ڈائن پھپھو اور چڑیل خالہ


ایک وقت تھا کہ رشتہ دار اور مہمان باعث رحمت ہوا کرتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب کا اکٹھا ہونا، دنیا کی ہر نعمت سے زیادہ حسین لگتا تھا۔ بڑے گھر، بڑے دل، محبتیں اور بڑی رونقیں۔ اب نہ وہ شامیں رہیں، نہ وہ رونقیں اور نہ ہی وہ لگاؤ۔ وہ اکٹھ رہے، نہ وہ خوش گپیاں۔ رہا تو بس بغض، حسد، موبائل اور سوشل میڈیا۔ رشتوں کا تقدس میمز نے مجروح کر دیا اور آپس کی محبت کو وقت، پیسے اور خلوص کی قلت کھا گئی۔

سوشل اور مین سٹریم میڈیا کو دیکھو تو اس میں خالہ کو چڑیل اور پھپھو کو ڈائن بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ رشتہ داروں کو سانپوں سے تشبیہ دینا تو اب پرانا ہوا، اب تو وہ خون چوسنے والی جونکوں کے درجے پہ فائز ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کچھ ہی سالوں میں رشتہ دار اور قرابت دار، اچانک شریک اور آستین کے سانپ کیسے بن گئے؟ یہ ایک بڑا ہی غور طلب سماجی موضوع ہے، جس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ جو رشتے میرے بچپن میں اتنے مخلص تھے، وہ میرے بچوں کے بچپن میں اتنے زہر آلود کیوں ہو گئے؟ دراصل لوگ نہیں بدلے، وقت بدل گیا، اقدار بدل گئیں، سماجی حیثیت بدل گئی، سوچ بدل گئی اور سب سے اہم دل بدل گئے۔ یہ سب کچھ ہوا کیسے؟ میں ترتیب وار بتانے کی کوشش کرتی ہوں۔

سب سے پہلے آتا ہے میڈیا کا کردار۔ قریبا دو دہائیوں پہلے اچانک سٹار پلس کا انقلاب آیا۔ ڈش اور کیبل نے ہندوستانی کلچر کو گھروں میں داخل کر دیا۔ صبح سے لے کر رات کے آخر پہر تک چلتے ڈراموں نے گھریلو عورتوں کی پوری کی پوری نسلوں کی ذہن سازی کر دی۔ گھریلو سازشوں کی بھرمار اور چالبازیوں پہ مبنی کہانیوں نے سب سے پہلے عورتوں کو نکما کیا، ان کو ڈراموں کے نشے میں مبتلا کیا اور پھر کسی زہر کی طرح ان کی سوچ کو آلودہ کر دیا۔

ہر عورت خود کو ڈرامے کا مین کردار سمجھتے ہوئے باقی سبھی کے رویوں میں سازشوں کی بو سونگھتی پھرتی اور جہاں جہاں داؤ لگتا، خود بھی کوئی نہ کوئی گل کھلا دیتی۔ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں تھی، جوان ہوتی بچیوں سے لے کر بستر پہ بیٹھی تسبیح کرتی بزرگ خواتین تک سبھی نے ان ڈراموں سے ڈرامے بازیوں کی ٹریننگ حاصل کی۔ لگائی بجھائی کرنا، غلط فہمیوں میں مبتلا ہونا اور دوسرے کو کرنا، سازشوں سے بچنے کی زعم میں خود ان میں مبتلا ہونا اور ہر وقت خود کو مظلوم سمجھنا۔

ان ڈراموں نے ایک اور سوچ کو بھی تقویت دی کہ رشتہ داروں کی صحبت ہمارے اور ہمارے بچوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ اب ہم ہر رشتے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کسی بھی بات کا غلط مطلب نکال لیتے ہیں۔ پے در پے ایسے گھناؤنے جرائم منظر عام پہ آئے اور کچھ میڈیا نے دکھائے کہ ہم سبھی دہل کر رہ گئے۔

لغو گھریلو کہانیوں پہ مبنی ڈراموں نے اخلاقی طور پر ہمارے معاشرے کو بڑی بری طرح متاثر کیا۔ پہلے یہ اخلاقی برائی سرحد پار سے نشر ہوتی تھی، پھر ہم نے اس برائی کو مقامی سطح پر بنانا شروع کر دیا۔ آج آپ ٹی وی چلا لیں یا یوٹیوب دیکھ لیں، آپ کو سو فیصد ڈراموں میں یہی ساس، بہو، نند، بھاوج، پھپھو، خالہ، ممانی، چچا، خالو، پھپھا کی سازشوں کی داستانیں ملیں گی۔ کوئی بھی ڈرامہ اٹھا لیں، کسی میں لالچی پھپھو بمع اہل و عیال جائیدادوں کے لیے سازشیں کر رہی ہوں گی۔

کسی میں کوئی کزن دوسری کزن کا گھر اجاڑ رہی ہوگی، کہیں بہن اپنی بہن کے لیے گڑھے کھود رہی ہو گی اور کہیں بھائی بھائی کا دشمن ہو گا۔ کسی میں خالہ دخل اندازی کر کے کوئی منفی کارنامہ سر انجام دے رہی ہوگی۔ کہیں تایا چچا اپنی حد سے تجاوز کرتے ہوئے ان رشتوں کو مجروح کرتے دکھائی دیں گے۔ اب ٹی وی بند کیجئے اور ارد گرد نظر ڈالیے۔ فیملی کا واٹس ایپ گروپ چیک کیجئے، جو ڈرامہ ٹی وی پہ چل رہا تھا، اس سے ملتا ہوا ڈرامہ حقیقت میں بھی چلتا نظر آئے گا۔

ہمارے معاشرے کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے۔ تعلیم اور شعور ویسے ہمارے پاس نہیں تھا۔ اوپر سے ان کچے ذہنوں پر پکے ڈرامے ڈال دیے گئے۔ دس بیس سال میں وہ ڈرامے ہماری زندگی کا حصہ بن گئے اور اب ہم نے ان ڈراموں میں خود اداکاری شروع کر دی ہے۔ ہمارے ساتھ یہ نہیں ہوا کہ معاشرتی برائیوں پر ڈرامے بنے ہیں۔ ہم وہ بدبخت ہیں جنہوں نے معاشرتی برائیوں کے ڈرامے دیکھ کر ان برائیوں کو اپنا لیا ہے۔

اس کے بعد اگلا پہلو ہے اقتصادی پہلو۔ پہلے زندگی سادہ ہوا کرتی تھی۔ اخراجات بھی زیادہ نہیں ہوا کرتے تھے۔ آبادی بھی کم تھی گھر بھی بڑے ہوتے تھے۔ اگر چھوٹے بھی ہوتے تھے تو دلوں میں گنجائش زیادہ ہوتی تھی۔ کسی رشتہ دار کا گھر پر آنا سب کے لیے خوشگوار ہوتا تھا۔ مہمانوں کو باعث رحمت سمجھا جاتا تھا۔ کسی ہوٹل میں ٹھہرنا تو معیوب سمجھا جاتا تھا اور رشتہ دار اس بات پہ باقاعدہ ناراض ہوتے تھے کہ ہمارے رہتے ہوٹل میں رہنے کی کیا منطق ہے۔

کئی بار تو مہمانوں سے کوئی خاص رشتہ بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ اجی یہ ہمارے لاہور والے چچا کے دوست کے محلے سے آئے ہیں۔ جس کی جتنی بساط ہوتی وہ اپنی حیثیت کے مطابق مہمانوں کی خاطر تواضع کرتا اور کوئی کمی بیشی ہو بھی جاتی تو مہمان اس کو بالکل محسوس نہیں کرتے تھے۔ چاہے ایک مہمان آئے یا دس، جو دال دلیہ ہے، سامنے رکھا اور اپنے ساتھ صحن یا چھت پہ سونے کا اہتمام کر دیا۔ اگر کمرے میں ٹھہرانا ہے تو جہاں سب رہ رہے ہیں، وہیں کہیں اس کا بھی انتظام کر دیا۔

ہم نے بچپن میں صحن اور چھت پر بہت ساری چارپائیاں اور بہت سارے بستر دیکھے ہیں۔ چاہے دس مہمان آ جائیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ اب آبادی کے بڑھنے سے وسائل محدود سے محدود تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ ایک تو گھر اتنے بڑے نہیں ہوتے۔ چلو کسی کا بڑا گھر بھی ہے تو گھر کی تقسیم بھی بدل چکی ہے۔ یہ فلاں کا کمرہ، وہ فلاں کا کمرہ، وہ اس کا کمرہ اور یہ میرا کمرہ۔ وہ پڑھنے کا کمرہ، وہ مہمانوں کا کمرہ، بچوں کا کمرہ اور وہ سونے کا کمرہ۔

ایک بھی مہمان آ جائے تو پورے گھر کو ٹینشن ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلی تو یہ کہ مہمان کو کہاں ٹھہرایا جائے؟ ہر گھر میں الگ کمرہ ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ پہلے پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، اب اس کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے۔ مہمان کو واش روم چاہیے، الگ بستر چاہیے، گرمی ہے تو مہمان کو اے سی بھی چاہیے۔ پتہ نہیں گھر میں اے سی ایک ہے یا زیادہ ہیں۔ ہو سکتا ہے گھر والے خود مہنگائی کا سوچ کر اے سی نہ چلاتے ہوں مگر مہمان کو دیکھ کر اے سی چلانا پڑتا ہو۔

جتنی بجلی مہنگی ہو چکی ہے، پنکھا بھی اے سی لگتا ہے۔ کیا معلوم، جگہ کی کمی کی وجہ سے کسی فرد کو مہمانوں کے لیے کمرہ چھوڑنا پڑتا ہو۔ اس کو الگ الجھن اور کوفت ہوتی ہوگی۔ مہمان کے لیے کچھ الگ بنانا یا کچھ اہتمام کرنا بھی لازم ٹھہرا۔ بجٹ جو پہلے ہی بڑا سخت چل رہا ہو، اس میں ایک اضافی خرچہ۔ ان سب اقتصادی مسائل نے بھی ہمیں ملنے ملانے اور رشتہ داری نبھانے سے تھوڑا سا دور کیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے کوئی ہمارے گھر آ جائے تو ہمارا بجٹ اور گھر کا نظام تھوڑا یا زیادہ متاثر ہوتا ہے دوسروں کا بھی ہوتا ہو گا، جو کہ درست بھی ہے۔ احساس کرنے والے سوچتے ہیں کہ ملنا ملانا ذرا محدود ہی رکھیں۔ پھر آنے جانے کا خرچہ، چاہے وہ ٹرین ہے، بس ہے، کار ہے یا پھر جہاز، کسی کی طرف جانا بے انتہا مہنگا ہے۔ مہنگائی نے سفر کو بھی مشکل کیا ہے اور سفر نے ملنے ملانے کو محدود۔ ملنا ملانا محدود ہوا مگر رابطے مضبوط ہوئے، منفی انداز میں۔

اب آتا ہے موبائل فون کا استعمال۔ رشتہ داری کی سب سے بڑی قینچی موبائل فون ہے۔ جس وقت کالیں سستی ہوئی تھیں، اس وقت سے یہ برائی ہمارے معاشرے میں شامل ہو گئی تھی۔ ایک گھر کی بات دوسرے گھر تک منٹوں میں پہنچنے لگی۔ بہو کا اپنے میکے سے رابطہ، بیاہتہ بہنوں کا آپس کا رابطہ، ساسوں کا اپنا دائرہ سیاسیت، ان سب نے بیڑا پار لگا دیا۔ سنتی ہو، فلاں کی بیٹی نے کیا کارنامہ کیا؟ ارے بہن کیا بتاؤں میری نند نے کیا حرکت کی؟

خالہ آپ کو کیا بتاؤں کہ پھپھو نے آپ کے متعلق کیا کہا۔ وہ فلانی کا بیٹا فیل ہو گیا۔ یہ فلاں نے کیا حرکت کی؟ ہمارے پاس چونکہ بہت سا فارغ وقت تھا۔ ہم نے اپنا سارا غبار فون پر نکال دیا۔ دل پہلے ایک دوسرے سے تنگ تھے، اوپر سے دل کا غبار نکالنے کے لیے موبائل فون بھی دستیاب ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا، سب نے ایک دوسرے پر اپنا اپنا زہر اگلنا شروع کر دیا۔ پہلے خاندانی سیاست چار دیواری کے اندر ہوتی تھی، اب وہ پھیل کر پورے خاندان میں پھیل گئی۔

چلو جی فلاں کے گھر گئے، نکلتے ہی سارے خاندان کو گن گن ان کی کمیوں کا بلیٹن سنایا۔ فلاں کے متعلق بات سنی، چلو جی ایک ہفتے کے لیے چسکے لینے کو نیا موضوع مل گیا۔ لاہور میں بیٹھی ہوئی خالہ نے لندن میں لڑائی کرا دی۔ کراچی میں بیٹھی ہوئی نند نے سیالکوٹ میں جینا حرام کر رکھا ہے۔ شومئی قسمت جلتی پر تیل کا کام کیا، مفت کی ویڈیو کالوں اور واٹس ایپ نے۔ پہلے غیبت کرنے کے پیسے لگتے تھے، اب وہ باتصویر اور فری ہو گئی ہے۔

موبائل نے دوسرا جو عذاب ہم پر نازل کیا ہے وہ یہ کہ ہر انسان کو اپنا قیدی بنا لیا ہے۔ اب اگر کہیں پر چار کزن اکٹھے بیٹھے ہیں تو چاروں اپنے اپنے موبائل میں لگے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ عورتیں ہیں یا مرد ہیں، سبھی اس زنداں کے اسیر ہیں۔ سب ایک کمرے میں بیٹھ کر اپنے اپنے موبائلوں میں درگور ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی مہمان آ بھی جاتا ہے تو مہمان اپنے موبائل میں اور میزبان اپنے موبائل میں۔ دو چار رسمی باتیں کیں اور پھر اپنے موبائل میں گم۔

دونوں ایک دوسرے کی صحبت سے تنگ اور ایک دوسرے سے بے زار۔ دونوں کا تعلق بس اتنا رہ گیا ہے کہ مہمان کو کھانا دو اور جب سونا ہو تو بستر دے دو۔ آج کا مہمان گھر میں گھستے پانی نہیں مانگتا، وائی فائی کا پاسورڈ مانگتا ہے، خاص طور پہ بنا سم والے آئی فون والا مہمان۔ ایسے میں آپس میں کیا دوستی، کیا تعلق اور کیا رشتہ بننا ہے۔ موبائل کی وجہ سے اپنے گھر میں تعلق بنا نہیں پا رہے، کسی باہر سے آنے والے سے کیا بننا ہے۔

وقت کی کمی اور مصروف زندگی نے بھی رشتہ داری کو نبھانے میں مشکلات کھڑی کی ہیں۔ کسی کے آنے جانے سے کام کاج کے ساتھ پڑھائی بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے بھی لوگ محدود تعلقات پہ اکتفا کرنے لگے ہیں۔ جب رابطے کم ہوں گے، جو ہوں گے وہ بھی صحتمندانہ رویوں سے عاری، تب جیب، دل اور گھروں میں جگہ رشتوں کے لیے کم ہو گی تو دھیرے دھیرے یہ اپنا حسن کھو دیں گے۔ آج کل آئیڈیل رشتہ دار وہ ہے جس سے کم سے کم رابطہ ہو، کم سے کم ملنا ملانا ہو اور جو اپنے کام سے کام رکھتا ہو۔

موجودہ دور میں رشتہ دار صرف میمز کے کام آتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کو بھی ہم نے یہی ٹریننگ دی ہے کہ یہ رشتہ دار صرف خون چوسنے کے لیے ہوتے ہیں۔ تمہارے نمبروں اور تمہاری کامیابی سے حسد کرنے کے لیے اس دنیا میں آئے ہیں۔ تمہیں خوش دیکھ کر ان کو آگ لگ جاتی ہے اور اگر تم کہیں کامیاب ہونے لگو تو یہ لوگ سب سے پہلے تمہاری کامیابی کا ماتم منائیں گے۔ نئی نسل نے ایسے ہی رشتہ دار دیکھے ہیں اور ان کے ذہن میں رشتہ داروں کی یہی تصویر ہے۔

ہم سب کو ہمارے اپنے گناہوں کی سزا مل رہی ہے اور اس کا کفارہ بھی ہم کو ادا کرنا ہو گا۔ دلوں کو صاف کیجیے، ذہنوں سے نفرت اور حسد کے غبار کو جھاڑیے، کسی کے گھریلو معاملات کو زیر بحث لانے سے گریز کیجیے، کسی کے مسائل سے چسکے نہ لیجیے۔ جئیں اور جینے دیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments