انسانی کتے
ہم یہ بات تسلیم کرنے پر تیار ہیں کہ ایک انسان کے دل میں یہ تمنا زندہ ہو کہ وہ بندر بن کر کسی درخت کی شاخ پر الو کے برابر جا بیٹھے یا شاخ در شاخ چھلانگیں لگا کر جشن طرب مناتا پھرے لیکن یہ بات تو حضرت ڈارون کو بھی منظور نہ ہو گی کہ کوئی انسان، سگ خانہ بننے کی خواہش کرے تاوقتے کہ وہ کسی کا چھوٹا بھائی ہو اور اس نے فارسی بھی پڑھ رکھی ہو۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک جاپانی نے، جسے نہ زبان یار آتی ہے اور نہ وہ فارسی زبان سے آشنا ہے، کتے کا روپ اختیار کر لیا ہے۔
قصہ یہ ہے کہ جس طرح ایک عام انسان کے دل میں زمانۂ طفلی ہی سے ڈاکٹر، اداکار یا حکمران بننے کی آرزو ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جاپان میں ایک آدمی کے دل میں بچپن ہی سے ’کتا‘ بننے کی تمنا تھی۔ وہ جوان ہوتا گیا اور اس کی تمنا رنگین ہوتی گئی۔ اس نے اپنے خوابوں میں رنگ بھرنے کے لیے خوب دولت کمائی اور ایک کمپنی کو چالیس لاکھ روپے ادا کیے کہ وہ اس کے لیے ایسی کھال تیار کرے جسے پہن کر وہ ایک اصلی اور نسلی کتا دکھائی دے اور کوئی اسے دیکھ کر فارسی کا وہ شعر نہ پڑھے :
بہر رنگی کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسم
جاپانی قارئین کی آسانی کے لیے ہم اس شعر کا اردو ترجمہ بھی کیے دیتے ہیں :اے محبوب، تو چاہے جس رنگ کی پوشاک پہن لے، میں تجھے تیری قامت سے پہچان لوں گا۔ قصہ کوتاہ، کمپنی نے چالیس دنوں میں ایک ایسا لباس تیار کر کے اس کے سپرد کر دیا جسے پہن کر اس کی ”قلب ماہیت“ ہو جاتی ہے اور وہ انسان سے کتا بن جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ہم سوچ رہے کہ اس موضوع پر شذرہ تحریر کریں یا کافکا اور انتظار حسین کی طرح افسانہ طرازی کریں لیکن پھر ان بزرگوں کی نیک نامی اور اپنی وسعت قلبی کا خیال آتا ہے، اس لیے ہم یہاں افسانہ تو نہیں تراشیں گے البتہ ایک واقعہ ضرور عرض کریں گے، لیکن پہلے یہ وضاحت کر دیں گے کہ انسان سے کتا بننے کی یہ کوئی پہلی ”واردات کلبی“ نہیں ہے۔
یورپ میں شخصی آزادی کے عنوان پر باقاعدہ ایک ”تحریک سگاں“ چل رہی ہے اور صرف برطانیہ میں کوئی دس ہزار ’انسانی کتے‘ موجود ہیں۔ ان کا ایک پرچم ہے جس پر ہڈی کی تصویر بنی ہے۔ برطانیہ میں ایسے مراکز قائم ہیں جہاں انسان کو کتے بننے کی تربیت دی جاتی ہے اور بنیادی حیوانی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں، مثلاً غرانا بھونکنا، چار ٹانگوں پر چلنا، ٹانگ اٹھا کر کھمبے کو سیراب کرنا وغیرہ۔ انسان سے کتا بننے کا عمل کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس میں بھی بہت زیادہ محنت پڑتی ہے۔
”کلب ماہیت“ کا ایک واقعہ پاکستان کے شہر شیخوپورہ میں بھی پیش آیا ہے۔ ساتویں جماعت کے ایک لڑکے کو یہ احساس ستانے لگا کہ وہ انسان نہیں، ایک کتا ہے۔ راستے میں پڑی ہوئی ہڈیاں دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آنے لگا اور تنہائیوں میں وہ اتنی مہارت سے آواز سگاں کی نقالی کرنے لگا کہ محلے کے کتے بھی بھونک اٹھے : شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو۔ اس کے علاوہ صنف نازک یعنی مادۂ سگ کو دیکھ کر اس کے دل میں رومانوی جذبات بھی پیدا ہونے لگے۔ ایک روز اس نے اپنے والد صاحب کو اعتماد میں لیا اور ان پراسرار کیفیات کا ذکر کیا۔ والد صاحب نے ہمدردی سے اس کی بات سنی، رنجیدہ ہو کر نیچے جھکے اور پاؤں سے اپنی چپل اتاری۔ پانچ منٹ بعد وہ ’کتا‘ ہمیشہ کے لیے دوبارہ لڑکا بن چکا تھا۔
ہمارا خیال ہے کہ علاج کا یہ طریقہ جو صدیوں سے ہمارے ہاں رائج ہے اور جسے ’علاج بالعمل‘ کا نام دیا جا سکتا ہے، یورپ میں بھی متعارف کرانا چاہیے۔

