غزہ کا معرکہ


7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی معرکہ آرائی اب قریباً ایک ہفتہ سے بڑھتی جا رہی ہے۔ حماس کی جانب سے میزائل برسات کے فوراً بعد اسرائیل نے اعلان جنگ کر دیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک تھا جس نے اسرائیل کے اوسان خطا کر دیے اور یوں ایک فوری جنگ شروع ہوئی جس کے بعد جنگی کابینہ کا اعلان کر دیا گیا ہے، لاکھوں ریٹائرڈ فوجیوں کو محاذ جنگ پر طلب کر لیا گیا ہے پورے اسرائیل میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے تل ابیب کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا ہے۔

بیشتر ممالک نے اسرائیلی فضائی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔ ادھر امریکہ نے فوری امداد و تعاون کی پیشکش کی ہے اور اپنا جدید ترین بحری بیڑہ اسرائیل کے ساحل پہ لنگر انداز کر دیا ہے جس سے اس کے ارادے واضح ہوتے ہیں۔ امریکی حکومت کے چشم ابرو کو دیکھتے ہی بہت سے یورپی ممالک اور کینیڈا نے اپنا پلڑا واضح طور پہ اسرائیل کی جانب ڈال دیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل غزہ ہے جس میں بجلی پانی اور سامان خورد و نوش کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔

واحد بجلی گھر بھی ایندھن کی کمیابی کی وجہ سے بند ہو گیا ہے۔ اب اس صورتحال میں امن مذاکرات کی امید رکھنا کسی دیوانے کی بڑ ہی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی مجبور محض ہی دکھائی دیتی ہیں۔ اب ہم ایک نظر اس سارے میں پس منظر میں دیکھتے ہیں کہ کیا ممکنات ہو سکتی ہیں اور اگر یہ جنگی شعلے پورے مشرق وسطٰی میں پھیل گئے تو کیا منظرنامہ ہو گا۔ کیا مشرق وسطیٰ اس صورتحال سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر جواب ہاں بھی ہے تو کس قدر؟

یاد رہے انقلاب ایران کے بعد بہت سے ایسے علاقائی گروہوں کی پیشبانی کرتا آیا ہے جو بظاہر تو اپنی حکومتوں سے برسر پیکار رہے ہیں مثلاً لبنان میں حزب اللہ، فلسطینی اسلامی جہاد، شام میں پی آئی جے جیسے متحرک گروہ جو برس ہا برس میں اپنی خاص ساخت اور حکمت عملی سے ملکی کی جائز افواج سے بھی بڑھ کر عسکری تربیت یافتہ اور جذبۂ حریت سے سرشار ہیں۔ شہادت ہے مطلوب مقصود مومن کی عملی تصویر۔ ان کا عرصۂ دراز سے دیرینہ خواب پورا ہونے کا وقت قریب ہے۔

لبنان اور اسرائیل کی آرٹلری کا فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں اب تک تین مجاہدین حزب اللہ اور دو فلسطینیوں کی شہادتوں کی اطلاعات ہیں اور کم از کم ایک اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو چکا ہے۔ اس میں مزید شدت ہوگی۔ امریکہ نے ایک وارننگ دی ہے کہ حزب اللہ کوئی بھی جنگجویانہ کارروائی سے قبل دو مرتبہ سوچ لے۔ جنگ کسی قسم کی نوید تو نہیں لاتی ظاہر ہے اس کے دوررس اثرات ہیں جو برسوں نسلیں بھگتتی ہیں۔

اس کا بخوبی دونوں فریقین کو بخوبی علم بھی اور جنگ کے مابعد اثرات کا ادراک بھی ہے اور کوشش دونوں کی ہوگی کہ وہ حد درجہ کوشش کریں گے کہ وہ اس سے حتیٰ الامکان بچیں مگر کمبل ان کو چمٹ گیا ہے۔ دونوں اطراف کی اولیں کوشش ہوگی کہ معاملات ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ پچھلا بڑا معرکہ جو اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین ہوا تھا وہ 2006 میں ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ دونوں کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوا تھا کہ آئندہ کا کوئی بھی معرکہ اگر کبھی ہوا بھی تو وہ ایک محدود سی اختلافی پٹی شیبعہ فارمز، یہ گولان کی پٹی کے قریبی علاقہ ہے، میں ہی ہو گا تاکہ جنگی نقصانات زیادہ علاقہ میں نہ پھیلیں۔

اب نیتن یاہو نے تڑی تو لگائی ہے کہ ہم ایسا جواب دیں گے کہ یہ صدیوں یاد رکھیں گے۔ مگر اسے اپنے انجام کا بھی بخوبی اندازہ ہے۔ یہ مقابلہ آرائی تب تک جاری رہے گی جب تک فلسطینیوں کی آزاد مملکت کا حصول ممکن نہ ہو۔ محمد الدیف جو حماس کے القاسم بریگیڈ کے سپریم کمانڈر ہیں انہوں نے شام، لبنان اور عراق کے حریت پسندوں کو اس جہاد میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ایرانی اور یمنی حریت پسندوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس جنگ میں امریکی مداخلت کی گئی تو وہ بھی اس میں دم بدم کود پڑیں گے اور نتائج کی ذمہ داری امریکہ بہادر پہ ہوگی۔

عراقی جنگجو الھشد نے بھی کھل کر ایسے ہی خیالات کا اظہار برسرعام کر دیا ہے۔ امریکی فوجی اس خطے میں پہلے سے ہی موجود ہیں جو دھیش کی شدت پسندانہ کاروائی کی روک تھام کے لئے شام میں تعینات ہیں۔ عراقی سیاستدان ہادی الالمیری جو البدر گروپ کے سربراہ ہیں انہوں نے بھی کہا ہے کہ امریکی ہمارے نشانے پہ ہوں گے اگر امریکیوں نے فلسطین میں جنگجویانہ کارروائی کی تو پھر کوئی ہم سے گلہ نہ کرے۔ ماہرین کی پختہ رائے ہے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا جب پچاس سالہ اسرائیلی زیادتیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔

سیاسی اور اقتصادی مفادات اور سود و زیاں کا حساب رکھے بغیر اب عرب کے حریت پسند اپنی بیداری اور سیاسی پختگی کے انمٹ نقوش تاریخ عالم میں ثبت کرنے کو تیار ہیں۔ اب جو تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے وہ ہزارہا سال تک ناقابل فراموش ہوگی۔ لیبنان کے موجودہ وزیر خارجہ عبداللہ الحبیب اور وزیراعظم نجیب المیکاتی کا تو اصرار ہے کہ ملکی خزانہ چونکہ خالی ہے اور مہنگائی کا طوفان ہے ایسے حال میں اسرائیل کے مقابل آنے سے اجتناب کیا جائے مگر آزادی کے متوالے ان کو کہاں سننے والے ہیں۔

وہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچے بغیر اب رکنے والے نہیں۔ اسرائیلیوں کی سب سے بڑی حماقت ہوگی اگر انہوں فضائی بمباری کے بعد گرفتاریوں کے نظریے سے غزہ میں قدم رکھے تو اولاً فلسطینیوں نے ان کی تکہ بوٹی کر دینی ہے اوپر سے بپھرے ہوئے حزب اللہ والے انہیں نوچ کھائیں گے۔ اس باری غلطی کا امکان نہیں ہو گا۔ معاملات اگر زیادہ دگرگوں ہوئے تو ایران نے آبنائے ہرمز کا راستے ہونے والی عالمی تیل کی ترسیل روک دینی ہے جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمانوں کو چھوئیں گی جس سے عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔

ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو چکی ہیں۔ اس سارے تنازعہ کا ایک خیر کا پہلو بھی نکلتا نظر آتا ہے کہ اس کے بعد کوئی قابل عمل سیاسی حل نکالا جائے جیسے کہ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ مصر اور اسرائیل کے مابین 1973 کی جنگ کے بعد ہوا تھا۔ مصری صحافی اور کالم نگار عبداللطیف المیناوی کے مطابق حماس اور اسرائیل باہم شراکت دار بھی ہوسکتے ہیں چونکہ دونوں کے پاس کئی ایک مواقع ہیں جن پہ کسی معاہدے کا امکان متوقع ہے۔ اب ہونے خون خرابے کا حتمی انجام ایک واضح اور جامع امن معاہدے کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔ بے گناہوں کا خون رنگ لانے کو ہے ایک صبح نو کی امید بہرحال قائم رکھنا لازم ہے۔

Facebook Comments HS