زید اللہ فہیم کا شعری مجموعہ "چراغ پلکوں پر”۔


میں ایک ادب کا ایک ادنی سا طالب علم ہوں۔ شاعری پڑھنے سے دلچسپی ہے لیکن اس کے اسرار و رموز سے واقف نہیں ہوں۔ اپنی ساری زندگی بینکنگ کے خشک اعداد و شمار میں گزری ہے اس لئے شاعری کا اسلوب، اس کی اصناف اور دیگر باریکیوں کے بارے میں کم جانتا ہوں۔ میں کوئی اتنا بڑا لکھنے والا بھی نہیں ہوں، یہ چند سطریں بڑے دھیمے لہجے میں بڑی شستہ باتیں کرنے والے مرزا صاحب کی محبت میں ان کی فہم و فراست، شرافت، معصومیت اور ادب و احترام کے حوالہ سے لکھی ہیں۔

پنجابی کی ایک حکایت ہے ”راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے“ ۔ آدمی کا پتہ تب چلتا ہے جب آپ اس کے ساتھ کچھ وقت گزاریں یا اس کے ساتھ سفر کریں۔ راقم کو مرزا زید اللہ فہیم اور ان کے دیرینہ دوستوں کے ہمراہ چند ادبی شخصیات سے ملنے کے لئے ایک لمبا سفر طے کرنے کا اتفاق ہوا۔ انھیں اپنی نئی نویلی گاڑی کی اگلی آرام دہ سیٹ ایک علمی شخصیت کے حوالہ کر کے پچھلی سیٹ پر دو آدمیوں کے درمیان پھنس کر بیٹھے لمبا پہاڑی سفر کرتے دیکھا تو میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا۔ یہ ان سے میرا پہلا تعارف تھا۔ ان کی سادہ طبیعت کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ وہ عدلیہ کے انتہائی اہم عہدے پر فائز رہے ہیں۔

ان کا مختصر تعارف یہ ہے کہ انھوں نے اسلامیہ ہائی سکول ڈنگہ سے میٹرک کرنے کے بعد گورنمنٹ اصغر مال راولپنڈی سے پروفیسر کرم حیدری جیسے جید اساتذہ کے زیر سایہ گریجویشن مکمل کی۔ کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کرنے کے بعد سندھ لا کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کر کے لاہور سے اپنی وکالت کا آغاز کیا۔ آزاد کشمیر کی جوڈیشل سروس کا امتحان پاس کر کے بطور سب جج ملازمت کا آغاز کیا۔ سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ آج کل میرپور بار کے سینئر ممبر ہیں۔ آپ نے کالج کے زمانے سے غزلیں کہنی شروع کیں اور ابتدا میں اپنے اساتذہ سے اصلاح لیتے رہے۔ ملازمت کے دوران لا تعداد مشاعروں میں حصہ لیا۔ آپ کا کلام ملک کے ممتاز اخباروں جنگ، نوائے وقت کے علاوہ ادبی رسالے فنون اور سہ ماہی تخلیق میں بھی چھپتا رہا۔

” چراغ پلکوں پر “ ان کا نیا مجموعہ کلام ہے۔ خوب صورت آنکھ کی حسین پلکوں کے پس منظر میں دیدہ زیب رنگوں سے سجے سرورق کے ساتھ 135 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت مجموعہ کلام کو مثال پبلشر فیصل آباد نے شائع کیا ہے۔ ان کا یہ مجموعہ کلام حمد و نعت کے علاوہ ان کی ستر سے زیادہ غزلوں، چند نظموں اور کچھ ملی نغموں پر مشتمل ہے۔ آصف ثاقب ایبٹ آباد کے دور دراز پہاڑی علاقہ میں بسنے والے شاعر ہیں، وہ کہتے ہیں۔ زید اللہ فہیم نے غزلیہ شاعری میں بھرپور تغزل کا اہتمام کیا ہے انھوں نے نہ تو خوشہ چینی کی اور نہ ہی کسی کے زلہ ر با رہے۔ ان کے بہت سے شعر دل میں رچ بس جانے والے ہیں۔

ہزارہ کی علمی و ادبی شخصیت اور شاعر سلطان سکون ان کے بارے میں رقم طراز ہیں۔

”آپ ماشااللہ بہت اچھے اور قادرالکلام شاعر ہیں۔ در اصل آپ وکیل ہیں اور شاعر بھی، دونوں کا مشغلہ لفظوں سے کھیلنا ہے۔ شاعر الفاظ سے کھیل کر ذاتی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن شاعر سچ کی پاس داری اور طرف داری بھی کرتا ہے۔ پروفیسر رفیق بھٹی کا کہنا ہے کہ ان کا کلام سادگی و بے ساختگی، معنویت، مقصدیت اور زبان و بیان کے بہترین امتزاج سے لبریز ہے۔ معاشرتی زندگی کے محرکات اور متغیرات پر ان کی گہری نظر ہے۔ دل آویزی کے ساتھ خیال افروزی اور محبت کی فراوانی ان کے کلام کے نمایاں خواص ہیں۔

” چراغ پلکوں پر “ کے آغاز میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرتے ہوئے اپنے لئے اللہ سے کرم کی التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

فہیم خستہ ہے ناچار و تنہا
نظر اس پر کرم کی اے خدا ہو
حمد کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ میں بھی وہ عاجزی سے کہتے ہیں کہ میری آنکھیں در مصطفے پر لگی ہیں۔
سوئے مدینہ آنکھیں ہیں مری لگی ہوئی
اے کاش عمر بھر یہی دل کی لگن رہے

ماضی میں جب شاعر اپنی شاعری میں ساغر و مینا کا ذکر کرتے تھے توان میں سے اکثر ساغر و مینا کا تجربہ کر چکے ہوتے تھے۔ عصر حاضر کے شعرا کے لیے تو بادہ خواری اور ساغر و مینا خواب و خیال ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب وہ ان باتوں کا صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔ مرزا صاحب نے اپنی ایک غزل میں ساغر و مینا کا ذکر بالکل ہی مختلف پیرائے میں کیا جو مجھے بہت پسند آیا۔

شراب و ساغر و مینا اگرچہ ہیں مگر پھر بھی
گھٹا چھائی نہیں اب تک گگن کی آزمائش ہے
کسی کی یاد میں جلنا اسے بھی تو جلا دے گا
یہ مرا حسن ظن ہے حسن ظن کی آزمائش ہے

” چراغ پلکوں پر “ میں مرزا صاحب کی ستر سے زائد غزلیں ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ”غزل شاعری کی ایک مقبول ترین صنف ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا یا پھر عورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے لیکن بعض اوقات پوری غزل بھی ایک ہی مضمون پر مبنی ہو سکتی ہے۔ غزل میں شاعر اپنے محبوب کے حسن و جمال، اس کے عشوہ و ناز، اس کے ظلم و ستم اور ہجر و وصال کی باتیں بیان کرتا ہے۔ لیکن عصر حاضر میں غزل کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے جس میں زندگی کے ہر موضوع پر بات کی جاتی ہے۔ مرزا صاحب نے بھی یہی اسلوب اپنایا ہے۔

ہم اس کی خوش بیانی سے بہت مسحور تھے لیکن
جب اس کے قرب میں بیٹھے جدا تصویر دیکھی
ایک دوسری غزل میں وہ کہتے ہیں۔
زندگی کی ہر عمارت اس طرح ڈھ گئی
ریت کی دیوار جیسے پانیوں میں بہہ گئی
راستوں کے پیچ و خم میں گم ہوئی ہے زندگی
اب فقط تصویر باقی دیکھنے کو رہ گئی
گفتگو کردار ہی کی زندہ رہتی ہے فہیم
پھول کی خوشبو مجھے یہ جاتے جاتے کہہ گئی
اسد اللہ خان غالب نے کہا تھا
سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے

مرزا صاحب نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر عدلیہ میں گزارا اور اب بھی وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ انھوں نے بھی اپنی ایک غزل میں کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔

اس شہر بے اماں میں مشکل میں جب پڑے
اس کے سوا کسی کو پکارا نہیں ہے دوست
کہتا ہوں شعر اپنے مذاق سخن سے زید
کچھ شاعری پہ اپنا گزارہ نہیں ہے دوست

ان کی غزلوں کے مضامین میں تنوع ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کو انھوں نے اپنی مشق سخن کا حصہ بنایا ہے۔ ان کی اس غزل کے دو اشعار ایسے ہی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

اس کی آنکھوں میں جو بھی ڈوبا ہے
پھر وہ مشکل ہی سے سنبھلتا ہے
زید احباب اٹھتے جاتے ہیں
ہر گھڑی درد دل میں پلتا ہے

مصطفے زیدی نے اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ میرے گھر کا راستہ کا بہت دشوار ہے اگر تم نے ملنے آنا ہے تو پتھروں سے بنے اسی راستے سے چل کر آنا ہو گا۔

انہی پتھروں پر چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفے زیدی کے لہجے میں ایک حکم تھا۔ لیکن زیداللہ صاحب کا معاملہ الٹا ہے ان کے لہجے میں التجا ہے۔ وہ اپنے محبوب کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم سے ملے مدتیں گزر گئی ہیں۔ میرے گھر کا راستہ تیرے نہ آنے سے سونا پڑا ہے

ہم آج بھی ہیں منتظر اے جان آرزو
سونا پڑا ہے تیرے بنا گھر کا راستہ

اور سب سے آخر میں ان کی ماں پر لکھی نظم پڑھ کر میں بے اختیار رو دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ تو میری بے جی کی بات ہو ر ہی ہے۔

سر میں مہندی
منہ پہ جھریاں
چال بھی دھیمی
راہ چلتے جب بھی دیکھوں
ایسی ہستی یار
مجھ کو اپنی ماں یاد آئے
یاد آئے تو آنکھیں برسیں
جیسے میگھ ملہار۔

(یہ مضمون مرزا زید اللہ فہیم کے مجموعہ کلام ”چراغ پلکوں پر “ کی تقریب رونمائی منعقدہ میرپور ڈسٹرکٹ بار کونسل ہال میں پڑھا گیا)

Facebook Comments HS