غزہ کی تازہ صورتحال


اسرائیلیوں نے اعلان جنگ کے ساتھ ہی اپنی پوری طاقت معہ تمام عسکری ہتھیاروں و گولہ بارود کے بے محابہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ بے دریغ فائرنگ اور آرٹلری بمباری سے گھروں اور مہاجرین کے قافلوں کو نشانہ باندھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی و مغربی مقربین کی پوری تائید حاصل ہے۔ اسی گھمنڈ میں دور یزید کو تازہ کر رہے ہیں، اس نے غزہ کے مکینوں کی بجلی، پانی ادویات اور سامان خورد و نوش کی آمد و رفت پہ پابندی لگادی ہے۔

بجلی کے بغیر اب اسپتالوں کو اپنا کام کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کو طعن و تشنیع کا سامنا ہے۔ ایک 71 سالہ بڈھے نے اسی تعصب کی وجہ سے ماں بیٹے کو نشانہ بنایا ہے اس میں محض چھ سال کا ایک معصوم بچہ چاقو مار کر شہید کر دیا گیا ہے اور اس کی ماں شدید زخمی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے طالب علموں کو وارننگ دی گئی ہے کہ اگر کسی نے فلسطین کے حق میں آواز حق اٹھائی تو اسے یونیورسٹی سے خارج کر دیا جائے گا۔

امریکی بحری بیڑے میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی اور قریبی ہمسایہ کہیں فلسطینیوں کی مدد کو نہ آن پہنچے۔ امریکہ نے اپنا کردار محدود کر دیا ہے اور بجائے ایک مصالحت کار کے اپنا پورا پلڑا اسرائیل کے حق میں ڈال کر ایک فریق بن چکا ہے۔ اگر کسی کو کوئی غلط فہمی بھی تھی تو وہ دور ہو گئی ہے۔ برطانوی کی متعصب وزیرداخلہ برورسویلون نے نفرت و نخوت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اعلان کیا ہے کہ لندن میں اگر کسی نے فلسطین کا پرچم بلند کیا تو یہ دہشتگردوں کی حمایت کے مترادف ہو گا۔

ماہرین کو برطانیہ اور جرمنی میں بزور طاقت روکا جا رہا ہے، کینیڈین وزیراعظم کہتا ہے کہ اسرائیلیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ امریکہ دفاعی ماہرین ہے اندازوں کے مطابق جنگ خطے کے ماحول کو متاثر کر سکتی تھی۔ ایک ہفتہ قبل چھڑی اس لڑائی میں 1300 یہودیوں کی جان گئی اور کم و بیش 3000 فلسطینیوں کی شہادتوں کی اطلاعات ہیں، ہزارہا افراد زخمی ادویات کی کمیابی کی بناء کراہ رہے ہیں لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، مصر نے سرحد بند کردی ہے غزہ والے کسی ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

ان میں زیادہ متاثرہ بچوں کی تعداد ہے۔ اب اسرائیل زمینی انفنٹری کے ذریعے چن چن کر غزہ والوں کو تہہ تیغ کرنا چاہتے ہیں تاکہ زمین ہتھیا کر اس پہ اپنا تسلط قائم کیا جائے گا۔ ایران کے خوف سے امریکیوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایرانی برائے راست مداخلت کرتے ہیں تو بہت خون خرابہ ہو گا۔ ادھر ایران کے وزیر خارجہ امیر عبداللہ الھیان نے الجزیرہ ٹیلیویژن کو انٹرویو دیا اور بغیر نے بغیر کسی لگی لپٹی بتایا کہ ان کے اسرائیلی حکومت سے رابطے ہیں جن کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ جنگی خودکشی سے اجتناب کرے کیونکہ اگر اسرائیل اپنے پاگل پن سے باز نہ آیا تو نتائج کی ذمہ داری پھر اسی کی اپنی ہوگی، اس صورتحال میں ایران خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔

امریکی سیاست میں اندرونی خلفشار ہے کیونکہ اس کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ وہاں کانگریس کے سپیکر کو عدم اعتماد ووٹ کے ذریعے نکالا جا چکا ہے اور اب ان کے متبادل کی تلاش جا رہی ہے توقع ہے رواں ہفتے یہ کام مکمل ہو جائے گا تو پھر اقتصادی پابندیاں وغیرہ بھی مسلم امہ کے خلاف لگائی جانے کا امکان ہے۔ سینٹر لنڈسے گراہم کا خیال ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا کر اس کی پیداوار کو ہی ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے تو اس طرح اس کے پر نوچے جا سکتے ہیں۔

سنیٹر چک شوماکر جو ایوان بالا میں سرکاری پارٹی کے سربراہ ہیں ان کے ہمراہ کئی طاقتور سینٹروں کا ایک وفد خطے کا دورہ بھی کرے گا اور اپنی ہمدردی و حمایت کا اعلان اسرائیل میں کریں گے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ امریکی سیاست دان سمجھتے ہیں کہ حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا لازم ہے اور ایران کو اس کے حمایت یافتہ جنگجو جو لبنان میں حزب اللہ اور شام میں پی آئی سی کے نام سے کام کر رہے ہیں انہیں بھی لگام ڈالنا ضروری ہے۔

صورتحال نہایت دگرگوں ہے اس موقع پہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ساری صورتحال میں جاپان کا اہم کردار ہو گا کہ کشیدگی کے اس ماحول میں وہ ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالے۔ چین بھی بڑی بردباری و تدبر سے جائزہ لے رہا ہے اور اس جنگ کا خاتمہ اور مسئلہ فلسطین کا ایک جامع و پائیدار حل چاہتا ہے۔

Facebook Comments HS