دیہی اور شہری زندگی میں تفاوت کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
دنیا میں افراد شہروں اور دیہات میں رہتے ہیں۔ انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے کم رقبے پر رہائش اور بود و باش کا جو منظم سلسلہ ترتیب دیا اس خطے کو ہم نے شہر اور جو فطری ترتیب کا کا حامل خطہ تھا اسے ہم نے گاؤں کا نام دے دیا۔ گاؤں کچھ ترقی کر کے قصبے بنتے رہے اور قصبے شہروں میں بدل گئے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ گیتھایوک جو ترکی میں واقع ہے وہ پہلا باقاعدہ شہر ہے جو گاؤں اور قصبوں کے ملاپ سے بنایا گیا۔ تہذیب انسانی کے ارتقاء میں ہمیشہ سے ٹاؤن پلاننگ کسی نہ کسی صورت شامل رہی ہے۔
پھر حکمرانوں کی ضرورت اور وسائل کی دستیابی نے شہروں کو جنم دیا۔ جہاں دیہات سے وہ لوگ آ کر آباد ہوئے جو وسائل رکھتے تھے یا وسائل پیدا کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ یا پھر جہاں حکمران رہائش پذیر تھے ان کی وجہ سے افراد نے ان کے آس پاس رہائش کو ترجیح دی۔ انسانی تہذیب کے دور اول ہی سے شہروں کا وجود ملتا ہے۔ زیادہ تر شہر دریا یا سمندر کے کنارے بسائے گئے۔ کچھ مختلف مذاہب کے مرکز کے طور پر بھی بنے اور ترقی کرتے گئے۔
دنیا میں تو جہاں ترقی اور خوشحالی ہے وہاں ہر جگہ شہر بن گئے ہیں اور دیہی زندگی اگرچہ وہاں موجود ہے مگر ان کی دیہی زندگی کی سہولتیں ہماری شہری زندگی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان میں شہروں کا سلسلہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے سے تھا، کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی، پشاور، ، ڈھاکہ وغیرہ پہلے سے شہر تھے۔ انگریزوں نے منصوبہ بندی سے بھی کچھ شہر بنائے جیسے ایبٹ آباد۔ فیصل آباد وغیرہ لیکن آزادی کے وقت ہماری بیشتر آبادی دیہات ہی میں تھی۔
پاکستان بننے کے بعد دیہات سے شہروں کی طرف مراجعت کا سلسلہ زور پکڑ گیا جس کا بنیادی مقصد روزگار کا حصول اور بچوں کی بہتر تعلیم تھی۔ پاکستان میں ساٹھ کی دہائی کے شروع میں دارالخلافہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا اور باقاعدہ ٹاؤن پلاننگ سے یہ پاکستان کا پہلا شہر تھا جو وجود میں آیا۔ چونکہ یہ ملک کا دار الحکومت تھا اس لیے اس کی طرف لوگوں کا جانا عین فطری تھا۔ یوں چند برسوں میں یہ شہر نہ صرف آباد ہوا بلکہ تیزی کے ساتھ تعمیر بھی ہوا۔
پاکستان میں زیادہ آبادی پنجاب میں ہے اس لیے وہاں شہروں کی تعداد زیادہ بڑھی اور ان شہروں کے قرب و جوار کی آبادی ان شہروں کی طرف منتقل ہوئی۔ اس لیے لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، گجرات بڑے جبکہ دیگر علاقے چھوٹے شہروں میں تبدیل ہوئے۔ جبکہ سب سے کم توجہ بلوچستان پر دی گئی جہاں آبادی سب سے کم ہے اس لیے وہاں کوئٹہ کے علاوہ کوئی باقاعدہ شہر یا شہری زندگی وجود میں نہ آ سکی۔ سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور کسی حد تک سکھر میں شہری زندگی موجود ہے جبکہ باقی ماندہ سندھ میں شہری زندگی کے کچھ آثار نہیں ہیں مگر ان تمام دیہی علاقوں میں اچھی بات یہ ہے کہ وہاں ابھی بھی بھٹو زندہ ہے۔
خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاوہ شہری زندگی کی کچھ رمق ایبٹ آباد میں نظر آتی ہے۔ باقی علاقے جیسے مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ، مانسہرہ، وغیرہ نہ شہر ہیں نہ دیہات۔ پرویز مشرف کے دور میں جہاں اور بہت کچھ بدلا وہاں شہری علاقوں کی طرف لوگوں کا میلان بھی بہت زیادہ بڑھ گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ روزگار کی تلاش نہیں تھی بلکہ پاکستان میں پہلی مرتبہ سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹیز کا قیام تھا۔
پوری دنیا میں جہاں جہاں شہری زندگی زیادہ ہے وہاں لوگوں نے رہائش کے لیے اچھے علاقوں اور سہولیات کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن پاکستان اور ان علاقوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ دنیا میں صنعتی ترقی اور تجارتی ترقی کے بعد اضافی رقم یا منافع سے یہ سہولت خریدنے کا انتظام کیا گیا اور پاکستان میں لوگوں نے صنعتوں اور تجارت سے پیسہ نکال کر یہاں سرمایہ کاری کی جس کے نتیجے میں پاکستان میں رہی سہی صنعتیں اور تجارت روبہ زوال ہو گئے۔
اور رئیل سٹیٹ کا کاروبار ترقی کرتا چلا گیا۔ اس کاروبار نے اتنی ترقی کی کہ اس سے وابستہ اشخاص نے چند برسوں میں کھربوں روپے کمائے اور لوگوں کو دنیا کی طرح سہولیات کا خواب دکھا کر ان کو سیمنٹ کے بنے ہوئے چند کمرے دے دیے، زرعی زمینیں ختم کر کے ان پر سوسائٹیاں بنوا دیں۔ اور یہ سلسلہ رکا نہیں۔ پاکستان میں جتنا بھی کالا دھن تھا وہ اس شعبہ میں سفید ہونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کاروبار کے مالکوں نے ملازمت مکمل کرنے والے جرنیلوں کو بھی اپنی ماتحتی میں نوکریاں دینی شروع کیں۔
اس کاروبار میں ملک پر حکومت کرنے والے بھی شامل ہو گئے اور سرکاری زمینوں اور غریبوں کی زمینوں پر قبضہ جما کر یا دھونس اور زبردستی سے ان سے اونے پونے ان کی زمینیں زبردستی خرید کر پانچ ہزار گنا زیادہ قیمت پر بیچنا شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ دن کی روشنی اور منصفوں کے سامنے ہوتا رہا اور ہو رہا ہے۔ لاہور پھر پنڈی، پھر کراچی اور اب پورے پاکستان میں جہاں بھی دیکھیں بس آپ کو ہاؤسنگ سوسائٹیاں نظر آئیں گی۔ یعنی یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جہاں فی کس آمدنی دنیا میں سب سے کم ہے اور جہاں روزگار نصف سے زیادہ آبادی کو حاصل نہیں ہے جہاں ہر پاکستان دنیا اور عالمی مالیاتی اداروں کا لاکھوں کا مقروض ہے۔
جہاں بنیادی انسانی ضروریات دس فیصد لوگوں کو بھی دستیاب نہیں ہیں۔ گزشتہ حکومت نے دنیا میں ایک انوکھا کام کیا کہ اس شعبہ کو ایمنسٹی دے دی۔ یعنی اس شعبہ میں جو بھی سرمایہ کاری کرے گا اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اور اس کے علاوہ اس سیکٹر کو اربوں روپے کی امداد بھی دی گئی۔ جہاں پہلے ہی یہ لوگ کھربوں روپے لوگوں سے لوٹ رہے تھے وہاں ان کو اربوں روپے کی سرکاری امداد دی گئی۔ لیکن ہمارے کسی دانشور کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اس ملک کی تباہی میں چند دیگر محرکات کے ساتھ ساتھ اس کاروبار کا بھی ہاتھ ہے۔
اس پر مزید عنایات ہو رہی ہیں۔ جبکہ اس ملک میں تعلیم اور صحت کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا اور جو ہے اس کو تباہ کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ لوگوں نے حکومتوں۔ مقتدر حلقوں، عدالتوں، صحافت سے وابستہ افراد اور اداروں کو خرید لیا ہے۔ اس لیے یہ سب ان کے سامنے بے بس ہیں۔ آپ آج کسی بھی شہر میں چلے جائیں ہر طرف پلازے اور فلیٹس اگ رہے ہیں اور شہر کے اندر اور شہر سے بیس کلومیٹر دور بھی آپ کو ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہی نظر آئیں گی۔
آپ کو کہیں کوئی فیکٹریاں، کارخانے نظر نہیں آئیں گے۔ اس لیے سارا سامان باہر سے سمگل ہو کر آ رہا ہے ہمیں بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنا امپورٹ بل دیکھیں اس میں ٹائیلیں، ماربل، گرینائٹ، سینٹری فٹنگز، سب کچھ باہر سے آ رہا ہے۔ خدا کی پناہ پاکستان میں اتنی مقدار میں ماربل اور گرینائٹ موجود ہے کہ ہم پوری دنیا کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ زیارت، بونیر چترال اور گلگت بلتستان کے نصف پہاڑ ماربل اور گرینائٹ کے ہیں اس کے علاوہ بھی ہزاروں مقامات ہیں جہاں یہ دستیاب ہے۔
مگر کسی دن کسی شوروم میں جاکر دیکھیں وہاں آپ کو اٹلی اور سپین کے ماربل اور گرینائٹ ہی ملیں گے اور وہ بھی دس گنا زیادہ قیمت پر لیکن ہماری حکومت کو اس سے کیا کہ یہ مافیا اسی بہانے اس ملک سے ڈالر باہر نکالتے ہیں اور یہاں غریبوں کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے۔ یہ منی لانڈرنگ کا سب سے آسان طریقہ ہے آپ ایک لاکھ ڈالر کے ماربل اسپین سے خریدیں اور ان کو کاغذوں میں دس لاکھ ڈالر کا دکھا کر پیسے ان کو بھیجیں اس طرح نو لاکھ ڈالر باآسانی قانونی باہر منتقل ہو جاتے ہیں یہ سارا پیسہ سیاست دانوں اور دیگر غیر قانونی طریقوں سے کمایا گیا پیسہ ہے اسپین اور اٹلی میں بیٹھے ہوئے گجرات کے لوگ یہی کاروبار کرتے ہیں اور اگر صرف ایک کیس ٹیسٹ کیس کی طور پر لیں اور ذرا مونس الہی صاحب کی جائیداد وہاں چیک کریں یا ان کے کاروبار وہاں چیک کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا اور یہ تو ٹیپ اف دی آئیس برگ ہے۔
چونکہ ان کاروباروں سے وابستہ لوگ پہلے حکومت میں شامل لوگوں کا استعمال کرتے تھے۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے یہ حکومتیں بھی خود بناتے ہیں۔ قانون سازی بھی خود کرتے ہیں اور یہاں کوئی ان کا کچھ بگاڑنا تو دور کی بات نام تک نہیں لے سکتا۔ ان لوگوں نے اپنی پرائیویٹ ملیشیاز بنائی ہوئی ہیں۔ حالیہ کچھ دنوں میں پشاور ان کے ہاتھ آیا ہے جہاں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ اور پشاور سے چارسدہ تک نیا شہر بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
جبکہ پشاور کے اطراف میں دو سو سے زیادہ منصوبہ اس کے علاوہ ہیں۔ پشاور میں ریگی للمہ کی سکیم جو کہ سرکاری ہے جس میں لوگوں نے مکمل پیسے آج سے پچیس سال پہلے حکومت کو جمع کیے ہوئے ہیں۔ اس کے تین سیکٹر ابھی تک لوگوں کو الاٹ ہی نہیں ہوئے ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین جو اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں وہ در بدر دھکے کھا رہے ہیں۔ لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور اسی ریگی للمہ کے اردگرد کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لوگوں کو آباد ہوئے بھی برسوں گزر گئے۔
پشاور میں بحریہ ٹاؤن کے پاس نہ اس وقت این او سی ہے اور نہ زمین مگر لاکھوں کی تعداد میں ممبر شپ فارمز جن کی فی فارم قیمت ساٹھ ہزار اور بلیک میں لوگوں نے یہ فارم ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیسوں میں خریدا ہے۔ صرف ان فارموں کی قیمت دس ارب سے زیادہ ہے۔ جبکہ نہ زمین ہے نہ این او سی ہے۔ اور یہ کراچی بھی نہیں نہ لاہور ہے کہ جہاں زرداری صاحب ہوں گے ان کو سرکاری اور غریبوں کی زمینیں قبضہ کر کے دے دیں گے، یہاں ایک ایک فٹ زمین پر دس دس قتل ہو جاتے ہیں۔
شام کو ایسا لگتا ہے کہ یہ علاقہ غزہ ہے ان زمینوں پر قبضہ جمانے والے اور ان کے مخالفین ساری رات ایک دوسرے پر بندوقوں اور راکٹوں سے حملہ کرتے ہیں لیکن مجال ہے کہ کوئی پوچھنے والا ہو ابھی تک صرف ایک زمین پر جو ورسک روڈ پر ہے اس میں پندرہ سے زیادہ افراد ان جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں اور اس کا سدباب نہیں کیا گیا تو یہ تعداد سینکڑوں اور پھر ہزاروں میں بھی جا سکتی ہے۔ اس ملک کی بچاؤ کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس سیکٹر پر دس برس کے لیے مکمل پابندی لگا دی جائے۔
لوگوں کو صنعتوں اور کاروبار کی طرف راغب کیا جائے۔ تعلیم خصوصاً فنی تعلیم پر توجہ دی جائے۔ تعلیم اور صحت اور دیگر سہولیات کا رخ دیہی علاقوں کی طرف موڑا جائے تو ہم مستقبل قریب میں زندہ رہ سکتے ہیں ورنہ جو کچھ آج ہو رہا ہے اس کے بدولت دو چار برسوں میں یہاں کوئی روزگار نہیں ہو گا اور غربت اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ ان قیمتی گھروں میں کسی کو رہنے نہیں دیں گے ان کو نوچ کھائیں گے۔ بلوم برگ کے تجزیہ کے مطابق دنیا کو اس صنعت سے اب فائدے کے بجائے شدید نقصان ہو رہا ہے اور وہ یورپ، امریکہ اور مشرقی وسطی کے حوالے سے کہہ رہے ہیں جہاں اس وقت دولت کی ریل پھیل ہے۔
ہماری حالت تو یہ ہے کبھی سعودی ہمارے اکاؤنٹ میں دو ارب ڈالر رکھتا ہے اور کبھی چین سے ہم مارکیٹ سے دس گنا زیادہ سود پر قرض لے کر انہی کے گزشتہ قرض کا سود ادا کرتے ہیں۔ ہماری اس میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ ادائیگیاں موخر کرتے ہیں اور ہمارے ٹی وی پر بیٹھے بزرجمہر اس پر بغلیں بجاتے ہیں۔ انہیں کون بتائے کہ موخر کرنے سے ان قرضوں کی شرح سود دو گنا سے زیادہ بڑھ جاتا ہے بعض اوقات قرض کی اصل مد سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
مگر ہم ایسی قوم ہیں جو حال میں رہتے ہیں کل جو ہو گا اس کا ملک خدا ہے۔ یعنی جیسے کل آئے گا ہی نہیں اور اگر آ بھی گیا تو ہم نہیں ہوں گے۔ اس ملک کا مقتدر حلقہ اگر اس ملک کو بچانا چاہتا ہے تو اس معاملے میں سنجیدگی دکھائے جیسے کچھ معاملات میں ان دنوں سنجیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے ورنہ اگر یہ سلسلہ چند برس مزید جاری رہا تو لوگوں فاقوں کا شکار ہوجائیں گے اور جو تھوڑی بہت زرعی زمینیں رکھ گئی ہیں وہ بھی ختم ہوجائیں گی اور اور یہ جو سب کا پیسہ ایک جگہ جمع ہو رہا ہے۔
یہ سب باہر منتقل ہو رہا ہے، دوبئی اور دیگر خلیجی ریاستوں، ملیشیا، اب سینٹرل ایشیاء کے کچھ ممالک میں بھی یہی پراپرٹی بزنس والے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اسپین اور پرتگال میں بھی یہ سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ ان جنوں کو بوتل میں بند کر دیں ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کو بوتل میں بند کر کے کسی نئے ”ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں بیچ نہ دیں۔ اس لیے کہ یہ مافیا اب سب کچھ خرید رہا ہے ٹی وی چینلز سے لے کر یونیورسٹیوں تک سب کچھ یہ آف شور کمپنیوں بنا کر خرید رہے ہیں۔ دولت کی تقسیم جس طرح پاکستان میں ہو رہی دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ چند برسوں میں تیس فیصد سے زیادہ دولت کا چند افراد کے پاس جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے۔


