”رات کی راہداری میں!“
معروف شاعر ’مصنف سجاد بلوچ کی کتاب ”رات کی راہداری میں“ پڑھنے کا موقعہ ملا‘ جو کہ ان کی شعری کا دوسرا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب نفیس اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ سنگ میل پبلی کیشنز ’لاہور نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب صرف روایتی شاعری کی حد تک محدود نہیں‘ بلکہ زندگی کے حقائق انفرادی و اجتماعی مسائل کی آگاہی ’الفاظ کے علامتی و معنوی استعمال‘ موضوعاتی وسعت تاثیر کا حسن حیرت انگیز ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ سجاد بلوچ اپنے عہد کے شعراء کرام میں ایک مستند اور معتبر حوالہ ہیں۔
ان کی کتاب ”رات کی راہداری میں“ ! میں زبان و بیان کی چاشنی ’لطف اندوزی کی گہرائی و گیرائی سے بھر پور سلاست فصاحت و بلاغت کی آئینہ دار ہے۔ ان کی قلم سے لکھے گئے الفاظ شکستہ دلوں کی آواز صدائے قلب گداز ہونے کے ساتھ ہی شاعری میں ایک خوشگوار تازہ ہوا کا جھونکا اور بوئے عنبر ہے۔ ان کے شعر‘ ان کے الفاظ کا نقاب اوڑھے اپنے قاری کی منتظر ہیں کہ کوئی آگے بڑھے اور نقاب الٹے ’اس الہڑ عروسہ سے نباہ ان کی تخلیقی مشاطگی کا خوبصورت عکس ہے۔ اچھا قاری ان کے اشعار میں چھپے پیغام تک رسائی بآسانی پا سکتا ہے۔
شاعر معاشرے کا عکس اپنے شاعری میں بیان کرتا۔ شاعر اپنی شاعری کے ذریعہ سے معاشرہ کو درست سمت گامزن کرتا ہے۔ شعرا نے قوم میں ہمیشہ شعور بیدار کیا۔ ادبی تنقید کے اصول میں شاعری اور شاعر کی خوبیوں کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر بلبل نہیں ’نہ تو وہ جانور ہے اور نہ تو فرشتہ۔ جیسا کہ ورڈ ورتھ نے کہا ہے : ”وہ ہم جیسا انسان ہے“ ۔ شاعر بلبل نہیں‘ انسان ہے ’دانش ور ہے‘ اور صرف یہی نہیں ’دانش ور تو بہت ہوتے ہیں۔ شاعر، جیسا کہ آئی۔ آر۔ رچرڈر نے کہا ہے۔
اپنے عہد میں ادراک کے بلند ترین مقام پر ہوتا ہے۔ وہ بلبل کی طرح بے اختیاری میں نغمہ سنج نہیں ہوتا بلکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ سمجھ بوجھ کر کہتا ہے۔ اس کی باتیں تہ دار ہوتی ہیں۔ ان میں گنج ہائے معنی پنہاں ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی صحیح ہے وہ اندھیرے میں گاتا ہے۔ اور گا کر اپنی تنہائی کو خوش کرتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ شاعر معلم نہیں ’پیغمبر نہیں اور نظم کوئی درس یا پیغام نہیں۔ شاعر کسی تجزیے کو بیان کرتا ہے۔ اور یہ بیان کوہ کنی سے کم نہیں۔
اس میں ہزاروں کاوشیں ہوتی ہیں اور ان کاوشوں کا ایک مقصد تو یہ ہے وہ تجربہ اپنے پورے حسن اور زرینی کے ساتھ‘ بے کم و کاست ’واضح اور متعین لفظوں کا روپ بھر لے۔ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ اس تجربے کو ہو بہو قارئین تک پہنچا سکے۔ یعنی شاعر تنہائی میں گاتا نہیں‘ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ دوسرے انسانوں سے بات کرنا چاہتا ہے۔ البتہ چونکہ وہ شاعر ہے اس میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیں جو ہم آپ میں موجود نہیں۔ پھر اس کی باتیں بت لطف نہیں ’سپاٹ نہیں‘ پر لطف ’تازہ‘ نئی بلکہ یکتا ہوتی ہیں اور یہ خوبیاں روزمرہ کی باتوں میں نہیں ہوتی۔
الیٹ نے کہا ہے : ”شاعر کا ذہن جب اپنے کام کے لیے آراستہ پیراستہ ہوتا ہے تو وہ برابر مختلف اوت متضاد قسم کے تجربوں کو مربوط کرتا رہتا ہے۔ معمولی شخص کا تجربہ درہم برہم ’بے ضابطہ اور منتشر ہوتا ہے۔ وہ محبت کرتا ہے‘ اسپنوزا پڑھتا ہے اور ان دونوں تجربوں میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ٹائپ رائٹرز اور کھانے پکانے کی خوشبو سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن شاعر کے ذہن میں یہ تجربے نئے نئے مکمل نظام بناتے رہتے ہیں“ ۔
جس طرح شاعر کی قوت حاسہ غیر معمولی ’تیز اور گہری ہوتی ہے‘ اسی طرح شاعر کا تخیل بھی غیر معمولی قسم کا ہوتا ہے۔ یہ شاہین کی طرح بلند پرواز بھی ہوتا ہے اور تیز نظر بھی ہوتا ہے ’جیسا کہ شیکسپیئر نے کہا:شاعر کی آنکھ زمین سے آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور پھر آسمان سے زمین کی طرف دیکھتی ہے اور جو کچھ وہ دیکھتی ہے اسے شاعر کا تخیل نہیں پا سکتا‘ نزدیک کی چیزیں جو اپنی نزدیکی کی وجہ سے ہماری
نظروں سے اوجھل رہتی ہیں ’دور و نزدیک کی سب چیزوں پر شاعر کی دور رس اور جزرس تخیل کا تصرف ہے اور وہ ان دور و نزدیک کی چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے‘ مختلف اور متضاد خصوصیتوں میں توازن اور اتفاق پیدا کرتا ہے۔ یہ اس کا تخیل ہے جو پرانی اور جانی ہوئی چیزوں میں نیا پن اور تازگی ڈال دیتا ہے اور عام اور خاص خیالوں اور نقوش ’انفرادی اور عالمگیر باتوں میں میل دے کر نئے نقشے بناتا ہے۔ تیز اور گہرے جذبات کو نئی مناسبت اور تنظیم کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
سجاد بلوچ کے اشعار کا پیغام دیکھنے کے لئے کچھ اور آنکھیں سینکنے ’بے ساختگی و شگفتگی چاہیے۔ ان کی شاعری اطراف و اکناف میں ہونے والے تمام تغیرات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ شاعر ذات کا نہیں حیات کا ہے۔ ان کی شاعری انسانی محبت‘ وحدت بشر ’امن عالم اور ترک تعصبات جیسی قدروں کی علم بردار ہے۔ زیست کی سچی قدروں سے کی گہری وابستگی ہے‘ وہ نا امیدی کو نکال کر خوبصورت مستقبل کی صورت گری کرتے ہیں۔ زندگی کی لطافت و کثافت ’راحت و الفت اور انبساط و الم کوئی اس وقت تک بہتر پیرائے میں بیان نہیں کر سکتا جب تک وہ جگ بیتی کو ہڈ بیتی بنا کر برت نہ لے۔ سجاد بلوچ اپنے اردگرد پھیلی مسموم فضا سے کبیدہ خاطر نہیں‘ بلکہ مجھے یقین ہے کہ ان کا کلام معاشرے میں زہریلے اثر کو زائل کرنے کے لئے تریاق کا کام کرے گا۔ ان شاء اللہ


