بھول بھلیوں میں گھومتی کہانی


جہاز کے کیبن میں اس سمے میزوں کے کھلنے کی کھٹر پٹر اور راہداری میں آتے جاتے قدموں کی ہلکی سی دھمک اور دھیمی دھیمی آوازوں کے شور نے پورا ماحول متحرک کر دیا ہے۔ اس ہلچل سے اندازہ ہوا کہ اعلی الصبح گھروں سے نکلے ہوئے تمام مسافر کھانے کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ یوں بھی بھوک دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ٔ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ کھانے کے لیے زندہ رہتے اور کچھ زندہ رہنے کے لیے کھاتے ہیں۔ یا پھر انہیں میسر ہی اتنا ہوتا ہے جو بمشکل انہیں زندہ رکھ سکے۔

یہ نا انصافی کیا قدرت کی جانب سے ہے یا انسانوں کے وضع کردہ نظام کی وجہ سے؟ یہ سوال نہ تو نیا ہے اور نہ ایسا انوکھا کہ اس کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا ہو۔ سوچ بچار کرنے والے تو ہر زمانے میں موجود تھے۔ اسی لیے تو دنیا بھر میں معاشی نظام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بابت نت نئے نظریات نا صرف پیش کیے گئے بلکہ ان پہ تجربات بھی ہوئے۔ کون ذی شعور اس بات سے منکر ہو سکتا کہ نا انصافی اور ظلم جب حد سے بڑھ جائیں تو خونی انقلاب آتے ہیں جو پورے نظام کو تلپٹ کر دیتے ہیں۔ روس کے زار اور انقلاب فرانس کی مثالیں اتنی پرانی نہیں کہ تاریخ کے اوراق کی سطروں میں یوں گم ہوں کہ ڈھونڈے نہ ملیں۔

خیال کا پنچھی جب کسی انجانی سمت اڑنے لگے تو اسے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں یہ کیوں سوچ رہی ہوں کہ ورلڈ پاپولیشن گروتھ انڈیکس کے مطابق دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ اس کرہ ارض کے وسائل نو سے دس ارب انسانوں کا بوجھ سہار سکتے ہیں۔ دنیا میں آنے والوں کی رفتار جانے والوں کی رفتار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر یہاں کے باسیوں نے تیزی سے بڑھتے اس عفریت کو کنٹرول نہ کیا تو اگلے دو سو سال تک کرہ ارض کے سب وسائل جواب دے جائیں گے۔ جب کھانے کو کچھ نہیں ہو گا تو انسان انسان کو نوچ کھائے گا۔ اس خیال نے مجھے کپکپا کر رکھ دیا۔

میں یعنی کہ تطہیر فاطمہ جہاں پیدا ہوئی وہ ایک متحدہ ریاست تھی۔ جب میں فقط آٹھ سال کی تھی تو وہ ریاست ٹوٹ چکی تھی۔ گھر میں اکثر یہ گفتگو رہتی کہ جب دلوں میں دوریاں آ جائیں تو گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ دیوار زمین پہ کھڑے ہونے سے قبل دل میں کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت میں اتنی نا سمجھ تھی کہ کچھ پلے نہ پڑتا اور میں حیرانی سے سب کا منہ تکتی رہتی۔ ریاست ٹوٹنے کے ایک سال بعد یعنی 1972 میں بچے کھچے ملک کی آبادی سات کروڑ تھی اور آج اس ملک کو چھوڑ کر جاتے سمے یہاں کی آبادی ایک انٹرنیشنل ویب سائٹ کے مطابق ساڑھے چوبیس کروڑ سے اوپر ہو چکی ہے۔

یہ اعداد و شمار کتنے درست ہیں یا آبادی کا یہ شتر بے مہار کس کروٹ بیٹھے گا؟ یہ تو نہیں معلوم مگر اتنا اندازہ ضرور ہے کہ بات کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی ہے۔ تعلیم کا تو ذکر ہی کیا کہ جہاں دو وقت کی روٹی کے لالے ہوں، تن پہ کپڑا نہیں، سر چھپانے کو ٹھکانا نہیں وہاں مذہب کا ٹھیکیدار یہ کہے کہ چار شادیاں کرو، ڈھیروں بچے پیدا کرو کہ ہر بچہ اپنا نصیب ساتھ لاتا ہے تو آبادی کیا خاک کنٹرول ہوگی؟

کھانے سے یاد آیا کہ شہر کراچی میں بیشمار کیفے، ریسٹورنٹ اور ڈھابے کھل چکے ہیں جہاں انواع و اقسام کے کھانے دستیاب ہیں۔ جتنی غربت بڑھ رہی ہے اتنا ہی کھانے پینے کی اشیا کا کاروبار عروج پہ ہے۔ شہر کے ہر علاقے میں کئی بازار فوڈ سٹریٹ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جتنی تعداد میں لوگ باگ فوڈ سٹریٹ یا فوڈ کورٹس میں نظر آتے ہیں انہیں دیکھ کر کوئی بھی سیاح یہی سوچے گا کہ یہاں کی غربت کی سب کہانیاں جھوٹی ہیں۔ جنتا اتنی خوشحال ہے کہ گھروں میں چولہا جلانے کے بجائے سر شام ہی باہر کا رخ کرتی ہے۔ ہم دور دیس میں بسنے والے بھی تو سیاح ہی ہیں۔ کسی جگہ کے مسائل کو سمجھنے کے لیے وہاں رہنا پڑتا ہے۔ اس چکی میں پسنا پڑتا ہے جو مقامیوں کو ہر روز پیستی ہے۔ ایک آہنکاری جو اپنے ہی زعم میں مبتلا ہو اسے یہاں کے مسائل کا ادراک کیسے ہو سکتا ہے؟ جہاں گیس ہی نہ ہو وہاں چولہا کیسے جلے؟

بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد الگ ہی کہانی سناتی ہے۔ کراچی سے ٹول پلازہ جاتے ہوئے سپر ہائی وے جو کبھی سنسان ہوتی تھی اس کے ایک کنارے پہ جھگیوں کا ایک شہر آباد ہو چکا ہے۔ یہ بمبئی کے سانتا کروز ائرپورٹ کے گرد و نواح میں واقع سلمز کا منظر پیش کرتا ہے۔ کراچی شہر کبھی ایسا تو نہ تھا۔ جھگیوں کے عقب میں چھوٹے چھوٹے فلیٹوں پہ مشتمل بد رنگ اونچی عمارتوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ فیکٹریاں اور کاروبار بند ہونے سے بے روزگاری اور سٹریٹ کرائمز میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

دکاندار گاہک نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مڈل کلاس جو کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت کے سبب شہر کے ہر علاقے میں فلاحی تنظیموں کی جانب سے کھولے گئے مفت کھانا مہیا کرنے کے مراکز پہ افلاس زدہ انسان بھوک مٹانے کو قطار اندر قطار ہر وقت نظر آتے ہیں۔ یوں تو یہ ملک ابتدا ہی سے طبقاتی تفاوت کا شکار تھا مگر عدم مساوات کی خلیج اتنی گہری ہو چکی ہے ایسا وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

یہ دیکھ کر دل کڑھتا ہے کہ فوڈ سٹریٹ پہ جوان بوڑھے بچے، الغرض ہر عمر کے افراد نظر آتے ہیں البتہ خواتین صرف چند علاقوں تک ہی محدود ہیں اور چند علاقوں میں تو سرے سے دکھائی ہی نہیں دیتیں۔ جو نظر بھی آتی ہیں وہ زیادہ تر برقع پوش، عباؤں اور چادروں میں سمٹ سمٹائی ہوتی ہیں۔ اس شہر میں سال کے صرف چند مہینے ہی قدرے خنک یا خوشگوار ہوتے ہیں بقیہ وقت موسم گرم مرطوب رہتا ہے۔ پسینے کی چپچپاہٹ اور بدبو کا سوچ کر ہی دم الٹنے لگتا ہے۔

سخت گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں انہیں نائلون مکس کپڑے میں اوڑھے لپٹے دیکھ کر وحشت ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اگر ان خیالات کا اظہار کیا جائے تو یہ طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ تم اپنا کلچر بھول چکی ہو تو ایسے میں جی چاہتا کہ ان کا منہ نوچ لیا جائے کہ تم نے عورت کو کمتر مخلوق بنا دیا ہے اور کلچر ہم بھول گئے ہیں! پر خود کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے کہ جہاں دلیل کو پذیرائی نہ ہو وہاں خاموشی بہتر ہے۔

میز کھول کے ارد گرد کا جائزہ لیا تو ہر سمت لاتعلقی اور بیزاری کے سوا کچھ نہ دکھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے سب لوگ ہنسنا بولنا ترک کر چکے ہیں۔ ہر ہاتھ میں موبائل فون ہے اور نظریں اسی پہ گڑی ہوئی ہیں۔ میری ساتھ والی نشست کا مسافر بدل چکا ہے۔ وہ بھی موبائل میں گم ہے۔ جہاز میں تو انٹر نیٹ کی سہولت ہی نہیں ہے تو یہ کیا دیکھ رہے ہیں؟ شاید کوئی گیم کھیل رہے ہوں۔ ہر جگہ انسان انسان سے لا تعلق ہو رہا ہے۔ یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ حیوان ناطق اپنی معاشرتی اقدار کھو رہا ہے اور خود کو دھیرے دھیرے تنہائی کے عمیق گڑھوں کی جانب دھکیل رہا ہے۔

اس طرز عمل کے نتائج کیا ہوں سکتے ہیں یہ تو ماہرین ہی بہتر جانتے ہیں۔ فطرتاً کم گو ہونے کے باوجود ایسی لاتعلقی ابھی تک میرے جیسوں کے اندر جگہ کیوں نہیں بنا سکی ہے؟ شاید ہم گئے زمانوں کے باسی ہیں۔ فضائی میزبان برتن سمیٹ کر لے جا چکی ہے۔ لنچ اور خیالات کی گہما گہمی میں آدھا گھنٹا گزر چکا ہے اب کل چودہ گھنٹے اور پانچ منٹ باقی ہیں۔

کیبن کی بتیاں گل ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔ سیٹ دراز کرتے ہی مجھے یوں لگا جیسے مہر بانو نے کان کے پاس آ کر دھیرے سے کہا ہو کہ تطہیر فاطمہ تم بیک وقت مختلف دائروں میں گھوم رہی ہو۔ اس کہانی کا کیا ہوا جو کہنے والی تھیں؟ مہر بانو جب ہر سمت اتنے مسائل ہوں تو خود کو گرد و نواح سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟ نا صرف کہانی بلکہ مجھے ہر وہ بات ہر وہ قصہ یاد ہے جو تم نے مجھے سنایا تھا۔ اندرون شہر میں واقع وہ بڑی سی حویلی جہاں تمہارا جنم ہوا تھا، جس کا ذکر کرتے زمانے بھر کا دکھ تمہاری آنکھوں میں امڈ آتا۔

اس کی وہ گیلری جہاں کھڑی تم سامنے والے گھر کے دونوں بچوں مسرت اور بھولا سے گھنٹوں باتیں کرتیں اور کھیلا کرتی تھیں۔ ساتھ والے گھر کے سنار جن کے پاس محلے کی واحد موٹر کار تھی۔ اور بھولے کے برابر والے گھر کے چبوترے پہ بیٹھا وہ بد طینت مما جو چلتی ہواؤں سے لڑتا اور شکل بگاڑ بگاڑ کر پاس سے گزرنے والے بچوں کو ڈراتا تھا۔ تمہاری کہانی خوابیدہ شہر چھوڑنے سے بہت پہلے شروع ہوئی تھی مہر بانو، وہ سب واقعات بھی تو اس کہانی کا حصہ ہیں۔ وہ شیطان صفت بخاری جس کا پورا نام تو یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ اس نے تمہارے والد کی ہمدردی اور ناسمجھی کا فائدہ اٹھا کر آدھی حویلی پہ ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔

تمہاری دادی کے بقول، سخت سردی کے موسم میں رات گیارہ بجے کسی نے زور زور سے دروازہ پیٹا۔ یا الٰہی خیر اس وقت کون آ سکتا ہے؟ ان دنوں اتنی رات میں کسی کا آنا اچھا شگن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حسن مجتبیٰ نے دروازہ کھولا تو باہر رونکھی صورت لیے بخاری کھڑا تھا۔ تم اس وقت، خیر تو ہے؟ خیر ہوتی تو اس وقت کیوں آتا؟ حسن بھائی بہت مصیبت میں ہوں سر چھپانے کا ٹھکانہ نہیں، جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں بیوی بچوں کو کہاں لے جاؤں؟

اس وقت آسمان پہ خدا اور زمین پہ بجز تمہارے کوئی مددگار نہیں، تمہیں پنجتن کا واسطہ مجھے چھت والا کمرہ دے دو جونہی دوسرا بندوبست ہو گا میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔ جن کے ہاں رہتا تھا انہوں نے کل چلے جانے کا کہہ دیا ہے۔ اکلوتی اولاد حسن مجتبیٰ چھل کپٹ سے ناواقف اور دوستوں کے دوست تھے ان چالبازیوں کو کہاں سمجھتے؟ باپ تو سر پہ تھے نہیں جو سمجھاتے ماں اور بیوی کے لاکھ سر پیٹنے کے باوجود بھی بخاری کو گھر لے آئے۔

یکایک پرواز ناہموار ہو گئی ہے۔ جہاز کی ہچکولوں میں کہانی کا ہاتھ آیا سرا پھر سے گم ہو گیا ہے۔ میری زرد پڑتی رنگت کو دیکھ کر ساتھ بیٹھا لا تعلق مسافر پوچھ رہا ہے۔ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے میم؟ جی میں ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی گھبراہٹ ہے۔ شاید وہ بھی اپنا خوف دور کرنے کو ہی مجھ سے بات کر رہا تھا۔ مجھے بھی خیالات مجتمع کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

Facebook Comments HS