کیا ون ڈے کرکٹ معدوم ہونے والی ہے ؟
انڈیا میں مردانہ ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ اپنے شیڈول کے مطابق جاری ہے۔ افتتاحی میچ پچھلے ورلڈ کپ کی فاتح اور رنر اپ ٹیم کے درمیان تھا جو کہ ایک یک طرفہ مقابلہ ثابت ہوا اور پچھلی دفعہ کی فتح ٹیم انگلینڈ تیسرے درجے کی کوئی ٹیم لگ رہی تھی۔ اس کے بعد 2019 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا افغانستان جیسی نو آموز ٹیم سے ہار جانا بھی اس ورلڈ کپ کا ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں دلچسپ واقعہ جنوری 1971 میں ہوا جب انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں میں ہونے والا ٹیسٹ میچ ون ڈے میں تبدیل کرنا پڑا۔
ہوا کچھ یوں کہ ٹیسٹ کے پہلے تین دن بارش کی وجہ سے ضائع ہوئے تو چالیس اوور کا میچ کروانے کا فیصلہ ہوا، اس وقت فی اوور آٹھ گیندیں کروائی جاتی تھیں۔ میلبورن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ پہ ایک تاریخ 1971 کو رقم ہوئی جب ایک نئی طرز کی کرکٹ متعارف ہوئی اور بے انتہا مقبول بھی۔ پھر کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور موڑ 2004 اور 2005 میں آیا جب ٹی ٹوینٹی کرکٹ نے اپنا جادو جگایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلا ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل میچ خواتین کی ٹیموں کے درمیان 2004 میں ہوا جب کہ مردوں کی ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل کرکٹ 2005 میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آک لینڈ میں ہرا کر شروعات کی۔
اس کے بعد تو جیسے ٹی ٹوینٹی کرکٹ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انڈین لیگ آئی پی ایل ہو یا پاکستانی پی ایس ایل، آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ ہو یا بنگلہ پریمیئر لیگ، کرکٹ کے چاہنے والوں میں بے انتہا مقبول ہو گئیں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کا کرشمہ دھندلانے لگا۔ وقت بدلنے کے ساتھ لوگوں اور شائقین کی مصروفیات کے تناظر میں مختصر دورانیے کا کھیل زیادہ مقبول ہونے لگا۔ یہاں تک کہ ٹی ٹین کی لیگز بھی شروع ہو گئیں اگرچہ ابھی ٹی ٹین کا کوئی انٹرنیشنل ایونٹ منعقد نہیں ہوا۔
موجودہ ورلڈ کپ شروع ہونے کے بعد پہلے ہی میچ پہ جو تجزیے اور تبصرے سوشل میڈیا پہ سامنے آئے ان میں سر فہرست افتتاحی میچ میں گراؤنڈ کے خالی ہونے اور میچ کے انتہائی مایوس کن طور پہ ون سائیڈڈ ہونے کی بات تھی۔ انڈیا میں کرکٹ مقبول ترین کھیل ہے اور آئی پی ایل میں بلاشبہ لاکھوں شائقین میچ براہ راست دیکھتے ہیں اور آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق اربوں ڈالرز میں فروخت ہوتے ہیں۔ ان سب کے باوجود پہلے ہی میچ میں اکثر کرسیاں خالی رہ جانے کو بہت زیادہ نوٹ کیا گیا۔
موجودہ ایونٹ میں ہونے والے تقریباً اب تک کے سب مقابلے اس سنسنی خیزی اور تھرل سے محروم ہیں جو کہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کا خاصا ہیں۔ کسی بھی میچ کا فیصلہ آخری اوورز میں نہیں ہوا بلکہ سارے ہی میچ یک طرفہ رہے ہیں۔ اگرچہ مختلف ٹیمیں اپنے کھیل کے انداز کو تبدیل کر کے جارحانہ کھیل کی طرف جا رہے ہیں لیکن پھر بھی کسی ایک میچ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ میچ کے اختتام کے قریب کسی کی دھڑکن تیز ہوئی ہو یا کوئی سنسنی محسوس ہوئی ہو۔
ون ڈے کرکٹ میں یہ رجحان اس کے زوال کی طرف ایک قدم ہے۔ پچاس اوورز کا مقابلہ دیکھنے کے لئے وقت کی کمی اور خود کھیل میں تھرل اور کانٹے کے مقابلے کی کمی اس سلسلہ میں اہم عوامل ہیں۔ آنے والے وقتوں کے لئے ون ڈے کرکٹ میں عام آدمی کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ کھیل میں ایسی انقلابی تبدیلیاں انتہائی ضروری ہیں جو کہ کھیل میں جدت اور تیزی کا سبب ہوں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ون ڈے کرکٹ اپنی تاریخ کے اس دور میں داخل ہو چکی ہے جس کے بعد اس کا برقرار رہنا بھی ایک سوالیہ نشان ہو سکتا ہے


