جی،سی، یو میں حوروں کے سراپے کے بعد پیش خدمت ہے شیلا کی جوانی
مہذب قوموں کا سرمایہ ان کی نسلیں ہوا کرتی ہیں جنہیں سنوارنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں چونکہ انہی میں تو ان کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔
ان کے ذہنوں میں شعور و آگہی کا دیپ جلانے کے لیے وہ ”تعلیم“ جیسے نازک پہلو پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔ وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اپنی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی چھان پھٹک کرتے رہتے ہیں۔
ان کی نظر میں تعلیمی بندوبست کوئی حرف آ خر یا آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے انسانی ورثہ تصور کرتے ہیں جس میں ہر طرح کی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔
میرے کئی اسٹوڈنٹس یورپ کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جن سے مجھے سیکھنے کا بہت موقع ملتا ہے، میری ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم صدیوں پیچھے ہے اسی حقیقت کی نشاندہی حال ہی میں اقوام متحدہ نے بھی کی ہے۔
ان کا بھی یہی کہنا کہ ہمارا تعلیمی معیار دنیا سے تقریباً ساٹھ سال پیچھے ہے۔
میرے اسٹوڈنٹس کا بھی یہی خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہم یہاں سے پڑھ کے گئے ہیں وہ سب آؤٹ ڈیٹڈ، فضول اور غیر متعلقہ تھا جس کا آج کے تقاضوں سے دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔
یقین مانیں ہمارے اداروں کا پڑھا ہوا کوئی سپوت جب یورپ کے کسی تعلیمی ادارے میں داخل ہوتا ہے تو اسے اپنے پڑھے ہوئے پر شرمندگی و ندامت سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ میرا ایک اسٹوڈنٹ جو حال ہی میں یوکے گیا ہے جو کہ ایم ایس سی کیمسٹری تھا اور یہاں کے کئی نامی گرامی تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ مزید ایجوکیشن کے حصول کے لیے جب اس نے انگلینڈ کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو چند روز میں ہی اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے، اسے لگ پتا گیا کہ بھئی کیمسٹری کیا ہوتی ہے؟
فون پر گفتگو کے دوران بتانے لگا ”سرجی! یہاں ہم پڑھتے پڑھاتے کچھ نہیں ہیں بلکہ مطلوبہ مضمون کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور پڑھانے والے اکثر’کویک’ یعنی اناڑی ہوتے ہیں“
اور اس تلخ حقیقت کا ادراک مجھے یورپ آ کر کے ہوا ہے۔ کیسی وقت کی ستم ظریفی ہے کہ ہمیں ہماری جہالت کا پتا بھی کافروں کی سرزمین پر جاکر لگتا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ یہاں ہر سبجیکٹ کی اعلیٰ ترین فیکلٹی موجود ہوتی ہے اور بچے بلا خوف و خطر سوالات پوچھتے ہیں اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کا تو کام ہی یہی ہوتا ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں مضمون کی اصل روح کو کیسے اتارا جائے۔ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے وہ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ ترین دماغوں کو مدعو کرتے ہیں جن سے بچے مستفید ہوتے ہیں۔
مہذب دنیا کے تعلیمی ادارے بچوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے وقت کا ہر وہ تقاضا پورا کرتے ہیں جن سے ان کے ذہنوں کے روایتی جالوں کو صاف کیا جا سکے اور ان کے ذہنی معیار کو بہتر بنایا جا سکے جبکہ ہماری یونیورسٹیوں پر جہالت کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ جہالت کے اندھیروں کو بڑھاوا دینے میں جی، سی، یو ٹاپ پر جا رہی ہے۔
ہمارے بہت سے دوست احباب جو اس ادارہ سے مستفید ہوئے وہ خود کو ”راوین“ کہلوانا ایک اعزاز سمجھتے تھے بعض تو اپنے نام کے ساتھ بھی راوین لکھا کرتے تھے مگر اب وہ توبہ تائب کر کے چپ کی چادر اوڑھ چکے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں سے بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں مگر آج اس ادارے کو ”جہالت“ کی نظر لگ چکی ہے۔
اس عظیم یونیورسٹی کے اسٹیج پر کبھی واقعی ”بڑے“ قد کاٹھ والے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب ”بونوں“ کو بٹھانے کا رواج پڑ گیا ہے جن کا تعلیم جیسے نازک پہلو سے دور دور تک کوئی سروکار نہیں ہے، اس یونیورسٹی کا پلیٹ فارم اب ماہرین تعلیم کی بجائے خطیب اور واعظان کو جگہ دینے لگا ہے۔
کبھی احمد رفیق اختر تو کبھی قاسم علی شاہ اور کبھی طارق جمیل اور اب تو اصغر زیدی کی بدولت یونیورسٹی کے در و دیوار اور اسٹوڈنٹس یاسر شامی کی صورت میں ”شیلا“ کی جوانی سے بھی مستفید ہو چکے ہیں۔ یاد رکھیں محترم وہ دن بھی زیادہ دور نہیں جب سرکس کے شعبدہ باز اسی اسٹیج پر اپنے ”اسسٹنٹ“ یعنی کرتب پیش کیا کریں گے۔ اب تو حد ہی ہو گئی اسی یونیورسٹی کے پلیٹ فارم پر مریم نواز ”فلسفہ خودی“ پر لیکچر دیں گی۔
حیراں نہ ہوں بس دیکھتے جائیں آ گے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ اصغر زیدی یا ان ایسے نابغین کا بھی بھلا کیا قصور؟ یہ سب معاشرے کی عکاسی ہی تو کرتے ہیں اور وہی بیچتے ہیں جو یہاں بکتا ہے، علم و شعور سے کسی کو یہاں کیا سروکار میاں! شعبدہ بازوں کے سماج میں ”مداری“ ہی دانشور ہوتا ہے۔
نہیں یقین آ تا تو قاسم علی شاہ کی ویورشپ یا سبسکرپشن کا موازنہ ”دی بلیک ہول“ چینل سے کر لیجیے چند سیکنڈ میں پتا چل جائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور ہمیں کس قسم کی ذہنیت درکار ہے؟


