پوٹینشل تو موجود ہے کہ وہ انڈسٹری کی بنیاد پر اپنی معیشت کو بحال کر سکے مگر اس کے لئے اس کو کک سٹارٹ کی ضرورت ہے اگر اس کو کک سٹارٹ مل گیا تو معیشت بھی جلد بحال ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS