غزہ میں رونما ہونے والا انسانی المیہ
اسرائیلی فوج کے الٹی میٹم کے بعد شمالی غزہ سے فلسطینیوں نے جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی شروع کی ہے۔ تاہم اس محدود علاقے سے چوبیس گھنٹے کے اندر 11 لاکھ انسانوں کا انخلا تقریباً ناممکن ہے۔ خاص طور سے جب ایک طرف اسرائیلی فوج نے محاصرہ کر رکھا ہو اور دوسری طرف فضائی بمباری بھی کی جا رہی ہو۔
اس علاقے میں پھنسے ہوئے متعدد فلسطینیوں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے پاس جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت کوئی ملک یا طاقت اسرائیل کی دہشت و بربریت کے ستائے ہوئے ان معصوم لوگوں کی مدد پر آمادہ نہیں۔ دنیا میں انسانیت اور شرف آدمیت کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ نے وزیر خارجہ کے بعد اب اپنے وزیر دفاع کو اسرائیل بھیجا ہے جہاں پہنچ کر لائڈ آسٹن نے نہایت ڈھٹائی سے بیان دیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ’غیر جانبداری‘ کوئی آپشن نہیں ہے۔
امریکہ اس وقت ایک ایسی جارح قوت کا ساتھ دینے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دے رہا ہے جو گزشتہ ایک ہفتہ سے غزہ کی شہری آبادیوں کو بمباری کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ بمباری کا دہشت پھیلانے اور عام شہریوں کو ہلاک و خوف زدہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ چھ روز کی بمباری میں اب تک 1600 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں سے پانچ سو سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے شمالی غزہ سے انخلا کے حکم کو ایک بڑے انسانی المیے کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ لیکن اسرائیلیوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے اور وہ کسی ایک ملک کی تو کیا دنیا بھر کی اقوام کے اشتراک سے کام کرنے والے ادارے کی بات تسلیم کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے نقل آبادی کی وارننگ واپس لینے کے جواب میں اسرائیل نے بین الاقوامی ادارے کے بیان کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کئی دن گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی اس درخواست کو قبول کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہیں کہ غزہ میں محصور شہریوں کو طبی امداد اور بنیادی ضرورت کی اشیا فراہم کرنے کے لئے محفوظ راہداری بنائی جائے۔ اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کیا ہے اور تین لاکھ کے لگ بھگ فوج غزہ کی سرحد پر تعینات کی ہے۔ اسرائیل ایک چھوٹے سے گروہ حماس کو تباہ کرنے کے نام پر درحقیقت فلسطینیوں کو تختہ مشق بنا رہا ہے اور اب امریکی شہ پر وہ مزید فلسطینی زمین ہتھیانے کا طریقہ اختیار کر رہا ہے۔
ایک طرف اسرائیل شمالی غزہ کے لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے رہا ہے تاکہ وہ باقی ماندہ شہر کو نیست و نابود کرسکے تو دوسری طرف حماس نے شہری آبادی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہرگز اپنے گھر نہ چھوڑیں۔ ایک بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اب اپنی زمین اور اپنے گھر نہیں چھوڑیں گے۔ ایک طرف ریاستی دہشت گردی اور دوسری طرف اپنی ہی صفوں سے اٹھنے والے انتہا پسند گروہ کی دھمکیوں میں پھنسے ہوئے بے بس فلسطینی ہر طرف سے نا امید ہیں۔
پوری دنیا اس بے بسی کا تماشا دیکھ رہی ہے لیکن اسرائیلی جارحیت کو ظلم کہنے کی اجازت بھی نہیں ہے کیوں کہ دنیا کی ایک بڑی طاقت اس کی مکمل سرپرستی کر رہی ہے اور نہتے انسانوں کو ہلاک کرنے کے وحشیانہ اقدام کو ’حق دفاع‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل دفاع کے نام پر بارود کا کھیل کھیل کر محفوظ رہ سکتا ہے؟ اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔
غزہ کے فلسطینیوں کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ اگر انہوں نے اپنے علاقے چھوڑے تو وہ کبھی انہیں واپس نہیں ملیں گے۔ یوں تو اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے انتہاپسندوں کا صفایا کرنا چاہتا ہے اور شہری آبادی کو اس میں فریق نہ بننے اور محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جب اسرائیلی فوج دہشت گردوں کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر لے گی تو شمالی غزہ کے شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ لیکن اسرائیل نے دہائیوں کے دوران میں جو حکمت عملی اختیار کی ہے، اس کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ مسلسل فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرتا رہا ہے اور ایک بار جن علاقوں پر تسلط قائم کر لیا گیا، انہیں کبھی واپس نہیں کیا گیا۔ اس تجربہ کی روشنی میں اب اگر فلسطینیوں کی بڑی تعداد شمالی غزہ سے روانہ ہو گئی تو باقی ماندہ آبادی کو طاقت کے زور پر اس علاقے سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ اور پھر یہ علاقے کبھی فلسطینیوں کو واپس نہیں مل سکیں گے۔
گیارہ لاکھ لوگوں کو چوبیس گھنٹے میں گھر چھوڑنے کا نادر شاہی حکم دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاڈ ایردان نے نہایت ڈھٹائی سے کہا ہے کہ ’اسرائیل غزہ کے رہائشیوں کو قبل از وقت انتباہ دے رہا ہے اور حماس کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے والوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے‘ ۔ گویا مسلسل بمباری اور ہمہ قسم بنیادی سہولتیں منقطع کر کے اس علاقے کے لاکھوں انسانوں کی ’حفاظت‘ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اسی بیان سے اسرائیل کے دوہرے معیار اور سفاکانہ حکمت عملی کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ نہ تو بمباری میں توقف کیا گیا ہے اور نہ ہی متبادل رہائش فراہم کرنے کی سہولت دی گئی ہے بلکہ اقوام متحدہ سے بھی حکماً یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ شمالی غزہ میں اپنے تمام اسکولوں اور ہسپتالوں میں مقیم انسانوں کو فوری طور سے منتقل کر لے۔ اگر یہ سب لوگ واقعی اسرائیل کی ’نیک نیتی‘ پر بھروسا کر کے اس علاقے سے نکلنے کی کوشش بھی کریں تو انتہائی نامساعد حالات میں اتنی کثیر آبادی کا منتقل ہونا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔
مزید یہ کہ ان مسکین شہریوں کے پاس پناہ لینے کے لیے کوئی جگہ بھی موجود نہیں ہے۔ نام نہاد مہذب دنیا کی آنکھ کا یہ تارا انسانی تاریخ میں ظلم و استبداد کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے لیکن مظلوم انسانوں کی نحیف آوازیں بموں کے شور، امریکہ کی جانبداری اور اسرائیل پر مسلط کیے گئے دوسرے ’ہولوکاسٹ‘ کے ہنگامے میں دبائی جا رہی ہیں۔ ایک عظیم انسانی المیہ پوری دنیا کے سامنے رونما ہو رہا ہے لیکن آٹھ ارب لوگوں پر مشتمل دو سو سے زیادہ ممالک ایک کروڑ آبادی کے ایک ملک کے سامنے بے بس اور شکست خوردہ دکھائی دے رہے ہیں۔
ایسے میں ایک طرف مسلمان ممالک میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں یا بیانات کی بھرمار ہے تو دوسری طرف یہ مباحث شروع کیے گئے ہیں کہ اصل ظالم کون ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے روز اسرائیل پر حماس کے حملہ کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی جا رہی کہ حماس کی اس دہشت گردی نے ہی دراصل اسرائیل کو انتقام لینے پر آمادہ کیا ہے۔ اس حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لئے اسرائیلی و دیگر ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنانا یا انہیں اغوا کرنا کسی صورت قابل قبول طریقہ نہیں ہے۔ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جد و جہد کے حق کو بھی اسی صورت میں قبول کیا جاسکتا ہے جب ایسی جد و جہد کرنے والے عناصر کا ہدف صرف عسکری ادارے ہوں۔ اس کشمکش میں شہریوں کو نشانہ بنا کر حماس نے خود اپنا اعتبار ختم کیا ہے اور فلسطینیوں کی خود مختاری کے مقصد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تاہم حماس کی بے عملی کا اعتراف کرنے کے بعد کیا یہ مان لیا جائے کہ اگر حماس نے دہشت گردی کی ہے تو اسرائیلی ریاست کو بھی منظم و مسلسل دہشت گردی کرنے اور انسانوں کو ہلاک کرنے کا لائسنس حاصل ہو گیا؟ کیا امریکہ جیسی بڑی طاقت کا یہ موقف درست مان لیا جائے کہ اسرائیل میں مارے گئے انسانوں کا خون تو معاف نہیں ہو سکتا لیکن اسرائیل چاہے جتنے بھی انسانوں کو ہلاک کرے، اس سے سوال نہیں کرنا چاہیے؟ حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کارروائی کے تناظر میں یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل درحقیقت فلسطینیوں کو اس سرزمین پر رہنے کا حق نہیں دینا چاہتا۔
اوسلو امن معاہدہ میں دو ریاستی حل پر اتفاق کیا گیا تھا جسے اسرائیل نے بھی تسلیم کیا تھا لیکن کبھی اس حل کو عملی جامہ پہنانے کا اقدام نہیں کیا گیا۔ مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی اوسلو معاہدہ کے تحت ہی اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرچکی ہے لیکن اسرائیل فلسطینی ریاست کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور پوری مہذب دنیا اسرائیلی حکومت کو اپنا وعدہ پورا کرنے اور مشرق وسطی میں پائیدار قیام امن کے لیے عملی اقدام کرنے پر مجبور نہیں کر سکی۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں ابراہام اکارڈ کا پرچار کیا گیا تھا۔ اس کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا لیکن امریکی دباؤ اور علاقائی ریاستی مفادات کی وجہ سے ان دونوں ممالک نے اسرائیل سے مسئلہ فلسطین پر کوئی رعایت حاصل نہیں کی۔ نہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کیا جا سکا، نہ غزہ کا محاصرہ ختم کروایا جا سکا اور نہ ہی متفقہ دو ریاستی حل کی طرف کوئی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ابراہام اکارڈ کو آگے بڑھاتے ہوئے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروانے کے لیے قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ اس بات چیت میں بھی سعودی عرب اپنی حفاظت کے لیے تو امریکی ضمانتیں طلب کر رہا ہے لیکن فلسطینیوں کے علیحدہ وطن کا مطالبہ پشت ڈال دیا گیا۔
اب اس دلیل میں وزن نہیں ہے کہ فلسطینی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کو تسلیم کرچکی ہے لیکن اسرائیل نے فلسطینی ریاست کا حق دینے سے انکار کیا ہے۔ دریں حالات حماس نے اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھی ہے۔ لیکن کیا ایک چھوٹے سے انتہا پسند گروہ کو جسے اسرائیل، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں، فلسطینیوں کا نمائندہ مان کر فلسطینی آبادیوں پر قہر نازل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
دہشت گرد گروہوں کو ضرور نیست و نابود کرنا چاہیے لیکن کیا اسرائیل اور اس کے دوست کبھی اس پہلو پر بھی غور کریں گے کہ حماس نے اگر اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے تو اس نے غزہ کے 24 لاکھ فلسطینیوں کو بھی اپنی دہشت گردی کے زور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ اب انہی یرغمالیوں کو سزا دے کر اسرائیل کی حفاظت کا خواب کیسے پورا ہو گا۔
اسرائیل اگر ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو مشرق وسطی میں امن دور نہیں ہے۔ اسے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کیے گئے خودمختار فلسطین کے قیام کا مطالبہ پورا کرنا چاہیے۔ پھر فلسطینی حکومت کے ساتھ مل کر حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کیا جائے۔ البتہ اگر اسرائیل تمام فلسطینیوں کو ’دشمن اور انسانوں کے روپ میں جانور‘ قرار دے کر یہ خواب دیکھے گا کہ ایک دن وہ ایک کروڑ کے لگ بھگ فلسطینیوں کو اس علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور کردے گا تو امن کا تصور محض خواب ہی رہے گا۔


