ایک ہی سال میں طلاق ہو گئی!

مریم نواز کی بہو کی طلاق سے کم از کم ہم پاکستانیوں کو کوئی موضوع گفتگو تو ملا۔ کوئی کہہ رہا ہے یہ سیاسی شادی تھی، کوئی کہہ رہا کاروباری لوگ تھے، کوئی کہہ رہا سارا مفادات کا کھیل تھا۔ اس سب میں شاید بہت کم لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا سیاسی خاندان سے ہٹ کر شادیاں ناکام نہیں ہو جاتیں یا پھر اگر لوگ سیاسی ہوں تو ان کو یہ بندھن ختم ہونے پہ کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ کیا ہم لوگ واقعی ہی اتنے بے حس ہیں کہ دوسروں کی زندگیوں کو تضحیک کا نشانہ بناتے وقت ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔
ہماری سوسائٹی میں شادی دو خاندانوں کا ملاپ ہوتی ہے مگر اس کے باوجود اس کی کامیابی کا انحصار بہرحال ان دو افراد کے آپس کے تعلقات پر ہوتا ہے جو اس رشتے میں بندھنے ہیں اور ساتھ ہی ان سے وابستہ رشتے ایک دوسرے سے ایک جذباتی رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔
دو لوگوں کو ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور بہت سی ایسی باتوں سے بھی درگزر کرنا پڑتا ہے جو آپ کو قطعی ناگوار گزر سکتی ہیں۔
کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا مگر ہم دوسروں سے پرفیکشن چاہتے ہیں۔ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ دو لوگوں کا لائف سٹائل، ان کی چوائسز ایک دم سے ایک جیسی ہو جائیں صرف اس لئے کہ ان کی شادی ہو گئی ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ اختلافات اس حد تک ہوں کہ ساتھ چلنا ممکن ہی نہ رہے تو ایسی صورت میں کسی کا الگ ہو جانا ان کا حق ہے اور یہ حق مذہب نے دیا ہے۔
شادی سیاسی ہو،
شادی کاروباری ہو،
شادی پسند یا محبت کی بجائے مفادات کی بنیاد پر ہو تب بھی اس بندھن کو اللہ اور رسول ﷺ کو گواہ بنا کر قائم کیا جاتا ہے اور اس معتبر گواہی کے ساتھ ہمیشہ ساتھ رہنے کا ایک عہد ہوتا ہے اور جب کسی وجہ سے یہ ٹوٹتا ہے تو دو خاندان اس عمل سے متاثر ہوتے ہیں اور یقینی طور پر وہ ایک تکلیف دہ صورتحال سے گزرتے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کرب کا بھی حساب مانگا جاتا ہے۔ جس کا آپ کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں وہ بھی اپنی رائے دینا فرض اولین سمجھتا اور بڑھ بڑھ کر معاملات کو دوسروں کے لئے ناقابل برداشت بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
میری دعا ہے پروردگار ہمیں ہدایت دے اور ہم بحیثیت قوم اپنا ردعمل دینے میں تھوڑا میچور ہو جائیں۔

