جنگ کے میدان میں پھنسے بچے
ایک بار پھر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ کا طبل بجا اور چند ہی گھنٹوں کے اندر فضا میں گولیوں کی آوازیں، بارود کی بو اور دھوئیں کے بادل منڈلانے لگے۔ ان دردناک لمحات میں میڈیا ہمیشہ کی طرح بٹا ہوا تھا۔ ہر چینل اس سانحے کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے پیش کر رہا تھا۔
جنگ کی افراتفری اور تباہی کے درمیان، سارہ نامی ایک رپورٹر تھی جسے اچانک اندازہ ہوا کہ وہ باقی صحافیوں سے بچھڑ کر کراس فائرنگ کی زد میں آ چکی ہے۔ سارہ جنگ زدہ گلیوں میں ڈرتی گھبراتی، چھپتی چھپاتی آگے بڑھتی چلی گئی۔ عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکیں تھیں اور دھوئیں نے ماحول کو دھندلا کر رکھا تھا۔ وہ ان مشکل حالات میں بھی جنگ کی کوریج کے لیے اور لوگوں کو سڑکوں پر بہتے لہو کی کہانی سنانے کے لیے پرعزم تھی۔ اسے بس یہ پرکھنا تھا کہ وہ لہو کسی مسلمان کا تھا یا یہودی کا۔
سارہ نے ایک جزوی طور پر منہدم عمارت سے ٹھوکر کھائی اور زمین پر گر گئی۔ گری ہوئی سارہ نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔ ایک ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے سلیب تلے کچھ زخمی بچے ایک ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ ان میں کچھ یہودی تھے اور کچھ مسلمان۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جو میڈیا پر نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ جس میں زخموں سے چور بچوں میں کوئی مذہبی یا سیاسی تقسیم نہیں تھی۔ مایوسی کے اس لمحے میں، ان بچوں نے اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنی مشترکہ انسانیت میں پناہ حاصل کر لی تھی۔
ایک نوجوان یہودی لڑکی لیہ نے ایک مسلمان لڑکے سلیمان کے بازؤں میں پناہ لے رکھی تھی۔ سلیمان کی زخمی ٹانگ کے گرد اسی رنگ کی پٹی بندھی ہوئی تھی جس رنگ کے کپڑے لیہ نے پہن رکھے تھے۔ سارہ نے حیرت سے دیکھا کہ یہ بچے دو مختلف دنیاؤں سے ہونے کے باوجود ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے تھے۔ ان کی سرگوشیاں اتنی دھیمی تھیں کہ سارہ سن نہیں سکی لیکن ان سرگوشیوں میں تسلی اور ہمدردی کا سا احساس معلوم ہوتا تھا۔
سارہ، میدان جنگ کے بیچوں بیچ اتحاد کے اس معصوم مظاہرے کو رکارڈ کرنے لگی۔ ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ان معصوم بچوں کی سرگوشیاں، آہیں اور سسکیاں تشدد کے خاتمے کی التجا کر رہی تھیں جس نے ان کی زندگیوں کو تباہ کر رکھا تھا۔ اپنی معصومیت کی وجہ سے ان بچوں نے اس لچک اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا جو مذہب اور سیاست سے روشناس بڑوں کے لیے ناممکن ہے۔ لیکن شاید کچھ وقت کے بعد جب ان بچوں میں دنیاداری، سیاست اور مذہب کی تھوڑی بہت سمجھ آ جائے گی تو ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے زخموں کا مرہم بنے یہی بچے بڑے ہو کر اپنی معصومیت کھو دیں اور ایک دوسرے کی جان لے لیں۔ یہ یہودی اور مسلمان بچے جنہوں نے جنگ کے کھنڈرات کے درمیان آج ایک دوسرے کے درد کو محسوس کیا، کل شاید اس خوبصورت احساس سے محروم ہو جائیں۔
سارہ کی رپورٹ نے، جسے اس دن سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا نے دیکھا، لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان سانحوں کو تفرقہ انگیز سرخیوں سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور یاد رکھیں کہ نفرت اور اندھیرے کے دور میں بھی ہمدردی اور اتحاد کی امید چمک سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی تھی جس سے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کے لیے اجتماعی کوشش کی تحریک جنم لے سکتی تھی۔
فوٹیج کے اس منظر میں نظر آنے والے بچے نہ یہودی تھے اور نہ مسلمان، وہ بس بچے تھے۔ میرے اور تمہارے نہیں بلکہ ہمارے بچے۔ جو ہر لحاظ سے ایک پرامن اور زندگی سے بھرپور مستقبل کا حق رکھتے ہیں۔


