ایسے ظلم سے چور کا مر جانا ہی بہتر ہے
میرے گھر میں کام کرنے والے ملازمین انتہائی سست ہیں۔ ان کو تمیز ہی نہیں کام کرنے کی۔ مجال ہے کوئی کام ڈھنگ سے کر دیں۔ ایک کام سو بار سمجھانا پڑتا ہے۔ نہ سمجھاؤں تو جیسا تیسا کام کر کے سو مر جاتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی ان کو اتنی نیند آ کیسے جاتی ہے۔ یہی دیکھ لیں ہم سب رات کو جاگ رہے ہوتے ہیں اور یہ ادھر کچن میں کرسی پہ بیٹھے بیٹھے سو جاتے ہیں۔ صبح سات بجے میں اپنی نیند خراب کر کے انھیں جگاتی ہوں تاکہ ہمارے سو کے اٹھنے تک یہ سارے نہیں تو آدھے کام ہی نمٹا لیں۔ لیکن نہ جی، حرام ہے جو یہ سر پہ کھڑے ہوئے بنا ڈھنگ سے کوئی کام کر لیں۔
ایک بجے تک مشکل سے گیراج، لان اور ٹی وی لاؤنج کی صفائی کریں گے۔ محض مالکوں کو تکلیف دینے کے لیے جان بوجھ کر کچھ نہ کچھ گند چھوڑ آتے ہیں۔ میں دو بجے سو کر اٹھوں تو ان حرام خوروں سے دوبارہ سے صفائی کروانا پڑتی ہے۔ دس مرلے کے لان کو دھوپ میں کھڑے ہو کر صاف کروانا آسان کام نہیں، لیکن کرنا پڑتا ہے۔ عقل ان کو ہوتی نہیں اور تنخواہ ان کے پچھلے ہر مہینے پہلی تاریخ کو لینے آ جاتے ہیں۔ جان عذاب میں کر رکھی ہے ان لوگوں نے۔
شانو ہاتھ پکڑ کے بیٹھی ہے اس نے کل میرے قیمتی ڈنر سیٹ کی اکٹھی دو پلیٹیں توڑ دیں۔ میں نے بھی غصے کو دبایا نہیں کہ اگر اسے احساس نہ دلاتی تو ایسی غلطی روز کرتی۔ ان جیسوں کو سیدھا رکھنے کے لیے خاص بنوایا ہوا ڈنڈا نکال کر اس کی انگلیوں پہ مارا، تاکہ اسے یاد رہے۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ جان سے مار دوں۔ لیکن اللہ کی ذات سے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے چھوڑ دیا۔ اور اب نواب زادی انگلی ٹوٹنے کا بہانہ لے کے بیٹھ گئی ہے۔ سارے ڈرامے ہیں کام نہ کرنے کے۔ کہ ہم مرہم پٹی کرنے کے ساتھ نخرے بھی برداشت کریں ان کے، ہونہہ۔ کام اس کا باپ کرے گا آ کے۔ یا اللہ کب ہو گا سب کچھ، میرا تو سوچ سوچ کے ہی بی پی بڑھ رہا۔ دو بج گئے ہیں لیکن ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ کھانا وغیرہ تو کک کے ذمہ ہے لیکن یہ ملازمین گھر تو دیکھیں۔ کل انھیں بتایا بھی تھا کہ آج رات بہت خاص دعوت ہے۔ ہر چیز شیشے کی طرح چمکتی ہو لیکن انھیں کیا، کام کرنا تو موت ہے ان کی۔ پچھلے سال انکم ٹیکس کے افسر کو بیس لاکھ تحفے کی صورت دیے تھے کہ ہمارا خیال رکھے۔ لیکن منحوس کی بدلی ہو گئی اور اس سال پھر پچاس لاکھ کا ٹیکس آ گیا۔ ہم ٹیکس ہی بھرتے رہے تو کاروبار خاک کریں گے۔ بس اسی پریشانی سے نجات کے لیے دعوت رکھی ہے آج۔ افسر راضی ہو گیا تو سمجھو ہماری مشکل بھی ختم ہو جائے گی انشاءاللہ۔
اور یہ میرو کمبخت نے بھی آج ہی کرنا تھا یہ سب۔ بس اب میرا صبر جواب دے گیا ہے، میں اسے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ اس کی یہ جرات کہ میری بچی کے فیڈر سے دودھ پی جائے۔ کچھ بھی ہو اس کی یہ غلطی تو معاف نہیں کرنے والی میں۔ ایسا سبق سکھاؤں گی اس کو کہ آئندہ چوری کرنے کا سوچے گی بھی نہیں۔
اب چیخ و پکار ڈال رہی ہے۔ بچی کے فیڈر سے چوری دودھ پیتے تجھے شرم نہ آئی۔ بھئی بہت ہی سخت ہڈی ہے تیری۔ اللہ بخش اس کو اوپر کمرے میں لے کر آؤ میں استری گرم کر کے لاتی ہوں۔ ایسی سزا دوں گی کہ یاد رکھے گی، کہ چوری کرتے کیسے ہیں۔
بی بی چھوڑ دیں، اس کی حالت پہلے ہی بہت خراب ہو چکی ہے۔ تیرہ سالہ اللہ بخش کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اس کی اپنی رنگت زرد ہو رہی تھی اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ تم ڈھیٹوں کو کچھ نہیں ہوتا۔ اور اگر مر جائے گی نا تو اس کی جگہ کوئی اور آ جائے گی۔ اور سنو اگر تم نے اس کے بارے کسی کو بتایا تو پھر تمھارا جو حشر ہو گا اس کا تم خود سوچ لو سمجھ آئی۔ بارہ سالہ میرو کی آہ و بکا جاری تھی۔ خوف کے مارے شانو کسی کونے میں چھپی ہوئی تھی۔ تیرہ سالہ اللہ بخش مجبور تھا۔ وہ میرو کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اللہ بخش نے دل سے دعا کی کہ میرو مر ہی جائے کہ ایسے چور کا مر جانا ہی بہتر ہے۔


