ادویات کی قیمتوں اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں بھی ہوشربا اضافہ


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن صحت کو جسمانی، نفسیاتی اور سماجی بہبود کی حالت کے طور پر بیان کرتی ہے۔ اس تعریف کے مطابق ڈاکٹر نہ صرف بیماریوں کے علاج کے ذمہ دار ہیں بلکہ مریضوں کی سماجی اور نفسیاتی بہبود کا بھی خیال رکھتے ہیں، جس میں غربت کے خاتمے میں مدد بھی شامل ہے۔ مگر شومئی قسمت کہ ہمارے ڈاکٹروں نے اس پیشے کو اپنی ذاتی منفعت کا مقصد بنا لیا ہے جو انسانی اصولوں کے خلاف ہے اور دنیا کا کوئی مذہب یا پھر انسانیت اس کی اجازت نہیں دیتی۔

عوام کے لیے کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں بھی ہوشرباء اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد عوام کے لیے علاج کروانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے چوتھے ماہ میں ادویات کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اکتوبر میں میڈیکل ٹیسٹ اور ڈاکٹر کی فیسوں میں بھی دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک ڈاکٹر پانچ سات لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کو کہتا ہے ان ٹیسٹس کی فیس دس سے پندرہ ہزار ہے جس میں ڈاکٹر صاحبان کی کمیشن بھی شامل ہوتی ہے اگر کچھ دنوں کے بعد دوسرے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ جائے تو وہ ان ٹیسٹوں کی طرف دیکھتا بھی نہیں دوبارہ سے ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں مریض افورڈ کر سکتا ہو یا نہ مگر جان بچانے کی خاطر یہ کروانے ہی۔ پڑتے ہے بھی یہاں بھی ان سفید کوٹ والوں کو رحم نہیں آتا۔

انسان کی بنیادی ضروریات میں رہائش، خوراک اور صحت شامل ہیں جو کہ ہر ریاست کے شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو یہ سہولت مفت فراہم کرے لیکن ہمارے ملک خداداد میں تو ہمیں بنیادی ضروریات مفت تو دور کی بات ہے رقم ادا کر کے بھی صحیح طرح سے نہیں مل پاتیں پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور جہاں ادویات کی قیمتیں اور ڈاکٹروں کی فیسیں بھی عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں۔

اس پر ستم ظریفی یہ کہ چند نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر حضرات اپنی فیسوں میں اضافہ کر چکے ہیں اس وقت سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے لے کر انتہائی معروف سپیشلسٹ ڈاکٹرز دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک فیس وصول کر رہے ہیں۔ اور یہ مریضوں کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کو مانیٹر کرنے کے لیے کوئی ریگولیٹری اتھارٹی موجود نہیں ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ دوا جیسی چیز کی قیمت کنٹرول کرنے میں حکومت نا کام رہی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں کمی کی جائے۔

دنیا بھر میں غربت میں اضافے کے ساتھ ”سب کے لیے صحت“ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے جہاں لوگ کھانے کے ایک ایک نوالے کو ترستے ہیں اگر وہاں بیماری انہیں گھیر لے تو مرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ دیہاڑی دار، مزدور طبقہ، ٹھیلے والا، رکشہ چلانے والا، کسی آفس میں چوکیدار، ملازم، چپڑاسی یا پھر انتہائی سفید پوش طبقے سے تعلق رکھتا ہے جو اپنے بچوں کے لئے نہ جانے کس طرح دن رات محنت کر کے ان کا پیٹ پالتا ہے۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں 50۔ 35 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے۔ غربت میں لوگوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ، دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی روز بروز بڑھ رہی ہے، جس سے امیر اور غریب لوگوں کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ آمدنی میں زیادہ عدم مساوات والے ممالک میں اموات اور بیماری کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ غریب لوگوں میں اچھی معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی بہت کمی ہے۔ کیونکہ ان کے پاس دوا خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔

ایک اور طریقہ جس سے ڈاکٹر مریضوں کی صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ کرتے ہیں وہ ہے غیر ضروری یا زیادہ مہنگی دوائیں تجویز کر نا۔ ڈاکٹروں کے مہنگی امیجنگ ٹیکنالوجیز کا استعمال بے جا ٹیسٹوں کی بھرمار، ۔ ڈاکٹروں پر دوا ساز کمپنیوں اور نمائندوں کی جانب سے نئی دوائیوں کے بارے میں پیغامات کی بوچھاڑ اور دوا ساز کمپنیوں کا ڈاکٹروں کی عیاشیاں جن میں مہنگے اور لگژری ہوٹلوں پر کھانا کھلانا، حج و عمرے کا لالچ، شمالی علاقہ جات و بیرونی ممالک کی سیر، اپنی پسند کی لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروا کر ان میں اپنا حصہ رکھنا، ان کی لاگت پر غور کیے بغیر یا ہدایات پر عمل پیرا ہو کر مریضوں کی جیب پر ڈاکا ڈالنا اور نئی، مہنگی دوائیوں کی تعداد جو ابھی مارکیٹ میں متعارف کرائی جا رہی ہیں اور پرانی دوائیوں کی جگہ لے رہی ہیں جو بالکل اتنی ہی موثر ہیں اور رہنما خطوط کے ذریعے تجویز کی جاتی ہیں۔ غلط معلومات فراہم کرنے کے اس اس دور میں یہ مسئلہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کی پریکٹس کو بڑھانے کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہیں اور ان ڈاکٹروں کو نئے نئے لالچ دے کر مریضوں کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

تشخیصی لیبارٹریوں سے کمیشن کے عوض مریض کے غیر ضروری ٹیسٹ کروانا اور دوا ساز کمپنیوں سے تحائف اور مال ملنے کے لالچ میں غیر ضروری ادویات تجویز کرنا حرام کی کمائی کے زمرہ میں آتا ہے۔ کئی حاملہ خواتین کو آپریشن تجویز کیا جاتا ہے حالانکہ ان کے ہاں قدرتی زچگی ممکن ہوتی ہے۔ ناجائز اور حرام کی کمائی کے ذریعے دنوں میں۔ اپنے ذاتی ہسپتال تعمیر کر کے مریضوں کی کھال اتارنا روز کا معمول ہے۔

کچھ ڈاکٹر مریضوں کے حق میں ملک الموت سے کم نہیں ہوتے، سماجی طور پر اسباب کے درجہ میں انسان ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی تجویز کی ہوئی، دوا کو آب حیات سمجھ کر پیتے اور کھاتے ہیں۔

ایم بی بی ایس کے نصاب میں طبی اخلاقیات کے حوالے سے تبدیلیاں تجویز کرنی چاہیں جو اس شعبہ کہ اہمیت اور انسانی افکار کی روشنی میں ہوں۔ کونسل کو اپنے فرائض اور قوانین کے نفاذ میں عملی اقدامات کرنے چاہیں۔ پاکستان میں مریضوں کی شکایات پر سخت ایکشن لیتے ہوئے داد رسی اور سزا و جزا کا نظام عملی طور نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہو سکے۔

ہمارے اداروں کو ڈاکٹروں کی اچھی معیار کی تربیت کو فروغ دینے اور ان میں انسانیت کی خدمت اور ان کی دیکھ بھال کی خاص طور پر انہیں انسانیت کا درس دینے اور غریب بیماروں سے پیار اور محبت سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات نہیں پڑھائی جاتیں۔ ایم بی بی ایس کے نصاب میں میڈیکل ایتھکس ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا اور اگر کہیں پڑھایا بھی جاتا ہے تو صرف سرسری سا ذکر کر دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں طبی اخلاقیات باقاعدہ ایک مضمون کی صورت میں تعلیم کا لازمی حصہ ہوتا ہے، پاکستان میں بھی اس موضوع کو میڈیکل کی تعلیم میں ایک سبجیکٹ کی حیثیت سے پڑھانا چاہیے۔ بنیادی طور پر دو ہی علوم ہیں علم الادیان اور علم الابدان۔ اس اعتبار سے طب ایک مقدس پیشہ ہے او ر ہمارے ڈاکٹروں کو اس کا احساس ہونا چاہیے۔ ان کے پیش نظر مریض کا علاج کرتے ہوئے وہ عہد ہونا چاہیے جو انہوں نے تعلیم مکمل کرتے وقت کیا تھا کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کریں گے۔

طبی اخلاقیات نہ پڑھانے کے سبب ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ رویہ ایک مسیحا کی بجائے کسی حاکم کی طرح ہوتا ہے۔ یورپ میں طبی اخلاقیات کا معیار بہت بلند ہے اور مریض کی جانب سے ڈاکٹر کی شکایات پر سخت ایکشن لیا جاتا ہے۔ سنگین معاملہ میں تو ڈاکٹر کا لائسنس تک منسوخ کر دیا جاتا ہے وہاں جب مریض معائنہ اور تشخیص کے لئے ہیلتھ سینٹر، کلینک یا ہسپتال میں جاتا ہے تو ڈاکٹر خود اپنے کمرے سے باہر آ کر مریض کا استقبال کرتا ہے اور اسے اپنے ساتھ معائنہ کے لیے لئے جاتا ہے۔

پاکستان میں کئی ڈاکٹر تو پیشہ وارانہ اصولوں سے بھی نابلد ہیں اور آئے روز میڈیا میں خبریں گردش کرتی ہیں۔ حال ہی میں لاڑکانہ میں ایک ڈاکٹر نے پانچ سو انسانوں کو ایڈز کے مہلک اور جان لیوا مرض میں مبتلا کر دیا ہے، اور اس سے بڑا المیہ یہ کہ دیگر ڈاکٹروں کی جانب سے مذکورہ ڈاکٹر کی رہائی کے لئے مظاہرہ اور مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح آنکھوں کی بینائی ضائع کرنے والا انجکشن لگا کر درجنوں لوگوں کی آنکھوں کو بینائی سے محروم کر دیا گیا مگر تا حال اس کے مجرموں کو ان کے انجام تک نہیں پہنچایا گیا کہ وہ کسی بڑے سیاستدان کا رشتے دار، عزیز ہو گا۔ ایسے دوا ساز اور ڈاکٹر کو نشان عبرت بنانا چاہیے اور اس کے حامیوں کو بھی سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسا جرم نہ کرے۔ ایسی خبریں دنیا بھر کے میڈیا میں آنے سے پاکستان کی بدنامی کا باعث ہوتی ہیں۔

ایک اور اہم معاملہ سرکاری ملازمت والے ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کا ہے۔ ایمان داری کا تقاضا ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر سخت پابندی عائد ہونی چاہیے۔ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر آٹھ گھنٹے کی سرکاری ڈیوٹی پوری طرح سے ادا نہیں کرتے اور نہ وہاں مریضوں کو اس توجہ سے دیکھتے ہیں جیسے شام کو اپنے کلینک پر دیکھتے ہیں۔ بلکہ انہیں کارندے ڈرا دھمکا کر ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینک جانے پر مجبور کرتے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں پر عوام کی طرف سے عموماً یہ تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ہسپتالوں میں زیادہ وقت نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کے نجی کلینک بند کیے جائیں۔

Facebook Comments HS