میرے عزیز ہم وطنو!


 سات اکتوبر کو پاکستان میں پہلی بار لگائے جانے والے مارشل لا کو 65 سال مکمل ہونے کو ہیں۔
ایسے کون سی وجوہات پیش آئیں کہ مارشل لا لگانا پڑا۔

جنرل اسکندر مرزا نے پہلے سوچ لیا تھا کہ اب حالات ایسے موڑ پر ہیں، کہ مارشل لا کے سوائے کوئی اور چارہ نہیں، اس بات کا ذکر جنرل ایوب خان نے اپنی آپ بیتی ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں پانچ اکتوبر کو کراچی پہنچا اور سیدھا جنرل اسکندر مرزا سے ملنے گیا۔ وہ لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تلخ، متفکر اور مایوس‘ ۔

’میں نے پوچھا: کیا آپ نے اچھی طرح سوچ و بچار کر لیا ہے سر‘ ؟
’ہاں۔ کیا ہے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں‘ ؟ اسکندر مرزا نے جواب دیا ’۔

’میں نے سوچا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ حالات ایسے موڑ تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ سخت قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی مفر نہیں تھا۔ یہ ملک بچانے کی آخری کوشش تھی‘ ۔

پانچ اکتوبر کو یہ ملاقات ہوئی، ٹھیک دو دن کے بعد یہ ملاقات رنگ لے آئی، اور پھر وہ ہوا جس کا شاید کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔

پاکستان کے پہلے صدر جنرل اسکندر مرزا نے آئین معطل، اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگا دیا اور اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ جنرل اسکندر مرزا میر جعفر کے پڑ پوتے ہیں، وہ میر جعفر جس نے بنگال کے حکمران سراج الدولہ کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال میر جعفر کے بارے میں کہہ گئے ہیں۔

” جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ آدم، ننگ دیں، ننگ وطن ”۔

اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا نے ایک کتاب لکھی تھی۔ ”فرام پلاسی ٹو پاکستان“ ۔ اس کتاب میں ہمایوں مرزا نے سراج الدولہ کو کو بد مزاج اور بے رحم ٹھہراتے ہوئے اور لارڈ کلائیو کے ہاتھوں شکست کا ذمہ دار انھی کو قرار دیتے ہیں، اور مزید آگے لکھتے ہیں کہ میر جعفر کے پڑ پوتے نے ایوب کو پروان چڑھایا اور ایوب نے اپنے محسن کے سر سے تاج صدارت نوچ لیا۔

پاکستان بننے کے بعد لیاقت علی خان کی کابینہ میں اسکندر مرزا کو وزیر دفاع مقرر کر دیا گیا۔ گورنر جنرل غلام محمد کی استعفیٰ کے بعد اسکندر مرزا گورنر جنرل بن گئے۔ اسکندر مرزا کو 7 اکتوبر کو آئین کو معطل کرنے کے بعد ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور غلطی کو درست کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں چلائے مگر مزید دیر ہو چکی تھی۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ بازی ہاتھ سے جا رہی ہے تو انہوں نے 24 اکتوبر کو ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سے الگ کر کے وزیر اعظم بنا دیا۔

ایوب خان محلاتی سازشوں کو اپنے کتاب ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’ہمیں اطلاع ملی کہ ان کی بیوی بیگم ناہید مرزا ان سے ہر وقت لڑتی جھگڑتی رہتی ہے کہ جب تم نے ایک غلطی کر ہی دی ہے تو اب ایوب خان کا بھی صفایا کر دو۔

’میں ان کے پاس گیا اور کہا، ‘ آپ چاہتے کیا ہیں؟ سنا ہے آپ فوجی افسروں کو گرفتاری کے حکم دیتے پھر رہے ہیں؟ ’میں نے کہا، ‘ دیکھیے یہ عیاری اور چالبازی ختم کیجیے۔ ہوشیار رہیے، آپ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ ہم سب آپ کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں۔

انھوں نے تردید کی، ’آپ کو غلط خبر ملی ہے۔ ‘

پھر 27 اکتوبر کی رات کو جنرل برکی، جنرل اعظم اور جنرل خالد شیخ اسکندر مرزا کے گھر پہنچ گئے۔ ملازموں نے بار بار کہا کہ صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں لیکن جرنیل اتنی آسانی سے کہاں ٹلتے ہیں۔ انھوں نے سلیپنگ گاؤن ہی میں صدر سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفے پر دستخط لے لیے اور کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیں، آپ کو ابھی اسی وقت ایوان صدر سے نکلنا ہو گا۔

پھر نتیجہ یہ ہوا کہ اسکندر مرزا کو بوریا بستر باندھ کر ملک بدر ہونا پڑا تھا اور لندن میں جلا وطنی کے دور میں ایک ہوٹل میں منیجر کی جاب کرنا پڑی تھی۔ جب 12 نومبر 1969 ء کو انتقال ہوا تو پاکستان نے ان کی لاش بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جنوری 1951 ء میں آرمی چیف بنتے ہی جنرل ایوب خان اقتدار پر قبضہ کرنے کے جتن کر رہے تھے۔ 1953 ء میں امریکہ کی آشیرباد کے بعد وہ شیر ہو گئے تھے۔ اس دوران پاکستان کی پہلی اسمبلی کا توڑنا، دوسری اسمبلی سے ون یونٹ بنوانا جس سے نہ صرف بنگالیوں کی اکثریت کو بے اثر کیا گیا۔ امریکہ کو جو فوجی اڈے دیے گئے تھے، وہ بھی 1959 ء سے اپنا کام شروع کر رہے تھے اور جنرل ایوب نہیں چاہتے تھے کہ ایسی خبریں عوام تک پہنچ پائیں۔

فروری 1959 ء میں انتخابات ہونے والے تھے اور اسکندر مرزا سمجھتے تھے کہ سیاسی نظام میں ان کی صدارت خطرے میں ہے۔

6 اکتوبر 1958 ء کو ریاست قلات کے نواب نے بغاوت کردی تھی جسے طاقت کے بل بوتے پر دبا دیا گیا تھا۔

مشرقی پاکستان کی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر شاہد علی خان کا 25 ستمبر 1958 ء کو قتل اور 9 مئی 1958 ء کو صوبہ مغربی پاکستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کے قتل وغیرہ تھے۔ ملک کو عدم سیاسی استحکام کا شکار کر کے حالات ایسے پیدا کیے گئے کہ واحد حل مارشل لا ہو۔

پاکستانی فوج کے پہلے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل شیر علی خان پٹودی نے ایوب خان کو سیاست میں مداخلت سے بہت روکا۔ وہ اپنی کتاب ”دی اسٹوری آف سولجرنگ اینڈ پالیٹکس“ میں لکھتے ہیں کہ، ”ایک دن جنرل ایوب نے مجھے کہا کہ میں سیاست سنبھالوں گا اور تم فوج کو سنبھالو“ ۔ وہ سیاست دانوں کو ”بلڈی سویلینز“ کہتے تھے۔ ایوب خان کے صدارتی نظام کی مخالفت کرنے والوں کی فہرست لمبی ہے، لیکن میں یہاں ایک بنگالی وزیر کا ذکر کروں گا، وہ وزیر قانون جسٹس محمد ابراہیم تھے۔ ”ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم“ جس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ انہوں نے ایوب خان کو لکھا تھا کہ صدارتی نظام پاکستان کو توڑ دے گا اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس محمد ابراہیم کے بعد سابق چیف جسٹس محمد منیر کو وزیر قانون بنا دیا گیا۔

جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب ”فرام جناح ٹو ضیاء“ میں لکھا ہے کہ، 1962 ء مجھے وزیر قانون بنانے کے بعد جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بنگالی وزیر رمیض الدین کے پاس مجھے بھیجا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ ہم سے علیحدگی اختیار کر لیں یا کنفیڈریشن بنا لیں۔

رمیض الدین نے جواب میں کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں، آپ اقلیت ہیں، اگر آپ علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہو جائیں لیکن اصل پاکستانی تو ہم ہیں۔ جس کی شہادت سے پتا چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان بنگالیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہ صدارتی نظام کے خلاف تھے۔ یہی وہ سال تھا، جب تحریک پاکستان کے رہنما حسین شہید سہروردی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو ڈھاکا میں پاکستان کے خلاف نعرے لگ گئے۔

آج سقوط ڈھاکہ کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا تھا لیکن کیا کروں کہ دیکھا جائے کہ تاریخ کو ہم جب بھی پڑھتے ہیں تو ایک واقعے کا دوسرے واقعات سے کچھ نہ کچھ ملاپ ہوتا ہے۔

ہمارے کچھ احباب کہتے ہیں کہ دور ایوب سنہرا تھا جو کسی حد تک صحیح فرما رہے ہیں کہ جتنے ترقیاتی کام دور ایوب میں ہوئے تھے ان کی مثال نہیں ملتی ہے۔ اس میں کمال فوجی اڈوں کا تھا جو امریکہ کے حوالے کر دے گئے تھے۔ میری اور آپ کی سر زمین پر موجود فوجی اڈوں کو امریکہ اپنے مخالف دشمن کے خلاف سرانجام دے رہا تھا۔ آخر کار امریکہ نے پاکستان کی امداد روک دی کیونکہ پاکستان کو امریکہ نے ایک معاہدہ کے تحت اسلحہ فراہم کیا تھا کہ بھارت کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ کمیونسٹ جارحیت کے خلاف استعمال کیا جائے گا لیکن جنگ ستمبر میں ہم نے اپنا دفاع کرنے کے اسے اسلحہ کو استعمال کیا تھا اور امریکہ ناراض ہو گیا۔

صدر ایوب خان صحافت میں بڑی دلچسپی رکھتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ بڑے سے بڑے جھوٹ کو پرنٹگ پریس کی مشین سے گزرا کر کاغذ پر پھیلا دیا جائے تو کئی لوگوں کی نظر میں وہ قابل قبول اور قابل اعتبار بن جاتا ہے۔ وہ مذاق سے پرنٹگ پریس کو ”ذہنی جنگ کا اسلحہ خانہ“ کہا کرتا تھا۔ ایوب خان 11 جولائی سنہ 1961 کو امریکہ کے آٹھ روزہ سرکاری دورے پر امریکی ریاست میری لینڈ کے اینڈریو ائر فورس بیس پر اترے تو ان کا شاندار استقبال ہوا تھا، ہوائی اڈے پر اس وقت کے امریکی صدر جان کینیڈی، امریکہ کی خاتون اول جیکلین کینیڈی، وزیر خارجہ ڈین رسک اور امریکی افواج کے سربراہ نے خود شاندار استقبال کیا تھا۔

Facebook Comments HS