چین میں سیب کی صنعت
اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ روزانہ ایک سیب کھانا آپ کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے۔ یعنی آپ صحت مند رہتے ہیں۔ بچپن سے روزانہ نہ سہی لیکن سیب کھاتے بھی آئے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگوں کو یہ موقع ملا ہو گا کہ سیب کے باغ میں پہنچ کر درخت سے تازہ سیب توڑ کر کھائیں۔ مجھے اپنے بچپن میں ایک بار کوئٹہ کے راستے چمن جانے کا اتفاق ہوا تو پہلی بار میں نے سڑک کے دونوں اطراف سیب سے لدے درختوں کو دیکھا اور ایک مقام پر رک کر، گاڑی سے اتر کر انہیں کھایا بھی۔
اس سیب کا لطف تو یاد تھا لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ زندگی ایک بار پھر یہ موقع دے گی کہ میں سیب کا باغ دیکھوں، اور وہیں اپنے ہاتھوں سے سیب درختوں سے توڑ کر انہیں کھاؤں۔ حالیہ دنوں یہ یاد گار تجربہ چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں اکسو پریفیکچر میں شا یا کاؤنٹی کے ایک سیب کے باغ میں ہوا جہاں نہ صرف تازہ سیب کھانے کا لطف حاصل ہوا بلکہ چین کی سیب کی صنعت کے کئی حقائق بھی جاننے کو ملے۔
اعداد و شمار کے مطابق چین جو آڑو اور ٹماٹر پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے وہ 2020 اور 2021 کے درمیان 44 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ پھل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا پروڈیوسر یورپی یونین ہے جس کی پیداوار صرف 11.72 ملین ٹن کی ہے۔ پھلوں میں جب سیب کی بات آتی ہے تو چین واضح طور پر سرفہرست ملک نظر آتا ہے اور اس کا علاقہ یانتائی ملک کا سب سے زیادہ سیب اگانے والا ملک ہے۔ ایسٹ فروٹ چائنا کی 2021 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق چین 180000 ٹن سے زیادہ سیب برآمد کیا۔ سیب کی برآمدات والے ممالک میں ویتنام، فلپائن، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سر فہرست ممالک تھے۔
شپنگ کے حجم کے لحاظ سے چینی تازہ سیب کی برآمدات کے لئے سرفہرست ممالک میں بنگلہ دیش، 179000 ٹن، فلپائن، 168000 ٹن؛ ویتنام، 160000 ٹن ؛ تھائی لینڈ، 137000 ٹن ؛ اور انڈونیشیا، 134000 ٹن ہیں۔ ان پانچ مقامات نے مجموعی طور پر حجم اور قیمت کے لحاظ سے تمام چینی تازہ سیب کی برآمدات کا بالترتیب 73 فیصد اور 75 فیصد حصہ لیا ہے۔
روایتی طور پر چین کے سب سے زیادہ سیب برآمد کرنے والے صوبوں میں شینڈونگ صوبہ، 616000 ٹن، صوبہ یوننان، 201000 ٹن ؛ لیاؤننگ صوبہ، 57000 ٹن، گانسو صوبہ، 53000 ٹن؛ اور شانسی صوبہ، 41000 ٹن ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ پانچ صوبے مجموعی طور پر حجم اور قیمت کے لحاظ سے تمام چینی تازہ سیب کی برآمدات کا بالترتیب 91 فیصد اور 93 فیصد ہیں۔ 2022 میں چین ے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی جانب سے تقریباً 100 ٹن سیب پاکستان برآمد کیے گئے جس کی مالیت اس وقت تقریباً 100,000 امریکی ڈالر تھی۔
2021 میں 259000 امریکی ڈالر مالیت کے 321 ٹن کی سیب کی برآمدات کے ساتھ سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے یہ خاص سیب پاکستان کو برآمدات میں اپنے عروج پر تھے۔
پھلوں کی دنیا میں ویسے تو ہر قسم کے پھل مفید ہیں لیکن سیب ان سب میں منفرد ہے۔ سیب ایک ایسا پھل ہے جو صحت بخش بھی ہے اور خوش خوراک افراد کا پسندیدہ بھی۔ اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کم کیلوری والا پھل ہے۔ یہ پھل اپنی صحت مند غذا کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے مثالی ہے۔ یہ نہ صرف کئی وٹامن دیتا ہے بلکہ آپ کے سسٹم کے کام کاج کے لیے معدنیات کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ عمومی طور پر سرخ، سبز اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر چربی، نمکیات کے اجزا اور کولیسٹرول کی آمیزش سے مبرا ہوتے ہیں۔
ایک درمیانے سیب میں تقریباً 80 کیلوریز، 1 / 4 ملی گرام آئرن، 10 ملی گرام کیلشیم، 21 گرام کاربو ہائیڈریٹ اور وٹامن اے اور سی ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے مردوں کو اوسطاً 2500 کیلوریز روزانہ جبکہ خواتین کو 2000 کیلوریز روزانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ رف فرق اتنا ہے کہ دواؤں کے مضر اثرات ہوتے ہیں جبکہ پھلوں میں مضر اثرات نہیں ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک شخص کی روزانہ کی خوراک میں پانچ حصہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہماری خوراک میں ذرا سی تبدیلی کتنی موثر ہو سکتی ہے اور زندگی خوب صورت بھی ہو سکتی ہے۔
سیب عموماً لال، ہرے، پیلے یا انہی رنگوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں لیکن اب آپ کو گاڑھے جامنی یا سیاہ رنگ کے سیب بھی کھانے کو مل سکتے ہیں۔ یہ نایاب سیب چین کے علاقے تبت کے خاص جغرافیائی حالات میں اگتے ہیں اور انہیں ’بلیک ڈائمنڈ ایپل‘ یعنی سیاہ ہیرا کہا جاتا ہے۔ ایک چینی ای کامرس کمپنی تبت کے علاقے میں سطح سمندر سے 3100 میٹر بلندی پر 50 ایکڑ رقبے پر ان نایاب سیبوں کو اگا رہی ہے۔ اس علاقے میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے اور وہاں اس پھل کو بہت زیادہ سورج کی روشنی اور الٹرا وائلٹ روشنی ملتی ہے جس سے ان کا رنگ گاڑھا جامنی ہو جاتا ہے۔
یہ سیب 2015 میں اگنا شروع ہوئے لیکن کئی وجوہات کی وجہ سے یہ بیجنگ، شنگھائی، گوانگزو اور شینزن کی اونچے طبقے کی سپر مارکیٹوں میں ہی نظر آتا ہے اور اس کی قیمت بھی انتہائی زیادہ ہے تاہم اپنی رنگت کی بنا پر ان کی افزائش بہت سست ہوتی ہے۔ عام سیب کا درخت 3 سے 5 برس میں پیداوار دینا شروع کرتا ہے لیکن اس کی پیداوار 8 سال سے پہلے ممکن نہیں ہوتی۔ ان میں سے بھی صرف 30 فیصد سیب ایسے ہیں جو مکمل سیاہ ہونے پر پورا اترتے ہیں اور اچھے داموں پر فروخت ہوتے ہیں۔
سیب کا درخت چار سے پانچ سال میں پھل دار بنتا ہے اور بنیادی طور پر یہ گلاب کے پودے سے تعلق رکھتا ہے۔ دنیا میں سیب کی تقریباً 7500 اقسام ہیں، جبکہ اس کی پیداوار والے بڑے ممالک میں چین کے علاوہ فرانس، چلی، بیلجیم، ترکی، امریکا اور ہالینڈ بھی ہیں۔


