سجدہ – افسانہ
جب بھی وہ کسی انتہائی شدید جذبے کے زیر اثر بات کر رہی ہوتی، اس کے ماتھے پر ایک رگ پھڑپھڑانے لگتی تھی۔ عین وہاں سے، جہاں اس کی سلیقے سے بنی بھنووں کے درمیان صاف شفاف جلد ایک ابھار سا بنا کر پیشانی سے جا ملتی، وہ رگ وہیں سے لہراتی ہوئی نکلتی تھی۔ میں اس کے پہلو میں بیٹھا تھا، سامنے نہیں لہٰذا اس کا چہرہ سامنے سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا تھا:
”بھائی صاحب! کوئی اپنے پیارے کو یوں اچانک مرنے دے سکتا ہے؟“
ایسا کہتے ہوئے اس کا رخ میرے بائیں بیٹھے مہمان کی طرف مڑا تھا جو اس کا مخاطب تھا۔ میری نظر بے اختیار اس کے چہرے پر پڑی اور مجھے لگا تھا جیسے سامنے والے قمقمے کی ساری روشنی اس کے ماتھے سے پھوٹنے لگی تھی۔ اسی روشنی کے بیچ مجھے وہ پھڑپھڑاتی رگ جھلک دے گئی تھی۔
مجھے اس عورت سے عشق ہے مگر میں اپنے عشق کا ایسا بے تکلف اظہار کبھی نہ کر پایا تھا ؛نہ تو زبان سے اور شاید نہ ہی عمل سے، حالاں کہ یہ جذبہ ایمان کی طرح زبان کے بالجہر اقرار کے بعد قلب کی تصدیق کا محتاج ہوتا ہے۔ سچی عاشق تو وہ تھی کہ کئی بار گھر کے چھوٹے بڑوں کے سامنے اس کا اعلان کرتی آئی تھی؛ کسی منصوبے یا سوچے سمجھے جملوں میں نہیں، یوں کہ وہ ایسا کہنے پر بے اختیار ہو اور اس کا پورا وجود اس کے بس میں نہ ہو۔
ہمارے گھر کے اپنے طور اطوار تھے۔ اس گھر کی بہو بیٹیاں اپنے شوہروں سے محبت کا یوں اعلان نہیں کیا کرتی تھیں۔ انہیں اپنی محبت اپنے من کے اندر چھپا نے اور اپنے مردوں سے احترام اور ادب سے پیش آنے کا سلیقہ سکھایا گیا تھا۔ مگر اس کے آنے سے جیسے سب کچھ بدلتا جا رہا تھا۔ ڈیوڑھی سے گھر میں داخل ہوتے اپنے مردوں کو دیکھتے ہی دوپٹے سنبھالنے والیاں ہکا بکا دیکھ رہی تھیں کہ میرے دفتر سے گھر آنے پر وہ لگ بھگ بھاگتے ہوئے میری طرف لپکتی تھی۔
”مینوں لگ گئی بے اختیاری۔“
خواجہ غلام فرید کو میں نے جب جب سنا میرے تصور میں اگر کسی کے قدموں کی چاپ ابھری ہے تو اس کے قدموں کی۔
”یار ڈاڈھی عشق آتش لائی ہے۔“
محبت کے اظہار کا یہ بے ساختہ قرینہ تب بھی نہ تھما جب اماں نے کسی اور بہانے ہم دونوں کو پاس بٹھا کر باتوں باتوں میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کچھ باتیں اپنے کمرے میں پٹ بھیڑ کر کرنے کی ہوتی ہیں، دیکھو اس گھر میں بیاہیاں بھی ہیں اور بچے بچیاں بھی، وہ کیا سوچتے ہوں گے؟
کوئی دوسرا کیا سوچتا ہو گا؟ ایسا وہ تب سوچتی کہ اسے اپنے آپ پر ضبط ہوتا۔ مجھے یاد ہے جس روز شام کو اماں نے اپنے پاس بٹھا کر ہمیں نصیحت کی تھی، اس سے اگلے روز صبح جانے کے لیے تیار ہو کر نکلنے لگا تو تیزی سے کمرے سے نکلی، ”ٹھہریے ٹھہریے“ کہتی بھاگ کر ، میرے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس کے کھلے بال کاندھوں پر جھول رہے تھے۔ دوپٹہ اس لپک جھپک میں کہیں پیچھے ہی گرا آئی تھی۔ ہونٹ لٹکا کر اور گال نچا کر کہنے لگی:
”دیکھیں جی آپ نے خوشبو تو لگائی ہی نہیں۔“
میں نے دیکھا اس کے ہاتھ میں پرفیوم کی شیشی تھی۔ اس نے بایاں ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور پرفیوم میری گردن پر ، کنپٹیوں پر اور کپڑوں پر چھڑکنے میں یوں منہمک ہو گئی جیسے وہاں کوئی اور تھا ہی نہیں، بس ہم دو تھے۔
ہم دو کہاں تھے، ہم ایک تھے۔
ہم ایک ایسے قصبے کے باسی تھے جہاں عورتیں مردوں سے دو قدم پیچھے چلتی تھیں مگر اسے میری ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پیوست کر کے پہلو بہ پہلو چلنے، مجھے متوجہ رکھنے کے لیے جھولتے ہوئے میرے آگے آنے، باتیں کرنے اور قہقہے اچھالنے میں مزا آتا تھا۔ راہ گیر مٹر مٹر کر ہمیں دیکھتے تو مجھے خفت ہوتی مگر اسے تو جیسے کسی کی پروا ہی نہ تھی۔ ہم دونوں کے گھرانے سیاسی سماجی ساکھ رکھنے اور اپنی اپنی روایات پر کاربند ہونے کی وجہ سے شہر کے ممتاز اور معزز گھرانوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی بیبیاں گھروں سے اوڑھنیاں اور حجاب لے کر نکلا کرتیں اور گلیوں میں ایک طرف ہو کر چلا کرتی تھیں مگر وہ جب چاہتی ہاتھ چھڑا کر بازو تھام لیتی اور میرے سامنے سے پنجوں کے بل گھوم کر دوسری جانب عین گلی کے وسط میں پہنچ جاتی۔
میں نے اپنے شہر پنڈی گھیپ کو قصبہ کہہ دیا ہے حالاں کہ یہ لگ بھگ سوا سو سال پہلے کا تحصیل بن چکا ایک بڑا شہر ہے۔ آپ اس شہر میں کسی طرف سے داخل ہونا چاہیں گے تو پہلے چھوٹی چھوٹی سرسبز پہاڑیوں استقبال کریں گی اور جہاں اچانک پہاڑیوں کا سلسلہ رکے گا اور یوں لگے گا جیسے کھلا آسمان سامنے ہے اور بس، وہیں نیچے نگاہ کریں گے تو پیالے کی صورت ڈھلوانی وسعت میں پورا شہر یوں آنکھوں کے سامنے آ جائے گا جیسے آپ خواب دیکھ رہے ہوں۔
سرسبز وادی میں آباد حد نظر تک پھیلے اس قدیم شہر کو اگر میں نے قصبہ کہہ دیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے مکینوں کا مزاج قصباتی ہے۔ اس شہر میں ڈیڑھ صدی پرانی عمارتیں، نادر نقش و نگار والے دروازے بھی موجود ہیں اور قدیم روایات کا احترام بھی۔ اس شہر میں تنگ بل کھاتا بازار اور ایسی تاریک گلیاں، حویلیاں اور محلے ہیں کہ جن میں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی نے اپنے سحر سے وقت کو صدی ڈیڑھ صدی پیچھے دھکیل دیا ہے۔
ہمارا گھر اس شہر کے وسط میں محلہ ملکاں میں تھا اور اس کا گھر شہر کے مغربی کنارے پر آباد محلہ حاجی گلاب خان میں۔ بھٹو کے زمانے میں، اپنے طرز عمل کے سبب غریبوں کی ماں کے نام سے شہرت پانے والے حاجی ملک گلاب خان اس کے چچا تھے اور کسی زمانے میں پنجاب اسمبلی کے ایسے رکن رہ چکے تھے جو اونچے طرے والی دودھ جیسی سفید پگ اور سیاہ شیروانی میں ملبوس سب سے نمایاں نظر آتے اور رسیلی آواز میں دھواں دھار تقریر کرتے تو سماں بندھ جاتا تھا۔
ان کی قدیم طرز تعمیر لیے اور سرسبز قطعات میں گھری ہوئی حویلی بھی اس زمانے میں اس شہر کی اس جانب آخری حد تھی۔ ہم دونوں جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو شہر کی اس حد سے بھی پرے تک نکل جاتے۔ وہاں جہاں چہانیاں ابھی تک موجود تھیں۔ ایک مرگھٹ جہاں ایک زمانے تک مردے جلائے جاتے رہے تھے، سنسان پڑا تھا اور اس کی دیواروں پر قائی اگ آئی تھی۔ انہی قائی زدہ دیواروں میں سے ایک کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اور میرے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں بائیں ہاتھ کی انگلیاں پیوست کرتے ہوئے اس نے کہا تھا:
”ہم وہی ہیں جنہیں گندم کی مہک نے جنت سے نکالا تھا۔“
ایسا کہتے ہوئے اس نے میرے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا اور اپنی چھاتی کو تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا:
”کم از کم میں تو وہی ہوں۔ میں تو وہی ہوں، دیکھئے! میں جیوں گی بھی آپ کے ساتھ اور مرنا ہو گا تو مروں گی بھی آپ کے ساتھ۔ اور آپ؟“
جب اس نے ”اور آپ؟“ کہنے کے لیے اپنا پورا چہرہ میری آنکھوں کے مقابل کر دیا تو میں نے دیکھا تھا اس کی روشن پیشانی پر ایک رگ ابھر آئی تھی اور وہ پھڑپھڑا رہی تھی۔
جب اس نے ملتان سے آئے میرے دوست قاضی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی اپنے پیارے کو یوں اچانک مرنے دیتا ہے تو میرا دل بھی میری چھاتی میں پھڑپھڑانے لگا تھا اور اس چہرے میں یادوں کے کینوس پر موجود وہ چہرہ جھلک دے گیا تھا جس نے اس روز مجھ سے اچانک پوچھ لیا تھا ”اور آپ؟“ میں تب چپ رہا تھا اور اب بھی چپ چاپ اسے ہک دک دیکھتا رہ گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ اس کے سوال کا جواب میرے پاس نہ تھا۔ وہ تو مقدر کی تختیوں پر لکھ کر کہیں اور چھپا دیا گیا تھا؛ اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہونے کے لیے۔ اچانک اور اتنی سرعت سے ظاہر ہونے کے لیے جیسے بجلی کا کوندا لپکتا ہے۔
۔
بجلی کا کوندا لپکا تو جیسے اندھیرے کی موٹی تہوں کو کاٹتا ہماری آنکھوں کے سامنے پہاڑوں پر گرا تھا۔ وہیں، جہاں اب شعلے بھڑک رہے تھے۔ اس نے خوف زدہ ہو کر میرا بازو زور سے تھاما ہوا تھا۔ گرج چمک کا سلسلہ بہت دیر سے جاری تھا اور بارش کی بوچھاڑ اس قدم آدم کھڑکی کے شیشوں پر پڑ رہی تھی جس کے سامنے ہم جڑ کر بیٹھے باہر کا سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ شدید سردی، اور سردی بھی ایسی کہ ہڈیوں کے اندر گھستی تھی، باہر بادلوں کا گرجنا، بجلی کا روشن چھپاکوں کے ساتھ کڑکنا اور ایسی ہر آواز کے ساتھ اس کے ہاتھوں کی میرے بازو پر مضبوط گرفت کا بڑھتا ہوا دباؤ، اس پر بارش برسنے کی ایک خاص ردھم بناتی آواز کا تسلسل، رات کے اس سمے میرے لیے زندگی کا اہم واقعہ تھا۔ یہ سب کچھ جیسے خواب تھا۔ لیڈی رابرٹ ہوم میں وہ ہمارا دوسرا دن تھا۔ ہماری شادی کوئی بیس بائیس دن پہلے ہوئی تھی۔
ان دنوں شادی ہالوں یا مارکیوں کا رواج نہ پڑا تھا، سارا اہتمام گھروں میں ہوتا۔ گھر میں مہمانوں کی آمد، ان کے ٹھہرانے کا بندوبست، مہندی، بارات، ولیمہ آئے ہوئے مہمانوں کے آرام اور خورد و نوش کے انتظامات اور شادی کے ہنگامے کے بعد انہیں خوشی خوشی رخصت کرنا یہ سب کچھ بظاہر اچھا تو تھا مگر تھکا دینے اور الجھائے رکھنے والا تھا جس نے میرے وجود میں اکتاہٹ اور بیزاری سی بھر دی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


