دس ڈالر


دیوار گریہ یہودیوں کا ایک مقدس مقام ہے۔ یہ دراصل ان کے ایک پرانے دور کے معبد کی چہار دیواری کا باقی ماندہ حصہ ہے جہاں وہ جمع ہو کر عبادت کرتے تھے۔ اب اس دیوار کو رخ کر کے استغفار کرتے ہیں۔ روتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں۔ ایک مفلوک الحال یہودی زور سے چلا چلا کر دعا مانگ رہا ہے اے خدا، دس ڈالر چاہئیں۔ جلدی سے دے دے۔ پاس میں ایک امیر یہودی خاموشی سے دعا مانگ رہا ہے۔ ایک دو بار تو اس غریب کا شور برداشت کرتا ہے۔ پھر اسے منع کرتا ہے۔ لیکن جب وہ باز نہیں آتا تو جیب سے دس ڈالر نکال کر اسے تھما دیتا ہے۔ ”بیوقوف یہاں اربوں ڈالرز کا لین دین ہو رہا ہے اور تو دس ڈالر کے لئے اتنا شور کر رہا ہے“ ۔

پرسوں کراچی سے ہوائی جہاز میں سوار ہوا تو روانگی سے قبل سفر کی ایک لمبی دعا (جو پہلی بار سن رہا تھا) ، سپیکر پر فل والیوم سے پورے چار منٹ جاری رہی۔ تو یہ لطیفہ یاد آیا۔ ہم لوگ دعا اللہ سے نہیں مانگتے، دوسروں کو سناتے ہیں۔ ورنہ وہ تو دل کی سسکی بھی سن لیتا ہے۔ پنج وقتہ نمازوں میں صرف سورۃ فاتحہ کی دعا چھ دفعہ بالجہر ہے۔ باقی ساری نماز کی دعائیں خفی ہیں۔ بس اللہ اور آپ کے درمیان ہے۔ سنت اور نوافل کا بھی گھر پر پڑھنا زیادہ ثواب ہے۔

اکثر میرے نہایت ہی پیارے دوست موبائل پر اذان کی نوٹیفیکیشن لگا لیتے ہیں۔ وہ آواز بعض اوقات نہایت ہی نامناسب مواقع پر برآمد ہوتی ہے اور کئی دفعہ کوفت کا باعث بنتی ہے۔ میں آج تلک کسی دوست کو یہ آواز سن کر مسجد کی طرف دوڑتے نہیں دیکھا۔ نہ ہی یہ نماز کا حصہ ہے۔ یہ نماز کے وقت کا الارم ہے جو کسی کو سنانے کی بجائے وائبریشن پر بھی معلوم ہو سکتا ہے۔ ورنہ پاکستان میں تو ہر نماز کے لئے اذانوں کا سلسلہ کم از کم آدھ گھنٹہ جاری رہتا ہی ہے۔ اذان ہر فرد کے لئے تھوڑی ہے۔

جب سلمان رشدی کے خلاف جلوس نکل رہے تھے تو اس آڑ میں کئی تجارتی گروہوں نے مخالفت تاجروں کی دکانوں اور بزنسز پر حملے کروائے۔ پشاور میں ایک بزنس مین نے، جس کے دفتر کی ساری دیواریں شیشے کی تھیں، تمام شیشوں پر کلمہ طیبہ کے بینرز لگا لئے۔ یوں وہ شور و مجلوس کے غضب سے بچ نکلا۔ ڈھاکہ میں تو دوسرا لطیفہ ہوا۔ ان کئی دیواروں پر جہاں بیٹھ کر لوگ پیشاب کرتے تھے، وہاں عربی میں لکھ دیا گیا ”التبول محظور ہنا“ (یہاں پیشاب کرنا منع ہے ) اور لوگوں نے قرآن کی آیت سمجھ کر وہاں گند پھیلانا چھوڑ دیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز نے ہر کھمبے پر اللہ کے ناموں کے طغرے کیوں آویزاں کیے ہیں۔ جناح ہاؤس پہ لگاتے تو فرق پڑتا۔

مجھے دن میں کئی بار واقف کاروں کی طرف سے وٹس ایپ اور میسنجر میں اللہ سے مانگی گئیں دعائیں موصول ہوتی ہیں۔ پہلے تو ان کو مسکراہٹ کے ایموجی کے ساتھ جواب دے دیتا تھا کہ آپ نے شاید غلط جگہ میسیج بھیجا ہے۔ یہ اللہ کا وٹس ایپ نمبر نہیں۔ اب تو ہر کوئی بھیجتا ہے۔ مرگ انبوہ جشنے دارد!

یہ رنگ برنگی پگڑیاں، یہ زرد رومال، یہ جھاڑ نما داڑھیاں، یہ گھٹنوں تک اونچے پائنچے، یہ ہاتھوں میں لمبی لمبی تسبیحیں بلکہ اب تو دہریوں کے بنے ہوئے کاؤنٹر انگلیوں پر لگائے پتہ نہیں کس کے ساتھ حساب کتاب ہو رہا ہے۔ وہ جو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ تو اندر سے دیکھ رہا ہے۔ یہ لاؤڈ سپیکروں پر دعائیں کس بہرے سے مانگی جا رہی ہیں۔ یہ بد دعائیں توپ کے گولے تھوڑی ہیں جو جتنا چلا کے مارو گے اتنا ہی نقصان ہو گا؟ یہ گھروں پر فضل ربی کے طغرے کیا حلال رزق کے سرٹیفیکیٹ ہیں۔ پر اللہ تو ہر عضو سے شہادت لے گا۔

آئیے اللہ کے ساتھ دل کا دوستانہ بنا لیں۔ اسے اپنا رازدار بنا لیں۔ اس سے خفیہ باتیں کریں۔ دلکی تمنائیں شیئر کریں۔ اس کے فیس بک کا پیج اپنی آنکھوں، کان، منہ، ناک، دماغ اور دل میں ہے۔ لکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ بس ایک آہ، ایک آنسو، ایک احساس تشکر، ایک احسان، ایک مسکراہٹ، ایک ترحم، ایک شفقت اور ایک سکون کا سانس اس کے سمجھنے والے ایموجی ہیں، جن کو وہ عزیز رکھتا ہے۔ آپ وہ دس ڈالر تھوڑی مانگ رہے ہیں جو چلا کر دوسرے کی جیب سے نکلوانے پڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS