مولانا عبید اللہ سندھی اور لینن کی ملاقات: ایک وضاحت
مخدومی و مکرمی جناب پروفیسر فتح محمد ملک کی خودنوشت ”آشیانہ ء غربت سے آشیاں در آشیاں“ زیر مطالعہ ہے۔ ملک صاحب کو کیمبل پور (موجودہ اٹک) کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برقؔ اور پروفیسر محمد عثمان جیسی شخصیات کا فیض حاصل رہا ہے۔ ملک صاحب اس احساس کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ اساتذہ انھیں ایک ترقی پسند مسلمان دیکھنا چاہتے تھے۔ اشتراکیت اور ترقی پسند ادب سے روکنے کی بجائے ان اساتذہ نے ان کتابوں کے مطالعے کی بھی ترغیب دی جو دین اسلام کی حقیقی روح کو آشکار کرتی تھیں۔ رجعت پسند ملائیت کی بجائے ملک صاحب کو جدید علوم سے آراستہ اسلام شناسوں سے متعارف کروایا۔ جس سے ملک صاحب کی ترقی پسندی مذہب سے بیزاری کی بجائے اسلام شناسی کے ساتھ پروان چڑھی۔
پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے اپنی خودنوشت میں ڈاکٹر غلام جیلانی برقؔ کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ ”ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے ایک روز میرے ہاتھ میں ترقی پسند ادبی تحریک کا ترجمان جریدہ“ سویرا ”دیکھ کر مجھے شاباش دی کہ میں نصاب کی کتابوں کے ساتھ ساتھ عصری ادب سے بھی شغف رکھتا ہوں۔ انھوں نے مجھے ایک واقعہ سنانا ضروری سمجھا۔ ازراہ شفقت مجھے اسٹاف روم میں لے گئے اور بتانے لگے کہ تحریک خلافت کے منتشر ہو کر رہ جانے کے بعد جو علمائے کرام افغانستان سے ہوتے ہوئے اشتراکی روس پہنچے تھے ان میں مولانا عبید اللہ سندھی بھی شامل تھے۔ تاشقند میں اپنے طویل قیام کے بعد جب
انھوں نے وہاں سے رخصت چاہی تو اپنی احسان مندی کے اظہار کے لیے لینن کے ساتھ ملاقات کا وقت مانگا۔ ملاقات میں لینن نے مولانا سے فرمائش کی کہ وہ انھیں قرآن کریم میں سے کچھ سنائیں اور اس کا مطلب سمجھائیں۔ مولانا نے سورۃ التوبہ کی اس آیت کریمہ نمبر 111 کی تلاوت کی، ترجمہ: بے شک اللہ مومنوں سے ان کی جان اور ان کے مال خرید لیتا ہے اور اس کے بدلے انھیں دیتا ہے جنت! ”۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مخصوص ڈرامائی انداز میں فرمایا کہ اس آیت کریمہ کا ترجمہ سن کر لینن نے کہا کہ ظالمو!
تم نے قرآن کو کہاں چھا رکھا ہے۔ اشتراکی روس میں ہم اسی فرمان خداوندی پر تو عمل پیرا ہیں۔ ہم جان و مال کے بدلے ہر ذی نفس کو اس دنیا میں ہی جنت فراہم کرنے میں کوشاں ہیں۔ اپنے استدلال کو مزید تقویت بخشتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جناب غلام احمد پر ویزؔ نے اپنی کتاب“ مفہوم القرآن ”میں لکھا ہے کہ:“ اس معاہدہ کی رو سے نظام خداوندی ان کا جان و مال خرید لیتا ہے اور اس کے معاوضہ میں انھیں جنت کی ضمانت دے دیتا ہے۔ ”
یہ واقعہ صرف ڈاکٹر غلام جیلانی برق تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اس وقت کے اخبارات میں پوری کہانی بنا کر پیش کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ لینن نے مولانا سے کہا کہ اگر اسلام میں شراب کی ممانعت نہ ہوتو ہم مسلمان ہونے پر تیار ہیں۔ جس پر مولانا نے کہا کہ کہ جناب یہ ممانعت تو اسلامی کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اور مولانا نے بیان دیا کہ اگر میں مولانا سندھی کی جگہ ہوتا تو لینن کو شراب کی اجازت کے ساتھ مسلمان کرتا کیونکہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد تو لینن اور ان کے رفقاء خود ہی شراب سے توبہ کرلیتے۔
مگر اصل واقعہ ظفر حسن ایبک (مرحوم) جو مولانا عبید اللہ سندھی کے شاگرد اور روس و ترکی میں رفیق رہے، نے اپنی ”آپ بیتی“ میں بیان کیا ہے۔ ظفر حسن ایبک کے مطابق روسی سفارت میں فرسٹ کلاس سیکرٹری رائسز جو ماسکو میں اردو سیکھ رہا تھا۔ اس سے ظفر ایبک کی دوستی ہو گئی اور وہ اسے اردو کا سبق دینے کے لیے ہفتہ میں دو دفعہ رات کو اس کے گھر جاتے۔ ظفر ایبک نے ایک دن رائسز کو مولانا سندھی کی روس میں موجودگی اور ہندوستان میں ان کے رسوخ، افغانوں کی انگریزوں سے لڑا دینے میں ان کے کردار اور افغان جنرل نادر خان جیسے بڑے بڑے سرداروں کی دوستی کے بارے میں بتایا۔
ظفر ایبک نے یہ بھی اسے بتایا کہ ایم این رائے جو ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ہیں، وہ ابھی تک ہندوستان میں کوئی انقلابی تحریک برپا نہیں کرسکے ہیں۔ اگر روس مولانا سندھی کی مدد کرے تو مولانا انگریزوں کے خلاف بہت کام کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں مولانا عبید اللہ سندھی کی جون 1923 ء کے پہلے ہفتے میں روس کے وزیر خارجہ چیچن سے ملاقات ہوئی نا کہ لینن سے۔
جہاں تک سورۃ التوبہ کی آیت کی تلاوت کا واقعہ ہے، وہ بھی ظفر ایبک کی زبانی کچھ یوں ہے کہ ظفر ایبک کا ماسکو یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا۔ وہ دن میں یونیورسٹی میں لیکچر لیتے اور شام کو ہوٹل لکس میں مولانا کی خدمت حاضر ہوتے اور اسباق کا خلاصہ مولانا صاحب کو سناتے۔ کمیونسٹوں کا مشہور مقولہ جو انہوں نے کارل مارکس کی تعلیم سے لیا ہے کہ ”مذہب لوگوں کے لیے افیون ہے۔“ اس کا پس منظر ظفر ایبک بتاتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ مذہبی عقیدے لوگوں پر ایسی غشی طاری کر دیتے ہیں وہ غاصبوں سے اپنے حقوق طلب کرنے کے قائل نہیں رہتے۔
مذہب کی ذاتی ملکیت جائز رکھنے کی وجہ سے، کارل مارکس کے مطابق ذاتی ملکیت کا حامی مذہب مال داروں کی حمایت کرتا ہے۔ کیونکہ وہ غریبوں کو مال داروں کا غلام بناتا ہے۔ اس لیے ایسے مذہب کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ظفر ایبک حسب معمول شام کو مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور لیکچر کے بارے میں بتایا۔ مولانا سندھی نے اس کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ اسلامی قانون وراثت دولت کو صرف چند ایک لوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہونے نہیں دیتا۔
زکوٰۃ مال داروں پر ایک ایسا ٹیکس ہے کہ اس کے ذریعے سوسائٹی کے محتاجوں کو مدد دی جاتی ہے۔ اس موقع پر مولانا سندھی نے سورۃ التوبہ کی مذکورہ آیت کی تلاوت کی۔ اس سے یہ معنی نکلتے ہیں کہ ضرورت کے وقت مسلمانوں کو اپنی جان اور ذاتی مال سے دست بردار ہو نا پڑ سکتا ہے اور خداوند کریم آخرت میں اس کے عوض جنت دے گا۔ یعنی اسلام میں ذاتی ملکیت کا اصول ضرورت کے وقت بالکل اٹھایا جاسکتا ہے۔
کالم کی تیاری میں پی ٹی وی کے سابق ڈائریکٹر نیوز جناب شکور طاہر، سابق بیوروکریٹ و مصنف جناب محمد سعید، شاہ ولی اللہ اور مولانا عبید اللہ سندھی پر سند کا درجہ رکھنے والے جناب امجد علی شاکر کا ممنون ہوں۔


