سیاست کا بے رحم کھیل اور جیل کہانیاں
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے جب کہ کچھ لوگوں کے لئے سیاست عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور وہ مقصد کے حصول کے اپنی پوری زندگی ایک ہی جماعت کے گیت گاتے گزار دیتے ہیں۔ یہ وادی اتنی پرکشش ہے کہ مصائب و آلام کے باوجود اس سے باہر نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔ لوگ جیلیں کاٹتے ہیں اور خوشی خوشی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت لیتے ہیں لیکن اف نہیں کرتے سیاست کے کھیل کے کچھ قواعد و ضوابط ہوتے ہیں۔ ان قواعد و ضوابط کے اندر رہ کر کھیل کھیل جائے تو واقعی عبادت سے کم نہیں لیکن جب اقتدار کی لڑائی میں فاؤل کھیلا جائے تو پھر یہ کسی طور پر بھی عبادت نہیں رہتا لیکن بلکہ اقتدار کے حصول کی جنگ میں فاؤل کھیلنا ہی سیاست کہلاتی ہے۔
سیاست میں مکالمہ مسائل کے حل کی راہ دکھاتا ہے۔ جمہوری ممالک میں ووٹ کی پرچی سے حکومت بنتی بھی ہے اور گرتی بھی لیکن جب ووٹ کی پرچی کے ذریعے جمہوری معاشروں میں اقتدار کی منتقلی ممکن نہ رہے تو پھر ووٹ کی پرچی پر یقین رکھنے والے اپنے ہاتھ میں برچھی اٹھا لیتے ہیں جب یہی لوگ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور سرخ لائن عبور کرنے کرتے ہیں تو پھر ریاست کا آہنی ہاتھ ان سے بے دردی سے نمٹتا ہے۔ بعض اوقات ریاست کا غصہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ ریاست سے الجھنے والوں کی چیخیں نکال دیتا ہے۔
قیام پاکستان کو 76 سال ہو گئے ہیں لیکن ہم اپنے ملک کو مکمل جمہوری بنا سکے ہیں اور نہ ہی جمہوری معاشرہ تشکیل کر سکے ہیں۔ ہم اپنا تقابل ان جمہوری ممالک سے کرتے ہیں۔ جہاں صدیوں سے جمہوری حکومتیں قائم ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا ان ممالک نے کس قدر کٹھن حالات میں جمہوری سفر طے کیا ہے۔ کتنے سپیکرز نے اپنے جمہوری حق منوانے کے لئے اپنے سرقلم کروائے ہیں۔ صدیوں کی جد و جہد کے بعد اب ان ممالک میں کسی طالع آزما کو جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کی جرات نہیں ہوتی اگر کسی نے جرات کی تو اس کی قبر سے لاش نکال کر پھانسی دی جاتی ہے۔
جمہوری ممالک جہاں لولی لنگڑی جمہوری حکومت ہی کیوں نہ ہو جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کا احترام کیا جاتا ہے جن معاشروں آمرانہ حکومتیں ہوتی ہے۔ وہاں شہری آزادیوں کی پامالی کو جرم تصور نہیں کیا جاتا بلکہ آمریت کو برقرار رکھنے کے لئے محکوم لوگوں پر ہر ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند ایک صدی سے زائد فرنگی راج رہا ہے لیکن مادر جمہوریت جسے گریٹ بریٹین بھی کہا جاتا تھا۔ میں کبھی سورج پوری غروب نہیں ہوتا تھا۔
سنہ 1857 کی جنگ آزادی سے قیام پاکستان تک آزادی کی مختلف تحاریک چلتی رہیں ان تحاریک کے روح رواں علما کرام رہے ہیں۔ تحریک آزادی کے متوالے پھانسی کے تختوں پر جھولتے رہے اور نئی تاریخ رقم کرتے رہے۔ برصغیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی آزادی کی تحاریک کے تقاضے ہی بدل گئے پاکستان اور بھارت کا قیام جمہوری طریقے سے عمل میں آیا۔ اگرچہ دونوں ممالک میں جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں لیکن پاکستان میں بار جمہوریت حادثات کا شکار ہوتی رہی۔ کبھی طالع آزماؤں نے جمہوریت کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا کبھی جمہوریت کے علمبرداروں نے جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جمہوری حکومتوں میں بھی شہری آزادیوں پر پابندیاں لگتی رہی ہیں اور آمرانہ حکومتوں میں تو شہری آزادیاں اس نظام کی ضد ہوا کرتی ہیں لیکن ہر دور میں شہری آزادیوں کی سرخ لائن ہوا کرتی ہے۔
جب کوئی شخص اس سرخ لائن کو عبور کرتا ہے تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ حکومت قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جیلیں بھرتی ہے تو عدالتیں لوگوں کے شہری حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ سیاست میں جیل جانا معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ سیاست دانوں کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ راولپنڈی کی ایک نامور سیاسی شخصیت سید علی اصغر شاہ نے ایوب خان کے اقتدار کے عروج میں بی ڈی نظام میں ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ان کے نامزد امیدوار کو شکست دے کر ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے ائرپورٹ اترے تو ان کا استقبال کرنے والے بنگالی لیڈروں کا تعارف کرایا گیا تو ہر ایک نے اپنے سر پر جیل یاترا کا تاج سجایا ہوا تھا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں سیاسی لیڈروں نے آمرانہ حکومتوں کے خلاف تحاریک میں جیلوں سے بھر دیا سیاست کبھی بھی پھولوں کی سیج نہیں ہوا کرتی یہ کانٹوں کا بستر ہوتی ہے جس میں کل تک وزیر اعظم کے منصب پر ایک طاقت ور شخص بیٹھا ہوتا ہے۔ اگلے روز وہی شخص اٹھا کر جیل میں پھینک دیا جاتا ہے اور پھر شخص تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ذوالفقار علی بھٹو کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہیں یقین تھا کہ انہیں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے گا لیکن محض اس وجہ سے رحم کی اپیل نہیں کی کہ ان کی اپیل مسترد ہو جائے گی بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے رحم کی اپیل کی تو ان کا دامن داغدار ہو جائے گا اور ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہو گا جو زندگی کی بھیک مانگ کر باہر آیا ہے۔ کل کی بات ہے جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ان کے خلاف طیارہ اغوا کرنے کا جھوٹا مقدمہ چلایا گیا میں نے نواز شریف سے اٹک قلعہ میں خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر ملا تو نواز شریف بہت کمزور ہو گئے تھے کیونکہ پرویز مشرف کا بس چلتا تو ان کو سزائے موت دلوا دیتا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہی شخص جسے ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا پھر تیسری بار وزیر اعظم بنا۔ 6 سال قبل اسے اقتدار سے الگ کر کے پاکستان کی سیاست نکالنے کی شعوری کوشش کی گئی اب پھر وہی شخص امید پاکستان بن کر واپس آ رہا ہے۔
کمپرومائز کر کے جیل سے نکل جانے کا الزام آج بھی ان کا تعاقب کر رہا ہے۔ سیاست میں سرد گرم موسم آتا رہتا لیڈر اپنے قدموں پر کھڑے رہتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کے لئے بہادری کی ایسی داستانیں چھوڑتے ہیں جن پر نہ صرف وہ فخر کرتے ہیں بلکہ ان کے پیرو کار بھی خوشی و انبساط سے ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
میں سیاست کی پرخار وادی میں شوقیہ قدم رکھنے والوں ہمیشہ مشورہ دیتا ہوں کہ ان لیڈروں کی سوانح حیات کو ضرور پڑھ کر آئیں جنہوں نے جیلوں کو آباد کیا کچھ نے تو اپنی زندگی کا آخری سانس جیل کی کال کو ٹھٹری میں لیا۔ 1971 کی جنگ میں متحدہ پاکستان کے لیے لڑنے والے درود پاک کا درد کرتے تختہ دار پر جھول گئے لیکن کسی سے گلہ کیا اور نہ ہی معافی مانگ کر اپنے منہ پر کالک ملی۔ سید ابو اعلیٰ مودودی ؒ اور مولانا عبدالستار خان نیازی کو سزائے موت سنائی گئی تو انہوں رحم کی اپیل اپنی جوتی کی نوک پر رکھی۔ باچا خان، خان عبدالولی خان، چوہدری ظہور الہی، آغا شورش کاشمیری سمیت متعدد لیڈروں نے بہادری سے جیل کاٹی۔
دور حاضر میں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، سید خورشید شاہ سمیت متعدد لیڈروں نے قید کاٹی ہے لیکن کوئی بھی اپنی رہائی کے لئے اپنے لیڈر کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بنا اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر آ کر اپنی پارٹی سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ 9 مئی 2023 ء کے افسوس ناک واقعات کے بعد جس طرح ایک سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے پارٹی کو چھوڑا اس کی مثال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی یہ ایک سیاسی المیہ سے کم نہیں۔

