نواز شریف کی آمد


نواز شریف کے خلاف عدالت میں ”وٹس ایپ کارروائی“ ڈال کر ایسے حالات کو جنم دے دیا گیا تھا کہ یا تو وہ اپنی بیمار اہلیہ کو اس علالت میں چھوڑ کر وطن عزیز کا سفر اختیار کرے اور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر شور مچایا جائے کہ نواز شریف واپس نہیں آ رہے ہے۔ جب سازش عدالتی کندھا استعمال کر کے بد ترین سیاسی عدم استحکام کا باعث بن چکی تھی تو اس وقت نواز شریف کے سامنے پاکستان کے مخدوش ہوتے حالات تھے جس پر وہ بہت دل گرفتہ تھے کہ اتنی مشکلات کے بعد قومی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا ہے مگر اب یہ سب کچھ دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گا اور پھر نواز شریف کے خدشات درست ثابت ہوئے۔

اس پورے عرصے کے دوران ان سے مستقل رابطہ رہا اور اس وقت اپنی وطن آمد سے قبل نواز شریف کو ”وٹس ایپ“ کارروائی کے ذریعے بد ترین حالات کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔ اس وقت ان کے استفسار پر میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ پاکستان میں موجود ہوئے تو یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ جمہوری طاقت پردہ نشین آمریت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے اور آپ کی اس موقع پر پاکستان موجودگی جمہوریت پسندوں کے لئے بہت باعث تقویت ہوگی اور انتخابی عمل کو بھی ٹیک اوور کرتے ہوئے یہ مزید برہنہ ہو جائیں گے کہ یہ سب صرف ڈھکوسلہ ہے۔

اس لئے آپ کو اس وقت وطن عزیز میں ضرور موجود ہونا چاہیے۔ تباہی کو ممکن حد تک روکنے کے لئے نواز شریف ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس آ گئے۔ اور جب وہ پاکستان واپسی کے لئے روانہ ہونے لگے تو اس وقت تک ان سے میرا رابطہ قائم رہا۔ جب پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کے ”آر ٹی ایس انتخابات“ کرائے گئے تو اس کے اگلے دن چھبیس جولائی کو کہ ابھی انتخابی نتائج جاری کرنے کا ڈرامہ جاری تھا میری ان سے اڈیالہ جیل میں صبح کے وقت ملاقات ہوئی۔

ان کے لئے کچھ بھی ایسا نہیں ہو رہا تھا کہ جس کی وہ توقع نہ کر رہے ہو۔ بلکہ اس وقت بھی ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ ہی تھا کہ حزب اختلاف میں بیٹھتے ہوئے ایسا کردار کیسے ادا کیا جا سکتا ہے کہ جس سے اس جنونیت کے آگے بند باندھا جا سکے کہ جس کا سامنا ریاست پاکستان کو کرنا پڑے گا۔ یہ سب اس لئے یادداشتوں سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہوا ہے کہ اب نواز شریف کی دوبارہ آمد آمد ہے اور جنہوں نے ماضی بننا ہی تھا وہ ماضی بن چکے ہیں جبکہ کچھ بس ماضی بننے ہی والے ہیں، اور نواز شریف دوبارہ حکمران بننے سے بس اتنے ہی فاصلے پر ہے کہ جتنے فاصلے پر عام انتخابات رہ گئے ہیں اور یہ دعوی میں اس سبب سے کر رہا ہوں کہ جب سے نواز شریف نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ہے اس وقت سے جب کبھی بھی عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور اگر اس وقت آئین بحال ہو تو پنجاب میں مسلم لیگ نون ہی نے سب سے زیادہ فیصد کے اعتبار سے بھی ووٹ حاصل کیے اور سب سے زیادہ نشستیں بھی حاصل کی چاہے انیس سو ترانوے یا دو ہزار اٹھارہ کے ”عام انتخابات“ ہی کی تاریخ کیوں نہ پڑھ لی جائے جب حکومتیں بنانے نہیں دی گئی تھی۔

جب ان انتہائی مخالفانہ حالات میں عوامی طور پر کامیابی حاصل کی گئی تھی تو اب تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ اس وقت بھی نواز شریف سے تادم تحریر مستقل طور پر رابطہ ہے۔ انہوں نے مجھ سے یہ پوچھا کہ ان کو عوام کے سامنے کون سا بیانیہ رکھنا چاہیے تو میں نے ان کے سامنے چند گزارشات بیان کردی۔ نواز شریف کے پاس ایسی ٹیم تو موجود ہے کہ جو سیاسی حمایت کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف جب چیئر مین پی ٹی آئی کی جیل سے رہا ہو کر آئے تو انہوں نے دو چار دن بعد صبح ون ٹو ون ملاقات کے لئے مجھے اپنے گھر پر دعوت دی۔

شہباز شریف کو یقین تھا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے اعمال کے سبب سے اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اگر ان حالات میں یہ حکومت رخصت ہو گئی اور انتخابات بھی معاشی صورتحال کے سبب سے ممکن نہ ہوئے تو آپ کیا حکومت کو سنبھال لینے کے لئے تیار ہے حالاں کہ جو کوئی بھی ان کے بعد اقتدار سنبھالے گا اس کا سارا وقت ان کا گند ہی صاف کرنے میں لگ جائے گا اور اس گند کے سبب سے اس کو سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ریاست ہر چیز سے بالا تر ہے اس لئے سیاست کو داؤ پر بھی لگانا پڑا تو لگا دوں گا اور پھر ایسا ہی ہوا کہ دیوالیہ ہوتے پاکستان کو سیاست داؤ پر لگا کر بچا لیا گیا۔ اسی طرح مریم نواز کی صورت میں مسلم لیگ نون کے پاس ایک ایسی شخصیت ہے کہ جس میں لوگ نواز شریف کا چہرہ دیکھتے ہیں اور ان کی گفتگو سننے کے لئے جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں جبکہ حمزہ شہباز پورے پنجاب کے ہر حلقہ کے حالات، وہاں موجود ہر کارکن سے شناسا ہے جو کہ انتخابی حکمت عملی طے کرتے ہوئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔

اب اس سیاسی حمایت کو سیاسی استحکام میں بدلنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعت مضبوط ہو اور وہ تب ہی ہو سکتی ہے جب پرویز مشرف اور گزشتہ پردہ نشین آمریت کے ادوار میں پارٹی کے ساتھ کھڑے لوگوں کو پارٹی میں ذمہ داریاں دی جائے گی کیوں کہ ان لوگوں نے صرف اپنے نظریات کے سبب سے ان مشکل حالات کا سامنا کیا تھا۔

Facebook Comments HS