سپرنگ دبائیں مگر اتنا کہ ڈھکن کھلتے ہی اچھل کر باہر نہ گرے
گھر کے دروازے کے باہر بیٹھ ہر سو پھیلے خزاں کے رنگوں میں رنگے درخت اور تیز ہوا میں اڑتے رنگ برنگے پتوں کو اڑتے گرتے دیکھنا اکتوبر کی سب سے بڑی مصروفیت اور دلی راحت ہے۔ ایسے میں پرانے دوستوں سے بھی گپ شپ ہوتی ہے۔ جو ابھی ہیں اور جو جا چکے اور جن کا پتہ ہے، موضوع بنتے ہیں۔ اور آج انیس سو ساٹھ سے چھیاسی تک کے ہمسایہ دکاندار گھرانے کا ذکر چھڑا۔ بڑے حاجی صاحب کا ذکر آیا تو بتایا گیا کہ ان کے بڑے صاحبزادے کچھ عرصہ یا سال قبل بیٹریوں کی ایک دکان پہ دیکھے جاتے رہے ہیں۔ کاروبار غالباً ان کی ملکیت نہ تھا۔
کیا؟ میرے منہ سے یہی نکل سکا۔
انیس سو سڑسٹھ کے اواخر میں رم جھم والے موسم میں تین چار دکاندار میرے پاس بیٹھے چائے پیتے گپ شپ لگا رہے تھے۔ مختلف موضوعات پر پر چلتی بات چیت اب تربیت اولاد کی طرف رخ موڑ چکی تھی۔ میرا دھیان پچھلے چند ماہ میں مارکیٹ ہی کے دکاندار اقبال کی میری دکان کے بالکل سامنے آٹو پارٹس کی دکان کے بڑے حاجی صاحب کے بیٹے خصوصاً اور مولوی صاحب کے جوان ہوتے لڑکوں کے متعلق کئی بار ظاہر کردہ تشویش کی طرف مڑ چکا تھا۔ دین پر انتہائی سختی سے عامل اور بچوں سے عمل کرانے والے اس خاندان کے جوان اور جوان ہوتے بچے محض مدرسہ کے طالب علموں جیسی زندگی گزارنے پہ مجبور تھے۔
اور بہت اچھی آمدن ہونے کے باوجود زمانہ کے مطابق لباس، تفریحی سرگرمیوں، اور ریڈیو تک پر بے جا پابندیوں پہ نالاں تھے۔ عشاء کے بعد گھر کے دروازے مقفل ہو جاتے مگر وہ کسی طرح گھر والوں سے چوری چھپے راتوں کو نکل اچھی شہرت نہ رکھنے والے دوستوں کے ساتھ نہ صرف سنیما وغیرہ دیکھتے بلکہ دکان سے چوری شدہ پیسوں سے ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، کیرم بورڈ وغیرہ خرید انہی دوستوں کے گھر رکھ محفلیں جماتے تھے۔ بڑا صاحبزادہ رات گئے تانگہ بان دوست کے تانگہ پہ دیکھا جاتا تھا۔ اس کی زبان سے نکلا فقرہ ہوا کا رخ ظاہر کر گیا تھا۔ کوہستان بس ٹرانسپورٹ کے مالک چوہدری نذیر کے نئی مرسیڈیز کار لانے پر اس نے کہا تھا ”لیہہ لین ایہہ بڈھے۔ کی چوہدری نذیر لیا اے مرسیڈیز، جیہڑی اسی لیاواں گے۔“ ( یہ بوڑھے نکل لیں ہم چوہدری نذیر کی لائی مرسیڈیز سے بھی زیادہ بڑھیا کار لائیں گے ) ۔
اچانک ایک خیال میرے ذہن میں گونجا۔ میں نے دراز میں سے ایک گول مگر زیادہ لمبائی والی ڈبیا نکال کے مولوی صاحب کے سامنے رکھی۔ اس پہ تمام ڈرائی فروٹ پستہ، بادام، کاجو، ہیزل نٹ پیکان وغیرہ کے فوٹو بنے تھے۔ عرض کیا کہ یہ ڈرائی فروٹ پچھلے ہفتوں شکاگو سے میرے بڑے بھائی لائے تھے۔ مزے اڑائیں۔ مولوی صاحب کو ڈھکنا کھولتے کچھ زور لگانا پڑا مگر ساتھ ہی ڈھکنا بھی ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور کوئی چیز چھپاک سے اوپر اچھلی اور چھت تک ٹکرا واپس آ گری۔
پہلے چیخیں نکلیں اور پھر قہقہے گونج اٹھے۔ یہ کپڑا چڑھا ایک لمبا سپرنگ تھا جسے اچھی طرح دبا کے ڈبیا میں بند کیا جاتا اور ڈھکنا کھولتے اتنا اچھلتا کہ دور اوپر ہو باہر جا گرتا۔ ڈبیا اور سپرنگ میرے ہاتھ میں تھے۔ میں سنجیدہ ہو چکا تھا۔ میں نے سپرنگ ڈبیا میں رکھا تھوڑا سا دبا یک دم چھوڑا۔ سپرنگ تھوڑا سا اچھلا اور واپس ڈبیا میں آ گرا۔ اب پھر پورا دبا ڈھکن بند کیا اور ڈھکن کھولا تو سپرنگ پھر اونچا اچھل باہر گرا پڑا تھا۔
تب میں نے بات شروع کہ دیکھیں سپرنگ زیادہ دبا ہوتے ڈھکنا کھولنے پہ اچھلا اور زمیں پہ گرا مگر تھوڑا سا دبانے کے بعد چھوڑنے پہ ہلکا سا اچھلا مگر باہر نہیں نکلا نہ زمین پہ گرا۔ میری نظر میں تربیت اولاد کے متعلق یہ بڑا سبق ہے۔ آپ بچوں کو صرف رعب میں رکھے دبا کے رکھیں گے۔ ان کی خواہشات اور ضروریات اور ان کے سامنے موجود زمانے کے مطابق انہیں تھوڑی بہت بھی آزادی نہ دیں گے۔ اپنی آمدنی کے معیار کو دیکھتے زیادہ نہیں کسی حد تک سہی اس دولت کا ان پر خرچ نہیں کریں گے۔
ہر وقت نہ سہی مگر ساتھ ساتھ مروجہ لباس کی اجازت اور سیرو تفریح کے لئے خود لے جانے یا خود ان کو سیرو تفریح کے جائز مواقع سے بھی محروم رکھیں گے تو وہ ڈھکنا کھلتے ہی ایسا اچھلیں گے کہ پھر ڈبیا میں نہیں لوٹیں گے۔ درخواست کہ جوان ہوتے بچوں پر ہر وقت رعب ڈالے پابندیوں میں رہنے پر مجبور کرنے کی بجائے ان سے اتنی دوستی ضرور رکھیں کہ آپ کو ان کی خواہشات پتہ چل سکے اور وہ بغیر ڈرے جھجکے اپنا نکتۂ نظر یا ضروریات بیان کر سکیں اور پوری کروا یا پورا کرنے کی اجازت لے سکیں۔ اس طرح آپ کے لئے ان کو صحیح غلط کی پہچان اور زمانے کی اونچ نیچ سمجھانے میں آسانی ہوگی۔ یہ بھی عرض کر دیا کہ شاید میری بات کسی کو سمجھ آ گئی ہو۔ محفل برخواست ہوتے مولوی صاحب خاصے متفکر تھے۔ میرے انداز سے انہیں سمجھ آ چکی تھی کہ اصل مخاطب کون ہے۔ ادھر مجھے پتہ تھا کہ خاندان بھر کے تمام معاملات پر اصل کنٹرول بڑے حاجی صاحب کا ہے اور ان میں لچک تھی ہی نہیں۔ تیسرے بھائی گاؤں میں زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
وقت گزرتا گیا جھنگ کے بڑے اور معروف ٹرانسپورٹرز سے کاروباری تعلق بچوں کی دوستیوں میں بدلتا گیا۔ بزرگوں کی سختیاں، پابندیاں اور رعب قائم رہا۔ تا ہم میں نے نوٹ کیا کہ اب کالج جاتے بچوں کو پتلون قمیض پہننے اور داڑھی نہ بڑھانے کی اجازت تھی۔ اب لڑکے کاروباری سلسلے میں دوسرے شہروں میں بھی آ جا رہے تھے اور ان کو کھلے مواقع میسر تھے۔ اور چوری چھپے کی سرگرمیاں اب بڑھتے دوستوں کے گھروں میں ٹی وی ٹیپ ریکارڈر آٹھ ملی میٹر کے مووی پروجیکٹر اور بعد میں وی سی آر خرید کر رکھے جانے تک پہنچ گئی تھیں کہ گھر میں شجر ممنوعہ تھیں۔ فلمیں دیکھی جاتیں، ہوٹلوں پہ رونق لگتی۔ تاہم سوائے بڑے صاحبزادے کے باقی کسی کے متعلق اخلاقی حدود پار کرنے کی کوئی خاص شکایت کم از کم مجھے نہ پہنچی تھی۔ سارا دن دکان پہ جتے رہنے کے باوجود شام کو یا چھٹی والے دن بھی کسی تفریح، گپ شپ یا گھومنے پھرنے کی اجازت نہ ہونے کا یہ قدرتی ردعمل تھا۔
ایوب خاں گھر جا بیٹھا اور یحییٰ خان کا مارشل لاء لگے دو تین روز ہی ہوئے تھے۔ بڑے حاجی صاحب کے بڑے صاحبزادے اپنے جھنگ کے ٹرانسپورٹر اور سیاستدان کے ہم عمر بیٹے اور گہرے بن چکے دو تین دوستوں کے ہمراہ شام کے قریب جھنگ سے فیصل آباد آرہے تھے۔ ایک کار کو کراس کرتے اس میں بیٹھی بہت خوبصورت لڑکی کو دیکھ دل مچل گیا۔ ایک ویران جگہ اس کار کو روک لیا گیا۔ کار سے لڑکی کو کھینچنے کے ارادے سے آگے بڑھے ہی تھی کہ پیچھے سے ایک بس آ کر بہت تھوڑے فاصلے پہ سواریاں اتارنے آ رکی۔
اور ان جوانوں کو بھاگتے بنی، کار سوار پاک فوج کا میجر اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ مارشل لاء ڈیوٹی کے لئے فیصل آباد سے گزر کر آگے جا رہا تھا۔ وہ سیدھا فیصل آباد ائر پورٹ پہ ائر فورس کے دفتر پہنچا اور تمام واردات کی رپورٹ مع کار کے نمبر اور لڑکوں کے حلیہ وغیرہ جمع کرا دی۔ صبح ہوتے کار کی نشاندہی ہو سب جوان ملٹری کی قید میں آ چکے تھے۔ شاید یہ یحییٰ خان کے مارشل لاء کے پہلے شکار تھے۔ یہاں چوہدری نذیر ان کے کام آیا اور جنرل رانی اس کے گہرے تعلقات کام آئے اور تین چار دن بعد معافی تلافی ہوتے جھنگ اور فیصل آباد کے یہ شیر جوان گھروں میں واپس آچکے تھے۔
تاہم بات نکل چکی تھی۔ ستر کی دہائی میں ایک رات مولوی صاحب کا اپنا واقعی بہت شریف النفس لڑکا رات دیر گھر پہنچا تو اندر سے دروازہ کھولنے والا شاید سو چکا تھا۔ گھنٹی بجانے کی صورت بہت درگت بنتی۔ ساتھی دوست کے ملحقہ ساتھ والے گھر کی چھت پہ جا کر اپنی چھت پہ کودا تو سیڑھیوں کا دروازہ بند تھا۔ سوکھنے ڈالے کپڑوں کا رسہ بنا جنگلے سے باندھ نیچے صحن کی طرف اترتے گانٹھ کھل گئی اور خاصی اونچائی سے گرتے ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔
بزرگ ماشاءاللہ بہت معقول آمدنی کے فالتو حصے کو گاؤں میں اپنی زمینوں کے ساتھ مزید زمینیں خریدنے، بس سٹینڈ پہ دو تین جوانوں کو دکانیں بنا دینے اور میری دکان کے ساتھ اپنی الاٹ کرائی خاصی بڑی جگہ میں تین چار منزلہ بلڈنگ میں نیچے کپڑا مارکیٹ بنا چکے تھے۔ جوان لڑکوں کی شادیاں ہو چکی تھیں اور باہر کی محفلوں میں سوائے بڑے صاحبزادہ کے کسی کا نام کم ہی تھا۔ شاید راہ راست پہ لانے میں کچھ کامیابی ہو چکی تھی۔ مگر شاید اعتماد کی کمی کی وجہ سے دکان کا ؤنٹر پر لین دین میں دو تین کے علاوہ باقی شاذ ہی نظر آتے۔ خریداری مکمل مولوی صاحب کی ذمہ داری رہی۔
ستر کی دہائی کے وسط میں بڑے صاحبزادہ کی ہر چند ہفتوں بعد اپنے ٹرانسپورٹر اور دوسرے یاروں کے ساتھ کار پر شام کو نکلتے صبح حیدر آباد کے اس بازار میں پہنچتے دن رقص و سرود اور رات کی محفلوں کا لطف لے تیسرے چوتھے دن واپس آنے کی افواہیں چلیں۔ شاید انیس سو ستتر کی بات ہے بعد دوپہر میاں احسان الحق، اس وقت سابقہ ہو چکے ایم این اے مرحوم ( میرے محسن بھی تھے ) دکان پر تشریف لائے۔ اور مقصد مولوی صاحب سے ملاقات تھا۔ پیپلز کالونی میں ان کوٹھی کی انیکسی بڑے صاحبزادے نے اپنی خفیہ دوسری شادی بتاتے کرائے پہ لی تھی۔ مگر روزانہ دوستوں کے آنے سے انہیں یقین ہو گیا کہ معاملہ کچھ مشترکہ داشتہ واشتہ کا ہے۔ مولوی صاحب کو اپنی دکان پہ بلوا کر میں باہر چلا گیا۔ اس دن مولوی صاحب کو گمبھیرتا کا اندازہ ہوا۔
شاید چند ماہ بعد ہی کراچی سے ایک بہت تعلق والے دکاندار کا فون آیا کہ بڑے صاحبزادہ اور تین چار دوستوں کا حیدر آباد کے قریب کار کا حادثہ ہو گیا ہے وہ راتیں وہاں گزار واپس جا رہے تھے اور نشہ میں بھی تھے اور مشروب مغرب بھی کار سے ملا ہے۔ پولیس حوالات میں لا چکی اور فون کر کے مدد کی درخواست کی ہے۔ اور یہ کہ وہ حیدر آباد کے لئے نکلنے لگے ہیں۔ مولوی صاحب سکتے میں آچکے تھے۔ انتہا ہو چکی تھی۔ وہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور پورے جسم پہ فالج کا حملہ ہوا۔ چند ہفتہ بعد خدا کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔
بزرگ نکل چکے تھے مگر لڑکوں کو کاروباری اسرار و رموز اور اونچ نیچ کی پوری تربیت نہ ہو سکی تھی۔ شاید اس لئے کہ تمام لین دین مکمل ان پڑھ مگر بہت ذہین قابل اور اعلی ساکھ والے مولوی صاحب کے گرد گھومتا تھا اور وہ اسی میں مصروف رہتے۔ انیس سو چھیاسی تک آتے ملک بھر کی ہول سیلز آٹو پارٹس مارکیٹوں میں سب سے زیادہ احترام اور ساکھ رکھنے والے اس ادارے سے لین دین میں لوگ محتاط ہونا شروع ہو چکے تھے اور ساکھ برباد ہونے کی رفتار بڑھ چکی تھی۔ بڑے صاحبزادہ سے چھوٹے فرانس جا کر ناکام ہو کر واپس آچکے تھے۔ شاید تین بھائیوں کی اولاد میں آپس میں کھنچاؤ بھی شروع ہو چکا ہو۔
انیس سو چھیاسی میں میں کاروبار جنرل بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے منتقل کر چکا تھا اور رابطے کم ہو چکے تھے تاہم ان کی شراکتوں جائیدادوں کی تقسیم بھی ہو چکی تھی اور ان جائیدادوں کے برباد ہونے کی داستانیں بھی شروع ہو چکی تھیں۔ آٹو پارٹس مارکیٹ زیادہ تر جنرل بس سٹینڈ پہ منتقل ہو گئی تھی۔ اور دو ہزار ایک میں میرے پاکستان چھوڑ آنے تک مولوی صاحب کے دو بیٹے پرانی دکان پہ اب ہول سیل کپڑے کا کاروبار شروع کر چکے تھے۔ بس سٹینڈ پر باقی دو بھائیوں کے بیٹوں کی شاید تین یا چار دکانیں بند ناکام ہوتی آخر ایک ہی رہ گئی تھی۔ اور وہ بھی مقروض اور شدید ناکامی کی طرف رواں تھی۔
کینیڈا منتقل ہو جانے کے بعد رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ اواخر دو ہزار سات میں پاکستان چکر لگا۔ مارکیٹ فروخت ہو چکی تھی مولوی صاحب کے بیٹے کپڑے کے کاروبار میں مطمئن تھے۔ بس سٹینڈ والی باقی دکان پراپرٹی ختم ہو چکی تھی زمینیں بکنا شروع ہو چکی تھیں۔ واٹس ایپ اور دوسرے رابطہ کے ذرائع عام ہونے پر کبھی کبھار دوستوں سے گپ شپ کرتے ان کے متعلق بات ہوتی تو بڑے حاجی صاحب کے کسی بھی بیٹے کے کامیاب ہونے کی خبر نہ مل سکی۔
بعض کے انگلینڈ فرانس جا کر بھی سیٹ نہ ہو سکنے کی اطلاع ملی۔ آخری خبروں سے پتہ چلا ہے کہ زمینیں بھی زیادہ بک چکیں۔ اس وقت کے تینوں بھائیوں کے شاید بارہ سے زائد لڑکے اب ساٹھ سال کے لگ بھگ یا زائد ہو اکثر خود ریٹائر ہو چکے۔ سوائے مولوی صاحب کی اولاد کے باقی بہت پیچھے رہ چکے۔ کچھ کے بچے مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں، کچھ کے سبزی منڈی آڑھت کے کاروبار میں مصروف ہیں۔ اور مولوی صاحب کی عمر بھر کی دن رات کی محنت سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچا کاروبار ( یہ دیکھے کی بات ہے کہ مولوی صاحب کا فون کراچی ہول سیل دکاندار کھڑے ہو کر سنتے اور اگر مختلف شہروں کے دکاندار کراچی ہوتے۔ تو سب سے زیادہ ترجیح ان سے لین دین کو ہوتی ) اور اس کی ساکھ قصۂ پارینہ ہو چکے۔
انیس سو انسٹھ ساٹھ میں ڈی بلاک پیپلز کالونی کے سرونٹ کوارٹر میں بطور کرایہ دار رہنے والا ایک پرانی بس میں دو آنے ( آٹھویں حصہ ) کا حصہ دار اور کنڈکٹر چوہدری نذیر اپنی خداداد صلاحیتوں، قابلیت، ان تھک بلکہ اس سے بھی زیادہ محنت کرتے اور ترقی کی راہوں میں پاکستانی معاشرہ کے ہر حربہ سے استفادہ کا گر استعمال کرتے اپنی زندگی میں ہی سب سے کامیاب ٹرانسپورٹ کمپنی سے بڑھتے سنیما اور ٹیکسٹائل ملز کے علاوہ ملک بھر ضلعی ترقی اور سیاست میں انقلاب لانے والا رہنما بن چکا اور اولاد ضلعی اور ملکی سیاست میں صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں تک پہنچ ذاتی ہوائی جہاز تک رکھنے پہ قادر ہو چکی۔
جھنگ کے سیاستدان ٹرانسپورٹر کی اولاد بھی ٹرانسپورٹ سے ترقی کرتی صوبائی قومی اسمبلیوں میں رہی۔
مگر چوہدری نذیر کی مرسیڈیز سے بھی بڑھیا کار لانے کا خواہشمند اور بڑے حاجی صاحب کا صاحبزادہ شاید کچھ عرصہ موٹر سائیکل تک افورڈ نہ کرنے کی حد تک پہنچا۔
میں اب بھی سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اگر اس خاندان کے بزرگ مذہب کے لئے بے جا جبر کی جگہ محبت سے دین دلوں میں راسخ کرتے اور ساتھ ہی اچھے برے کی پہچان کراتے اپنی آمدن کے معیار کے مطابق دنیا کا لطف لینے کی اجازت بھی دیتے اور کاروبار میں ان کی مناسب ٹریننگ اور ذمہ داری دیتے تو شاید یہ خاندان بھی اتنے زوال سے بچ جاتا۔ مگر شاید تقدیر کا لکھا ہی ایسا ہو۔
ویسے مجھے اس بات پر بھی کامل یقین ہے کہ انسانی، خاندانی، اور عائلی مسائل میں ہر کیس کو اس کے انفرادی پس منظر اور پیش منظر کو سامنے رکھتے رائے قائم ہونی چاہیے۔ کوئی بھی دو کیس ایک جیسے ہوتے ہیں نہ ہی کوئی لگا بندھا اصول سب پہ لاگو کیا جا سکتا ہے۔


