سٹیٹس اور خودی (قسط 1 )


اس نے ہوٹل (ڈھابے ) کے نیک نہاد مالک، جس کا بڑا بھائی اس گاؤں (پنڈی گھیپ) کی جامع مسجد کا امام ہے، کے آگے ایک عدد روٹی کے لیے، دست سوال دراز کیا۔ مالک ملائم آواز میں بھکشا مانگنے کے انداز سے شانت ہوا۔ اس نے نہ صرف روٹی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی بلکہ ایک پلیٹ کے برابر دال چنا بھی کشکول میں ڈلوا دی۔ اس کے نحیف کندھے پر میل سے اٹا تھیلا لٹک رہا تھا۔ تھیلے کو کندھے سے اتار کر ، اس میں سے چھوٹا مگر قدرے صاف سوتی تھیلا نکالا۔ جس کو اس نے یا اس کی والدہ محترمہ نے عنفوان شباب میں چھوٹے چھوٹے آئینے جڑ کر جاذب توجہ بنایا ہو گا جن کی باقیات اب بھی خال خال موجود تھیں۔ وہ آمدنی اور خرچ کے غیر متوازن ہونے کی وجہ سے تھیلے کو اصل حالت میں برقرار رکھنے سے قاصر تھی۔ تاہم چھوٹے تھیلے کو اس نے اچھی طرح محفوظ کر رکھا تھا گویا کسی راٹھ کا سیف ہو۔ اس کے بند کھولنے میں نحیف اعضا اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ شاید وہ ’سیف‘ کے تالے کا خفیہ کوڈ بھول گئی ہو۔ اس کے جھریوں بھرے چہرے سے پھر بھی بے زاری ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ خوراک کا ذخیرہ ہاتھ لگ جانے کی خوشی اس وقتی پریشانی سے فزوں تر تھی۔ وہ تنگ سے بازار کے کنارے قائم اس ہوٹل کی دیوار کے قریب سر زمین خدا پر بیٹھ کر ، اطمینان سے اپنا مسئلہ ٔ بہ نفس نفیس حل کرنے میں جت گئی۔

کتنے ہی بندگان خدا اس خانہ بدوش مہیلا کے پہلو کے پاس سے گزرے مگر کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آیا۔ بازار میں چہل پہل نہ ہونے کے باوجود راہ گیروں نے اس پر طعن و تشنیع کی برچھیاں پھینکیں، ’تبرے‘ سنائے۔ حسب توفیق اپنی خفگی کا مظاہرہ بھی خوب کیا۔ چند ایک اسے دھتکارتے ہوئے کہتے رہے ”مائی قبر میں تیرے پاؤں ہیں، طمع نے تمھاری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ خصم کھانی کیوں راستہ روکے بیٹھی ہے؟“ کوئی اس کی عزت نفس کو مجروح کرتے، کہتا گزرا کہ ”یہ بڑی پھاپھا کٹنی ہے۔ اس نے گدا گری کا محض سوانگ رچا رکھا ہے۔“ وقت کے تیز جھونکے لوگوں کو ادھرادھر گرا رہے تھے لیکن یہ جہاں دیدہ خاتون سکون سے بیٹھی ان تیز تند تھپیڑوں کا مقابلہ جواں مردی سے کر رہی تھی۔ اس کی بے یقینی میں بھی یقین کامل پنہاں تھا۔

اس وقت ہم تین دوست ’دوستی‘ کے ماتے، اس ہوٹل میں دوپہر کے کھانے کے لیے چپاتیوں کا انتظام کرنے، اپنے لاج سے، اس تپتی دوپہر میں، اپنی اپنی ملازمت کے فرائض سر انجام دینے کے بعد پہنچے تھے۔ جس کا سبب ہماری ملازمہ ’مائی‘ تھی جو گھٹنے کے ورم کی وجہ سے ’ایک وقت‘ کی رخصت پر تھی۔ وہ بیماری کی اطلاع اپنی پوتی سے کہلوا بھیج کر بری الذمہ ہو گئی تھی۔ شاید واقعی بیمار پڑ گئی ہو یا اسے عادت ہے کہ لنگڑاتی لنگڑاتی اپنی ہم عمر سہلیوں کی خیر خبر لینے چلی جاتی ہے تاکہ کل کلاں اس کی روح قصر عنصری سے پرواز کرے تو اس کی میت کو نوحہ کناں مل جائیں۔ ہمیں اس مخصوص مرض پر تاؤ تو بڑا آیا، جو آئے روز کا معمول بنتا جا رہا تھا۔ سوچا کئی بار کہ اسے چلتا کریں لیکن ہمت نہیں ہوتی، مبادا کوئی اور بندوبست نہ ہوا تو ۔ وہ ہمارے مزاج، پسند نا پسند کو سمجھ چکی ہے۔ آخر اس کی بے چارگی کی بجائے، اپنی لاچاری کو آڑے ہاتھوں آنے دیا، تجھ سا لائیں کہاں سے۔

ہمارے آشیانے ( عرف عام میں پروفیسر لاج ) اور اس ہوٹل کا درمیانی فاصلہ لگ بھگ ایک میل ہے۔ بھوک کا ستیا ناس ہو جس نے ہمیں مئی کے مہینے میں دوپہر کی تمازت ’چکھنے‘ پر مجبور کر کے بے حال کر دیا تھا۔ گرمی کی شدت سے ہمارے چہرے چوسے ہوئے چونسے آموں کی مانند ہو گئے تھے۔ کاش ہم نے مولوی عبدالحق کو سنجیدگی سے لیا ہوتا جو کہتے ہیں ”انسان نے کھانے کی عادت ڈال لی ورنہ یہ کوئی ضروری چیز نہیں۔“ ہم جسم کی پرداخت کے لیے خوراک کی تلاش تو بڑے تزک و احتشام سے کرتے ہیں لیکن ذہنی نشو و نما کے لیے خوراک کی فکر سے آزاد۔

اس سے تو بہتر تھا کہ کچی لسی سے دو دو ٹوسٹ کھا کر کچھ آسرا کر لیتے۔ رات کو ملازمہ (مائی) آ ہی جاتی۔ واقعی اگر ہماری ’مائی‘ موجود ہوتی توہم اس وقت کو کسی مصرف میں لائے ہوتے، قیمتی لمحات یوں غارت نہ کیے ہوتے، کچھ نہ کچھ کیا ہوتا۔ کسی کتاب یا اخبار کا مطالعہ کیا ہوتا، ریڈیو پر کرکٹ میچ کا رواں تبصرہ ہی سنا ہوتا، غیبت ہی کی ہوتی، تصور جاناں میں ہی کھو گئے ہوتے۔ آخری مسئلہ ٔ باقی دونوں کا نہیں، مولوی لوگ ہیں، دیہات کے۔

اوائل جوانی میں پیا بن کے ’پیاس‘ سے نبٹ لئے۔ نہیں معلوم میں کسی کا ’پیا‘ ہوں بھی یا نہیں۔ شاید مجھے عمر بھر پیاسا ہی رہنا ہے۔ گوریاں تو بہت ہیں مگر یہ زمانہ گاگروں کا نہیں، غراروں کا ہے پس گاگر نہیں تو پانی نہیں۔ کسی کا احسان بھی نہیں کہ گا کر کہنا پڑے۔ ”میں نے تمھاری گاگر سے کبھی پانی پیا تھا۔ گوری وہ دن یاد کرو۔“

بھوک کی کیفیت ایک سی ہوتی ہے چاہے نفر کا تعلق کسی بھی گروہ یا زمانے سے ہو بشرط یہ کہ صحت مند ہویا صحت یاب ہو چکا ہو۔

ہم بھی بھوکے تھے اور یہ درماندہ بڑھیا بھی جو حاصل شدہ خوراک کو اپنی ’رعیت‘ کی خاطر محفوظ کرنے کے لئے اپنے تھیلا نما ٹفن کی گرہیں کھولنے میں بدستور مشغول تھی۔ ایک ثانیے، میرے جی میں آیا کہ اس کی مدد کردوں۔ باوجود اس کے کہ میں اپنے دل میں اس کے لیے ہمدردی پاتا تھا لیکن عملاً ہمدردی دکھا نہ سکا۔ جی کڑا کر کے آگے بڑھا ہی تھا کہ میرا سٹیٹس مجروح ہوتے ہوتے بچا اور اس کی خودی بھی بلند رہی کیونکہ عین اسی لمحے وہ تھیلے کی گرہیں کھولنے میں کامیاب ہو گئی۔

میں اس گاؤں کے سرکاری کالج میں لیکچرر ہوں۔ عوام الناس کی نظروں میں پروفیسر۔ یہی چھوٹا سٹیٹس بھی آج مجھے اس بڑھیا گداگر کی مدد میں مزاحم ہوا۔ اس نے بھی تو مجھے مدد کے لیے نہیں پکارا، حالانکہ وہ باقاعدہ آگاہ تھی کہ میں مسلسل اس کی طرف متوجہ ہوں۔ شاید اس لیے کہ اس کی خودی نے غیر کے آگے بلا ضرورت صدا لگانے سے روک رکھا تھا یا میں بھی ایک طاقت کا گد اگر تھا جو اپنے من کی گرہیں کھولنے میں ناکامیاب رہا۔ وجہ کچھ بھی ہو اس کی خودی اور میرے سٹیٹس کا مقام ایک نہیں تھا۔ اس کی خودی بلند تر تھی جس نے میرا سٹیٹس روند دیا۔ میرے باقی دونوں ہم مشرب دوست اس سے دو چار قدم کے فاصلے پر کھڑے ہوٹل کے مالک سے ’تال میل‘ ملا رہے تھے۔