پاکستان پیپلز پارٹی، ایک عوامی پارٹی
پاکستان پیپلز پارٹی محض سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کی نہیں عوام کی پارٹی ہے۔ اس کو مضبوط کرنا ہے تو ہر ذمہ دار کو عوامی رابطہ کرنا ہی ہو گا۔ پی ٹی آئی یا نون لیگ جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کی مضبوط گرفت کی ایک وجہ ان کی پنجاب میں یونین کونسل لیول تک تمام تنظیموں کا فعال ہونا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ کام پاکستان پیپلز پارٹی کا تھا جو یونین کونسل لیول تک ہر تنظیم کو مکمل کرتی جس کی وجہ سے ہر گلی میں اس کے نمائندے، ورکرز، جیالے اور ووٹر موجود رہتے۔
اب سندھ کے علاوہ پورے پاکستان میں ہمارے پاس کسی صوبے کا صدر تو ہے لیکن صوبائی صدر نے صدر کا اختیار، فنڈ اور پروٹوکول لینے کے بعد اپنی تنظیموں کو مکمل کرنے کی ذمہ داری بالکل پوری نہ کی۔ بد قسمتی سے پنجاب جیسے بڑے صوبے کا صدر کون ہے یہ خود پاکستان پیپلز پارٹی والے بھی نہیں جانتے۔ راجا صاحب کے حامی کہتے ہیں صدر وہ ہیں تو دوسری طرف رانا صاحب گروپ والے کہتے ہیں صدر وہ ہیں۔ اسی طرح ایک اور گروپ کہتا ہے کہ پنجاب کا سب کچھ شاہ صاحب ہیں۔
لیکن ان تینوں گروپ والوں سے ان کی کارگردگی پوچھی جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ کیونکہ ان تینوں یا ان کے علاوہ باقی سٹی و ڈویژن کے صدر صاحبان نے اپنے اپنے شہر میں بھی کوئی عوامی رابطہ نہ رکھتے ہوئے یہ ریکارڈ بھی قائم کیا کہ ان صاحبان کی سرپرستی میں پنجاب کے شہروں کی یونین کونسل لیول تک ان کو تیر نشان پر الیکشن لڑنے کے لئے کوئی کونسلر بھی میسر نہ ہوا جو ان کی سستی، ناکامی، نا اہلی اور وڈیرہ شاہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا ہو یا سوشل میڈیا وقت کی ضرورت ہو گا لیکن کس مقصد کے لئے؟ یہ ایک اہم سوال ہے کہ سوشل میڈیا کس مقصد کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے؟ موجودہ پارٹی کا سوشل میڈیا جو لوگ استعمال کر رہے ہیں وہ صرف اور صرف اپنے اپنے من پسند لینڈ کروز مافیا کی مشہوری اور پرموشن کر کہ ان کے سیاہ مقاصد کو وائٹ کر کہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ لینڈ کروز مافیا صرف اور صرف ورکرز جیالوں میں انتشار اور دوریاں پھیلا کر بڑی کامیابی سے اپنے حق میں کام کروا کر اعلی قیادت کو بھی گمراہ کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا کی سرپرستی کرنے والوں کو باقاعدہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس گراؤنڈ لیول پر عوامی رابطہ ہو گا تو ہم سوشل میڈیا پر خود مضبوط ہو جائیں گے جب گراؤنڈ لیول پر موجود لوگ اپنے اپنے اکاؤنٹس سے پارٹی کا لکھنے پر مجبور ہوں گے ۔ لیکن یہاں بالکل پہلے کی طرح فیک اکاؤنٹ بنا کر اس اکاؤنٹس سے اپنے من پسند لوگوں کی ٹی سی کر کہ ان کو راضی رکھنا ہی ان لوگوں کا کام ہے۔ لیکن یہاں ہر آنے والا نئے طریقے سے واردات ڈالنے کا طریقہ نکالتا ہے۔
ہر نا اہل عہدے دار کو صرف اور صرف خود کو پرموٹ کروانا ہے اور ایسے لوگوں کے رکھے ہوئے تنخواہ دار ہر جگہ پر یہ تاثر دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ پنجاب میں یہ لوگ ہیں تو پارٹی ہے۔ ان کو ملنے والے ووٹ کو یہ لوگ اپنا ذاتی ووٹ بنک کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے جب ذاتی ووٹ بنک رکھنے والے ایسے عہدے داروں سے پنجاب میں پارٹی کی بہتری کے لئے ان لوگوں کی کارگردگی پر سوال کریں تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
کچھ دن سے دکھائی دے رہا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر کام کرنے والے اور باقی دوسرے بیشتر ورکر میں بد کلامی عروج پا رہی ہے کیونکہ اس کی ایک وجہ واضح ہے کہ کام کرنے والوں کو کھڈے لائن لگا کر اپنے من پسند لوگوں کو آگے رکھنا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مفاد حاصل کرنے کے بعد کہیں دکھائی نہیں دیتے اس گروہ کا کام بس چیمے چٹھے جٹ راجے یا سید کی پبلسٹی کرنا ہوتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو سے گزارش ہے کہ وہ خود پنجاب ہے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں بیٹھ کر پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی سیاست اور عوامی رابطے کو بحال کر کہ جیالے ورکرز کی آواز بنیں تاکہ سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر ورکرز اور جیالوں کی تقسیم کو روکا جا سکے۔

