وہ اک تارا قسط نمبر 9:


ٹکٹ اس نے اس کے سامنے رکھ دیے تھے اور حتمی لہجے میں بولا تھا۔
”دس دن سے کم کی چھٹی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کل شام اسولئے کے لیے روانہ ہو رہے ہیں انشاء اللہ۔“
”ارے مجھے سے مشورہ کیے بغیر ہی۔“
اس نے کچھ حیرت کچھ خوشی سے آنکھیں جھپکیں۔
”بھئی تم سے مشورہ کرتا تو یہی سنتانا۔
ہیثم ڈارلنگ ابھی جانے کے دن نہیں۔ دیکھو نا ہمارے کیرئیر کا ابھی آغاز ہے۔

اخبارات میں بڑا مقابلہ ہے۔ انہیں ہر روز کچھ نہ کچھ نیا اور نئے رنگ میں چاہیے ہے۔ اور ہاں دیکھو میرے پاس اتنا کچھ لکھنے کو ہے۔ ”

وہ کھڑی تھی لاؤنج کے عین وسط میں۔ وہ بھی یہیں تھا صوفے پر بیٹھا سگریٹ پیتا دھویں کے مرغولوں میں اسے دیکھتا اور مسکراتا۔

ہیثم اگر چھٹی نہ ملی تو۔ تمہیں میرے امیجیٹ باس کا تو پتہ ہی ہے۔ کتنا ذلیل سا ہے۔

”بھئی استعفیٰ دے دینا۔ اینا کو نوکریوں کی کمی نہیں۔ ماسکو نیوز میں آ جاؤ۔ ماں سے ملنا بہت اور سب سے اہم ہے۔ کل فون پر ان کا اداس سا لہجہ میرے لیے تکلیف دہ تھا۔ سارے کام تو ہم لوگوں نے خود ہی کر لئے۔ پر اب انہیں صورت دکھانا تو ضروری ہے۔

ماں کی تو خوشی نہیں سنبھالی جا رہی تھی۔

”ارے اینا تیرا دولہا اتنا وجیہہ اتنا پیارا او ر اتنا خوبصورت ہے“ سا را گھر خوش تھا۔ ماں کھانے پکواتی اور میزیں سجاتی نہ تھکتی تھی۔ عزیز رشتہ دار سبھی تحفے تحائف کے ساتھ آئے۔

سب نے ہیثم کو سراہا۔ سب اس کے مداح ہو گئے۔ سبھوں نے کہا ”اینا کی چوائس اچھی ہے۔ لڑکا بہت اچھا ہے۔“
دس سن چٹکی بجاتے گزر گئے تھے۔ واپس آ کر دونوں اپنے اپنے محاذ پر جت گئے۔
کچھ وقت اچھا گزر گیا۔ پھر ایک دن قدرے زور دار لڑائی ہوئی۔

اس نے سوویت کی خاتون اول رئیسہ گورباچوف کا انٹرویو کیا۔ فائنل کر کے کمپیوٹر سے اٹھی تو وہ بیٹھ گیا۔ سارا پڑھ چکنے کے بعد بولا۔

”دیکھو یہ حصہ کاٹ دو۔“
”کیوں؟“ اس نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔
”وہ اگر کیڈی لک گاڑی میں سفر کرتی ہے۔ مہنگے ترین غیر ملکی کپڑے استعمال کرتی ہے تو تمہیں کیا؟“

”حد کرتے ہو ہیثم۔ وہ چلائی۔ مجھے کیوں نہیں کچھ؟ مجھے تو سب سے پہلے اعتراض ہے۔ وہ ملک کی نمائندہ خاتون ہے۔ ماسکو یونیورسٹی میں لینن ازم اور مارکسزم پر لکچر دیتی ہے اور حال اس کا یہ ہے۔ کتنا تضاد ہے اس کے ہاں۔“

”تمہیں اگر پہننا اوڑھنا نصیب نہیں تو اوروں کو دیکھ کر برداشت کیوں نہیں؟ منگتوں کی طرح زندگی گزرانے کا انداز اپنا رکھا ہے۔ کبھی جو ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔ کبھی جو چہرے کی زیبائش ہو۔

وہ چند لمحوں کے لئے رکا۔ اس کی آواز اندر کی تلخی سے بھڑکی ہوئی تھی۔

کسی ملک بھی گیا۔ وہاں کی مارکیٹوں میں گھومتے پھرتے صرف اور صرف ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے جھلملایا۔ یہ رنگ سجے گا اس پر۔ خرید لیا۔ کیسا شاندار بریسلٹ ہے۔ کلائی اور خوبصورت لگے گی۔ گردن میں اچھی لگے گی یہ چین۔ معلوم نہیں کن ڈبوں میں میرے وہ جذبات بند ہیں۔

سنو اینا لوگوں کو جینے دو۔ ان کے راستے بھی کھوٹے کرنے پر تلی ہوئی ہو۔ ”
وہ حد درجہ سفاکی پر اتر ا ہوا تھا۔ اس کے لہجے میں کمینگی کی انتہا تھی۔

وہ ٹھیک کہتا تھا مگر وہ بھی تو ایسی باتوں کی عادی نہ تھی۔ بھونچکی سی ہو کر چند لمحوں کے لئے اسے دیکھتی رہی۔ شاکڈ کی سی حالت میں پھر چلائی۔

”اف ہیثم یہ تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟“

اب وہ اس پر چڑھائی کے لئے دوڑی۔ پہلے تھوڑی سی دیر اس سے گتھم گتھا ہوئی۔ پھر ہیثم نے اسے اپنی بانہوں میں مضبوطی سے جکڑ لیا۔ اس کے سنہری بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

”اینا مجھے بتا ؤ میں کیا کروں؟ میں تم سے وقت چاہتا ہوں۔ جو تمہارے پاس نہیں۔ میں تمہیں سجا سنورا دیکھنا چاہتا ہوں۔ جس کی تمہیں فرصت نہیں۔ میں بچہ چاہتا ہوں۔ جس کے لئے تم تیار نہیں۔ تمہی بتاؤ میں کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟“

وہ اس کی بانہوں کے حصار میں بہت دیر تک کسی چھوٹے معصوم سے بچے کی طرح سمٹی رہی۔

”میں کیا کروں ہیثم۔ مجھے اپنا اندر فریجیڈ محسوس ہوتا ہے۔ کبھی کوئی خواہش سر بھی اٹھاتی ہے تو ساتھ ہی قطار در قطار مسائل کے انبار آ کھڑے ہوتے ہیں۔“

”تم نے دنیا کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا ہے۔ جس کا یہ کام ہے اسے کرنے دو۔ تم نے صرف اپنے حصے کا اتنا ہی کرنا ہے جو تمہارے لئے مخصوص ہے۔ حد سے بڑھ جاؤ گی تو نقصان ہو گا۔

اینا میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں پر یاد رکھو کہ میں ایک مرد بھی ہوں۔ محبت کرنے والا اور چاہنے والا ایک مرد۔ ”

کھانے کی میز پر دونوں اچھے موڈ میں تھے۔ میز سیٹ کرنے میں ہیثم نے حسب معمول اینا کا پوار ہاتھ بٹایا تھا۔

”کل چار بجے گوربا چوف کی لیبر کلاس کے ساتھ میٹنگ ہے۔ میں جاؤں یا تم جاؤ گے۔“ کھیرے کے قتلے کی بائٹ لیتے ہوئے اس نے چند لمحوں کا توقف کیا اور پھر بولا۔

”تم چلی جانا۔ پر وہاں اس کے نتھنں میں جو سوال انہوں نے گھسیڑ نے ہیں ان کے جواب اس نے دینے ہیں کہیں۔ آئیں بائیں شائیں کرے گا۔ پریسٹرائیکا (perestroika) پر قصیدے پڑھے گا۔

وہ تو ناک ناک آئے پڑے ہیں۔ پہلا سوال ہی بیورو کریسی کے اللے تللوں پر اٹھاتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں، ان کو ملنے والی سہولتیں، ان کی گاڑیاں، الگ ہسپتال، ان کے بچوں کے مہنگے اسکول، عیاشیوں کے اڈے انہیں کس بات کا علم نہیں اور کون سی بات وہ چھوڑتے ہیں۔ اب وہ خیر سے اس کے پریسٹرائیکا کو کئی اسٹرائیکا کا نام نہ دیں تو اور کیا کریں۔ ”

اینا نے سوپ باؤل میں ڈالا۔ اس کا چھوٹا سا گھونٹ بھرا اور اس سے سی پی ایس یو کی کانفرنس کے بارے میں پوچھا۔ جہاں دونوں میاں بیوی مدعو تھے۔ اینا جا نہیں سکی تھی۔ بعد میں مصروفیت نے اسے کچھ پوچھنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ میز سے اٹھتے ہوئے ہیثم بولا تھا۔

” سب ان کی کرتوتیں جانتے ہیں۔ ڈاکٹر گنا دی او جیف نے تو کھلے لفظوں میں کہا۔ ہمارے لیڈر عوام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ مغرب کے حکمران لیڈروں سے کہیں زیادہ اپنے لوگوں سے دور ہیں۔

کچھ وقت ٹھیک گزر گیا۔ پھروہی قصہ۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بڑے بڑے جھگڑوں میں بدلنے لگی تھیں اور انہی دنوں میں سوویت بھی ٹوٹنے پھوٹنے لگا تھا۔

٭٭٭

Facebook Comments HS