میکڈونلڈ مکاؤ ملک بچاؤ


میکڈونلڈ دنیا کی سب سے بڑی فوڈ چینز میں سے ایک ہے جس کی 40 ہزار 275 فرنچائزز دنیا کے 118 ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان میں اس عالمی برانڈ کی 80 فرنچائزز ہیں۔ پاکستان میں اس کے مالک امین لاکھانی ہیں جو پاکستان کے امیر ترین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کی سیزا فوڈز کمپنی میکڈونلڈ کی مالک ہے۔ 80 فرنچائزوں میں کتنے پاکستانی افراد ملازمت کرتے ہیں کتنے گھر چلتے ہیں اس سے قطع نظر پاکستانی معیشت میں ان 80 فرنچائزوں سے بڑی حد تک سہارا ملتا ہے پاکستان میں میکڈونلڈ کے تمام فیصلے امین لاکھانی اور سیزا فوڈز کا ایگزیکٹیو بورڈ کرتا ہے بالکل اسی طرح میکڈونلڈ اسرائیل آلونیال لمیٹڈ کمپنی کی ملکیت ہے اور کمپنی کے سی ای او عمری پادان ہیں جنہوں نے 14 اکتوبر 1993 کو اسرائیل کے شہر رامات گان میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور اس وقت اس کی 229 فرنچائزوں میں 6 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

ترکی اور شام میں ہولناک زلزلہ کے وقت میکڈونلڈ نے ایک لاکھ پیکٹ کھانا زلزلہ زدگان کو دیا 2005 میں پاکستان اور کشمیر میں آنے والے زلزلہ میں میکڈونلڈ سمیت تمام انٹرنیشنل برانڈز نے امداد بھیجی جبکہ سب سے زیادہ امداد امریکہ کی طرف سے بھیجی گئی۔ اس تمام مغز کھپائی کا مقصد یہ تھا کہ گزشتہ دنوں حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ خطرات سے دوچار ہو گیا۔ سینکڑوں اسرائیلی مارے گئے ہزاروں زخمی اور یرغمال بنے جس کے جواب میں اسرائیل نے اس سے زیادہ بھیانک طریقہ سے غزہ پر حملہ کیا اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو گئے سینکڑوں جان سے ہاتھ دھوؤ بیٹھے اور ہزاروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

ایسے میں اگر میکڈونلڈ اسرائیل نے اپنے اسرائیلی متاثرہ خاندانوں کی امداد کا اعلان کیا ہے تو ہم مردان مجاہد میکڈونلڈ پر چڑھ دوڑے اور بائیکاٹ بائیکاٹ کی صدائیں لگانے لگے۔ پھر میکڈونلڈ نے ایک وضاحت جاری کی مگر ہم اسے بھی اپنی کامیابی مان کر بائیکاٹ بائیکاٹ پکارے جا رہے ہیں جیسے فلسطینی انسان ہیں بالکل اسی قانون و قاعدے کی رو سے اسرائیلی بھی انسان ہیں۔ اگر اسرائیل نہتے فلسطینیوں کو مارتا ہے تو یہ دہشتگردی ہے پھر اسی قانون کی رو سے حماس نے جو حماقت کی ہے اسے بھی دہشتگردی کہیں۔

اگر ترکی شام اور پاکستان میں آفت آ جائے تو میکڈونلڈ کی امداد اور کھانا حلال ہے بالکل اسی طرح اسرائیل میں بھی بے گھر ہونے والوں کی امداد حلال ہے مسئلہ فلسطین کا حل جنگ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جنگوں کے نتیجے میں ہی اسرائیل نام کی چھوٹی سی بستی پھیل کر ایک بڑا ملک بن چکی ہے اور فلسطین سکڑ کر چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے۔ جہاں کھانے کے لالے پڑے ہوں وہاں دوسرے ملکوں کے کارناموں میں اپنے ملک میں بائیکاٹ مہم چلانے کی بجائے کوئی کام کاج کریں تاکہ آپ کو امداد کے لئے پھر سے ان کی طرف نہ دیکھنا پڑے جن کا آپ بائیکاٹ کرتے ہیں

بھاگ لگے رہن

Facebook Comments HS