تقدیر، تدبیر اور شمشیر
1920 تک فلسطین ترکی کی خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ 1921 سے 1948 تک یہ علاقہ برطانیہ کی عملداری میں رہا۔ دوسری جنگ عظیم میں یورپ میں جب ہٹلر نے یہودیوں پر ظلم ڈھانے شروع کیے تو یہودی برطانیہ اور امریکہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ برطانیہ نے اپنے امیگریشن کے قوانین سخت کر دیے اور یہودی مہاجروں کا رخ فلسطین کی سرزمین کی طرف موڑ دیا۔ 1948 تک یہاں 7 لاکھ یہودی آباد ہو چکے تھے لیکن فلسطینی مسلمان پھر بھی اکثریت میں تھے اور ان کی تعداد لگ بھگ 9 لاکھ تھی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی استعمار بہت کمزور ہو چکا تھا اور وہ اپنی تمام نو آبادیات سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی سازشی فطرت کے عین مطابق فلسطین کی تقسیم کی راہیں بھی ہموار کر دی تھیں اور 1948 میں باقاعدہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فلسطین کی سر زمین پر یہودی مملکت اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ فلسطین کے پڑوسی 5 عرب ممالک نے اس تقسیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان پانچ عرب ممالک میں مصر، شام، لبنان، عراق اور اردن شامل تھے۔
ان پانچوں ممالک نے مقامی فلسطینوں کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ عرب ممالک کی طرف سے بغیر کسی پیشگی تیاری کے کیا گیا۔ جو قوتیں اسرائیل کے قیام کے اعلان میں مددگار تھیں ان کو اس قسم کے رد عمل کا بخوبی اندازہ تھا۔ انہوں نے کھل کر نوزائیدہ مملکت اسرائیل کا ساتھ دیا فلسطین کے مقامی یہودیوں نے بھی ایک نیم فوجی دہشتگرد تنظیم بنائی ہوئی تھی جس کا نام ہگانہ تھا۔ جو 1920 سے اسرائیل کے قیام کی تیاری کر رہی تھی ہگانہ کے جنگجوؤں کو اس وقت کے یورپی ممالک اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے تھے اور دوسری جنگ عظیم میں ہگانہ کی تربیت یافتہ جنگجوؤں نے برطانیہ کی طرف سے شمالی افریقہ کے محاذوں پر جنگ لڑی تھی اور یہ برطانوی فوج میں یہودی برگیڈ کے نام سے جانے جاتے تھے۔
عرب ممالک جو خود نئے نئے آزاد ہوئے تھے اپنی تربیت یافتہ فوجیں نہیں رکھتے تھے نتیجتاً اسرائیل کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوئی اور اسرائیل حکومت نے فلسطینیوں پر پوری قوت سے ظلم ڈھانے شروع کر دیے تقریباً ساڑھے سات لاکھ فلسطینی پڑوسی عرب ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیے گئے۔ وہ یہ فلسطینی تھے جنہیں اسرائیلی شہری بننا تھا۔ اس طرح آبادی کا توازن یہودیوں / اسرائیلیوں کے حق میں ہو گیا۔ نئے علاقائی وجود میں صرف ایک لاکھ 56 ہزار فلسطینی مسلمان رہ گئے اور اس علاقے میں اس وقت 7 لاکھ یہودی رہ رہے تھے۔
1948 میں عربوں اور فلسطینوں کی شکست کے بعد نوزائیدہ مملکت اسرائیل کے کارپردازوں اور اس کی حمایت کرنے والے ممالک جس میں امریکہ اور یورپ کے ممالک پیش پیش تھے۔ امید کر رہے تھے کہ اسرائیلی مملکت اب کچھ سکون کا سانس لے سکے گی۔ لیکن عرب لیگ نے واضح طور پر یہ اعلان کر دیا کہ ہم اسرائیل کا وجود فلسطینی سرزمین پر برداشت نہیں کریں گے اور اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ تقریباً 20 سال بعد 1967 میں عرب ممالک نے مل کر جس میں مصر، شام اور اردن جن کی سرحدیں اسرائیل سے ملتی تھیں، اسرائیل پر حملہ کر دیا اس جنگ کا نتیجہ بھی عرب ممالک کی امیدوں کے خلاف نکلا مصر کے علاقے صحرائے سینا، شام میں واقع گولان کی پہاڑیاں اور دریائے اردن کا مغربی کنارہ جس میں تاریخی شہر اور مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس / یروشلم بھی شامل تھا، اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔ اسرائیل نے تقریباً 26 ہزار اسکوائر کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل جغرافیائی اور آبادی کے توازن کے حساب سے بہت مستحکم ملک بن گیا۔
جبکہ اس کو یورپی ممالک اور امریکہ کی ہر طرح سے مدد بھی حاصل تھی۔ جنگ بندی کے بعد معاملہ حسب روایت اقوام متحدہ میں پہنچا اور وہاں عرب ممالک نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی فوجیں 1967 کی جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جائیں اور عرب ممالک کے ہتھیائے ہوئے علاقے فی الفور خالی کر دیں۔ اسرائیل نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اس حد تک ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا کہ تل ابیب کی جگہ مقبوضہ بیت المقدس/ یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنا لیا۔
جوابی کارروائی کے طور پر فلسطینیوں نے اپنی مختلف حریت پسند مسلح تنظیمیں بنانا شروع کر دیں جس میں سب سے نمایاں نام یاسر عرفات کی تنظیم ”الفتح“ کا ہے۔ فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کے ساتھ گوریلا جنگ شروع کردی اور اسرائیلی حکومت کو ایک دن بھی سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ آخر کار 1993 میں الفتح اور اسرائیل کے در میان مذاکرات شروع ہوئے، دونوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کر لیا۔ 13 ستمبر 1993 کو الفتح کے سربراہ یاسر عرفات، اسرائیل کے وزیر اعظم اسحاق رابن نے امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں واشنگٹن، ڈی سی میں فلسطینیوں کی خود مختاری کے اصولوں کے اعلامیے پر دستخط کر دیے، اسرائیل/پی ایل او معاہدے کو اوسلو معاہدہ بھی کہا جاتا ہے، اس معاہدے میں یہ طے پایا کہ اگلے پانچ سال میں غزہ کی پٹی کو اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کو مرحلہ وار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیا جائے گا اور پانچ سال بعد ان علاقوں میں مکمل طور پر ایک آزاد فلسطینی مملکت قائم کر دی جائے گی۔ اگلے سال عرفات غزہ کی پٹی واپس آئے اور فلسطینیوں کی خود مختاری کو نافذ کرنا شروع کیا۔ لیکن نومبر 1995 میں ایک یہودی انتہا پسند کے ہاتھوں اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن کے قتل اور مئی 1996 میں بنجمن نیتن یاہو کے انتخاب کے ساتھ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔
نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی بلکہ 1993 اور 2000 کے درمیان اسرائیل نے مغربی کنارے پر تقریبا ایک لاکھ مزید یہودی آباد کاروں کی بستیاں تعمیر کر دیں جس نے فلسطینیوں میں زبردست بے چینی پیدا کی اور حماس کو مضبوط کیا۔ اکتوبر 2004 میں عرفات بیمار ہو گئے اور انہیں طبی علاج کے لیے پیرس لے جایا گیا، جہاں اگلے مہینے ان کا انتقال ہو گیا۔ الفتح نے بعد میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں عرفات کی موت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا گیا۔
اسحاق رابن اور یاسر عرفات کی بے وقت اموات کو تقدیر کا کھیل کہا جائے یا سازشوں کا شاخسانہ بہر حال اس کے بعد حماس اور حزب اللہ مضبوط ہوتی چلی گئیں۔ غزہ کی پٹی پر الفتح کی جگہ حماس کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ 2005 سے اسرائیل کی حرکتوں کی وجہ سے، غزہ کی پٹی کو اوپن ائر قید خانہ کہا جا رہا ہے کیونکہ اسرائیل نے اس کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے 20 لاکھ فلسطینی یہاں سے نکل ہی نہیں سکتے۔ پانی بجلی اور دوسری ضروریات اسرائیل سے آتی ہیں۔
وہ جب چاہتا ہے ان چیزوں پر پابندی عائد کر دیتا ہے 2008 سے لے کر اب تک اسرائیل کے ہاتھوں ڈیڑھ لاکھ فلسطینی مار دیے گئے یا زخمی ہوئے۔ ان میں 33 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ غزہ کی پٹی بحر روم کا ساحلی علاقہ ہے لیکن فلسطینی اس سمندر کو بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اس تازہ حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے لیے بجلی، پانی اور ہر طرح کے سامان کی رسد بند کردی ہے اور ہوائی جہازوں سے بمباری بھی شروع کر دی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق، حماس نے اسرائیل پر حالیہ حملہ کیا۔ لیکن فلسطین کی تاریخ یہ ہی بتاتی ہے کہ ہر جنگ میں اور جنگ کے بعد فلسطینیوں اور عربوں کا ہی نقصان ہوا ہے اور اب بھی اس سرزمین پر ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ میرا خیال ہے شمشیر بھی تدبیر کے ساتھ اٹھائی جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ بہر حال دنیا نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تازہ رابطوں کے بعد ، مشرق وسطی میں امن کی جو امیدیں باندھی تھیں وہ ایک بار پھر معدوم ہوتی نظر آ رہی ہیں۔


