متحدہ آزاد کشمیر کے لئے نئی پاکستانی پالیسی


آپ اس کی پالیسیوں سے ہزار اختلاف رکھیں، لیکن یہ حقیقت ہے، کہ آرمی پاکستان کا سب سے بڑا اور منظم ادارہ ہے۔ جس کے پاس دنیا بھر سے ڈیٹا اکٹھا کرنے، اس کا تجزیہ کرنے، اور اس سے ٹھیک ٹھیک نتائج حاصل کرنے کا بہترین نظام موجود ہے۔ مسئلہ اکٹھے کیے گئے ڈیٹا کے تجزیہ سے، حاصل کردہ نتائج کو لاگو اور استعمال کرنے کا ہوتا ہے، جو اس کے پاس موجود ہے نہ ایسا ہونا چاہیے۔ کلیکٹ کیے گئے ڈیٹا کی روشنی میں پالیسیاں بنانا اور اس کو کام میں لانا سیاسی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اس کے لئے سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتی۔ جس کی باعث وہ عسکری نرسری میں جستہ جستہ اپنے سیاستدان کاشت کر کے بڑی محنت سے بڑا کرتی ہے، لیکن بار بار مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ سیاستدان جتنا بھی کسٹم میڈ ہو، وہ وقت آنے پر ملنے والے، لگے بندے احکامات اور اپنی حاصل کردہ سیاسی دانش کے درمیان، فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے، تو اپنی تاریخی کردار سے مجبور ہو کر، وہ اپنی سیاسی دانش کے تحت فیصلہ کرتا ہے۔ جہاں سے اس کے اتالیق اور اس کے بیچ مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔

اور وہ اس لیے بھی کہ سیاستدان، پنشن، مراعات، قانونی اور آئینی تحفظ لے کر ریٹائرڈ نہیں ہو سکتا ۔ اس نے تاریخ میں جینا اور لوگوں کے درمیان رہنا ہوتا ہے۔ بھٹو سے لے کر نواز شریف، اور نواز شریف سے لے کر عمران خان تک، عسکری ادارے نے ہمیشہ، جرنیلوں سے بہتر سیاستدان پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ اس دوران شیخ رشید اور چوہدری برادران جیسی جھاڑ جھنکاڑ بھی اس نرسری کے بھاڑ کی حیثیت سے بڑھتی رہی ہے۔

عسکری ادارہ بیشک اپنا ڈاکٹرائین، کسی باجوے یا فیض حمید کے نام منسوب کردے، اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ، ان کے متاثرہ سیاستدان، ان کے پیچھے لگ جائیں، لیکن خواہ جتنے بھی ذاتی لگیں، یہاں فیصلے، شخصی نہیں اداراتی کیے جاتے ہیں۔ پھر بھی ان کی بیک فائر کی صورت میں، ادارے کے پاس پلان بی ہمیشہ تیار ہوتا ہے۔ جو آزاد سیاست کے لئے بظاہر ایک مختصر ونڈو کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اس دوران مذکورہ سابقہ جرنیلوں کے احتساب کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں، لیکن ان کو ادارہ جاتی تحفظ ہر صورت میں مہیا ہوتا ہے۔

اپنی حماقت، سادگی یا طاقت کی زعم میں ہمارے سیاستدان، جو اہم بات بھول جاتے ہیں، وہ ادارے کی یاداشت ہے۔ جس ڈیٹا کلیکشن، تجزیے، نتیجے اور امپلمینٹیشن کا میں نے شروع میں ذکر کیا ہے، وہی دراصل ادارے کی یاداشت ہے۔ جو مختلف کرداروں کو سفید، خاکستری اور کالی کی تین کیٹیگریوں میں تقسیم کرتا ہے۔ آپ ایک دفعہ ان کیٹیگریوں میں جگہ پا لیتے ہیں، تو پھر باجوہ، فیض اور کیانی میں جس کی بھی کمانڈ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ کیٹیگریاں پاکستان بننے سے پہلے سے چل رہی ہیں۔ بیشک کسی کا پوتا خود کو سفید بنانے کے لئے کچھ بھی سرگرمیاں شروع کرے وہ اپنے دادا کے ڈی این اے اور پارٹی وراثت کی وجہ سے ہمیشہ گرے اور بلیک ہی رہتا ہے، کیونکہ ادارے کی یاداشت نہ مٹنے والی اور قابل بھروسا ہوتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ کئی سیاستدانوں کو تخلیق کرنے کے باوجود کوئی تا دیر ان کے ساتھ نہ چل سکا۔ عمران خان سابقہ سلیبرٹی ہونے کی وجہ سے ایک کیپسولیٹڈ یعنی الگ تھلگ رہنے والی شخصیت تھی، جو ان کے خیال میں اچھی طرح استعمال کی جا سکتی تھی۔ لیکن وہ بھی، باوجود اس کے، کہ ادارے کے مہیا کردہ ٹیم کی کل وقتی جھرمٹ میں موجود ہوتا، آخر کار اپنی من مانی پر اتر آیا۔

باجوہ ڈاکٹرائین سادہ الفاظ میں، تاریخی بیگیج سے جان چھڑا کر ، آگے ہلکا اور تیز سفر کرنے کا بندوبست تھا، جس کے نتائج کی ذمہ داری عمران نے لینی تھی، یا غیر مقبول ہونے کی صورت، میں اس پر ڈالنی تھی۔

پاکستان کی سب سے بھاری اور تاریخی بیگج مسئلہ کشمیر ہے، جس کے ساتھ باقی سارے مسائل منسلک ہیں۔ خواہ وہ فارن پالیسی ہو، جنگیں ہوں، اسلحہ کی دوڑ ہو، بین الاقوامی دوستیاں اور دشمنیاں ہوں، یا اقتصادی بدحالی اور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات۔ لیکن واحد تاریخی حقیقت یہ ہے، کہ کشمیر کو عسکری اور سفارتی ذرائع سے حاصل کرنے میں، پاکستانی پالیسیاں مکمل ناکام ہو چکی ہیں، اور وہ اس لیے کہ ہماری پالیسیاں سفارتکاری کی پر لچک صفات سے عاری، جامد اور واحد حل پر مشتمل تھیں۔

سوویت یونین کے خلاف افغان تجربے کی خوش فہمی نے ہمیں کشمیر کے بارے میں عسکری پالیسی اپنانے کا راستہ دکھایا تھا لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ عالمی مذہبی سیاست کا بھی خاتمہ ہو گیا تھا۔ جماعت اسلامی چونکہ عالمی اسلامی سیاست کی پرانی فرنچائز تھی، اس لیے بین الاقوامی طاقتوں کی پریشر کی وجہ سے اس کو مردہ خانے کے ٹھنڈے فریزر میں رکھ دیا گیا۔ جس کی وجہ سے کشمیر کے لئے جدوجہد کو لوکلائز کر کے نئے مسلکی فرنچائز کھولنے پڑے۔ کشمیر تو کیا، آگے تو جماعت کو ”افغان جہاد“ کے سیکنڈ فیز میں بھی نہیں رکھا گیا، اور ٹھیکے خالص دیوبندی اور اہل حدیث فرنچائزوں کو ایوارڈ کیے گئے۔

جب پلوں کے نیچے بہت سارا پانی بہہ گیا، اور ہمیں احساس ہوا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے والا ہے، تو باجوہ ڈاکٹرائین پر عملدرآمد کے تحت پراجیکٹ عمران خان لانچ کردیا گیا۔ پہلی رکاوٹ، نواز شریف کو باہر بھجوا کر سوچا گیا، کہ آگے کے تیز سفر کے لئے تاریخی بوجھ کو جتنا ہو سکے کم کیا جائے۔ اس سلسلے میں عمران امریکہ گیا، جہاں پر ایک غیر روایتی صدر ٹرمپ کی صورت میں پہلے سے موجود تھا۔ وہاں پر بھارت کی رضامندی سے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان کسی ایسے منصوبے پر اتفاق کر دیا گیا جس کے تحت کشمیر کے حل کا راستہ بنا، جس کے بارے میں، میں نے انہی صفحات پر 4 اگست 2019 کو ایک بھرپور کالم ”اب مسئلہ کشمیر نہیں رہے گا“ کے نام سے لکھا۔

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، عمران خان کی ورلڈ کپ سے بڑا ورلڈ کپ لانے کی خوشخبری، مودی کے الیکشن سے چند دن پہلے پاکستان پر حملہ اور ابھینندن کی بحفاظت وطن واپسی، کرتار پورہ کی کھلی راہداری، سدھو اور باجوہ کی جھپی، اور مودی کی دوبارہ الیکشن جیتنے کی، پاکستانی خواہش نے، ساری کہانی کھل کر بتا دی تھی۔ لیکن رضامندی سے ولن بن کر مار کھانے کے باوجود، پاکستان کو بھارت نے دھوکا دے دیا۔ باجوہ، عمران، مودی اور ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام ملنے کی توقع تھی، لیکن مودی نے امن کا نوبل انعام لینے کی بجائے کشمیر لینا پسند کیا۔ جس کے بعد عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران، مودی کی حکومت کو فاشسٹ، نسل پرست اور پورے خطے کے لئے خطرناک قرار دیا۔

آدھا کشمیر رکھنے کے بعد ، واجبی سی پاکستانی مزاحمت، اور بین الاقوامی فورمز پر کسی خاص پذیرائی نہ ملنے کے بعد ، بھارت کا اب، لگتا ہے اگلا ہدف، لیے گئے کشمیر کی، بھارتی سپریم کورٹ کے ذریعے، پرانی حیثیت پر بحالی، اور آگے سارے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا ہے۔

ڈیٹا کلیکٹ کرنے کے ذرائع بھارت کے پاس بھی ہیں۔ ٹینکوں کے تیل کی قلت کی جو بات، آف دی ریکارڈ، باجوہ نے صحافیوں کے ساتھ کی تھی، وہ باجوہ ڈاکٹرائین پر عملدرآمد کرنے کے لئے ضروری تھی، تاکہ کشمیر سے قلبی لگاؤ رکھنے والے حامد میروں کے ذریعے اس بیانیے کو عوام میں آسانی سے بیچا جا سکے۔ اقتصادی حالت آج پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے۔ سیاسی، آئینی، انتظامی اور مستقبل کی نامعلوم مزید بدحالیوں کے اس بدترین صورتحال سے بہترین نتیجہ حاصل کرنے، اور بھارت کو کشمیر ہڑپ کرنے سے روکنے کی خاطر، بہترین حکمت عملی اب کیا ہو سکتی ہے؟

آگے اس پر بات کرتے ہیں۔ جس کے لئے، میرے خیال میں، نتیجہ خیز حالات بنائے جانے کی شروعات کردی گئی ہیں۔ اس دوران جمہوریت کا کیا ہو گا؟ ممکن ہے اس کے لئے نواز شریف کو تیار کیا گیا ہو، کیونکہ انہوں نے ماضی میں بھی واجپائی کے ساتھ مل کر اس سمت میں پیش قدمی کی تھی۔ جس کو جماعت اسلامی کی رینٹل طاقت سے سبوتاژ کر دیا گیا تھا۔ سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک فرق یہ بھی ہوتا ہے کہ جو کام سیاسی قیادت بروقت کرتی ہے عسکری قیادت وہی کام کرنے پر برسوں بعد تیار ہوجاتی ہے۔

کشمیر بھارت سے واپس چھیننا، بغیر جنگ کیے اس کے لئے سازگار ماحول بنانا، سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھرپور محاذ کھولنا، اور کشمیریوں کو ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد کرنا، پاکستان کی نئی سٹریٹیجی کے اہم نکات ہیں۔ آزاد کشمیر میں رواں انتشار، اس کے نتائج اور اس کے بارے میں پرانے فوجیوں عادل راجہ اور حیدر مہدی کے خود ساختہ تبصروں کا صحیح تناظر میں تجزیہ اگلے کالم کا حصہ ہے۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani