حماس کا جادو


7 اکتوبرصبح 6 بجے : اسرائیل پر غزہ کی حکمران جماعت حماس کا حملہ، نیتن یا ہو کی حکومت کا فلسطینیوں پر زمین تنگ کرنے اور اس تباہی کا جواب ہے جو مسلمانوں کے خلاف یہودی مذہبیت اور ذہنیت کی پیداوار ہے۔ ”فلسطینی عوام 75 سال سے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور آپ ہمارے لوگوں کے حقوق تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔“ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اپنے ہر انٹرویو میں یہ جملے نوحہ خوانی یا اسرائیل سے رحم کی درخواست کرنے کے لئے تکرار نہیں کرتے بلکہ اس صورتحال کی نشاندہی کرنے کے لئے کرتے ہیں جو اسرائیل پر حملہ کرنے کے لئے حماس کو پرعزم کرتی ہے۔

حماس کے اسرائیل پر حملے کے جو مظاہر سامنے آئے ہیں وہ سب کے لیے حیران کن اور خلاف توقع ہیں۔ غزہ کی چھوٹی سی پٹی جس میں اسرائیل کے لیے مخبری کرنے والوں کا جال پھیلا ہوا ہے وہاں سات ہزار میزائلوں کا جمع کرنا اور پھر زمینی، بحری اور فضائی راستوں سے فائر کر دینا اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بدترین کارکردگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کی وہ انٹیلی جنس ایجنسیاں جن کا دنیا میں شہرہ ہے، ناکام رہی۔ پھر القسام بریگیڈ اور دیگر مجاہدین کا موٹر سائیکلوں، پیراگلائیڈرز اور کشتیاں استعمال کرتے ہوئے غزہ کے علاقے سے اسرائیل میں داخل ہو جانا، اسرائیلی گاڑیوں کو قبضے میں لینا اور ٹینکوں کو تباہ کر دینا اس بات کا اعلان تھا کہ وہ اسرائیلی گراؤنڈ موشن سینسرز اور ریموٹ کنٹرول منی کینن جو ماضی میں سرحدی باڑ پر حملے کرنے کے خلاف بہت موثر ثابت ہوتے رہے ہیں مجاہدین نے انھیں مکمل طور پر ناکام کر دیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس میں ایرانی سائبر ہیکرز کا کمال ہے۔ یہ سینسرز سرحدی باڑ پر انسانی جسم کے درجہ حرارت سے متحرک ہو کر اسرائیلی فورسز کو مطلع کر دیا کرتے تھے لیکن ایرانی ہیکر نے بڑی مہارت سے اس سسٹم کو جام کر دیا اور ہزاروں فلسطینیوں کے لئے ممکن ہوسکا کہ وہ زمینی اور فضائی اور بحری راستوں سے موٹر سائیکلوں، پیرا گلائیڈرز اور کشتیاں استعمال کر کے اسرائیل میں داخل ہو گئے۔ یہ حفاظتی آلات اور ریڈارز ان کی نشاندہی سے قاصر رہے۔

دی گارڈین نے کہا ہے کہ 50 ویں یوم کپور کے موقع پر حماس کا اسرائیل پر اچانک حملہ ایک طویل عرصے تک اسرائیلی انٹیلی جنس کی نا کامی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ چند گھنٹوں میں غزہ سے درجنوں حملہ آور سرحدی باڑ توڑ کر جنوبی اسرائیل میں داخل ہوئے جنہیں دیکھ کر اسرائیلی فوجی حیران رہ گئے۔ یہ سب کچھ ان کے گمان سے باہر تھا۔ اس موقع پر اسرائیلی بحریہ کے سابق سربراہ ایلی ماروم ٹی وی پر پوچھ رہے تھے ”سارا اسرائیل خود سے پوچھ رہا ہے کہاں ہے آئی ڈی ایف، کہاں ہے پولیس، کہاں ہے سیکیورٹی؟“

اسرائیل پر حماس کا حملہ کوئی جنگجو کارروائی نہیں بلکہ ایک جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ایک ایسی جنگ حزب اللہ کی شرکت کے بعد جس کے محاذوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حماس کی جانب سے ہتھیار اٹھانے اور حماس کا حصہ بننے کی دعوت کے بعد بڑی تعداد میں مجاہدین حماس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔ مغربی کنارے پر بھی شورش کا منظر ہے جو قابو سے باہر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر حزب اللہ کے مجاہدین کارروائی آغاز کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل نے غزہ پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے لیکن غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی موجودگی ایک ایسی صورتحال ہے جس نے اسرائیل کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی آمد کو دیکھتے ہوئے یرغمالیوں کو ختم کیا جانا عین ممکن ہے۔ جو اسرائیل کی ایک اور ناکامی تصور کی جائے گی۔

حماس کے حملے کو پوری دنیا کے مسلمانوں نے شادمانی اور جشن کے جذبات سے خوش آمدید کہا۔ یمن عراق، ایران، لبنان غزہ اور دیگر کئی ممالک میں لوگوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کی حمایت میں مظاہرے کیے جب کہ مسلم ممالک کے حکمران فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے گزشتہ کئی ماہ سے غزہ پر بلا جواز حملوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ غزہ کے مسلمانوں پر بجلی اور پانی تنگ کیا ہوا ہے۔ غزہ کو دنیا کا بد ترین عقوبت خانہ بنا دیا تھا لیکن یہ مسلم حکمران خاموش رہے جیسے ہی اسرائیل کی ہزیمت سامنے آئی ان مسلم حکمرانوں کی زبانیں چلنے لگیں۔ فلسطین میں ظلم کون کر رہا ہے؟ مسجد اقصی گرانے کے درپے کون ہے؟ فلسطین کی 70 فیصد زمینوں پر قبضے سے آغاز کرنے والا اسرائیل آج 94 فیصد سرزمین پر قابض ہے۔ قبضہ گیر کون ہے؟ کس سے واپسی کا کہا جانا چاہیے؟ اسرائیل سے یا فلسطین سے؟ یہ مسلم حکمران دراصل اسرائیل کا سایہ اور اسرائیل کی اصل قوت ہیں۔

مغربی ممالک اور امریکا کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ نہ صرف ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل کی مدد کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ اسرائیل پہلے دن سے امریکا کی ناجائز اولاد ہے۔ ایسی نا جائز اولاد جو دنیا سے بدمعاشی کرے باپ کی حمایت اسے حاصل ہوتی ہے۔ ریپبلکنز کی اسرائیل کے لیے حمایت غیر مشروط ہوتی ہے وہ ہر حال میں اسرائیل کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ڈیمو کریٹس قدرے محتاط طریقے سے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ اسرائیل کو تنبیہ بھی کرتے رہتے ہیں، کچھ فاصلے سے بھی رہتے ہیں، امریکی مفادات کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو دیکھتے ہیں لیکن بہرحال حمایت وہ بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ امریکی صدر بائیڈن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات مثالی نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل میں پچھلے دنوں نیتن یاہو کے خلاف جو مظاہرے ہوئے ہیں اس میں امریکی آشیر باد شامل ہے۔ نیتن یاہو کی شدید ناراضگی کے باوجود امریکا ایران سے بہتر تعلقات کی طرف مائل ہے لیکن ان سب عوامل کے باوجود امریکا ان حملوں کے بعد اسرائیل کی حمایت میں آگے آگے ہے۔

خطے میں مسلم ممالک کی طرف سے اسرائیل کے حق میں جو نئی صف بندی ہو رہی ہے حالیہ حملے یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہیں ان معاملات میں اہل فلسطین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسماعیل ہنیہ نے پچھلے دنوں الجزیرہ پر ایک انٹرویو میں کہا تھا ”معمول کے تمام معاہدے جن پر آپ (عرب ریاستوں ) نے (اسرائیل ) کے ساتھ دستخط کیے ہیں اس سے یہ تنازع ختم نہیں ہو گا“ حماس کا حملہ ان عرب ممالک کے لئے جو بڑی تیزی کے ساتھ اسرائیل کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں اور ان معاملات میں امریکی جو پس پردہ اور پیش کردہ کردار ادا کر رہے ہیں جسے مشرق وسطی میں حالات معمول پر لانے کی کوششوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، حماس کے تازہ حملے کے بعد ان کوششوں کی رفتار میں کمی آ سکتی ہے۔

امریکا سعودی عرب سے اسرائیل کو تسلیم کروانا چا ہتا ہے۔ سعودی عرب اس کے لئے تیار ہے لیکن وہ چا ہتا ہے کہ بدلے میں اسرائیل برائے نام ہی سہی کچھ حصوں سے فلسطینیوں کے حق میں دستبردار ہو جائے تاکہ سعودی عرب کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا جواز پیدا ہو سکے اور وہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم نے اہل فلسطین کو اسرائیل سے ان کے حقوق دلوائے ہیں۔ معاملہ دو ریاستی حل کی صورت اختیار کرسکے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نیتن یا ہو ایک انچ سرزمین سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔

بہرحال معاملات جس طرف بھی جائیں لیکن حماس نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو پاش پاش کر دیا ہے۔ جو ملک ایک چھوٹی سی تنظیم کا حملہ برداشت نہ کر سکا اور چیخ اٹھا تصور کیجیے اگر مسلم ممالک کی مشترکہ قوت سے اس پر حملہ آور ہوں تو اسرائیل کا کیا حال ہو گا لیکن مسلم ممالک کے موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں ایسا مشترکہ حملہ خیال ہے محال ہے اور جنون ہے۔

Facebook Comments HS