آنسو پونچھیے، یہ کام کرنے کا وقت ہے!


اللہ قوموں کے مابین دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ اس کے ہاں کا ایک ایک دن ہمارے دس، بیس اور پچاس ہزار کے برابر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ہمارے اور ہم پر ظلم ڈھانے والی قوموں کے مابین دنوں کو اب پھر کب پھیرتا ہے۔ لیکن اللہ قوموں کے درمیان دنوں کو یونہی نہیں پھیرتا۔ اس کام کے لئے اس نے کچھ مبادی و اصول طے کر رکھے ہیں۔ وہ قوموں کے عروج و زوال کو انہی قواعد اور ضوابط کے مطابق طے کرتا ہے۔ یہی اس کی سنت ہے اور اللہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا۔

جمہوریت مسلمانوں کی میراث تھی۔ محض چند عشروں کے اندر مگر ہم نے ملوکیت کو طرز حکمرانی بنا لیا۔ تمام کمزوریوں کے با وصف مگر نویں صدی عیسوی کے بعد لگ بھگ چار سو سال مسلمانوں کی اٹھان کا دور تھا۔ بغداد، ایران اور شام کے بعد سپین تک مسلمانوں نے صحراؤں، پہاڑوں اور سمندروں میں گھوڑے دوڑا دیے۔ بیت المقدس سمیت فلسطین کی سرزمین مسلمان سلطنت میں شامل ہو چکی تھی۔ اللہ کے ہاں مگر کسی سلطنت کو ابدی دوام حاصل نہیں۔

پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام تک جب عیسائی یورپ تاریکی سے روشنی کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرنے کو پر تول رہا تھا تو سپین میں مسلمانوں کی حکومت سمٹ چکی تھی۔ سلطنت عثمانیہ اپنے عروج کے اس مقام پر کھڑی ان تمام علتوں کا شکار ہو چکی تھی جو قوموں کے زوال کا باعث بنتی ہیں۔ مغرب میں کئی عوامل کی بناء پر جب روشن خیالی کا زمانہt) Enlightenmen (Age of انگڑائی لے رہا تھا تو انگلستان کی پارلیمنٹ نے بادشاہ کے جنگیں چھیڑنے اور ان پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے کی خاطر ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات کو ختم کیا تو بتدریج قانون سازی کے ذریعے دیگر شاہی اختیارات کو بھی محدود کیے جانے کا سلسلہ چل نکلا۔

اصلاحات کے نتیجے میں معاشرے میں معاشی آسودگی عام ہوئی تو ایک کے بعد ایک ریفارمز بلز آنا شروع ہو گئے۔ برطانیہ کی دیکھا دیکھی جمہوری تحریکیں دیگر مغربی ممالک میں بھی پھیلتی چلی گئیں۔ ہر گزرتے دن چرچ کی بادشاہت بھی کمزور پڑنے لگی۔ دوسرے طرف عثمانی سلطنت میں مطلق العنان حکمرانی کے ساتھ ساتھ مفتی اعظم کی شکل میں رجعت پسند علماء کا ادارہ جم کر کھڑا تھا۔ یہی وہ ادارہ تھا کہ جس نے سال 1436 ء میں ایجاد کردہ پرنٹنگ پریس کو شیطانی آلہ قرار دے کر اسلامی سلطنت میں اس کے استعمال کو حرام قرار دے دیا تھا۔

اس کے برعکس یورپ میں جہاں چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد جدید علوم پر دھڑا دھڑ کتابیں چھپنا شروع ہو گئیں تو وہیں یونیورسٹیوں سمیت جدید تعلیمی ادارے وجود میں آنے لگے تھے۔ سلطنت عثمانیہ میں سال 1727 ء میں جب پرنٹنگ پریس کو بالآخر قبول کیا گیا تو عیسائی یورپ اپنے مسلمان حریف کے مقابلے میں صدیوں آگے نکل چکا تھا۔ انیسویں صدی میں جہاں مغربی دنیا میں ایجادات کا دور شروع چکا تھا تو وہیں سلطنت عثمانیہ میں تعلیمی نظام سال 1839 ء تک متروک مکتبوں پر استوار رہا۔

دوسری طرف جہاں مغربی جمہوریتیں پھل پھول رہی تھیں، جدید تعلیم عام ہو رہی تھی تو وہیں سائنسی ایجادات کے نتیجے میں ان ممالک کی عسکری قوت میں بھی شبانہ روز اضافہ ہو رہا تھا۔ جدید بحری جہاز، توپیں، اسلحہ اور بارود سامنے آرہے تھے۔ حربی چالیں انہی ایجادات کی نسبت سے بدل رہی تھیں اور فوجوں کی تنظیم نو جدید خطوط پر ہو رہی تھی۔ حیران کن طور پراس دوران عثمانی سلطنت میں دستوری حتیٰ کہ عسکری اصلاحات کی راہ میں کوئی اور نہیں خود عثمانی فوج بالخصوص ینی چری (Janissary) کے دستے حائل تھے۔

جہاں مغربی ممالک عظیم بحری بیڑوں کے بل بوتے پر سمندروں پر راج کر رہے تھے تو وہیں متروک عثمانی بحریہ کی پس ماندگی کے پیچھے عثمانی حکمرانوں کی کاہلی کے علاوہ ترک پیدل فوج کے وہ خدشات تھے جو ایک طاقتور بحریہ اور جدید توپ خانہ کو مدمقابل کھڑا تصور کر کے انہیں لاحق رہتے۔ دستوری، تعلیمی اور عسکری اصلاحات بالآخر جب کسی حد تک نافذہوئیں تو اس وقت تک عثمانی سلطنت اپنے تمام تر یورپی اور ایشیا کوچک صوبوں سے محروم ہو چکی تھی۔ پہلی جنگ عظیم ختم ہونے سے بہت پہلے اتحادیوں نے ’یورپ کے مرد بیمار‘ کے حصے بخرے آپس میں بانٹے جانے کے منصوبے کی جزئیات تک طے کر لی تھیں۔

ایڈم سمتھ نے عالمی معاشیات کے میدان میں ’خدا کے ایک نادیدہ ہاتھ‘ (Invisible hand of God) کا ذکر کیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ معاشیات کی طرح عالمی سیاسیات کے میدان میں بھی ایک ’نادیدہ ہاتھ‘ ہمہ وقت بروئے کار رہتا ہے۔ تاہم معاشیات کی ہی طرح یہاں بھی کئی دیگر عوامل کارفرما ہوتے ہیں تو ہی یہ ’نادیدہ ہاتھ‘ حرکت میں آتا ہے۔ کیسے مصر پر برطانیہ کا قبضہ ہوا اور کیسے شام فرانسیسیوں کے حصے میں چلا گیا۔ کیسے حجاز مقدس اور پھر فلسطین صدیوں کے بعد عثمانیوں کے ہاتھ سے نکلا۔ کیونکر پہلے اقوام متحدہ کے زیر نگین ہوا اور پھر کیسے اسرائیل وجود میں آیا۔ یقیناً خدا کا ’نا دیدہ ہاتھ‘ خلاء میں بروئے کار نہیں آتا۔ یقیناً اس نے اس کام کے لئے کئی اصول وضوابط طے کر رکھے ہیں۔ انہی کے تحت وہ قوموں کو فاتح اور مفتوح بناتا ہے۔ عروج اور زوال عطا کرتا ہے۔

برسوں پہلے ایک لبنانی وزیراعظم ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہوئے تو اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اپنے شہریوں کی حالت زار بیان کرتے کرتے شدت غم اور بے بسی کے عالم میں زار و قطار رونے لگے۔ دیکھنے والوں کے جی بھر آئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے مگر اپنے عرب ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’ڈیئر پرائم منسٹر، یہ وقت آنسو بہانے کا نہیں، کام کرنے کا ہے‘ ۔ اسرائیل آج ایک بار پھر اسی روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایک بیان پر اسرائیل نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اسرائیلی رد عمل کے بعد خود وائٹ ہاؤس بھی اپنے سابق مکین کی مذمت پر مجبور ہو گیا۔ امریکہ ہی میں واقع دنیا کی نامور ہارورڈ یونیورسٹی میں 27 طلباء تنظیموں نے اسرائیلی مظالم پر مذمتی قرار داد منظور کی تو بڑے امریکی کاروباری اداروں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اس قرارداد پر دستخط کرنے والے طلباء کے نام مانگ لئے۔ گھبرا کر ان میں سے زیادہ تر طالب علم ان تک مذمتی قرارداد سے لا تعلقی کا اعلان کرچکے ہیں۔

ہمیں مسلمان ریاستوں کے اندر سجدوں میں گرے، جھولیاں پھیلائے گڑگڑاتے اور سوشل میڈیا پر آہ و زاری کرتے، کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے کروڑوں مسلمانوں سے دلی ہمدردی ہے۔ ہمیں اسلامی ملکوں میں اپنی اپنی رعایا کے لئے تو خوف کی علامت سمجھے جانے والے درجنوں بادشاہوں، امیروں اور کٹھ پتلی وزرائے اعظم کی خاموشی اور بے بسی پربھی کوئی گلہ نہیں۔ خدا جانتا ہے ہم ان کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔ برسوں پہلے اسرائیلی وزیراعظم کا کسی اور پیرائے میں اپنے لبنانی ہم منصب کو دیا گیا مشورہ مگر نا چاہتے ہوئے بھی ہمارے ذہن میں بار بار کلبلاتا ہے۔ دستوری، معاشی اور معاشرتی اصلاحات اور ان کی عملداری، مبنی پر انصاف رویوں کے فروغ اور اپنے اپنے عوام کو آزادی عطا کیے جانے کے لئے مسلم معاشروں کو اپنے اپنے آنسو پونچھ کر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS