مفتی محمود رح اور ملکی سیاست!

14 اکتوبر سیاست کے عظیم مفکر مفتی محمود رح کا یوم وفات ہے، مفتی محمود رح پاکستانی سیاست کے وہ شہسوار تھے، جن کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
بڑے لوگ روز پیدا نہیں ہوتے، بڑی مدتوں بعد جنم لیتے ہیں، بڑے لوگ تاریخ کا حصہ نہیں ہوتے ہیں، خود تاریخ ہوتے ہیں، جب تک زندہ ہوتے ہیں ان کا فیض ایک جہاں کو پہنچتا ہے اور جب رخصت ہوتے ہیں تو ان کی فکر کے رواں چشمے سب کو سیراب کرتے ہیں، مفتی محمود رح کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا، جو اپنی وفات کی چار دہائیوں کے باوجود زندہ و جاوید ہیں اور ان کی فکری دبستان کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔
مفتی محمود رح ایوب خان کے مارشل لاء میں ملکی سیاست کا عملی حصہ بنے، 1962 کو پہلی بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اسمبلی میں پہلی بار ایک گرجدار آواز گونجی، اس آواز میں روانی تھی، پختگی تھی، سلاست تھی، علم تھا، شائستگی اور نکتہ آفرینی تھی، لیکن ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی تھا، کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے خلاف ہر کھلواڑ کا مقابلہ کیا جائے گا، ایوب خان ساٹھ کی دہائی کے سکہ رائج الوقت تھے، ایوب خان خود قانون بھی تھے اور آئین بھی تھے، اس کا ہر حکم آئین کے لیے ایک نئی شق بن جاتا تھا، مگر مفتی محمود رح کو یہ پرواہ نہ تھی کہ ایوب خان کے پاس کتنی طاقت ہے، انہیں صرف اتنا پتہ تھا کہ جس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے انہیں اسمبلی بھیجا گیا ہے وہ اسی ذمہ داری کو نبھانے کا پابند ہیں، یہی وجہ تھی کہ جب 1965 کے بی ڈی ممبر کے طرز انتخابات میں اس موثر آواز کو اسمبلی میں پہنچنے نہیں دیا گیا، تو مفتی محمود رح کی آواز نے سڑکوں، گلیوں اور چوراہوں کو اپنا مسکن بنا دیا، مارشل لاء کے خلاف کھل کر بولے، جدوجہد کا ہر اول دستہ رہے اور بالاخر 1970 کو ملکی سیاست میں ایک نمایاں حیثیت سے ابھر کر سامنے آ گئے۔
ایوب خان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب خان سے راہیں جدا کر لیں تو 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسلامی سوشلزم کے نعرے کے ساتھ سیاسی اکھاڑے میں اترے، تین سالوں میں بھٹو کی مقبولیت آسمان چھونے لگی، مارشل لاء سے تنگ عوام نے بھٹو کو سر پر بھٹایا، 1970 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں بھٹو کا طوطی بولنے نہیں بلکہ چیخنے لگ گیا تھا، اپنی مقبولیت دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو نے، قومی اسمبلی کی چھ نشتوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا، جن میں سے ایک نشست ڈیرہ اسماعیل خان کی تھی جہاں بھٹو اور مفتی محمود رح مدمقابل تھے، یہ وہ وقت تھا جس میں یہ ضرب المثل مشہور ہوا کہ بھٹو کھمبے کو ٹکٹ دیں تو کھمبا بھی جیت جائے گا، لیکن جب نتیجہ آیا تو مفتی محمود نے بھٹو کو تاریخی شکست دوچار کیا تھا۔
1970 کے انتخابات کے بعد ملک دو لخت ہوا، ملک کے مغربی حصے کو جو موجودہ پاکستان ہے، ایک نئے آئین کی ضرورت پیش آئی، 1973 کو نئے آئین کی تشکیل ہوئی، جس میں مفتی محمود رح کا نمایاں کردار رہا، کے پی کے اور بلوچستان میں نیپ کی حکومت بنی، مفتی محمود رح اور سردار عطاء اللہ مینگل بالترتیب کے پی کے اور بلوچستان کے وزیر اعلی منتخب ہوئے، بھٹو نے سیاسی اختلافات کی بناء پر حیدرآباد سازش کیس کا الزام لگاکر بلوچستان سے نیپ کی حکومت کا خاتمہ کیا، سردار عطاء اللہ مینگل، نواب خیربخش مری، غوث بخش بزنجو اور بلوچستان کی دیگر سیاسی قیادت کو پابندسلاسل کیا، تو مفتی محمود رح نے کے پی کے، کی وزارت اعلی سے استعفی دے کر عہد و وفاء کی تاریخ رقم کرتے ہوئے اصولی سیاست کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
بھثو دور حکومت میں تحریک ختم نبوت کے دوران اسمبلی میں مفتی محمود رح نے تاریخ ساز کردار ادا کیا، اپنی سیاسی بصیرت اور علمی استدلال سے قادیانیوں کے مسلمان ہونے کی قلعی کھول کے رکھ دی، بالآخر بھٹو حکومت کو قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
مارچ 1977 کو بھٹو حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات ہوئے، بھٹو اب بھی مقبول تھے لیکن وہ 1970 والی بات نہ تھی، وہ دو تہائی اکثریت سے انتخابات جیتنے کی خواہش رکھتے تھے، اس خواہش کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ کچھ نشتوں پر دھاندلی کی جائے، بھٹو کے مقابلے میں 9 سیاسی جماعتی اتحاد، پی این اے ( قومی اتحاد ) نے انتخابات میں حصہ لیا، انتخابات میں منصوبہ بندی کے تحت تقریباً ڈھائی درجن نشستوں پر دھاندلی کی گئی، پی این اے نے انتخابی نتائج کو مسترد کر کے تحریک چلانے کا اعلان کیا، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود رح کر رہے تھے، پی این اے کی تحریک نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ذوالفقار علی بھٹو جو اپنی مقبولیت کے زعم میں تھے آہستہ آہستہ عوامی تحریک کے دباؤ میں آتے گئے، تحریک کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا ہر حربہ ناکام ہوا، معاملہ الٹ گیا اب ملک بھر میں بھٹو کی جگہ پی این اے مرکز نگاہ ٹھہرا، پی این اے سوشلسٹ، نیشنلسٹ، وفاقی و مذہبی جماعتوں کا اتحاد تھا، بھٹو اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کے کئی دور چلے اور بھٹو دوبارہ انتخابات کے لیے راضی ہو گئے، تحریک استقلال کے سربراہ نے پی این اے میں ہوتے ہوئے اپنی الگ پالیسی بنائی تھی اور اصغرخان کی خواہش تھی فوج بھٹو کا تختہ الٹ کر مارشل لاء قائم کرے، اصغرخان نے فوج کے سربراہ کو خط لکھا اور معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی استدعا کی، نئے انتخابات کے اعلان سے قبل 5 جولائی 1977 کو ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء کا اعلان کیا اور نوے روز میں انتخابات کا وعدہ کر کے دس سال تک حکمران رہے۔
پی این اے کے پلیٹ فارم سے مختلف الخیال سیاسی نظریات کے حامل راہنماؤں کی قیادت کر کے مفتی محمود رح نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا،
مفتی محمود رح نے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے، مدرسے کے مولوی کو حجرے سے نکال کر عوامی سیاست کا حصہ بنا دیا، جمہوری اور آئینی جدوجہد کو اپنی سیاست کا نصب العین قرار دیا، اس کی سیاسی جدوجہد نے جمعیت علماء اسلام کو عوامی جماعت بنا دیا۔
آج ان کے سیاسی تربیت یافتہ اور فکری جانشین مولانا فضل الرحمن مدظلھم ملکی سیاست کے افق پر ایک درخشاں ستارے کی مانند جگمگھاریے ہیں، مشرف کی سخت آندھیوں سے لے کر سیلکٹڈ کے منہ زور طوفانوں تک اپنی جدوجہد کا چراغ جلاتے رہے، مفتی محمود رح پی این اے کے سربراہ رہے تو مولانا فضل الرحمن مدظلھم نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مختلف الخیال سیاسی راہنماؤں کو ایک سیلکٹڈ حکومت کے خلاف جدوجہد پر یکجاء کر کے تاریخی کامیابی سمیٹی۔
مفتی محمود رح کی فکر آج ایک روشن حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، جمعیت علماء اسلام کی قوت میں بے پناہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام فکر محمودی کے روشن چراغ کو ہی اس ملک کا مستقبل سمجھنے لگے ہیں۔

