اسرائیل حماس جنگ سے دنیا حیران
سات اکتوبر 2023 ہفتے کا دن اور حماس کے غیر متوقع طور پر کامیاب ترین حملے ساری دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھے۔ صرف دو دن میں دونوں جانب کے سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے تھے۔ اور اب غزہ کی پٹی اسرائیل کے مزید شدید حملوں کی زد میں ہے۔
لیکن آگے بات کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی اور حماس کے بارے میں کچھ تفصیل بتا دی جائے۔
غزہ کا علاقہ بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع ہے جسے عربی میں قطاع غزہ اور اردو میں غزہ کی پٹی کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل دولت فلسطین یا فلسطینی ریاست کا ایک حصہ ہے جس پر تحریک آزادی فلسطین حکومت کرنے کی دعوے دار ہے۔ فلسطینی ریاست میں دریائے اردن کا مغربی کنارہ بشمول مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی شامل ہونے ہیں۔ مگر عملی طور پر تمام علاقے اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
گو کہ وہ جنگ صرف چھ دن چلی تھی اس کے نتیجے میں اردن، شام اور مصر کے بڑے علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ 1993 سے 1995 تک ہونے والے اوسلو مذاکرات کے بعد دریائے اردن کے مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ایک طرف فلسطینیوں کی 165 آبادیاں تھی جنہیں فلسطینی نیشنل اتھارٹی یا سلطنت الوطنیہ فلسطینیہ کہا گیا۔
اس پر تحریک آزادی فلسطین جسے فتح کا نام دیا گیا حکومت کرتی ہے۔ فتح فلسطینی قوم پرست جماعت ہے جو جو تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کا ایک دھڑا ہے جس کی سربراہی محمود عباس کر رہے ہیں۔ فتح کی قیادت 2004 میں یاسر عرفات کی وفات تک ان کے پاس رہی پھر اگلے پانچ سال 2009 تک فاروق القدمی فتح کی مرکزی کمیٹی کے سربراہ رہے۔ جس کے بعد محمود عباس نے فتح کی قیادت سنبھالی۔
2006 کے انتخاب میں حماس نے فتح کو شکست دی جس سے فتح اور حماس میں تنازع ہوا اور مغربی کنارے پر فتح اقتدار میں آئی جب کہ غزہ کی پٹی پر حماس قابض ہو گئی۔ گو کہ محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی اب بھی غزہ پر اقتدار حاصل کرنے کی دعوے دار ہے۔ 2013 کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی نے اپنے لیے فلسطینی ریاست کے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں گو کہ اقوام متحدہ اب بھی تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کرتی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے قیام میں غزہ جریکو معاہدے نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اوسلو معاہدے کے بعد ہوا اور جس کو 1994 کا قاہرہ معاہدہ بھی کہا جاتا ہے جس پر یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن نے دستخط کیے تھے۔ اس کی روح سے فلسطینیوں کو محدود خود مختاری دے دی گئی تھی اور مغربی کنارے کے علاوہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجیں ہٹانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس کے باوجود اسرائیل نے وادی اردن اور دیگر اسرائیلی مقبوضہ علاقوں کے ساتھ تمام رابطے کی سڑکوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا جس سے فلسطینی علاقے ایک طرح کی بڑی جیل یا زندان میں تبدیل ہو گئے جہاں لاکھوں لوگ اسرائیل کی مرضی کے بغیر آ جا نہیں سکتے۔
پھر اسرائیل کے یہودی آباد کاروں کے لیے نئی بستیاں آباد کرنا شروع کیں جن کے لیے سینکڑوں فلسطینی دیہات پر زبردستی قبضے کر کے ان کے مکانات اور باغات تباہ کر دیے گئے اور یہ سلسلہ عشروں سے جاری ہے۔ اس طرح اسرائیل کی یہودی آبادیاں گولان کی پہاڑیوں، مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر پھیلتی چلی گئیں۔ گولان کی پہاڑیاں شام سے چھین کر حاصل کی گئیں تھیں جب کہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کو اردن سے چھین کر ہتھیا لیا گیا تھا۔
ان سب کارروائیوں پر بین الاقوامی برادری ہلکا پھلکا احتجاج کرتی رہی لیکن مجموعی طور پر اسرائیل کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی جس سے اسرائیل کو موقع ملتا گیا کہ وہ نا صرف مقبوضہ علاقے آباد کرتا رہے بل کہ فلسطینی عوام کو اپنے تشدد کا نشانہ بھی بناتا رہے جس سے ہر سال سینکڑوں فلسطینی قتل کیے جاتے رہے اس پر عالمی برادری اور عالم اسلام نے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔
اب غزہ کی پٹی کی بات کی جائے تو اس کی سرحد جنوب مغرب میں مصر کے ساتھ گیارہ کلومیٹر طویل ہے جب کہ مشرق میں پچاس کلومیٹر طویل سرحد اسرائیل کے ساتھ ہے یعنی غزہ کی پٹی کوئی دس کلومیٹر چوڑی اور پچاس کلومیٹر لمبی ہے جس پر 2006 سے حماس کا قبضہ ہے مگر غزہ مکمل طور پر اسرائیل کے محاصرے میں ہے۔
اس چھوٹے سے علاقے میں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے اور یہاں پانی، بجلی اور دواؤں کی مستقل قلت رہتی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی درجنوں عالمی تنظیمیں مسلسل اسرائیل سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کے محاصرے کو کھول دے مگر اسرائیل نے فلسطینی آبادی کو مسلسل شدید پریشان کن حالات میں رکھا ہوا ہے۔
اس دوران میں حماس اور فتح آپس میں بھی لڑتے رہے اور حماس نے تقریباً تمام فتح کے حمایت کرنے والوں کو غزہ سے نکال دیا۔
دو ہزار سات سے قبل تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ غزہ کے فلسطینی اسرائیل میں کام کرتے تھے مگر پھر حماس کے غزہ پر قبضے کے بعد اسرائیل نے ان کے اجازت نامے جاری کرنا بند کر دیے جس سے غزہ میں بیروزگاری بڑے پیمانے پر پھیل گئی اور وہاں کے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور اسرائیلی اجازت ناموں پر کام کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی۔
فتح کے مقابلے میں حماس کو ایک بنیاد پرست جماعت سمجھا جاتا ہے جس کی سماجی خدمات کی ذیلی تنظیم دعوہ کہلاتی ہے جب کہ کتائب القسام یا القسام برگیڈ حماس کا عسکری ونگ ہے۔ حماس خود ایک لفظ نہیں تھا بل کہ یہ حرکت مقاومت اسلامیہ یعنی اسلامی مزاحمت کی تحریک کے ابتدائی حروف کو ملا کر بنایا گیا۔ حماس کی تشکیل 1987 میں ہوئی تھی جب کہ اس کا عسکری ونگ 1991 میں قائم کیا گیا۔
یورپی یونین کے علاوہ مغربی ممالک حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں اور خاص طور پر القسام تو اسرائیل کا مسلسل ہدف رہی ہے۔ حماس کے رہ نما ساٹھ سالہ اسماعیل ہانیہ ہیں جو 2006 سے 2014 تک فلسطینی قومی اتھارٹی کے وزیراعظم بھی رہے جب کہ صدر محمود عباس تھے۔
اب جو تازہ ترین حملے حماس نے اسرائیل پر کیے ہیں ان میں ہزاروں راکٹ اسرائیل کی سرزمین پر داغے گئے ہیں اور حماس کے عسکریت پسند مختلف ذرائع اور راستوں سے اسرائیل میں داخل ہوئے۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اسرائیلی دفاعی حصار کو توڑ کر حماس کے جنگجو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے علاوہ پیرا گلائیڈر کے ذریعے فضا سے اور کشتیوں کے ذریعے بحری راستے سے اسرائیل میں داخل ہوئے۔
گو کہ اب فلسطین کی عسکری تنظیم کو الزام دیا جاتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سب سے پہلے یہودیوں کی صیہونی تنظیموں نے عسکری گروہ قائم کیے تھے جو تقریباً سو سال سے اس علاقے میں کارروائی کر رہے ہیں لیکن ان صیہونی کارروائیوں میں 1948 کے بعد شدید اضافہ ہوا کیوں کہ جب برطانیہ اور فرانس نے مشرق وسطیٰ کو تقسیم کیا تو اس کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل کی مصنوعی ریاست کے قیام میں نکلا۔
1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ٹکڑوں میں توڑ کر عرب اور یہودی ریاستوں کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ظاہر ہے کہ فلسطینیوں کی حق تلفی تھی۔
اسرائیل اب بھی عزب اردن پر قابض ہے جب کہ اس نے غزہ سے 2005 میں فوجیں نکال لی تھیں۔ اسرائیل نے پوری ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کر رکھا ہے جب کہ فلسطینی دعوا کرتے ہیں کہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے۔
یاد رہے کہ عزب اردن اور غزہ کی پٹی کے درمیان صرف 45 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جس پر اسرائیل کے قبضے نے فلسطین کو توڑ دیا۔ عزب اردن کے علاقے میں 86 فی صد فلسطینی اور صرف 14 فی صد اسرائیلی ہیں جو پچھلے پچاس سال میں مختلف نئی بستیوں میں آباد کیے گئے ہیں۔ گزشتہ بیس سال میں ان نئی بستیوں کی تعداد میں خاصا اضافہ کیا گیا ہے جس سے فلسطینی ناراض اور نالاں رہتے ہیں۔
کیوں کہ ان یہودی بستیوں میں تمام جدید سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں جب کہ فلسطینی علاقے زیادہ تر بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔
اس سب کے نتیجے میں حماس اسرائیل پر مزائل داغتا ہے اور جوابی کارروائی میں سینکڑوں فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایران حماس کو حمایت فراہم کرتا ہے اور ایران پر الزام ہے کہ وہ حماس کو ہتھیار اور عسکری تربیت بھی دیتا ہے۔
اب تازہ ترین لڑائی کے پس منظر میں یہ بات ہے کہ مستقل تناؤ ناقابل برداشت ہو گیا ہے اور غزہ میں آباد فلسطینیوں کے پاس اب غالباً جنگ کے سوائے کوئی متبادل نہیں رہ گیا تھا۔ اب تازہ حملے جنوبی اسرائیل میں ہوئے ہیں جن میں اسرائیلی فوج کے ساتھ براہ راست لڑائی بھی ہوئی ہے۔
مسلح جھڑپوں کے بعد اسرائیل کی کئی فوجی چوکیاں تباہ کردی گئیں اور متعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو جنگی قیدی بنانے کا دعوا کیا ہے جن میں کچھ اعلی عہدے دار بھی شامل ہیں۔
جواب میں اسرائیل نے جو اندھا دھند حملے کیے ان میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ میں درجنوں مقامات کو اسرائیلی طیاروں نے بم باری باری کا نشانہ بنایا ہے جن میں غزہ شہر کے مرکز میں ایک گیارہ منزلہ عمارت بھی شامل ہے جسے بم باری کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔ حماس نے اس حملے کے بعد مزید سینکڑوں راکٹ اسرائیلی علاقے پر داغے ہیں۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو جو 74 سال کے ہیں مجموعی طور پر سولہ سال سے زیادہ عرصہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور تین بار یہ عہدہ سنبھال چکے ہیں۔ پہلی بار 1996 سے 1999 تک اور پھر دوسری بار 2009 سے 2021 تک مسلسل بارہ سال وزیراعظم رہے اور پھر ایک سال کے وقفے کے بعد 2022 میں پھر یہ عہدہ سنبھال لیا۔
یہ ایک الگ اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں اور انہوں نے عزب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر خاص دلچسپی لی ہے۔
ان نئی یہودی بستیوں کے گرد سیکورٹی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں جن سے قیام امن کی کوششوں کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔
ویسے تو عالمی برادری اسرائیل کے یروشلم پر مکمل دعوے کو تسلیم نہیں کرتی لیکن پھر بھی اسرائیل اسے ہی اپنا دارالحکومت بنانے کا دعوے دار ہے جب کہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے پر راضی ہوچکے ہیں لیکن اسرائیل اپنی ضد سے تیار نہیں ہے اس لیے اس مسئلے کا ذمہ دار بنیادی طور پر اسرائیل ہی ہے کیوں کہ اس نے عزب اردن اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کر دیے ہیں۔
یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ فلسطینی تارکین وطن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ بتائی جاتی ہے لیکن صرف پچاس لاکھ اقوام متحدہ کے پاس اندراج کرا چکے ہیں۔ لیکن اسرائیل خود تو دنیا بھر سے ایسے یہودیوں کو لاکر مقبوضہ علاقوں میں آباد کر رہا ہے جنہوں نے کبھی اس علاقے میں قدم نہیں رکھا لیکن دوسری طرف اسی علاقے کے اصل باشندوں کو واپس آنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہے کیوں کہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس کی شناخت خطرے میں پڑ جائے گی۔
اب بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسرائیل اپنی ماضی پر عمل کرتے ہوئے شدید جوابی ردعمل کا اظہار کرے گا اور ممکن ہے کہ چند سو اسرائیلی اموات کے مقابلے میں فلسطینی اموات ہزاروں سے تجاوز کر جائیں۔ اس مسئلے کا حل تو یہی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے حق کو تسلیم کرے اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرے جس سے تنگ آ کر حماس نے اتنے بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ساتھ ہی عزب اردن اور مشرقی یروشلم میں جگہ جگہ فوجی چوکیاں اور رکاوٹیں کرنا ہوں گی جن سے فلسطینیوں کو بار بار گزرنا پڑتا ہے۔
ان مسائل کا حل تشدد ہرگز نہیں ہے کیوں کہ حماس کے ہر حملے کے بعد صورت حال مزید خراب ہوجاتی ہے اور مزید فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اب اسرائیلی فضائیہ نے جو حماس کے انٹیلی جنس کے سربراہ کی عمارت کو نشانہ بنایا ہے تو اس سے حماس کا خاصا نقصان ہو گا۔ اسرائیلی اندھا دھند حملوں بعد غزہ کے شہری اپنے رہائشی علاقوں میں شدید خوف کا شکار ہیں کیوں کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور اپنے زندان میں ہی اسرائیلی ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔
حماس نے اپنے حملوں کو ”طوفان اقصی“ کا نام دیا ہے جس میں سرحدی علاقوں پر حملوں کے بعد یہودیوں کو گھروں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر غزہ منتقل کر دیا گیا۔
یہ بات تو اب حقیقت کی صورت میں سامنے آ چکی ہے کہ اسرائیلی ناقابل تسخیر یا ناقابل شکست ہونے کا تاثر بڑی حد تک زائل ہو چکا ہے لیکن اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ کئی عرب ممالک اپنی افواج کو استعمال کر کے اسرائیل کو جھکانے کی کوشش کرچکے ہیں جو ناکام رہی ہیں اس لیے حماس اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ ان حملوں سے کوئی حتمی فائدہ حاصل کر کے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے تو یہ خام خیالی ہوگی۔
وقتی طور پر اسرائیل ایک بڑے جھٹکے سے ضرور دوچار ہوا ہے جیسا کہ ٹھیک پچاس سال قبل 1973 میں شام اور مصر نے عرب اسرائیل جنگ شروع کر کے ابتدائی کامیابیاں حاصل کیں لیکن جلد ہی اسرائیل نے ان ابتدائی نقصانات کے باوجود اپنے مقبوضہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور عربوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔ اسرائیل کی پشت پر امریکا ایک بڑا سہارا ہے جو مسلسل اسرائیل کی مدد کرتا ہے اور اب تو بھارت بھی اسرائیل کا حامی ہے۔
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا کیوں کہ خود اسرائیل کے بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارت پر کبھی تنقید نہیں کی۔ بھارت میں ماضی کی کانگریس حکومتوں نے ہمیشہ اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینیوں کا ساتھ دیا مگر اب بی جے پی اسرائیل کے ساتھ ہے۔
خود بھارت میں مودی کی جانب سے اسرائیل کی حمایت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ اس سے قبل خود بی جے پی کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا موقف تھا کہ اسرائیل نے فلسطین کی جس زمین پر قبضہ کیا ہے وہ اسے خالی کرنا پڑے گی۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا میں جو نظریہ پیش کیا گیا اسے ”تہذیبوں کا تصادم“ کہا گیا یعنی اب جنگ طبقاتی نہیں بل کہ تہذیبی ہوگی۔
پچھلے تین سال میں اسی نظریے کے تحت دنیا بھر میں مذہبی منافرت کو مزید ہوا دی گئی جس میں اسرائیل امریکا اور دیگر مغربی سرمایہ دار ممالک نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس طرح اب سرمایہ دار طاقتیں لوگوں کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر مذہبی اور تہذیبی منافرت کو پروان چڑھاتی رہی ہیں اور لگتا ہے کہ یہ جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے


