راہل سانکرتیاین، قرۃ العین حیدر اور اسامہ صدیق


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

کیا عجب نہیں کہ ہم نے پہلے اسامہ صدیق کے اس ناول کا مطالعہ کر ڈالا جو بعد میں منظر عام پر آیا یعنی ’غروب شہر کا وقت‘ اور بعد میں پہلے ناول ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں۔ ‘ لیکن اچھا ہی ہوا جو اس ترتیب سے ہم نے دونوں ناول ہی نبٹا ڈالے۔ ’غروب شہر کا وقت‘ کو لے کر ہمارے اسامہ صدیق کے بارے میں تاثرات ملے جلے تھے لیکن ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘ نے ہماری رائے کو یکسر بدل دیا ہے۔ ہم نے ’غروب شہر کا وقت‘ پر بھی رائے پوری ایمان داری سے دی تھی اور اب اس ناول پر بھی ہم وہی رویہ اپنائیں گے۔

اس وقت میرے ہاتھوں میں ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘ ناول کا دوسرا ایڈیشن ہے جو ستمبر 2023 ء میں شائع ہوا ہے جب کہ پہلا اردو ایڈیشن مئی 2021 ء میں شائع ہوا تھا۔ لیکن بات یہاں سے شروع نہیں ہوتی بلکہ یہ ناول 2017 ء میں پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا سے ’Snuffing out the Moon‘ کے نام سے پہلی بار انگریزی زبان میں شائع ہوا تھا اور انگریزی خواں قارئین میں خاصی شہرت پائی تھی۔ پھر مصنف کو سوجھا کہ کیوں نہ اسے اردو زبان کے قارئین تک بھی رسائی دے دی جائے تو انہوں نے اسے اردو میں ڈھالنے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ حالاں کہ مصنف خود بھی ترجمہ کے فرائض بخوبی انجام دے سکتے تھے لیکن انہوں نے بہتر جانا کہ کیوں نہ کسی ماہر مترجم کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس طرح ناول کو اردو میں ڈھالنے کی خدمات عاصم بخشی نے انجام دیں۔

ناول کے اردو ترجمے کے لیے عنوان ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں‘ فیض احمد فیض کی نظم ’زندان کی ایک شام‘ کا آخری مصرع ہے۔ ناول 448 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا حصہ کتاب سیراب ہے، دوسرا کتاب شگون ہے، تیسرا کتاب سوز ہے، چوتھا کتاب نفرت ہے اور پانچواں کتاب انحراف ہے۔ ناول اس خطہ (پنجاب و سندھ) کے چھ ادوار میں منقسم ہے اور انہیں چھ ادوار میں سے ہی مصنف نے اپنے بہترین تخیل کی مدد سے چھ کہانیاں بنی ہیں۔ یہ ناول ماضی، حال اور مستقبل کی تاریخی، سماجی و ثقافتی تثلیث ہے۔ ناول کی کہانیاں، جگہیں اور کردار تو مختلف ہیں لیکن ان سب میں پیام ایک ہی ہے۔ ناول 2084 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے اور 455 عیسوی، 1620 عیسوی، 1857 عیسوی اور 2009 عیسوی سے ہوتا ہوا 2084 عیسوی تک جا پہنچتا ہے۔

پہلے دور کی کہانی موہنجو داڑو شہر سے پنپتی ہے جو وادی سندھ کی تہذیب کا مرکز اور اس وقت کا جدید ترین شہر تھا۔ یہ 2084 ء قبل مسیح کا زمانہ ہے جب ایک نوجوان ’پرکا‘ پجاریوں کے سماج پر بڑھتے اثر و رسوخ پر تحفظات کا شکار ہے۔ ’پرکا‘ کے اشرافیہ اور مذہب کے محافظوں بارے عجیب خیالات کی وجہ سے لوگ اسے دیوانہ قرار دیتے ہیں لیکن ’پرکا‘ حالات و واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ انہیں مستقبل میں رونما ہونے والی تباہ کاریوں کے بارے میں متنبہ کرتا ہے۔ ناول کا دوسرا اہم کردار رقاصہ ’استھوئی‘ کا ہے جس سے ’پرکا‘ محبت کرتا ہے۔

دوسری کہانی گندھارا کی راج دھانی ٹیکسلا میں 455 ء کے لگ بھگ پروان چڑھتی ہے۔ یہ ٹیکسلا جیسے عظیم شہر کے زوال کی کہانی ہے۔ اس کہانی کے مرکزی کردار بدھ گرو اور اس کا شکشک آنند ہیں۔ بدھ گرو پریشان ہے کہ کس طرح بدھ راہب اصل پیغام چھوڑ کر ریاکار بن گئے ہیں اور انہوں نے دنیاوی لذتوں کو قبول کر لیا ہے۔

تیسری کہانی صوبہ لاہور کی ہے۔ یہ 1620 ء کا زمانہ ہے جب یہاں عظیم مغل شہنشاہ جہانگیر کی حکومت ہے۔ اس کہانی کے اہم کردار من موہن، سکندر ثانی اور مرزا فرشتہ بیگ ہیں۔ یہ تینوں بہروپیے اور ٹھگ ہیں۔ یہ اشرافیہ کو دھوکہ دینے کی کوشش میں دھر لیے جاتے ہیں۔

مصنف نے چوتھی کہانی کے تانے بانے مغلیہ سلطنت کے خاتمے اور برطانوی راج کے قائم ہو جانے سے ملائے ہیں۔ یہ 1857 ء کا زمانہ ہے جب انگریز بغاوت میں حصہ لینے والوں کو سر عام سزائیں دے رہے ہوتے ہیں۔

پانچویں کہانی موجودہ پاکستان کی ہے جب 2009 ء میں ایک بیوہ خاتون رفعیہ بیگم اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان کے پیچیدہ نظام قانون اور بے حس معاشرت پر نوحہ کناں ہے۔

ناول کی چھٹی اور آخری کہانی میں مصنف نے مستقبل میں پرواز بھری ہے اور وہ قلعہ روہتاس کیمپ 2084 ء میں جا پہنچتا ہے۔ یہاں مصنف نے مستقبل کی بدلتی صورت حال کی منظر کشی کے ساتھ ساتھ آبی تنازعات کی عکاسی بھی کر ڈالی ہے۔ اس کہانی میں انسان نے نت نئی ایجادات سے ترقی کی منازل تو طے کر لیں ہیں لیکن وہ پینے کے پانی کے لیے محتاج بھی ہیں جس کی وجہ سے آبی جنگوں کا آغاز ہوتا ہے۔

اسامہ صدیق کئی زمانوں کو ایک ہی تصنیف میں پرونے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ چاہے ماضی کو بیان کریں اور اس دور کے ریاکاروں کی داستان قلم کر ڈالیں یا حال کی ستم ظریفیوں پر نوحہ کناں ہو جائیں یا پھر مستقبل میں جا کودیں اور ٹکنالوجی کا احاطہ کرنے لگیں ان کا پیغام ایک ہی ہے اور ان کا تخیل شان دار ہے۔ وہ جب منظر کشی کرتے ہوئے تصورات میں پیدا شدہ خاکوں کو الفاظ میں ڈھالتے ہیں تو قاری انہیں الفاظ کی مدد سے وہی تصویر پا لیتا ہے جو وہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ جمالیاتی حس میں بھی اپنا الگ سا مزاج رکھتے ہیں اور تاریخ سے واقفیت ان کے انداز فکشن کو سلیقہ مند بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کردار نگاری پر خاصی توجہ مرکوز کی ہے اور ہر کہانی کا کردار منفرد ہے اور جس دور میں جس کردار کو پیش کیا ہے اسے ویسا ہی بھیس دیا ہے۔

ناول کے پلاٹ پر بات کریں تو یہ راہل سانکرتیاین کے ناول ’والگا سے گنگا‘ اور قرۃالعین حیدر کے ناول ’آگ کا دریا‘ سے متاثر ہے جو بہرحال پیچیدہ مگر مربوط ہے۔ ’والگا سے گنگا‘ چار ہزار سال پر محیط سفر کی ایسی داستان ہے جس میں کہانیاں تو مختلف ہیں لیکن پلاٹ ربط میں ہے۔ اس ناول کا آغاز والگا کنارے آباد وحشی قبائل کے ایک خاندان کی کہانی ’نشا‘ سے ہوتا ہے اور بیسویں کہانی ’سوویر‘ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اسی طرح ’آگ کا دریا‘ کو اردو ادب میں انوکھی ساخت کا ناول گردانا جاتا ہے جس کی کہانی ڈھائی ہزار سال پر محیط ہے جو بیسویں صدی کے نصف میں آ کر رکتی ہے۔ ناول چار ادوار میں منقسم ہے۔ پہلا دور چار سو سال قبل مسیح میں چندر گپت موریا کا زمانہ ہے، دوسرا دور لودھی سلطنت کے خاتمے اور مغلوں کی آمد پر مبنی ہے، ناول کا تیسرا دور ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانہ کا ہے اور چوتھا ہندوستان کی تقسیم کے سیاسی و سماجی واقعات عکاسی کرتا ہے۔

بہرحال اسامہ صدیق کے پاس چونکہ تاریخ سے متعلق وسیع مواد موجود ہے اور انہیں وہ تکنیک بھی حاصل ہے جو ایک ماہر ادیب کو درکار ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے بھی اسی مشکل زمین پر چلنا مناسب سمجھا جہاں راہل سانکرتیاین اور قرۃالعین حیدر اپنے فن کے جوہر دکھلا چکے ہیں۔ لوگ اس کام پر تنقید بھی کریں گے اور صنف پر اعتراض بھی اٹھائیں گے لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’آگ کا دریا‘ کو بھی ناقدین نے آڑے ہاتھوں لیا تھا لیکن فنی لحاظ سے آج بھی اس ناول کے گن گنوائے جاتے ہیں۔ اسامہ صدیق اس شان دار ادب پارہ کو خلق کرنے پر داد کے مستحق ہیں اور ان کے مطالعہ کی وسعت قاری کو ایک ہی تصنیف میں تمام تر عرق ریزی مہیا کر دیتی ہے۔

Facebook Comments HS