ایک روحانی سفر ۔ عمرہ


مسلمانوں کی مہمان نوازی ایک شرف جس کی رہتی دنیا میں مثال نہیں۔ میزبان کو اس شرف پر ثواب سے نواز جاتا ہے۔ لیکن جب میزبان اللہ تعالٰی ہو تو اس کی کیا بات ہے۔ حج و عمرہ ایک ایسی عبادت جس کی مہمان نوازی رب کائنات کرتا ہے۔ ابن ماجہ و نسائی کے مطابق ”حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اللہ تعالٰی نے دعوت دی انہوں نے قبول کیا۔ ایک دوسری روایت کے بموجب اگر وہ اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں تو اللہ تعالٰی انہیں بخش دیتا ہے“ ۔

حج اپنے مخصوص ایام میں سال میں ایک بار ذوالحج کے ماہ صاحب استطاعت و طاقت کے حامل افراد پر فرض ہے جبکہ اس کے مقابل عمرہ پر کوئی قدغن نہیں وہ ہر ماہ و وقت کیا جا سکتا ہے۔ عمرہ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی ”پر ہجوم جگہ کی زیارت“ ہے۔

حج و عمرہ کا قدیم شہر مکہ و مکرمہ سعودی عرب، حجاز میں واقع ہے۔ جہاں کعبہ کی چوکور نما عمارت جس کی چوڑائی 32.2 اور اونچائی 43 فٹ ہے۔ اور یہی حج و عمرہ کا مرکز ہے۔ بلکہ اسے مومنین کی نمازوں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے حج و عمرہ دونوں کے لئے نیت اور احرام کا مخصوص لباس باندھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ احرام سے قبل غسل کرنا اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو وضو کرنا افضل ہے۔ احرام کی حالت میں بعض شرعی امور بھی ممنوع ہو جاتے ہیں۔

میقات کی حدود سے قبل احرام پہننا لازمی ہے۔ ورنہ دم لازم ہو جاتا ہے۔ عمرہ کی تین اقسام ہیں پہلی افراد العمرہ۔ جسے حج کے ایام کے دوران ادا کیا جاسکتا ہے، دوسری قسم تمتع۔ جسے حج کے ایام میں حج کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ عمرہ کی تیسری قسم قرآن کی ہے جس میں عمر و حج کے لئے ایک ہی احرام باندھنا پڑتا ہے۔ حج و عمرہ کے لئے مسلمان ہونا، بالغ مرد و عورت ہونا، ذہنی مریض نہ ہو، جسمانی طور فٹ ہونا، مالیاتی حالات زاد راہ اور دوران حج و عمرہ مستحکم ہوں، عورتوں کے لئے محرم لازمی ہے، مختصراً عمرہ اللہ تعالٰی کی ایسی عبادت کا نام ہے جسے احرام کی حالت میں اس کے گھر کعبہ کے گرد طواف کرنا، مروہ اور صفا کے درمیان سعی کرنا اور مردوں کے لئے سر منڈوانا، یا بال چھوٹے کرنا اور عورتوں کا بھی سر کے چوتھائی حصے کے بالوں کو کاٹنا ہے۔ احرام میں داخل ہونے کے بعد تلبیہ پڑھنا اور ممنوع کردہ کاموں سے اجتناب لازمی ہے۔ مردوں کے لئے عمرہ و حج کے طواف میں پہلے تین چکروں میں رمل کرنا اور دائیں کندھے پر احرام نہیں ہونا چاہیے۔ عورتیں اپنی نارمل رفتار کے ساتھ طواف کے احکامات ادا کر سکتی ہیں۔

اب عمرہ و روضہ رسول اور ریاض الجنتہ کے لئے نئے انتظامات کے تحت پرمٹ کے لئے نسک اپلیکیشن کے ذریعے درخواست دینا اور اس کا حصول بھی لازمی امر ہے۔ اس میں کوئی خاص دقت پیش نہیں آتی لیکن وہ لوگ جو کمپیوٹر ٹیکنالوجی یا موبائل فون ایپلیکیشن کے استعمال سے نا بلد ہیں۔ انہیں مشکل در پیش آ سکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں حج کرے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم عمرہ ضرور کرے۔

اور وہاں کی زیارات سے مستفید ہو۔ عاشقان مصطفٰی سلام پیش کرنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ جب ان کے نام رب کا نامہ بر آتا ہے تو انگ انگ سرور و کیف کی مستی میں ڈوب جاتا ہے۔ لمحے سمٹنے کا نام نہیں لیتے اور دل چاہتا ہے کاش ہمیں پر لگ جائیں اور اڑتے ہوئے کوئے مصطفی پہنچ جائیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ گناہوں سے لتھڑے اس انسان کے ساتھ درپیش ہے جس کے نام اللہ تعالٰی کا نام نامہ بر آیا ہے۔ ندامت سے سر جھکائے جا رہا ہے کہاں میں کہاں وہ۔

ادھر خطا ہی خطا ادھر عطا ہی عطا۔ ادھر گناہوں سے دامن تار تار ادھر سوئے بخشش۔ اس کے در کے علاوہ کوئی اور در بھی تو نہیں۔ جہاں دل کی مناجات پیش کی جا سکیں۔ وہ خود رب اللعالمین اور اس کا پیارا رحمت اللعالمین۔ ایک طرف اس کا جا و جلال و تجلیات یعنی شہر مکہ تو دوسری طرف پیار و حلاوت والا سبز گنبد صحرا۔ جدھر سوئے ادب ہی ادب۔ جہاں رب کا پیارا صاحب استراحت۔ انوار کی بارش، لوگوں کے پیش کردہ درود و سلام کے گجرے۔ عجب سماں، دامن بھرنے اور مرادیں پانے کے لمحات، جبین نیاز جھکائے درود سلام پیش کرنے کی سعادت میسر۔ ندامت کے آنسوؤں کی لڑی، ہزاروں خواہشیں، دامن تار تار۔ سب کچھ ایک طرف اور دوسری طرف ان کی نگاہ التفات، ان کا جود و کرم یہی مومن کے لئے کافی۔

انسان کی عاجزی ہی اس کے کام آتی ہی۔ سفر کے ابتدا سے ہی ذکر، درود و سلام پیش کرنا شروع ہوا جو مدینہ منورہ میں تا حال جاری ہے۔ ریاض الجنتہ جو بقول آقائے دوجہاں جنت کا ٹکڑا۔ اس پر نماز ادا کرنا افضل عمل۔ جب عطاء رب ہو تو مشکلیں آساں اور راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہوا۔ اس کی رحمت سے اور آقائے دوجہاں کی شفقت سے یہ شرف حاصل ہوا کہ وہاں نوافل کے علاوہ نماز ظہر اور اپنے مسلمان بھائی کی جنازہ بھی ادا کی۔

قربان میں رحمت اللعالمین کے جس کے صدقے رب نے اپنی عطا کے دروازے کھول دیے اور تمام امت مسلمہ، جاننے نہ جاننے والوں سب کے لئے دعائیں صدق دل سے مانگی جا رہی ہیں۔ اب خوف اس بات کا ہے کہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔ جن کے بارے ارشاد ربانی ہے۔ اے مومنوں اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو تمھارے اعمال ضائع کر دیے جائیں اور تمھیں خبر ہی نہ ہو۔ ملک کی سلامتی کی دعائیں بھی لب پہ جاری۔ اب دوسرے مقدس مقامات کی زیارت کا سامان پیدا ہو رہا ہے جن کا اجمالی بیان دوسری نشست میں۔ اس دعا کے ساتھ اللہ تعالٰی ہر مسلمان کو دیار نبی کی زیارت کا شرف بخشے۔

چلتے چلتے اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے صرف اتنی گزارش ہے اپنے پیارے ملک کے سفیر ہونے کے ناتے اس کی عزت سے یہاں نہ کھیلا کریں۔

 

Facebook Comments HS