نو آبادیاتی قابضین اور انسانیت کا آخری معرکہ
میڈیکل سائنس میں ہونے والی جدید تحقیقات کے سبب آج ہم اچھے سے جانتے ہیں کہ وٹامن ہماری زندگی میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی ایک وٹامن کی کمی بھی بدن میں نا موزوں تبدیلیوں کا باعث بن جاتی ہے جس کے نتیجے میں انسان موت کے منھ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ وٹامن سی اسی قبیل کا ایک اہم عنصر ہے جو انسان کی قوت مدافعت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، اس کی کمی سے سکروی نامی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری انسانی زندگی کو غیر معمولی حد تک نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کا ہل جانا، مسوڑھوں سے خون بہنا، مایوسی اور تکان کا بڑھ جانا، بدن پہ زخم نمودار ہونا اور بخار اور یرقان اس کی عام علامات ہیں۔ اس کی تشخیص سے پہلے تک اس بیماری کا بڑا شکار بحری مسافر ہوا کرتے تھے، جس کا بڑا سبب کئی کئی ماہ کے لیے ایسی غذا کا استعمال تھا جو وٹامن سی سے خالی ہو۔ 1747 میں ایک برطانوی ملاح نے تجرباتی طور پہ اس بیماری کے علاج کے لیے ترش پھل استعمال کیا جو کامیاب ثابت ہوا، نسل انسانی کی اس کامیابی نے دنیا کے تمام انسانوں کے لیے تباہی و بربادی کی جہنم کے دروازے کھول دیے۔
پندرہویں اور سولہویں صدی میں اہل یورپ کو نئی نئی زمینیں اور نئے ممالک تسخیر کرنے کی چاٹ لگی، انھوں نے اس کا آغاز اپنے اطراف سے کیا، زمینی راستے سے جڑے تمام خطے آہستہ آہستہ نوآبادیات میں بدلنے لگے، اس کے ساتھ ساتھ بحری سفر کے ذریعے ہر سال نت نئے خطے دریافت اور قید ہونے لگے، سکروی کا علاج مل جانے کے بعد دور دراز سفر ممکن ہونے لگا، اور اسی سفر کے نتیجے میں ان سفید پوست درندوں سے اب تک بچ جانے والوں کی بدبختی کا آغاز ہو گیا۔ پندرہویں صدی میں امریکہ دریافت ہوا تو اس کی مقامی آبادی سے چھٹکارا پانا ضروری ہو گیا تھا، جس کے لیے معدنی وسائل سے مالامال امریکیوں نے مذہب سے لے کر ثقافت تک ہر چیز کا سہارا لیا اور انھیں قتل کرنے اور غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا۔
اسی طرح آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بہاماس اور دیگر جزیروں کی مقامی آبادیوں کو غلام بنانا، فرار پہ مجبور کرنا اور بالآخر قتل عام کرنا ان چند صدیوں میں اہل یورپ کا سب سے بڑا کام رہا ہے۔ سپین، فرانس، پرتگال اور برطانیہ اس سب میں پیش پیش تھے۔ سپین نے میکسیکو کے ازٹک حکمرانوں کو گھیرا، آپس میں لڑوایا، کشت و خون کا سہارا لیا اور ایک صدی کے اندر اندر وہاں موجود تمام غیر یورپی انسانوں کا صفایا کر دیا، ایسی ہی داستان آسٹریلیا کی ایبروجنی نسل اور نیوزی لینڈ کی ماؤری نسل کے ساتھ پیش آئی۔ تسمانیہ کی مقامی نسل کو تو مارنے کے بعد بطور نمونہ لیبارٹریوں میں رکھا گیا تا کہ ان پہ تحقیق کی جا سکے، فرانس نے بھی افریقی غلاموں کے کاٹے گئے اعضا ایک لمبے عرصے تک میوزیم میں سنبھال کے رکھے۔
یورپی آبادی سے الگ تھلگ جزیروں پہ رہنے والی ان نسلوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ یہ یورپ کے مقابلے میں سادہ لوح اور دوسروں پہ قبضے کے خواب دیکھنے والے نہیں تھے، لہذا ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انھیں جیسے چند سو انسان اس زمانے کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئیں گے اور بلا مبالغہ ان سب کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ان نسلوں کو جانوروں کی کوئی قسم سمجھ کر زنجیروں سے باندھا جاتا، یورپ میں نمائش کے لیے پیش کیا جاتا، ان کے اعضا کاٹ کر اذیتیں دی جاتیں اور اسی طرح ان کو بد تہذیب اور وحشی کہ کر نام نہاد تربیتی کیمپوں میں قید کیا جاتا جہاں مذہبی جذبے سے سرشار عیسائی پادری انھیں پوری طاقت سے مذہبی تعلیمات دیتے، اس دوران میں اگر ستر اسی فیصد قیدی مر بھی جاتے تو یہ کوئی بڑا نقصان نہیں تھا کیوں کہ بالآخر یہ یورپی نہیں تھے۔ برصغیر اس اعتبار سے خوش نصیب رہا کہ یہاں مقامی آبادی کی تعداد بہت زیادہ تھی لہذا تمام تر وسائل لوٹنے کے بعد بھی صرف چند لاکھ افراد کو ہی قتل ہونا پڑا اور بہرحال مقامی آبادی کا نشان باقی بچ گیا۔
دنیا کے قدیم ترین اور آباد ترین خطوں میں سے ایک خطہ اس تباہی کا آخری اور سب سے اہم شکار بنا، خطہ فلسطین جو چند ہزار سالہ تاریخ کے سبب سامی مذاہب کے لیے اہمیت کا حامل بھی ہے اور وسائل کے اعتبار سے بے مثال بھی، اس کے علاوہ پورے مشرق وسطیٰ کو قبضے میں رکھنے کے لیے ایک کلیدی نکتہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی زمین پہ اگر یورپ والے للچائی نظروں سے نہ دیکھیں تو تعجب کرنا چاہیے۔ یورپ ہی میں ہونے والے مظالم کو بنیاد بنا کر اور مذہبی عقائد کا سہارا لے کر اس خطے کی مقامی آبادی کو غلام بنانے کے لیے ہونے والی مہم جوئی کا آغاز غالباً گزشتہ صدی کے آغاز میں ہوا، ابتدا میں ہٹلر کے مظالم کا ڈھنڈورا ایسے پیٹا گیا کہ کسی کو یہ سوال پوچھنے کا بھی موقع نہیں مل سکا کہ یورپ میں ہونے والے سانحات کا بدل عربوں سے کیوں لیا جا رہا ہے۔ چند دیہات عرب بدووں سے خرید لیے، باقیوں کو بیچنے پہ مجبور کر دیا، جو نہیں مانے انھیں اجاڑ دیا، اور قریب پچاس سال کی انتھک محنت سے پورا ملک آباد کر لیا گیا۔
اب اگلا مرحلہ وہی تھا جو آج سے پہلے پیش آتا رہا، مقامی آبادی کا کیا کریں۔ اس کا پہلا حل یہ تھا کہ ان پہ مذہبی حملے کیے جائیں، مذہبی جنونیوں کو تیار کیا جائے کہ وہ اس جذبے سے انھیں قتل کریں، دوسرا کام یہ تھا کہ ان کے وسائل اپنے ہاتھ میں لے کر انھیں محتاج بنائیں، تیسرے یہ کہ ان کو ایسے رد عمل پہ مجبور کریں کہ دنیا کے سامنے انھیں ظالم اور خود کو مظلوم ثابت کریں، یہ سب کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ایک اور چیلنج جس کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ تھا کہ دنیا میں نوآبادیات کو آزاد کرنے کا چلن چل نکلا تھا، اب قبضہ برقرار رکھنا مزید مشکل ہو گیا، لہذا پہلے سے زیادہ پراپیگنڈے کے ضرورت تھی، مذہبی کارڈ پہ عیسائی کی بجائے یہودی لکھا تھا لہذا اس بار دنیا کے بڑے وسائل قبضہ کرنے والوں کے پاس تھے۔ سب کچھ ٹھیک ویسے ہی چل رہا تھا جیسے سپین والوں نے ازٹیک حکمرانوں کے ساتھ کیا تھا، لیکن پھر اچانک مقامی آبادی میں سے کچھ لوگوں نے انسان ہونے کا دعویٰ کر دیا اور انھوں نے زنجیروں میں باندھا جانا، جانوروں کی طرح نمائش میں رکھا جانا اور غلام بننا قبول نہیں تھا۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ انھوں نے ان عزائم کو جلد بھانپ لیا، یہ ایسی صورتحال تھی جو آج سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی تھی، عام حالات میں جب تک مقامی آبادی کو معاملہ سمجھ آتا ان کا صفایا ہو چکا ہوتا تھا۔ یہاں پہلی مرتبہ انھوں نے علاقہ خالی کروایا اور پھر مرحلہ بہ مرحلہ پھیلنے لگے، اس دوران فلسطینیوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا، انھوں نے پتھروں کی مدد سے ہی سہی لیکن جنگ کا آغاز کر دیا، دوسرا اہم معاملہ انقلاب ایران کا رونما ہونا تھا جو اپنی ذات میں ہی امریکہ پہ قابض یورپی نسل پرستوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا اعلان تھا لیکن کسے خبر تھی کہ یہی ناکامی انھیں مزید مہنگی پڑنے والی ہے، یہاں یورپ کے مقابلے کی ٹیکنالوجی بننے لگی اور اس پتھروں سے لڑنے والی مقامی آبادی کو منتقل بھی ہونے لگی، اب یہ مقامی گروہ سادہ لوح افراد کا مجموعہ نہیں رہ گیا تھا بلکہ دنیا کی بہترین جنگی حکمت عملی کا حامل ایک مضبوط متحارب گروہ بن چکا تھا اور اہل یورپ آج اپنے انسانی حقوق کے تمام دعووں کا نقاب الٹ کر اسی درندگی کے ساتھ برہنہ حالت میں اس نو آبادی کا قبضہ بچانے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
یہ شاید انسانیت اور انسان دشمن یورپیوں کا آخری بڑا معرکہ ہو گا جس کے بعد انسانیت ان سفید پوست درندوں کی حکمرانی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات پا لے گی۔


